Monday, July 12, 2021

Urdu Article: Taharat Pakeezqi Masail, Non Muslim Khatoon, Admi, Choti si Zindagi, Abu ki Salary, Waqia, Gas Leakage , Farud, Zindagi, Sohahar, Husband ho to aisa

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed Latest jobs


 

🌹🌹🎤🎤️🖋️📚

اپنی بیٹیوں کو شادی سی پہلے طہارت کے مسائل سکھا کر رخصت کریں.

 

ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے ان پڑھوں  کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ آۓروز ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے ارد گرد کٸی لوگوں کی شادیاں ہوتی ہیں اورکئی لڑکیاں نیل پالش لگائے ہوئے غسل کر لیتی ہیں۔ جب کہ کئی کئی دن وہ ناپاک رہتی ہیں، اور کچھ نے تو آرٹیفشل نیلز فکس کروائے ہوتے ہیں جو ایک یا دو دن کے لیے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پاک ہی نہیں ہوتیں.

 ماؤں کا فرض بنتا ہے انہیں یہ سب کچھ شادی سے پہلے سکھا کر شوہر کے گھر بھیجیں. 

شادی کی تیاری میں آپ کو کلر کنڑاسٹ سے لےکر ہر بوتیک، ہر برانڈ اور اچھا پارلر سب یاد رہتا ہے. پوری دیانت داری سے اپنا وقت کپڑوں اور جیولری سلیکشن میں صرف کرتی ہیں۔  اپنے مطلب کی ایک ایک چیز ڈھونڈنے میں پورے دن کا ضیاع بھی گوارا ہے. میچنگ کے چکر میں گھنٹوں برباد ہوں تو خیر ہے۔۔۔۔ مگر وقت نہیں تو دین کے چند بنیادی مساٸل سیکھنے کا۔۔۔۔ طہارت کے مساٸل جاننے کا۔۔۔ 👇👇👇جاری ہے

YouTube chanel link

Al hafeez media khanqah hafizia  makkia


 

 

 

غیر مسلم خاتون مدرسہ میں

 

 

ایک فرانسیسی عورت اپنے  چودہ سالہ بیٹے کو لے کر فرانس کے اسلامک سنٹر میں  آئی تاکہ اس کا بیٹا  مسلمان ہوجائے ، وہ دونوں اسلامک سنٹر پہنچ گئے،  اسلامک سنٹر کے ناظم کے آفس میں جاکر  بچے نے  ملاقات کی، بچے نے کہا میری امی چاہتی  ہے  میں مسلمان ہوجاؤں، مرکز اسلامی کے ناظم نے بچے سے پوچھا کیا تم اسلام قبول کرنا چاہتے ہو؟ بچے نے جواب دیا، میں نے ابھی تک اس پر غور نہیں کیا ہے لیکن میری ماں کی خواہش ہے میں  اسلام قبول کرلوں 

ناظم کو بچے کے اس جواب پر بڑی حیرت ہوئی، اس نے بچے سے پوچھا کیا تمھاری ماں مسلمان ہے؟  بچے نے کہا کہ نہیں میری ماں مسلمان نہیں ہے اور نہ ہی مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے اسلام قبول کرنے کے لئے کیوں کہتی ہے 

ناظم نے پوچھا ، تمھاری ماں کہاں ہے؟ 

بچے نے کہا وہ مرکز اسلامی کے باہر کے حصہ میں کھڑی ہے 

ناظم نے کہا اپنی ماں کو بلا لاؤ، تاکہ میں اس سے گفتگو کرکے صورتحال جان سکوں 

بچہ اپنی ماں کو لے کر ناظم کے پاس آیا، ناظم نے ماں سے پوچھا کہ کیا یہ بات درست ہے، کہ تم مسلمان نہیں ہو اور چاہتی ہو کہ تمھارا بیٹا مسلمان ہوجائے؟ ماں نے کہا کہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے 

ناظم کو اس جواب پر بڑی حیرانی ہوئی اس نے ماں سے پوچھا کیوں چاہتی ہو تمھارا بیٹا اسلام قبول کرلے، ماں نے جو جواب دیا وہ حیرت زدہ کرنے والا تھا ماں نے بتایا 

میں پیرس کے جس فلیٹ میں رہتی ہوں، میرے فلیٹ کے بالمقابل ایک مسلم فیملی کا فلیٹ ہے اس کے دوبچے یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں 

صبح و شام جب بھی یہ دونوں بچے گھر سے نکلتے ہیں یا گھر میں داخل ہوتے ہیں وہ اپنی والدہ کی پیشانی چومتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں اور بڑے احترام اور ادب سے اپنی ماں کے ساتھ پیش آتے ہیں 

گویا وہ ماں کسی ملک کی  پرائمنسٹر ہے، میں نے جب سے یہ منظر دیکھا ہے میری دلی تمنا ہوگئی ہے کہ میرا بیٹا بھی مسلمان ہوجائے ورنہ مجھے ڈر ہے، میں جب بوڑھی ہوجاؤں وہ کہیں مجھے اولڈ ایج ہوم میں نہ رکھے، میں چاہتی ہوں 

وہ میرے ساتھ ایسا سلوک کرے، جیسے یہ مسلم ماں کے بچے اپنی والدہ کے ساتھ کرتے ہیں 

ما أجمل ديننا الاسلامي .

اذا اتممت اكتب الله أكبر

🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱🌱

 

دعـــاؤں کا طلبـــگار

 

https://chat.whatsapp.com/HHitTFJ54YlJxdr9cZb1e5

 

 

 

 

 

 

 

 

•              👈 مطمئن_آدمی 👉

 

 

ایک صاحب سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہیں نہایت مطمئن پایا۔

  باتوں باتوں میں کچھ ایسے راز کُُھلے کہ اپنی زندگی بیکار نظر آنے لگی ۔

 

بولے کہ بہت زیادہ امیر آدمی نہیں ہوں مگر ہر وقت گھر میں چھوٹی پانی کی ڈسپوزیبل بوتلیں رکھتا ہوں اور گرمی کے موسم میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو ۲-۳ ٹھنڈی کی ہوئی بوتلیں ساتھ رکھ لیتا ہوں اور منزل تک پہنچتے ہوئے راہ چلتے سائیکل سوار، کسی دھوپ میں کھڑے چوکیدار یا مالی وغیرہ کو پکڑا دیتا ہوں اور ان سے آسمان کو چھونے والی دعائیں لے لیتا ہوں ۔

 

 

 

بازار آتے جاتے ایک دو شوارمے خرید لیتا ہوں اور کسی مناسب شخص کو جو اس کا حقدار لگتا ہو پکڑا دیتا ہوں۔ 

 

 

 

مسجد کے پیش امام کا جس دوکان میں ادھار چلتا ہے، وہاں اس کا پچھلا کھاتا مہینے میں ایک آدھ دفعہ کلیئر کر آتا ہوں۔ 

 

 

 

مسجد صاف کرنے والے خادموں کے گھر کا کرایہ تھوڑا سا ہی ہوتا ہے تو وہ ادا کر آتا ہوں یہ سوچتے ہوئے کہ یہ اللہ کے گھر کے خادم ہیں۔ 

 

 

 

علاقے کے میڈیکل اسٹور والے کو کچھ رقم دے آتا ہوں کہ غریب دیہاڑی داروں سے نفع لینے کی بجائے اس رقم سے لے لیں اور انہیں دوائی مناسب قیمت پر دے دیں ۔

