Saturday, September 28, 2019

Urdu Islamic Column & Article(Allah say maafi mangiyay, Dil ka sukoon, Aik Qissa, Aqal or Naseeb, Valentine Day)

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed   Social Media



JazakAllah for visiting this blog, InshaAllah you will get authentic information related to Islam on this blog. please click on the following link to get the link of Islamic Album, Islamic Videos, Quran Majeed, Dua, Islamic Bayan, Wazaif, Zikar Azkaar, Jobs, Jobs Website, Companies and Organization, Job Consultancy Firm, Articles, Medical and Health,  and other informative stuff


https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html



بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ




آپ کو ان میں سے کوئی پریشانی تو نہیں؟

·         کوئی پریشانی نہ ہونے کے باوجود بھی دل اداس رہنا
·         ان گنت فکر مندیاں
·         لا محدود دشواریاں
·         بیماری اور تنگ دستی
·         بے اولادی
·         پیداوار میں کمی
·         کاروبار کی ناکامی
·         گناہوں کا پچھتاوہ اور  پشیمانی
·         بیٹے بیٹیوں کی شادی میں رکاوٹ
·         رزق میں کمی
·         ناکام مستقبل کا دھڑکا
·         نماز و عبادات میں دل نہ لگنا
·         خاندانی مسائل
·         قرضوں کا بوجھ
·         نوکری کا نہ ملنا

لیجیئے حل آپکی خدمت میں پیش ہے
اور وہ ہے کثرتِ استغفار

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him
جی ہاں: کثرتِ استغفار سے جہاں گناہوں کی معافی ہوتی ہے، وہاں دنیا کے سارے مسائل بھی حل ہوتے ہیں، قرآن پاک کی یہ آیات ملاحظہ کیجیئے

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّہُ كَانَ غَفَّارًا ۔  يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ۔ وَيُمْدِدْكُمْ بِأمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أنْہَارًا ۔  (سورۃ نوح 10-11-12)
ترجمہ:۔ ”گناہ بخشواؤ اپنے رب سے بے شک وہ ہے، بخشنے والا، وہ کثرت سے تم پر بارش بھیجے گا اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہارے لئے باغات بنادے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری فرمادے گا۔“


سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک سنئے:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص استغفار میں لگا رہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر دشواری سے نکلنے کا راستہ بنادیں گے اور ہر فکر کو ہٹاکر کشادگی فرمادیں گے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیں گے، جہاں سے اس کو دھیان بھی نہ ہوگا۔ (ابوداؤد)


اب اسلاف کی ایک حکایت بھی سنئے
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے قحط سالی کی شکایت کی ، یعنی بارش نہ ہونے کی، تو انہوں نے فرمایا: استغفار کرو، دوسرے نے تنگدستی کی شکایت کی،تو اس کو بھی فرمایاکہ : استغفار کرو، تیسرے آدمی نے اولاد نہ ہونی کی شکایت کی،تو اس کو بھی فرمایاکہ: استغفار کرو، چوتھے نے شکایت کی کہ پیداوار زمین میں کمی ہے،تو ان کو بھی فرمایاکہ: استغفار کرو

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him
)

اب علمائے حق کی بھی سنئے، وہ لوگوں کے مسائل کا کیا حل پیش کرتے ہیں:
سوال:میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت گناہ کیے ہیں، جھوٹ دھوکہ اور دوسرے گنا کبیرہ ، زندگی کا ہر گناہ کیا ہے میں نے ۔ میں توبہ کرنا چاہتا ہوں لیکن ڈر لگتا ہے کہ میرے گناہوں کا سب کو پتہ چل جائے گا تو کیا ہوگا کون میرے ساتھ شادی کرے گا۔ دوسر مسئلہ یہ ہے کہ مجھے نوکری نہیں مل رہی اور میں نے کچھ رقم قرض لی تھی اور اب کوئی ایسا رستہ نہیں کہ میں وہ رقم واپس کر سکوں۔ پلیز میری مدد کریں؟
جواب:آپ سچے دل سے رو دھو کر توبہ کریں اور آنئدہ ایسی ذندگی گزارنے سے بچنے کا عہد کریں اور صبح شام 100 دفعہ یہ ورد کریں


Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him


سوال:ہم 6 بہنیں ہیں اور 2 بھائی 2 بہنوں کی شادی 10 سال پہلے ہوئی تھی اُسکے بعد اب ایک بہن کی شادی ہوئی ہے اور ہم باقی 3 بہنیں رہ گئی ہیں جو بھی رشتہ آتا ہے بات بنتے بنتے رہ جاتی ہے برائے مہربانی اسکا حل بتایئے؟
جواب:شادی بیا کے معاملات اللہ سبحان وتعالی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اگر کوئی تنگی آجائے تو کثرت سے استغفار اور توبہ کرنے سے وہ تنگی دور ہوجاتی ہے۔ آپ صبح و شام 100 دفعہ یہ ورد کیا کریں اللہ خیر کرے گا

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him


سوال:ہر وقت دل اُداس و پریشان رہتا ہے حالانکہ کوئی ٹینشن بھی نہیں ہے؟
جواب:نماز پنجگانہ پابندی سے ادا کیا کریں اور صبح شام 100 دفعہ یہ ورد کیا کریں

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him



سوال:میرا بھائی پہلے نماز پڑھتا تھا بلکہ نماز کے وقت ہونے سے آدھا گھنٹا پہلے چلا جاتا تھا پر اب وہ نماز پڑھنے بھی نہیں جاتا اور ابو بھی بیمار ہیں لگتا ہے نظر لگ گئی ہے آپ کوئی دعا بتادیں؟
جواب:آپ اپنے بھائی کو باقاعدگی سے دوبارہ نماز ادا کرنے کی تلقین کریں اور کثرت سے توبہ اور استغفار کریں اللہ تعالی آپ کے معمالات سوار دیں گا۔

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him



سوال:میری دوست کا بیٹا دوبئی میں نوکری کے لیے گیا وہاں ایک جھوٹے کیس میں گرفتار ہوگیا ایک ماہ ہونے کو ہے پر کوئی شنوائی نہیں ہو رہی اسکا کفیل رات کو کہتا ہے کہ میں آؤں گا تو صبح نہیں آتا کوئی وظیفہ بتایئے تاکہ اُس بیچارے کی رہائی ممکن ہوسکے؟
جواب:اُسکے گھر والوں کو چاہیے کہ سب مل کر صبح و شام سو دفعہ یہ ورد کریں

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him


سوال:میں سعٰودیہ میں نوکری کرتا ہوں میں نے 2007 میں یہاں شادی کی تھی لیکن شادی کے صرف تین مہینے کے بعد میری بیوی چھوٹی چھوٹی باتوں پر مجھ سے ناراض ہو کے گھر چلی گئی اور طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ وہ پریگنینٹ بھی تھی اور 2008 میں اللہ نے مجھے ایک پیارا سا بیٹا بھی دیا۔ ہم نے سوچا تھا کہ شاید بچے کی وجہ سے وہ بدل جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا اور اُس نے بچے کو نانی کے گھر پہ چھوڑ کے خود کالج میں داخلہ لے لیا اور ایک نوکری بھی شروع کر دی۔ مجھ سے یہ دیکھا نہیں گیا کہ میرے بچے کے پاس نہ ماں ہو اور نہ باپ۔ محتصر یہ کے میں اُسے طلاق دینے پر راضی ہو گیااگر مجھے وہ میرا بچہ دے دے۔میں نے دوسری شادی کر لی اور اُسے طلاق دے دی اور بچہ واپس لے لیا لیکن میری دوسری بیوی بچے کو ماں کا پیار نہیں دیتی میں بہت پریشان ہوں اور اپنی پہلی بیوی کو واپس لانا چاہتا ہوں۔ ایک بات یہاں کہتا چلوں کہ میری پہلی بیوی کے خاندان میں مجھ سے پہلے تین رشتے موجود تھے لیکن میری بیوی نے اُن سے شادی کا انکار کردیا تھا۔ جب میرے ساتھ شادی ہوئی تھی تو اُسکے رشتہ داروں نے اُلٹی سیدھی حرکتیں شروع کر دی کے میرا نکاح ٹوٹ جائے اور مجھے شک ہے کسی غلط عمل کے زریعے ہماری طلاق ہوئی ہے۔ پلیز مجھے کوئی وظیفہ بتایئے کہ میں اپنی بیوی کو واپس لا سکوں اور جو اس جادو کا اثر ختم کردے۔ جزاک للہ
جواب:آپ صبح و شام 100 مرتبہ یہ ورد کریں

Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him
اللہ آپ کی مدد کرے گا۔ پہلی بیوی سے دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے اور دوسری بیوی کو بھی مت چھوڑیے گا۔