 

 

 

بچے چُھٹی والے دن باہر کا ناشتہ لانے کو بولیں تو آتے ہوئے دو چار حلوہ پُوڑی ایکسٹرا لے آتا ہوں اور راستے میں کسی کو دے آتا ہوں ۔

 

 

 

کسی اسٹور سے کوئی چیز خریدتے وقت کوئی بچہ آ جائے تو اس کی ساری شاپنگ کی پیمنٹ میں کر دیتا ہوں ۔

 

 

 

یہ سب سُن کر حواس جاتے رہے کہ یہ تو آسان اور سستے سے کام ہیں پِھر اپنے چھوٹے بھائی سے اس حوالے سے بات ہوئی جو مدینہ میں ہوتےہیں تو بولے کہ مدینہ شریف میں ایسا ہی ہوتے دیکھتا ہوں روز تو بدن سُن سا ہو گیا کہ

 

ہم روز اپنے حُکمرانوں سے ریاست مدینہ کا تقاضا کرتے ہیں

 کیا کبھی اپنے اندر کی ریاست کو بھی مدینہ جیسا بنانے کی کوشش کی ہے؟؟؟

(منقول)

 

سب دوست ایک بار درودشریف پڑھ لیں

ایک بار درودشریف پڑھنے سے 

ﷲ تعالیٰ دس مرتبہ رحمت فرماتے ہے

 

اردو تحـــــــاریــــــر 🌙

┅┄┈ ͜۝͜※┅┄┈•۔

                ۔

                ۔

                ۔

                ۔

 

یوٹیوب چینل لنک

https://youtube.com/channel/UC2ZK00WfvRn2E96bfwWi-Ng

 

ٹیلیگرام چینل کیلئے سررچ

https://t.me/UrduTahareer

 

واٹس ایپ گروپ لنک

https://chat.whatsapp.com/HaaIXOy6PcH7ITPYzNFhva

 

 

 

 

 

 

زندگی بہت مختصر ہے۔ کیا واقعی؟

امام غزالیؒ 53سال زندہ رہے، ستّر سے زائد کتابیں لکھیں، تصوف، قانون، فقہ اور فلسفے کے موضوعات پر۔ ابن رشد نے 73برس کی عمر پائی، ان کی تصانیف کی کم سے کم تعداد 67ہے جن میں سے اٹھائیس فلسفے سے متعلق ہیں، بیس کا موضوع طب ہے، آٹھ قانون پر ہیں، چھ میں الٰہیات پر بحث کی گئی ہے اور چار کتابیں زبان و بیان کی ہیں- بو علی سینا 980ء میں پیدا ہوئے اور 1037ء میں وفات پائی، عمر 57برس، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے ساڑھے چار سو کاموں میں سے دو سو چالیس ہم تک پہنچے جن میں سے ڈیڑھ سو فلسفے اور چالیس طب سے متعلق ہیں، آپ کی کتاب الشفا کی اٹھارہ جلدیں ہیں۔ ابن الہیثم کو75برس کی زندگی ملی، اس زندگی میں انہوں نے پینتالیس کتابیں لکھیں، موضوعات تھے طب، فلسفہ، الٰہیات، فلکیات، ریاضی، طبیعات اور نہ جانے کیا کیا۔

 

البیرونی کی عمر 77برس رہی، ا ن کی جو تصانیف ہم تک پہنچیں وہ تعداد میں کم از کم چودہ ہیں جن میں سے کچھ خاصی ضخیم ہیں، آپ تاریخ دان اور ماہر لسانیات تھے اور ساتھ ساتھ آپ نے طبیعات، ریاضی اور فلکیات پر بھی کام کیا۔ ابن باجۃ نے فقط 42سال کی عمر پائی، اس مختصر عرصے میں انہوں نے منطق، فلسفہ، ریاضی، مابعد الطبیعات اور اخلاقیات پر درجن بھر سے زائد کتب لکھیں، آپ کا کام آکسفورڈ، برلن، تاشقند، استنبول، انقرہ اور قاہرہ کے کتب خانوں میں محفوظ ہے۔ الکندی نے قریباً 70برس کی زندگی جی، ان کے مخطوطات کی تعداد دو سو سے زائد بتائی جاتی ہے جن میں فلسفہ، نجوم، فلکیات، موسیقی، ریاضی، سیاست، طبیعات وغیرہ شامل ہیں مگر جو کتابیں مطبوعہ صورت میں موجود ہیں ان کی تعداد آٹھ ہے۔ 

 

یہ فہرست مزید طویل کی جا سکتی ہے مگر فی الحال ہم ان مسلم مفکرین کو ان کے حال پر چھوڑتے ہیں کہ یہ عظیم لوگ تھے، علم ہی ان کا اوڑھنا بچھونا تھا، انہیں پڑھنے لکھنے کے سوا کوئی کام ہی نہیں تھا، یہ صبح اٹھتے تھے اور پھر نان اسٹاپ رات تک کتابوں میں غرق رہتے تھے، قلم ان کے ہاتھ میں ہوتا جس سے لکھ لکھ کر انہوں نے ڈھیر لگا دیا۔ان کا فیس بک اکاؤنٹ تھا نہ ٹویٹر، انسٹا گرام تھا نہ اسنیپ چیٹ، انہیں اپنی ای میل دیکھنا ہوتی تھی اور نہ ہی بیکار قسم کی Apps کو اپ ڈیٹ کرنا ہوتا تھا، وٹس ایپ پر صبح بخیر کے پیغامات کا جواب دینا ہوتا تھا اور نہ کسی کے بارے میں جھوٹی سچی خبریں فارورڈ کرنا ہوتی تھیں، سو انہیں سوائے علم حاصل کرنے اور پھیلانے کے کوئی دوجا کام نہ تھا۔

 

سوال پھر وہیں اٹک گیا۔ کیا واقعی زندگی، ہماری زندگی مختصر ہے؟ اس کا جواب آج سے دو ہزار سال پہلے ایک فلسفی نے دیا، اس کا نام سینیکا (Seneca) تھا، یہ روم کے شہنشاہ نیرو کا اتالیق تھا، وہی نیرو جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب روم جل رہا تھا تو نیرو وائلن بجا رہا تھا (بانسری غالباً رومیوں کا ساز نہیں تھا) سینیکا نے فلسفے کے موضوعات پر درجن بھر مقالے قلم بند کیے اور اخلاقیات پر ایک سو چوبیس خطوط لکھے، اُس کے ایسے ہی ایک مضمون کا عنوان ہے On the Shortness of Life۔

 

ہم سب کو لگتا ہے کہ زندگی بہت تھوڑی ہے اور اس میں ہمیں بہت کچھ حاصل کرنا ہے، وقت کم ہے اور مقابلہ سخت ، شروع کے بیس پچیس سال تو اسکول کالج میں ہی گزر جاتے ہیں، اس کے بعد نوکری کی تلاش، کاروبار کی شروعات اور فکر معاش ہمارے چار پانچ برس کھا جاتے ہیں، کبھی کبھی تو اس سے بھی زیادہ، اسی بیچ کہیں شادی ہو جاتی ہے، پھر بچے ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد باقی کی زندگی بچوں کی تعلیم اور ان کے مستقبل کی فکر میں گزار دی جاتی ہے، یہ سب پلک جھپکنے میں گزر جاتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ عمر تو ساٹھ برس ہو گئی اور کیا کچھ بھی نہیں، سوچا تو یہ تھا کہ دس پندرہ برس محنت سے پیسے کمائیں گے اور اس کے بعد اطمینان سے زندگی گزاریں گے مگر وہ دس پندرہ برس کبھی ختم نہیں ہوتے، وہ اطمینان کی زندگی کا وقت ہی نہیں آتا، الٹا اپنے جانے کا وقت آجاتا ہے۔ تو کیا واقعی زندگی ایسی ہی مختصر ہے؟

 

سینیکا کا کہنا ہے ’’نہیں‘‘۔ اصل میں ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنی زندگی معمولی باتوں کی نذر کر دیتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہو پاتا۔ فون پر گھنٹوں بے معنی گفتگو کرنا، بے مقصد ٹی وی کو گھورتے رہنا، فضول پوسٹس دیکھ دیکھ کر وقت ضائع کرنا یا اُن لوگوں کے ساتھ وقت بِتانا جو آپ کی زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتے۔ یہ تمام حرکتیں کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ زندگی بہت مختصر ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ ہم خود اسے مختصر بنا دیتے ہیں۔ دوسری غلطی ہم لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنی پوری زندگی طاقت اور مقام حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں، یہ سوچ کر کہ جب ہم زندگی میں کوئی رتبہ حاصل کر لیں گے تب ہماری ’’لائف سیٹل ہو جائے گی‘‘۔۔۔ ایسا نہیں ہوتا-۔۔۔ ہوتا یہ ہے کہ ہماری زندگی مستقبل کا کوئی نہ کوئی مقصد حاصل کرنے میں بیت جاتی ہے اور اس چکر میں ہم اپنا حال بھی گنوا بیٹھتے ہیں، ہم اپنی پوری زندگی مسلسل زندگی کی تیاری میں گزار دیتے ہیں حتیٰ کہ مرنے کے بعد بھی ہمیں اس بات کی فکر ہوتی ہے کہ لوگ ہمیں کیسے یاد رکھیں گے- تب تک زندگی ختم ہو چکی ہوتی ہے۔

 

زندگی میں آسودگی کی خواہش رہنی چاہیے اور اس مقصد کے لیے کوشش بھی کرنی چاہیے مگر اس بات کا خیال رہے کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے، یہ زندگی فیس بک پوسٹس پر دل جلانے کے لیے نہیں، آج سے تیس چالیس برس بعد جب ہم مڑ کر دیکھیں گے تو شاید سوچیں کہ جتنا وقت ہم نے فضول کاموں میں خرچ کیا اگر علم کے حصول میں خرچ کرتے تو اطمینان بخش ہوتا۔ اب بھی دیر نہیں، اپنی پسند کا دانشور یا فلسفی تلاش کریں، اس کی کتابیں پڑھیں، اس سے علم سیکھیں، اس کی دانش سے استفادہ کریں، خود کو بہتر انسان بنانے کی کوشش کریں، خدا موقع دے تو دنیا دیکھیں، زندگی کے ہر پل کا بھرپور انداز میں استعمال کریں، پھر دیکھیں اس ’’مختصر‘‘ سی زندگی میں کیا کچھ نکلتا ہے۔

 

وسوسوں اور اندیشوں سے بھری زندگی کا کوئی فائدہ نہیں اور زندگی کو پُرکیف اور آسودہ بنانے کا کوئی ایک فارمولا بھی نہیں، ہر شخص کا ذہن دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، کسی کو کتابیں پڑھ کر فرحت ملتی ہے تو کسی کو ورزش سے سکون ملتا ہے، اپنا راستہ خود تلاش کریں جس میں آپ کو فرحت ملے مگر انسانیت کی بھلائی مقدم رہے، اپنے وقت کی بچت ایسے کریں جیسے کوئی بنیا اپنے پیسے بچا کر رکھتا ہے، کسی فضول چیز پر خرچ کیے ہوئے دس ہزار آپ دوبارہ بھی کما سکتے ہیں مگر کسی فضول کام میں صرف کیے دو گھنٹے آپ کبھی واپس نہیں لا سکیں گے۔ آج کے دن کا کھاتا کھولیں اور حساب لگائیں آپ نے کتنا وقت ضائع کیا اور کتنا کسی مفید کام میں صرف کیا، آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ زندگی مختصر ہے یا ہم نے اسے مختصر بنا دیا ہے!

 



 

 

 

جب ابّا کی تنخواہ کے ساڑھے تین سو روپے پورے خرچ ہو جاتے تب امّاں ہمارا پسندیدہ پکوان تیار کرتیں۔ ترکیب یہ تھی کہ سوکھی روٹیوں کے ٹکڑے کپڑے کے پرانے تھیلے میں جمع ہوتے رہتے اور مہینے کے آخری دنوں میں ان ٹکڑوں کی قسمت کھلتی۔ پانی میں بھگو کر نرم کر کے ان کے ساتھ ایک دو مٹھی بچی ہوئی دالیں سل بٹے پر پسے مصالحے کے ساتھ دیگچی میں ڈال کر پکنے چھوڑ دیا جاتا۔ حتیٰ کہ مزے دار دلیم سا بن جاتا اور ہم سب بچے وہ دلیم انگلیاں چاٹ کر ختم کر جاتے۔ امّاں کے لیے صرف دیگچی کی تہہ میں لگے کچھ ٹکڑے ہی بچتے۔ امّاں کا کہنا تھا کہ کھرچن کا مزہ تم لوگ کیا جانو۔

اور امّاں ایسی سگھڑ تھیں کہ ایک دن گوبھی پکتی اور اگلے دن اسی گوبھی کے پتوں اور ڈنٹھلوں کی سبزی بنتی اور یہ کہنا مشکل ہوجاتا کہ گوبھی زیادہ مزے کی تھی یا اس کے ڈنٹھلوں کی سبزی۔

امّاں جب بھی بازار جاتیں تو غفور درزی کی دکان کے کونے میں پڑی کترنوں کی پوٹلی بنا کے لے آتیں۔ کچھ عرصے بعد یہ کترنیں تکئے کے نئے غلافوں میں بھر دی جاتیں۔ کیونکہ امّاں کے بقول ایک تو مہنگی روئی خریدو اور پھر روئی کے تکیوں میں جراثیم بسیرا کر لیتے ہیں۔ اور پھر کترنوں سے بھرے تکیوں پر امّاں رنگ برنگے دھاگوں سے شعر کاڑھ دیتیں۔ کبھی لاڈ آجاتا تو ہنستے ہوئے کہتیں ’تم شہزادے شہزادیوں کے تو نخرے ہی نہیں سماتے جی، سوتے بھی شاعری پر سر رکھ کے ہو۔‘

عید کے موقع پر محلے بھر کے بچے غفور درزی سے کپڑے سلواتے۔ ہم ضد کرتے تو امّاں کہتیں وہ تو مجبوری میں سلواتے ہیں کیونکہ ان کے گھروں میں کسی کو سینا پرونا نہیں آتا۔ میں تو اپنے شہزادے شہزادیوں کے لیے ہاتھ سے کپڑے سیئوں گی۔ جمعۃ    کے مبارک دن ابّا لٹھے اور پھول دار چھینٹ کے دو آدھے آدھے تھان جانے کہاں سے خرید کر گھر لاتے۔ لٹھے کے تھان میں سے ابّا اور تینوں لڑکوں کے اور چھینٹ کے تھان میں سے دونوں لڑکیوں اور امّاں کے جوڑے کٹتے اور پھر امّاں ہم سب کو سلانے کے بعد سہری تک آپا نصیبن کے دیوار ملے کوارٹر سے لائی گئی سلائی مشین پر سب کے جوڑے سیتیں۔