سوال:میں اک مسلمان ہون اور ایک غیر مسلم ملک میں رہتا ہوں کبھی کبھی مجھ سے گنا ہو جاتے ہیں کیا اللہ مجھے معاف کر دے گا؟
جواب:آپ سچے دل سے توبہ کریں پانچ وقت نماز کی پابندی کریں، قرآن پاک کی تلاوت کریں روزانہ صبح شام سو مرتبہ استغفار کریں


Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him



اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو وہ بخشنے والا مہربان ہے۔


سوال:ہم 6 بہنیں ہیں دو شادی شدہ ہیں‌گھر میں غربت ہے سب بہت پریشان ہیں کوئی حل تجویز کریں؟
جواب:آپ کی فیملی کے تمام لوگ صبح شام 100 دفعہ یہ ذکر کیا کریں۔


Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him

اللہ تعالٰی آپ کے تمام مسائل حل کر دیں‌گے۔ انشئا اللہ


سوال:ہم 6 بہنیں ہیں اور 2 بھائی 2 بہنوں کی شادی 10 سال پہلے ہوئی تھی اُسکے بعد اب ایک بہن کی شادی ہوئی ہے اور ہم باقی 3 بہنیں رہ گئی ہیں جو بھی رشتہ آتا ہے بات بنتے بنتے رہ جاتی ہے برائے مہربانی اسکا حل بتایئے؟
جواب:شادی بیا کے معاملات اللہ سبحان وتعالی کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اگر کوئی تنگی آجائے تو کثرت سے استغفار اور توبہ کرنے سے وہ تنگی دور ہوجاتی ہے۔ آپ صبح و شام 100 دفعہ یہ ورد کیا کریں اللہ خیر کرے گا


Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him



سوال:میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے گھر میں بہت پریشانی ہے بہنوں کے رشتے نہیں ہورہے اور میری نوکری بہی نہیں لگ رہی آپ کوئی عمل بتا دیں والد کا انتقال ہوگیا ہےاور میں ایک ہی بیٹا ہوں میری رہنمائی فرمائے
جواب:قران مجید اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان اگر تقوٰی اختیار کر لے اور کثرت سے توبہ استغفار کرے تو اللہ تعالی اسکے لیے تنگیوں سے نکالنے کا رستہ دکھا دیتے ہیں۔۔ آپ صبح و شام 100 دفعہ یہ ورد کیا کریں اللہ خیر کرے گا


Astaghfirullah al-lazi la ilaha illa huwal hayyul qayyum wa atubu ilayhi

(I seek forgiveness from Allah, that being that there is no god except He, who is living, eternal and I turn towards Him



حرفِ آخر
لوگ دشواریوں کو ختم کرنے اور تفکرات سے نجات پانے اور رزق حاصل کرنے کے لئے نجانے کیا کیا جتن کرتے ہیں، لیکن استغفار میں نہیں لگتے جوکہ بہت آسان نسخہ ہے، جس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ ہے کہ استغفار میں لگنے والا بندہ مذکورہ فوائد حاصل کرے گا۔ دیگر مستغفرین و تائبین (توبہ و استغفار کرنے والوں) کے لئے بھی ان ہی انعامات کا وعدہ فرمایا گیا ہے جو متقین کو عطا ہوں گے ( فضائل توبہ و استغفار، ص:۲۶) لہٰذا ہمیں گناہوں پر سچے دل سے استغفار کرنا چاہئے، تاکہ ہم بھی مذکورہ انعامات کے مستحق ہوسکیں۔


حسبِ سابق یہ مضمون بھی عربی سے  اردو میں ترجمہ کرکے آپکی خدمت میں پیش کیا ہے، آپکی دعاوں کا طالب ہوں۔ محمد سلیم/شانتو-چائنا
 
 حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے.





اطمینانِ قلب
(ریحان احمد یوسفی)

جو لوگ ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے سکون حاصل کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو سکونحاصل ہوتا  ہے(الرعد-28)

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کو دلوں کے اطمینان کا ذریعہ بتا یا ہے۔مگر ہمارے ہاں لوگ عام طور پر یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ اللہ کا ذکر کرکے بھی دل بے چین و مضطرب رہتا ہے۔

وہ صبح و شام تسبیحات پڑھتے ہیں، مگر پھر بھی زندگی حز ن و ملال اور بے چینی و انتشار میں گزرتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اس آیت میں اطمینان سے مراد سکون کی وہ کیفیت نہیں ہے جو کسی نشے کو اختیار کرنے کے بعد انسان پر طاری ہوجاتی ہے۔