آپا نصیبن سال کے سال اس شرط پر مشین دیتیں کہ ان کا اور ان کے میاں کا جوڑا بھی امّاں سی کے دیں گی۔ ہم بہن بھائی جب ذرا ذرا سیانے ہوئے تو ہمیں عجیب سا لگنے لگا کہ محلے کے باقی بچے بچیاں تو نئے نئے رنگوں کے الگ الگ چمکیلے سے کپڑے پہنتے ہیں مگر ہمارے گھر میں سب ایک ہی طرح کے کپڑے پہنتے ہیں۔ مگر امّاں کے اس جواب سے ہم مطمئن ہوجاتے کہ ایک سے کپڑے پہننے سے کنبے میں محبت قائم رہتی ہے۔ اور پھر ایسے چٹک مٹک کپڑے بنانے کا آخر کیا فائدہ جنھیں تم عید کے بعد استعمال ہی نہ کر سکو۔

چھوٹی عید یوں بھی واحد تہوار تھا جس پر سب بچوں کو ابّا ایک ایک روپے کا چاند تارے والا بڑا سکہ دیتے تھے۔ اس کے انتظار اور خرچ کرنے کی منصوبہ بندی میں چاند رات آنکھوں میں ہی کٹ جاتی۔ صبح صبح نماز کے بعد ہم بچوں کی شاپنگ شروع ہوجاتی۔ سب سے پہلے ہر بہن بھائی کوڈو کے ٹھیلے سے ایک ایک پنی والی گول عینک خریدتا جسے پہن کر چال میں اتراہٹ سی آجاتی۔ پھر سب کے سب چاندی کے ورق لگی میٹھی املی اس لالچ میں خریدتے کہ رفیق افیمچی ہر ایک کو املی دیتے ہوئے تیلی جلا کر املی میں سے شعلہ نکالے گا۔

پھر خانہ بدوشوں کے خوانچے میں بھرے مٹی کے کھلونوں اور رنگین کاغذ اور بانس کی لچکدار تیلیوں سے بنے گھگو گھوڑے کی باری آتی۔ آخر میں بس اتنے پیسے بچتے کہ سوڈے کی بوتل آ سکے۔ چنانچہ ایک بوتل خرید کر ہم پانچوں بہن بھائی اس میں سے باری باری ایک ایک گھونٹ لیتے اور نظریں گاڑے رہتے کہ کہیں کوئی بڑا گھونٹ نہ بھر جائے۔

پیسے ختم ہونے کے بعد ہم دوسرے بچوں کو پٹھان کی چھرے والی بندوق سے رنگین اور مہین کاغذ سے منڈھے چوبی کھانچے پر لگے غبارے پھوڑتے بڑی حسرت سے دیکھتے رہتے۔ بندر یا ریچھ کا تماشا بھی اکثر مفت ہاتھ آ جاتا اور اوپر نیچے جانے والے گول چوبی جھولے میں بیٹھنے سے تو ہم سب بہن بھائی ڈرتے تھے اور اس کا ٹکٹ بھی مہنگا تھا۔

بقر عید پر سب کے ہاں قربانی ہوتی سوائے ہمارے۔ مگر یہاں بھی امّاں کی منطق دل کو لگتی کہ جو لوگ کسی وجہ سے دنیا میں قربانی نہیں کر سکتے ان کے بکرے اللہ میاں اوپر جمع کرتا رہتا ہے۔ جب ہم اوپر جائیں گے تو ایک ساتھ سب جانور قربان کریں گے، انشااللہ!

ایک دفعہ گڑیا نے پوچھا کہ امّاں کیا ہم جلدی اوپر نہیں جاسکتے؟ ہر سوال پر مطمئن کر دینے والی امّاں چپ سی ہوگئیں اور ہمیں صحن میں چھوڑ کر اکلوتے کمرے میں چلی گئیں۔ ہم بچوں نے پہلی بار کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی سنیں مگر جھانکنے کی ہمت نہ ہوئی۔ سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر گڑیا کی بات پر رونے کی کیا بات تھی۔

کوئی چھ سات ماہ بعد ایک دن امّاں باورچی خانے میں کام کرتے کرتے گر پڑیں۔ ابّا نوکری پر تھے اور ہم سب سکول میں۔گھر آ کر پتہ چلا کہ آپا نصیبن امّاں کی چیخ سن کر دوڑی دوڑی آئیں اور پھر گلی کے نکڑ پر بیٹھنے والے ڈاکٹر محسن کو بلا لائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ امّاں کا دل اچانک ساتھ چھوڑ گیا ہے۔

تدفین کے بعد ایک روز گڑیا نے میرا بازو زور سے پکڑ لیا اور یہ کہتے ہوئے پھوٹ پڑی کہ خود تو اوپر جا کر اگلی عید پر اکیلے اکیلے بکرے کاٹیں گی اور ہمیں یہیں چھوڑ گئیں۔

 

کاپی۔

 

 

 

 

کاپی۔

[

 

 

 

‏ناقابلِ فراموش واقعہ ۔۔۔۔!!!

 

کہا جاتا ھے کہ منگول کمانڈر نویان جب ایک شہر فتح کرنے کے بعد گلیوں بازاروں سے گزر رھا تھا ۔ وھاں موجود کچھ لوگوں کے ھاتھ پاؤں کاٹ دیتا اور کچھ کو معاف کردیتا۔ منگول فوجی لوگوں کی گردنیں دبوچ کر نویان کے سامنے لاتے۔ وہ اپنے مشہور انداز میں ان کے 

‏جسموں میں خنجر گھونپتا اور آگے بڑھ جاتا۔

 

اچانک وھاں ایک آدمی نویان کے قدموں میں گر کر چیخنے لگا۔ سپاھیوں کے اٹھانے پر وہ شخص نویان سے بولا۔ "حضور میرے جرم اتنے زیادہ ھیں کہ آپ چاھتے ھوئے بھی معاف نہیں کرسکتے۔"

 

میں نے لوگوں کو لوٹا، ستایا، برباد کیا ھے۔ آپ تلوار سے میری گردن 

‏کاٹ دیں۔

 

نویان ایک منٹ کے لئے رکا۔ باچھو کے ڈھول بجانے پر اس نے آنکھیں بند کی اور کچھ سوچنے لگا پھر اچانک اس نے تلوار آدمی کی گردن پر رکھتے ھوئے کہا "سپاہیوں کیا دنیا میں ایسا کوئی ہے جو اس مجرم کو بچا سکے؟"

 

‏سپاھی بلند آواز میں بولے "ھاں ایک جگہ ھے۔"

نویان: وہ کونسی؟؟

سپاھی: لاھور ھائی کورٹ

 

کاپی۔

 

 

 

 







 

 

 

_گیس کی بو باورچی خانے سے آرہی ہو تو زیل  احتیاط کیجیے گا

 

ایک خاندان ریسٹورنٹ سے نِصف شب گھر پُہنچا

 تو

 گیس کی بُو پھیلی ھوئی محسوس کی ،

 میاں باورچی خانے میں گیا

 جہاں زیادہ بُو کا احساس ھوا ،

 لاشعوری طور پر اُس کا ھاتھ لائٹ کے بٹن پر گیا 

 

جِسے دباتے ھی ایک زوردار دھماکہ ھو گیا ، 

وہ شخص موقع پر ھی جاں بحق ھو گیا ہے

 

 جبکہ اسپتال میں زیرِ علاج اُسکی بیوی کی حالت اِنتہائی تشویشناک بتائی جاتی ھے ،

 

 گھریلو فرنیچر 

اور

 دیگر اشیاء دو سو میٹر تک بکھری پڑی تھیں

 جو یہ بتا رھی تھیں کہ دھماکہ کسی بم جیسا طاقتور تھا..