اور جس کے بعد انسان دنیا و مافیہا کے ہر غم سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ بلکہ یہاں اطمینان سے مراد وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں انسان کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جس ہستی پر وہ ایمان لایا ہے،

جس کو اس نے اپنا رب اور اپنا معبود ماناہے، و ہی در حقیقت خالق و مالک ہے۔ اسی کے ہاتھ میں کل کائنات کی بادشاہی ہے ۔اور جس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا، اللہ تعالیٰ اسے کبھی رسوا اور محروم نہیں کرے گا۔

    تاہم یہ یقین اللہ کے جس ذکر سے پیدا ہوتا ہے وہ محض تسبیح پر انگلیاں پھیرنے کا عمل نہیں بلکہ اس کی یاد میں جینے کا نام ہے۔یہ محض کچھ اذکار کو زبان سے ادا کرنے کا عمل نہیں ،اس کے ذکر سے منہ میں شیرینی گھل جانے کا نام ہے۔

یہ اس کے نام کی مالا جپنے کاعمل نہیں، ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کو اپنے ساتھ سمجھنے کی کیفیت کا نام ہے۔یہ اللہ ھو کا ورد کرنے کا عمل نہیں، رب کی محبت اور اس کے ڈرمیں زندگی گزارنے کا نام ہے۔اس یاد کی بڑی خوبصورت تعبیر، اگر فیض کے الفاظ مستعار لیں تو کچھ یوں ہے۔

رات یوں دل میں تری بھولی ہوئی یاد آئی
جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آجائے
جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے

قرآن نے اس بات کوواضح کیا ہے کہ اطمینان قلب کی وہ کیفیت جس میں انسان کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ کوئی اندیشہ ،اللہ کے دوستوں کو عطا کی جاتی ہے۔فرمایا:

اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ  Oالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ   O لَھُمُ الْبُشْرٰي فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْاٰخِرَةِ  ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيْمُ

سن لو کہ اللہ کے دوستوں کے لیے کوئی خوف ہے اور نہ کوئی اندیشہ۔یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔ان کے لیے خوشخبری ہے ،دنیا کی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی، اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔(یونس 62-63-64)

یہاں قرآن یہ بھی بیان کرتا ہے کہ اللہ کے یہ دوست کون ہوتے ہیں؟ یہ کوئی ’’بزرگ‘‘ قسم کے لوگ نہیں بلکہ وہ سچے اہل ایمان ہیں جو اپنے ایمان کا ثبوت تقوی سے دیتے ہیں۔یعنی رب کی یاد ان کا احاطہ اس طرح کر لیتی ہے کہ زندگی کے ہر کمزور لمحے میں وہ یہ سوچ کر گناہ سے بچتے ہیں کہ اللہ میرے ساتھ ہے اور مجھے دیکھ رہا ہے۔یہی لوگ اللہ کے ولی اور اس کے دوست ہیں ۔ اور جو اللہ کا دوست ہو وہ کیسے کسی خوف و حزن کا شکار ہوسکتا ہے۔

اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں۔ اگر کسی شخص کی ملک کے صدر سے براہِ راست دوستی ہوجائے تو پھر پاکستان میں کوئی سرکاری محکمہ اسے تنگ نہیں کرسکتا۔ کہیں اس کا کام پھنس نہیں سکتا ۔جب ایک فانی انسان کا یہ حال ہے تو جن لوگوں کوا للہ تعالیٰ اپنا دوست قرار دیدے،ان کے معاملات کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔وہ ایمان و تقویٰ کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور اللہ انہیں ہر خوف و حزن سے محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں اور اللہ ان کے دلوں کو اطمینان سے بھردیتا ہے۔

    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے نیک بندوں پر تکالیف بھی آتی ہیں، بلکہ اکثر انہی پر آیا کرتی ہیں توپھر یہ لوگ کس طرح خوف و حزن سے محفوظ ہوئے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حزن و خوف دل کی ایک کیفیت کا نام ہے۔جو لوگ اللہ کی یاد میں جیتے ہیں، ان کے اردگرد وقتی طور پر پریشان کن حالات پیدا ہوسکتے ہیں،

 مگر ان کے قلب پر اطمینان کی وہ کیفیت طاری رہتی ہے جس سے انسان ہمیشہ پرسکون رہتا ہے۔   اس کا سب سے اچھا نمونہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سیرت ہے۔

 آپ کو اپنی زندگی میں متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور ہجرت کے موقع پر تو خون کے پیاسے لوگ آپ کو تلاش کرتے ہوئے غار ثور تک آپہنچے ۔

 آپ کے ساتھ سوائے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے اور کوئی نہ تھا۔ مگرآپ اس موقع پر ذرہ برابر بھی خوفزدہ نہ ہوئے بلکہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے فکرمند ہوئے تو آپ نے ان کو اس طرح تسلی دی کہ اے ابو بکر! ان دوکے متعلق تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا رفیق خود اللہ ہے، (بخاری، رقم 3453)۔

    ایک بندہ مومن پر جب زندگی کی مشکلات آتی ہیں تو اس کا ایمان اسے بتاتا ہے کہ اللہ چاہے تو باآسانی اسے ان مشکلات سے نکال سکتا ہے۔

چنانچہ وہ اپنے رب ہی کو پکارتا اور اسی سے مدد چاہتا ہے۔ جس کے نتیجے کے طور پر اللہ تعالیٰ اسے اس مشکل سے نجات عطا کردیتے ہیں۔

تاہم اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ یہ مشکلات ،اگر دور نہیں ہورہیں تب بھی ،جنت میں اس کے درجات بلند کرنے کا سبب بن رہی ہیں اور آخرت کے دکھوں سے اسے بچارہی ہیں۔چنانچہ مشکلات و تکالیف بھی اسے یہ اطمینان فراہم کرتی ہیں کہ اس کی تکلیف کا ہر اک لمحہ جنت میں اس کی راحتوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔جو شخص اطمینا ن کی اس کیفیت میں جیتا ہو، اس کے سکونِ قلب کے کیا کہنے۔
   
 یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے امتحان کی تیاری میں مصروف کوئی قابل طالب علم رات بھر جاگتا اور نیند کی راحت سے محروم رہتا ہے ۔

 مگر اسے یہ تکلیف اس لیے گوارا ہوتی ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں اس کا بہترین نتیجہ دیکھے گا۔ یا کوئی کاروباری شخص اپنے کاروبار میں پیسے لگاتا ہے اور مشقت اٹھاتا ہے، اس امید پر کہ آنے والے دنوں میں اسے بھرپور منافع ملے گا۔

 یہ ایک حقیت ہے کہ اللہ کی یاد میں بڑا سکون ہے۔ مگر اس شخص کے لیے جو ایمان و تقوی کی کیفیات میں جیتا ہو۔ نہ کہ اس شخص کے لیے جسے عام حالات میں اللہ یاد رہے نہ آخرت بلکہ اس کی زندگی کا مقصود دنیا کی لذتیں ہوں۔

 ہاں اسے کبھی تکلیف پہنچ جائے تو اس تکلیف سے نجات پانے کے لیے وہ وظیفے پڑھنا شروع کردے اور سمجھے کہ یہ اللہ کی یاد ہے جس سے اسے سکون مل جائے گا۔