 

اِس المناک حادثے سے ھمیں یہ سبق مِلتا ھے کہ.

.

جب گیس کی بُو کا احساس ھو فورا لیکن آرام سے کھڑکیاں

 دروازے کھول دیں ،

 ماچس کی تِیلی

 یا لائٹر مطلق نہ جلائیں

 اور 

نہ ایگزاسٹ فین چلائیں ،

 

 ریفریجریٹر کا دروازہ بھی تب تک ھرگز نہ کھولیں 

 

جب تک گیس کی بُو غائب نہ ھو جائے..

 

از راہِ کرم اِن ھدایات کو صرف اپنے تک محدود نہ رکھیں

 بلکہ دوسروں کو بھی آگاہ کریں

 

 ، اللہ تعالیٰ آپکو اِسکا اجر عطاء کرے گے۔

، اِن شاءاللہ.

 آپ بھی پڑھ کر آگے سینڈ کریں

 

 بلکہ  دیگر دوستوں کو کہیں کہ 

 آپ اوروں کو بھی سینڈ  کریں,

 

 یہ صدقہ جاریہ ہوگا۔

Public Service message

From

Rescue 1122

 

 

 

 

 

 

 

 

🤨🤨

 

فراڈ کاایک واقعہ سنیں پھر آگے چلتے ہیں۔۔۔

اسلام آبادکے ایک مفتی صاحب ہیں ماشاء اللہ وفاق المدارس کے پوزیشن ہولڈر ایم فل کیا ہوا  ہےملٹی ٹیلنٹیڈ بندے ہیں بیوی بھی عالمہ فاضلہ، ماسٹر کیا ہوا، دونوں میاں بیوی ماشاءاللہ دینی و دنیاوی علوم سے مالا مال ہیں ایک آن لائن ٹیچنگ اکیڈمی میں میاں بیوی پڑھا بھی رہے تھے اور ساتھ ساتھ اپنی طرف سے سرچنگ وغیرہ بھی کرتے رہتے آن لائن ارننگ میتھڈز وغیرہ۔۔۔

پاکستانی اخبارات کے کلاسفائڈ میں آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ اشتہار ہوتا ہے گھر بیٹھے آن لائن لاکھوں روپے کمائیں ، صرف چند گھنٹے ہمارے پروجیکٹ پرآن لائن کام کریں اور گھر بیٹھے لاکھوں روپے کمائیں،ہماری ملٹی مارکیٹنگ کمپنی میں آن لائن کام کریں اور لاکھوں کمائیں وغیرہ وغیرہ  اسی طرح کی بہت سی چکنی چوپڑی باتیں لکھی ہوتی ہیں۔۔۔ اسی طرح کے ایک اشتہار سے وہ مفتی صاحب بھی متاثر ہوئے اور ان کو کال لگا دی آگے سے کسی تیز ترین چلاک مکار عورت نے جو اُن کو کہانیاں سنائی پٹیاں پڑھائی اور اتنی یقین دہانی کروائی کہ مفتی صاحب اور ان کی بیگم متاثر ہوگئے۔۔۔جس کمپنی میں انہوں نے کال کی تھی اس کا آفس لاہور میں تھا اتفاق کی بات کہ میں ان دنوں لاہور میں ایک کام کے سلسلے میں مقیم تھامجھ سے مفتی صاحب نے بات کی کہ اس طرح ایک بہت زبردست کمپنی ہے اس میں کام لگنے والا ہے ہم دونوں میاں بیوی مل ملا کے ماہانہ لاکھ، ڈیڑھ لاکھ روپے کمائیں گے وہ بھی ایک ڈیڑھ گھنٹہ کام کر کے، میں نے عرض کی کہ مفتی صاحب پلیز ایسے کسی چکر میں نہ پڑنا یہ سب دھوکہ فراڈ ہے مگر مفتی صاحب کی اس کمپنی والی خاتون اچھی خاصی برین واشنگ کر چکی تھی۔۔۔ خیر مفتی صاحب اور ان کی بیگم کے اس کمپنی آفیسرز سے مستقل تبادلہ خیالات چلتے رہے، پھر ایک دن مفتی صاحب نے مجھے کہا کہ آپ ذرا ان کا آفس تو دیکھ لیں اور اپنی تسلی کر لیں میں نے اس کمپنی کو کال کی اور لوکیشن پوچھی اس نام نہاد کمپنی نے قینچی امرسدھو کے ایک پلازے میں دفتر بنایا ہوا تھا، خیر میں ادھر گیا اور آفیسرز سے ملا ان سے حال احوال لئے، چونکہ میں ایسی بیسیوں کمپنیز کی بیس کو بھی جانتا تھا اور ان کے طریقہ واردات اور تمام معالات اور طریقہ کار خوب جانتا تھا، تو میں نے انجان بن کر اس آفیسرز کی ساری باتیں سنی پھر جب میں نے آہستہ آہستہ ان کو رگڑنا شروع کیا تو اندر کیبن سے ان کی باس ایک لمبی تڑنگی پرفیوم اور میک اپ سے لتھڑی عورت برآمد ہوئی اور اس آفیسر کو اٹھا کر خود بیٹھ گئی اور مجھ سے بڑے خوشگوار انداز میں بات چیت شروع کر دی،  میڈم بولی کہ ہم  ملٹی نیشنل کمپنی ہیں اور ہم اپنے ورکرز کو کروڑوں ڈالر پے کر چکے ہیں۔ ایک فائل کی جھلک دکھائی جس میں بنک چیکس، ڈپوزٹ سلیپ، ویسٹرن یونین، اور ایزی پیسہ جاز کیش کی رسیدیں تھی، مجھے یہ سب ہتھکنڈے اور وارداتوں کا علم تھا تو میں نے کہا میڈم ذرا یہ فائل میرے ہاتھ میں دو تو آگے سے بہت نرم آواز میں بات بدل لی، خیر وہ کافی دلائل دیتی رہی مگر میں اپنی بات پر ڈٹا رہامیں نے کہا میڈم میں آپ کو 1000 بندوں کی ٹیم بنا کر دے سکتا ہوں آپ مجھے صرف اپنی کمپنی کا یا اپنا کراس چیک دیں، شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی دیں اور اسٹام پیپر پر لکھ کر دیں۔ آپ کو ایک ماہ میں 1000 بندے نہ دے سکا تو مجھ پر کیس کریں اور جتنا ہرجانہ ہوگا دوں گا یہ بات میں اسٹام پر لکھ کر دوں گا، مگر وہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔ خیر میں وہاں سے اٹھا اور فوراً مفتی صاحب کو کال کی حضرت پلیز ان چکروں میں نہ پھنسنا یہ بہت پرانا اور گھسا پٹا طریقہ واردات ہے میں سب جانتا ہوں، مفتی صاحب ہاں ہوں کرتے رہے اور کال ختم ہوگئی۔۔۔