********************************** 








ایک متأثر کن قصہ
 آخر تک پڑھیئے

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ
میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟ 
ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے، مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی، پہلے تو یہی اردہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں ، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اند جا کر دیکھنا تو چاہیئے کہ کیا ہو رہا ہے؟
ہم نے اند جا کر دیکھا ایک نوجوان مسجد میں جاء نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لئے بیٹھا  تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔  بلکہ ہم نے تو احتیاطا ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ واقعی کوئی اور موجود  تو نہیں ہے۔
میں نے اُسے السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا،  اس نے نطر اُٹھا کر ہمیں دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
اُس نے ہمیں جوابا وعلیکم السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔
میں نے اس سے پوچھا، عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے، نماز کا وقت ہو گیا ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔
اُس کے جواب کا  انتظار کئے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو  وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر یا کس لئے یہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہیں تھا۔ عجیب معمہ سا  تھا۔
پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے،
نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نظر انداز کر تے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔ 
جبکہ میرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ  مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
دماغ میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے، مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیں ہے، مسجد فارغ اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟
میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔
میں نے اس سے پوچھا، بھائی کیا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ’بخیر و للہ الحمد‘ کہہ کر دیا۔
میں نے اس سے پھر کہا، اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔ ’وہ کیسے‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔
میں نے جواب دیا کہ جب میں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ایک بات کہی مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔
نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اس میں ایسی حیرت والی کونسی بات ہے؟
میں نے کہا، ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے تھے آخر؟
نوجوان میری بات سن کر مسکرا تو ضرور دیا مگر جواب دینے کی بجائے  اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑ لیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔
میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔
اس بار اُس نے نظریں اُٹھا کر  مجھے دیکھا اور کہا؛ میں مسجد سے بات کر رہا تھا۔
اس کی بات میرے ذہن پر بم کی  کی طرح لگی، اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔
میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا، کیا کہا ہے تم نے؟  تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟
اُس نے  پھرمسکراتے ہوئے ہی  جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کر دو۔
میں نے کہا، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔
اُس نے مسکراتے ہوئے  کہا کہ آپکی بات ٹھیک ہے یہ صرف پتھر ہیں۔
اگر تم یہ جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو  نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں  تو  باتیں  کس سے کیں؟
نوجوان نے نظریں پھر زمیں کی طرف کر لیں، جیسے  سوچ رہا ہو  کہ جواب دے یا نہ دے۔
اور اب کی بار اُس نے نظریں اُٹھائے بغیر ہی کہا کہ ؛
میں  مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں،  جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں  تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں
مجھے اُنایام  خیال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہونگے۔
پھر میں اپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ  کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔  میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ  کوئی تو ہو جو ادھر آ کر تسبیح و تحلیل کرے، کوئی تو ہو جو آ کر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلا دے۔
میں تصور کر سکتا ہوں کہ  یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔  
کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں  اور چند  سجدے   ہی اداکر جائے اس میں۔
کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آ کر ایک اذان ہی بلند کرد ے۔
پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم، میں ہوں جو تیرا شوق پورا کرونگا۔
اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کرونگا۔
پھر میں ایسی مسجدمیں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے  ایک سیپارہ کی تلاوت کرتا ہوں۔
میرے بھائی، تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے  پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔
 میری آنکھوں  آنسوؤں سے بھر گئیں،  اس بار میں نے اپنی نظریں زمیں میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے،
اُس کی باتیں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجیب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجیب اسلوب۔۔۔۔۔کیا عجیب شخص  ہے جسکا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔
میرے پاس کہنے کیلئے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔
صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خیر دے، میں نے اسے سلام کیا، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔
مگر ایک حیرت ابھی  بھی باقی تھی۔
نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک گیا،
نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جُھکی  تھیں اور وہ مجھے  کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟
میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔
اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا  میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ
’ اے میرے  پروردگار، اے میرے  رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر ، تیرے قرآن کی تلاوت اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانگی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت و ویرانگی کو دور فرما دے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے‘
مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
پیارے دوست، پیاری بہن
کیا عجیب تھا یہ نوجوان، اور کیسی عجیب محبت تھی اسے والدین سے!
کسطرح کی تربیت پائی تھی اس نے؟
اور ہم کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں اپنی اولاد کو؟
ہم کتنے نا فرض شناس ہیں اپنے والدین کے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ؟
بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمارا  نیکی پر خاتمہ کرے، اللھم آمین

ازراہ کرم! اگر آپ کو اس ایمیل  کا موضوع اچھا لگا ہے تو اپنے ان احباب کو بھیج دیجیئے جن کا  آپ چاہتے ہیں بھلا اور فائدہ ہو جائے۔
مت بھولئے کہ نیکی کی ترغیب دلانے والے کو نیکی کرنے والے  جتنا ثواب ملتا ہے۔

کیا کبھی آپ میں سے کسی نے یہ سوچا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ جی ہاں موت کے بعد کیا ہوگا؟
تنگ و تاریک گڑھا، گھٹا ٹوپ  اندھیرا، وحشت و ویرانگی، سوال و جواب،  سزا و  جزا، اور پھر جنت یا دوزخ۔
یا اللہ، اس ایمیل پڑھنے والے کے دکھ درد اور پریشانیاں دور فرما دے، اور ہر اس شخص کی بھی جو  وعظ و عبرت کیلئے اس ایمیل کو دوسروں کو بھیجے۔
آمین یا رب العالمین۔
 حسب سابق  اس مضمون کو عربی سے اردو میں ترجمہ کرکے آپ تک پہنچایا ہے،  مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے  ۔






عقل اور نصیب
محمد سلیم نے Saturday، 20 October 2012 کو شائع کیا.
     
کہتے ہیں کسی جگہ دو شخص رہتے تھے
ایک کا نام “عقل” تھا
اور دوسرے کا نام “نصیب”
ایک دفعہ وہ  دونوں کار میں سوار ہو کر ایک لمبے سفر پر نکلے
آدھے راستے میں سنسان   راستے پر کار کا پیٹرول ختم ہوگیا
دونوں نے کوشش کی کہ کسی طرح رات گہری ہونے سے پہلے یہاں سے نکل جائیں،
مگر اتنا پیدل چلنے سے بہتر یہ جانا گیا  کہ ادھر ہی وقت گزار لیں جب تک کوئی مددگار نہیں آ جاتا۔
عقل نے فیصلہ کیا کہ وہ سڑک کے کنارے لگے ہوئے درخت کے نیچے جا کر سوئے گا
نصیب نے فیصلہ کیا کہ وہ سڑک کے درمیان میں ہی سوئے گا۔
عقل نے نصیب سے کہا بھی کہ تو پاگل ہوگیا ہے کیا؟
سڑک کے درمیان میں سونا اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈالنا ہے
نصیب نے کہا؛ نہیں۔ سڑک کے درمیان میں سونا مفید ہے،
کسی کی مجھ پر نظر پڑ گئی تو جگا کر یہاں سونے کا سبب پوچھے گا اور ہماری مدد کرے گا
اور اس طرح عقل درخت کے نیچے جا کر اور نصیب سڑک کے درمیان میں ہی پڑ کر سو گیا
گھنٹے بھر کے بعد ایک بڑے تیز رفتار ٹرک کا ادھر سے گزر ہوا۔
جب ٹرک ڈرائیور کی نظر پڑی کہ کوئی سڑک کے بیچوں بیچ پڑا سو رہا ہے
تو اس نے روکنے کی بہت کوشش کی،
ٹرک نصیب کو بچاتے بچاتے مڑ کر درخت میں جا ٹکرایا
درخت کے نیچے سویا ہوا بیچارہ عقل کچل کر مر گیا
اور نصیب بالکل محفوظ رہا
*****
شاید حقیقی زندگی میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے
نصیب لوگوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے
حالانکہ ان کے کام عقل سے نہیں ہو رہے ہوتے، یہی ان کی تقدیر ہوتی ہے۔
بعض اوقات سفر سے تاخیر کسی اچھائی کا سبب بن جایا کرتی ہے۔
شادی میں تاخیر کسی برکت کا سبب بن جایا کرتی ہے۔
اولاد نہیں ہو رہی، اس میں بھی کچھ مصلحت ہوا کرتی ہے۔
نوکری سے نکال دیا جانا ایک با برکت کاروبار کی ابتدا بن جایا کرتا ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو
اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو
اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے (سورۃ البقرۃ – 216)







ویلنٹائن ڈے: جب تم حیا نہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مرد و عورت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے(روم21:30)۔اس تعلق کی بنیاد اُس کشش پر ہے جو انسانی جبلت (Instinct) میں رکھ دی گئی ہے تاکہ نسلِ انسانی آگے بڑھ سکے ۔ یہ کشش نہ ہو تو صرف ایک نسل بعد پوری انسانیت دم توڑدے گی۔مردو زن کی باہمی کشش انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ اکٹھے ہوں اور خاندان کا ادارہ تشکیل دیں۔ خاندان نہ ہو تو معصوم بچے اور ناتواں بزرگ زمانے کی سختیوں کو جھیلنے کے لیے تنہا رہ جائیں گے۔ مردوزن کے اس تعلق کی ایک اور بڑی اہمیت بھی ہے۔ دوسری تمام نعمتوں کی طرح یہ بھی انسانوں کو خالقِ کائنات کی ان بے کراں عنایات کا ایک ادنیٰ سا تعارف کراتا ہے جو اس نے جنت کی ابدی زندگی میں ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔

مگر مرد و زن کی یہ کشش بارہا اپنے ان مقاصد تک محدود نہیں رہتی۔شیطان انسان کی راہ میں بیٹھتا ہے اور خود اس کو ایک مقصود بنادیتا ہے۔اس کا سب سے بڑا نمونہ مغربی معاشروں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہاں حیا کا فطری جذبہ بہت محدود اور عفت و عصمت (Chastity)ایک قدر کے طور پر باقی نہیں رہے۔میاں بیوی کا محدود اور پاکیزہ تعلق مرد و زن کے بے قید شہوانی تعلق میں بدل چکا ہے۔اس تعلق میں دو انسان’’ رفع حاجت ‘‘کے لیے باہم ملاقات کرتے ہیں اور دل بھر جانے کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے اس آزاد تعلق کو منانے کا دن ہے۔اس کی ابتدا کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بت پرست رومی تہذیب سے شروع ہوا یا تثلیث کے فرزندوں کی پیداوار ہے مگر اس کا فروغ ایک ایسے معاشرے میں ہوا جہاں حیا کی موت نے ہر (Love Affair) کو (Lust Affair) میں بدل دیا ہے۔ مغرب کا یہ تحفہ اب کرسمس کے بعددنیا کا سب سے زیادہ مقبول تہوار بن چکا ہے۔ہر گزرتے سال ، میڈیا کے زیر اثر، ہمارے ملک میں بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار ،جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔یہ تہوار اس لیے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد وتصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہوجائیں۔ مسلمان عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراہیم ؑ کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطۂ نظر کو تسلیم کررہے ہیں کہ مردو عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عصمت مطلوب نہیں۔اپنے نوجوانوں سے ہم پاکدامنی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