خیر اس بات کو تقریبا چار پانچ ماہ گزرے ہوں گے کہ مفتی صاحب کی مجھے کال آئی کہ کہاں ہو میں نے کہا کہ پنڈی شمس آباد میں بولے کہ ادھر ہی رکیں میں قریب ہی ہوں ملاقات کرتے ہیں، مفتی صاحب اور ان کی اہلیہ دونوں تھے۔۔۔

مفتی صاحب ایک پرانے ماڈل کی آلٹو لے چکے تھےاور دونوں میاں بیوی بڑے خوش خوشحال اور چہک رہے تھے، پوچھنے پر کہنے لگے کہ یار حامد بھائی آپ بس فراڈ وغیرہ پر لکھتے رہتے ہو ہر کمپنی فراڈ نہیں ہوتی ہم نے اپنا آن لائن بزنس شروع کر دیاہم دونوں میاں بیوی ہر ماہ ڈیڑھ لاکھ تک کما رہے ہیں ساتھ ہی مجھے ایک کارڈ تھمایا جس پر لکھا تھا کہ روزانہ صرف ایک گھنٹہ کام کر کے ماہانہ60،70 ہزار سے زائد کمائیں، میں نے کام پوچھا تو ایک دم منی لیپ ٹاپ پر ویب سائٹ کھول کر دکھائ میں نے دو منٹ کے لئے ویب سائٹ چیک کی جو ناٹ سیکور اور مشکوک تھی، یہ وہی پی ٹی سی ٹائپ ویب سائٹ جو عرصہ دراز سے لوگوں کی ایک ہی پارٹی لوٹ رہی تھی، یہ ایک ہی پارٹی ہے جو لاہور، کراچی، فیصل آباد اور اس جیسے بڑوں شہروں میں کاروائی ڈالتے ہیں،میں نے کہا مفتی صاحب پلیز سمجھ جاؤ، کہنے لگے یار 2 ماہ ہوگئے ہم نے دو ماہ میں4لاکھ سے زیادہ کما لیا ہے ہماری اتنی بڑی ٹیم بن چکی ہے،ہم نے اس کمپنی کی 5 لاکھ میں فرنچائز لے لی ہے، خود بھی کما رہے ہیں اور لڑکے بھی کما رہے ہیں ہم نے پورا سیٹ اپ بنا لیا ہے۔ اب میں ان کے ساتھ دفتر دیکھنے گیا وہاں 3،4 نوجوان لڑکے تھے، مفتی صاحب چونکہ آزاد کشمیر کے ایک معروف علاقے کے تھے وہاں انہوں نے خوب تشہیر کی ہمارے ہاتھ ایک کام لگا ہے بس اس کمپنی میں ایک بار 30000 تیس ہزارروپے لگاؤ اور ساری زندگی ہر ماہ ہزاروں روپے کماؤ، میں نے پوچھا مفتی صاحب کتنے بندے شامل کر چکے ہو فرمایا تقریبا 200 سے اوپر لڑکے ہوگئے، میں نے مفتی صاحب کو الگ کیا بہت سمجھایا کہ مفتی صاحب اب بھی وقت ہے سمجھ جاؤ ورنہ پھر پچھتانے کو کچھ نہیں ہوگا، مگر آپ جانتے ہیں جب برین واش ہوجائے تو پھر یہ تمام باتیں فضول لگتی ہیں خیر تھوڑا سختی سے بات کی تو آگے سے اکھڑ گئے اور میں واپس آگیا۔۔۔

ابھی کچھ دن قبل مفتی صاحب سے بات ہوئی، رورہے تھے اور بہت زیادہ منت سماجت کہ مجھے کوئی راستہ بتاؤ میں تو لٹ چکا ہوں سارا علاقہ میرا مخالف ہوگیا ہے اسلام آباد میں جہاں رہتے تھے وہاں کے لوگ بہت زیادہ مخالف ہوگئے، میں ساری گیم سمجھ چکا تھا، تصدیق کرنے پر بتایا کہ ایک سال ہم نے کام کیا ہم نے فرنچائز کوڈبل کیا یعنی 10 لاکھ انویسٹ کیا 500 سے زائد لوگ جڑے اور کمپنی اچانک بھاگ گئی، کمپنی کے دفتر گئے تو وہاں دفتر کی صفائی ہورہی تھی کہ وہ کمپنی والے دفتر کھلا چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں، ابھی تمام لوگ ہم سے پیسے واپس مانگتے ہیں، ہم نے  ایک سال میں جتنا کمایا تھا اسی کو انویسٹ کر دیا، ہمارے پاس 30 کمپیوٹر تھے سب لوگ لے گئے، موبائل گاڑی، پلاٹ سب بک گیا مگر اب بھی کافی رقم باقی ہے۔۔۔

میں نے جواب دیا مفتی صاحب اب تو میری کوئی بات کرنا فضول ہے اور چونکہ اب اس کا کوئی حل بھی نہیں تو لہذا اب بھگتو۔۔۔

ـــــــــــــــــــــ

یہ ایک نہیں اس طرح کی سینکڑوں کہانیاں ہیں

میں اس موضوع پر 2015 سے لکھ رہا ہوں، کئی بار اخبارات کو تفصیلاً رپورٹ کے ساتھ تحریریں بھی بھیجیں مگرکسی اخبار نے شائع نہیں کی، چونکہ یہ ایک مافیا ہے جو آن لائن ارننگ کے اشتہارات لگا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹتے ہیں ، یہ انتہائی چلاک مکار عیار اور دھوکہ باز گروپ ہے، یہ مافیا 2006،2007 سے کام کر رہا ہے، اس کے بندے کبھی کبھار جیل کے چکر بھی لگا آتے ہیں ایک ہفتہ ڈیڑھ کے لئے، یہ لوگ کسی شہر میں کروائی ڈالتے ہیں اور پھر بھاگ کر دوسرے شہر میں اسی طرح نیا سٹاف رکھ کر ٹریننگ دے کرکام شروع کر دیتے ہیں، ان کے ماسٹر مائنڈ بندے بیک پر رہتے ہیں، سامنے انہوں نے لڑکیاں بٹھائی ہوتی ہیں جو نوکری کی تلاش میں ان کے ہاتھ چڑھ جاتی ہیں، یہ پی ٹی سی یعنی (پیڈ ٹو کلک) ، ایڈ کلک، ایڈ ویو، ڈیٹا انٹری، کیپچافل، اور اس طرح کے مختلف کام کا کہتے ہیں کہ ایک گھنٹہ کام کریں ایڈ دیکھیں اور ہزاروں لاکھوں کمائیں۔