کوئی ہندو عید الاضحی کے موقع پر گائے کو ذبح کرکے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بے نیاز ہوکر عید کی خوشیوں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔ٹھیک اسی طرح آج ہم ویلنٹائن ڈے پر خوشیاں منارہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کرکے ویلنٹائن ڈے منائیں گی۔

اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجیے ۔ ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں اور فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ان میں ہیرو اور ہیروئن شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ ویلنٹائن ڈے کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جارہا ہے۔جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہوجائے گا۔اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔مائیں حیا کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔

آج سے چودہ سو برس قبل مدینہ کے تاجدار نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی گئی تھی۔جس میں زنا کرنا ہی نہیں اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ جس میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگادی جائے تو لگانے والے کو  کوڑے مارے جاتے تھے۔جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرے میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرے کے بانی نے فیصلہ کردیا تھا:
’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمھارا جی چاہے کرو‘‘

تاجدار مدینہ کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔مگر اب لگتا ہے کہ امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔اب وہ حیا نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گاوہی کریں گے۔ ویلنٹائن ڈے کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں 
گے جو ہمارا دل چاہے گا۔

Please forward this email to all muslims of the world.






Click on the following For Islamic Video, Islamic Wazaif and Zikar Azkaar for daily routine life of muslim (All time best post of this blog "Sharing is caring")

http://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html

Wash Ur Hand Before Eating
* * * * * * * * * * * * * * * * *

Wash Your Both Hands Thrice Upto Wrist And Take Water In Mouh And Gargle.

Wash The Exterior Of Mouth Also, And Dont Wipe The Hands
( Shamail,Tirmizi )


Benefits :-
 All Of You Know That To Avoid Bacteria Washing Is Necessary, Hence Islam Direct To Wash Hands Before Eating And Not To Wipe Hands After Washing As We Will Get Bacteria Again On Your Hands And Washing Will Be Useless.

For The Doctor Washing Hands Before An Operation Or Even Before Touching The Patient Is Thought Necessary Even Though Gloves Are Warm. From This We Can Understand The Wisdom Of Islamic Ways.

Gargling :-
 By Gargling And Washing The Lips, Mouth Will Be Cleaned Completely And Also The Dryness Of Throat Will Remain No More.


 



کھانے کا طریقہ

١ - دونو ہاتھ پوہنچوں سمیت  تین دفعہ دھونا اور کلّی بھی منہ  کا اگلا حصّہ دھونا  ھاتھ ہرگز نہ پوچھنا  
فائدہ :- یہ ٹوہ سبھی جانتے ہیں کی جراثیم  سے بچنے کیلئے ھاتھ دھونا لازمی ہے اسلئے اسلام مے کھانے
سے پہلے ھاتھ دھونے کی ہدایت ہے . ھاتھ دھوکر نا پونچھنے کی بھی تاکید ہے ورنہ دستی کے جراثیم ہاتھوں 
می بھر جاینگے  اور ھاتھ دھونا بے سود  ہوگا .
مغربی  معاشرے می کھانے سے پہلے ھاتھ دھونے کو ضروری نہیں سمجھا جاتا لیکن ہر ڈاتر  اپر یشن  سے پہلے مریض کو چھونے سے پہلے اور 
بعد ضرور ھاتھ دھوتا ہے ،اس سے اسلامی طریقہ کی مصلحت حکمت اور منفعت  ظاهر ہوتی ہے 

کلّی کرنا

 :- کلّی کرنے سے منہ کا اندورنی اور بیرونی حصّہ پاک وو صاف ہوجاتا ہے اور حلق کی خشکی  دور ہوجاتی ہے 
آپ سبکی دواؤں کی طالب 
روبینہ یاسمین   







No comments:

Post a Comment