یاد رکھیں یہ سب فراڈ جھوٹ بکواس ہے اس طرح کا کوئی کام نہیں، چونکہ اس کام میں نیا نیا پڑنے والا بندہ بات کو بلکل نہیں سمجھتا اسی طرح جس طرح ٹائنز، ڈی ایکس این، جی ایم ائی، گرین ورلڈ، اوری فلیم وغیرہ جیسی بلاک چین اور ایم ایل ایم کمپنیوں میں نیا نیا جانے والا بندہ کسی بات کو نہیں سمجھتا، ان لوگوں کی پرزنٹیشن، اور برین واشنگ اتنی ہوتی ہے کہ یہ خود کو بزنس مین تائیوکون سمجھنے لگتے ہیں ان کو باقی تمام بزنس اور لوگ فالتو نظر آتے ہیں

 ان ایم ایل ایم کمپنیز کا تو میتھڈ ایسا ہے کہ آسانی سے سمجھ آنے والا بھی نہیں آپ کسی کو لاکھ سمجھائیں مگر ان کو سمجھ نہیں آئے گا، مثلا آپ اوری فلیم کے کسی بندے سے کہیں کہ یہ فیک اور سکیم ہے تو ایک دم وہ اس کمپنی کی فائل دکھائیں گے اور سب سے بڑا ہتھیار کہ ہماری فلاں جاننے والی عورت دنوں میں لاکھوں کمانے والی بن گئی، جناب یہ ایک ملٹی رول گیم ہے، اس میں بولنے والے چلاک اور یوٹیوبر یا موٹیویشنل سپینکنگ کے حامل لوگوں کو بطور چارہ استعمال کیا جاتا ہے، ٹائنز جیسی کمپنیز مثال ہیں کہ لاکھوں لوگ اس میں دھوکہ کھا گئے مگر نئے جانے والے جو اتنی جلدی سمجھ نہیں آئے گی کہ اصل گیم کیا ہے، ان کے بیک پر کیا سین ہے کیا میتھڈ اور مائنڈ کام کر رہا ہے۔ ان کمپنیز کے پیچھے دنیا کے مانے ہوئے فراڈی، عیار، مکار اور چکر باز لوگوں کی محنت اور مارکیٹنگ ہوتی ہے۔ ان کمپنیوں کا ٹارگٹ اربوں روپے آہستہ آہستہ ہڑپنے کا ہوتا ہے یہ اپنا تمام کام قانون کے دائرے میں رہ کر کرتے ہیں، باقاعدہ ٹیکس فائلر ہوتے ہیں اور ہر طرح سے اپنے ہاتھ پاؤں بچا کر کام کرتے ہیں، اور اپنے ساتھ وزیروں اور بڑے بزنس مین لوگوں کو ٹپ، رشوت دے کر رام رکھتے ہیں۔۔۔

ان کمپنیز اور فراڈیوں کے ہاتھ نوکریوں کی تلاش میں بھٹکنے والے نوجوان لڑکے لڑکیاں، گھریلو خواتین، ریٹائرڈ آفیسرز، لاکھوں کی تعداد میں شکار ہوگئے، مگر کیا کہیں وہ کہتے ہیں نا جب لالچ ہوتو پھر کوئی اچھی بات اثر نہیں کرتی۔۔۔

ان چکروں میں علماء قراء اور دین دار لوگ بہت بڑی تعداد میں پھنستے ہیں کیوں کہ زیادہ تحقیق کرتے نہیں اب باتوں کا زیادہ علم ہوتا نہیں تو معاشی پریشانی کے مارے ان ظالموں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں اپنی تمام جمع پونجی لٹا کر پھر پچھتاتے ہیں۔۔۔

اس موضوع پر لکھنے کے لئے بہت وقت چاہئے بولنے بیٹھو تو گھنٹوں درکار ہیں۔۔۔

ـــــــــــــــــــــ

خلاصہ کلا م یہ ہے کہ پلیز شارٹ کٹ اور راتوں رات امیر بننے کے خواب مت دیکھیں۔۔۔

اپنی ایمانداری اور محنت سے لگے رہیں، بار بار کہتا ہوں کہ اگر آن لائن کمانا چاہتے ہیں تو سکل سیکھیں اپنے آپ کو پروفیشنل بنائیں، آن لائن ارننگ کے جینون اصلی بیسیوں طریقے ہیں، کوئی ایک سکل پروفیشنل لیول پر سیکھیں،  ہنرمندی کواپنائیں محنت کریں ان شاء اللہ بہت کچھ حاصل کر لیں گے۔۔۔

لیکن پلیز ان کمپنیوں اور اشتہارات پر کبھی بھروسہ مت کریں۔۔۔

.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

زندگی ان کی بھی گزر جاتی ہے جو ہنس کے گزارتے ہیں۔اور ان کی بھی جو روتے دھوتے گزارتے ہیں۔بات آپ کے ہنسنے یا رونے کی نہیں ہے۔اصل بات یہ ہے کہ کہیں کوئی آپ کی وجہ سے تو رونے پہ مجبور نہیں ہوا_؟

 خود چاہے ہنس کے گزاریں یا رو کے کسی دوسرے کی آنکھ میں نمی کا سبب اپنی ذات کو کبھی مت بننے دیجیئے۔بس یہ سوچیں کہ اللہ اپنے ہر بندے سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے۔کسی کی آہیں مت لیجیئے گا زندگی مشکل ہو جائے گی...

 

 

 

: اللہ کے ساتھ خلوت بڑی انمول نعمت ہے، جس کیلیے یہ دروازہ کھل گیا گویا اس پر خیر کے سب دروازے کھل گئے۔“

 

 

اس دنیا کی زندگی میں سب کو سب کچھ حاصل نہیں ہوتا کس کا "کاش" تو کسی کا "اگر" رہ ہی جاتا ہے۔۔۔۔!!

 

<<💞پیـــاری باتــــیں💞>>

عمر بھر قرصْ ادا کرتے رہیں گے؟ 🥀

 

وہ ساتھ والے کمرے میں دیوار سے کان لگائے لرزتے ہوئے سن رہی تھی

اس کے بھائی جو اپنے ایک دوست کے ساتھ ابھی ابھی گھر آئے تھے یہ انہی کی آواز تھی

 بابا ہم زیادہ سامان نہیں دے سکیں گے ورنہ عمر بھر قرض اتارتے رہیں گے

آواز میں پریشانی اور الجھن کے ساتھ ساتھ اکتاہٹ بھی تھی

 بابا کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی کاش پیسہ ہوتا ہم اپنی بیٹی کو سب کچھ دے کے رخصت کرتے

اس نے تصور میں دیکھا ماں بیچاری تو سب سن کر بس رو رہی ہو گی رو رو کر بیچاری کے آنسو بھی خشک ہوچکے تھے

اسے خود پر بہت غصہ آرہا تھا

جی چاہ رہا تھا۔۔ جا کے زور زور سے کہہ دے مجھے کچھ نہیں لینا بس آپ لوگوں کی خوشی اور سکون ہی میرے لیے سب سے بڑا جہیز ہے

مم مگر اسے خیال آیا میں مجبور ہوں ظالم سماج نے بڑا بھاری بھرکم جہیز لازمی بنا رکھا ہے کائنات کی حقیقی شہزادی سیدہ فاطمہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کا جہیزبھی تو تھا لیکن 

ضرورت مجھے نہیں میرے سسرال کو ہے اگربات میری ہوتی بات بیٹی کی ہوتی تو ہر بیٹی جہیز میں باپ کا کِھلا چہرہ ماں کے محبت بھرے بوسے اور بھائی کے پیار کی طلب کرتی

اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے قرض مانگنے کی تیاریاں ہو رہی تھیں

 

وہ دھڑام سے چارپائی پر جا گِری یااللّٰہ میں کہاں جاؤں

کاش امیر لوگ یہ رسم کو نہ بڑھاتے میں کتنی مجبور ہوں کاش سسرال سے پیغام آجائے

ہمیں بس بیٹی سے مطلب ہے سامان تو ہمارے پاس سب ہے ایک بیٹی کی کمی ہے؟

 

ہاں آواز تو آئی تھی لیکن کیا وہ سچی تھی

 

 اب بھی آواز آ رہی تھی شادی پر غم کی آواز جا بیٹا قرض لے کے آ بیٹی کو تو گھر سے اٹھانا ہے‘ بابا کی بڑھاپے سے کپکپاتی آواز تھی

 

کک کیا بیٹی کافی نہیں؟

 جہیز کیوں؟

کاش کوئی سنے کوئی دیکھے میرے ماں باپ کا حال تو کبھی جہیز نہ لے وہ زور زور سے رو رہی تھی

لاکھوں بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بوڑھی ہو گئیں لاکھوں اپنے ماں باپ کو عمر بھر کے لیے مقروض کر کے اٹھیں۔کہاں گئے وہ ؟

جو کسی پر بوجھ نہیں بنتے تھے ارے کوئی دیکھو میرا گھر برباد ہو رہا وہ چِلا رہی تھی اور پھر وہ سب کچھ بھول بھال کر اپنے پیارے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں سجدہ ریز تھی

 اور             

میں سن رہا تھادیکھ رہا تھا ایک مہکتے ہوئے باغ کے مالی اپنے ہی ہاتھوں سے باغ میں خزاں لانے جا رہے تھے

 

ہنستے بستے گھر میں اداسی اور ویرانی کی تدبیریں خود اہل خانہ کر رہے تھے اپنی مسکراہٹوں اور سکون کو گھر سے خود نکالنے کی صلاح ہو رہی تھی بالآخر معاملے میری برداشت سے باہر ہوگیا اور میں فوراً لڑکے والوں کے گھر پہنچا ان کے سامنے اجڑتے ہوئے گھر کا منظر پیش کیا لڑکے کا باپ میری بات سن کر عجیب سے انداز میں اٹھ کھڑا ہواجیسے ماضی میں ایسا ہی کوئی دلخراش واقعہ اس کے ساتھ پیش آچکا ہواور بولا

آؤ میرے ساتھ  مجھے ساتھ لے کر وہ لڑکی والوں کے گھر کی جانب چل پڑا لڑکی گھر والے  اس اچانک آمد پر حیران و پریشان ہوگئے یااللّٰہ خیر

 

اور پھر ایک آواز گونجی بھائی صاحب ایک بات کا خیال رکھنا ہمیں بیٹی دے رہے ہو اس سے آگے کچھ نہیں بچتا

سجدے کی حالت میں اس کے کان میں بھی یہ آواز آئی، سکتا طاری تھا کرم فرمانے والے رب کریم تو کتنا کریم ہے اور یہ سجدہ کتنا طویل تھا ؟

کوئی نہیں جانتا

 

اس کا باپ بولا نہیں بھائی صاحب ہم نے اپنی بیٹی کو کچھ نہ کچھ دینا ہے

نہیں بالکل نہیں جو بھی ضرورت ہو ہماری بیٹی ہمارے گھر آکے خود بنا لے گی ،ہمیں یہ رسم ختم کر کے بیٹی کو اہمیت دینی چاہیے

 

وہ سر اٹھا کر دوبارہ سجدے میں گر چکی تھی 

یا اللّٰہ بیشک تو ہی بگڑی سنوارنے والا ہے

لڑکے کا باپ جاچکا تھا یقیناً جو سکون آج اسے ملا تھا  بنگلہ کوٹھی ،آفس ،بڑی کار نے یہ سکون نہیں دیا

 

ماں اب بھی رو رہی تھی آنسو اب بھی اس کے رخساروں پر بہہ رہے تھےخوشی کے آنسو

 

سب گھر والے اس حیران کن معاملے پر خوشگوار حیرت میں مبتلا تھے.

اے لڑکے والو کیا آپ بھی بیٹیوں ان کے بھائیوں ان کے والدین کے سکون کے لئے زبان سے نہیں بلکہ زبان و دل دونوں سے ان کو یہ نہیں کہہ سکتے بھائی صاحب ہمیں بیٹی چاہیے جہیز نہیں بیٹی سے آگے کچھ نہیں بچتا

آپ مانیں یا نہ مانیں  لیکن یہ سچ ہے کہ بہت سی بیٹیاں یا تو بیاہی نہیں جاتیں یا ماں باپ کی خوشیاں چھین کر بیاہی جاتی ہیں

 

کاش کہ  یہ بات تیرے دل میں اتر جائیں

خواہش صرف اتنی ہےکہ کچھ الفاظ لکھوں جس سے کوئی گمراہی کے راستے پر جاتے جاتے رک جائے نہ بھی رکے تو سوچ میں ضرور پڑ جائے

 

 

 

 

 

🔘 شوہر ہو تو ایسا 🔘

 

ایک مرد و عورت کی شادی۔ ہوئی اور انکی زندگی ماشاءاللہ خوشیوں سے بهری تهی.

شوہر ایک دن بیوی سے: تم نے آج نمازنہیں پڑھی۔۔؟؟

بیوی: میں تھک گئی تھی، اس لیے نہیں پڑهی، صبح پڑھ لوں گی۔۔

شوہر کو یہ بات بری لگی مگر اس نے بیوی سے کچھ نہ کہا. خود نماز پڑهی تلاوت کی اور سو گیا.

 

شوہر دوسرے دن بیوی کے اٹهنے سے پہلے ہی نماز پڑھ کر دفتر کیلئے نکل گیا۔۔

بیوی اٹهی۔ شوہر کو نہ پا کر بہت پریشان ہوئی کہ اس سے پہلے ایسا کبهی نہیں ہوا۔ پریشانی ک عالم میں شوہر کو فون کیا لیکن کال اٹینڈ نہیں ہوئی۔ بار بار کال کی مگر جواب ندارد۔

بیوی کی پریشانی بڑھتی ہی جا رہی تهی۔ کچھ گھنٹے بعد کال کی تو شوہر نے اٹینڈ کی۔

بیوی نے ایک سانس میں نہ جانے کتنے سوال کر دیے.

کہاں تھے آپ۔۔؟

 کتنی کالز کی میں نے جواب نہیں دے سکتے تهے۔ پتہ ہے یہ وقت مجھ پہ کیسے گزرا.۔۔ آپ کو ذرا خیال نہیں. کم سے کم بتا تو سکتے تهے.

 شوہر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی کہ تهکا ہوا تها اس لیے لیٹ گیا تو نیند آگئی۔۔

بیوی: دو منٹ کی کال کر کے بتا دیتے تو کتنی تهکاوٹ بڑھ جاتی۔ آپکو مجھ سے ذرا پیار نہیں.

 

شوہر نے تحمل سے جواب دیا: کل آپ نے بھی تو اس پاک ذات کی کال کو نظرانداز کیا..

کیا آپ نے حی علی الفلاح کی آوازسنی تهی۔۔؟؟ وہ خدا کی کال تهی جو آپ نے تهکاوٹ کی وجہ سے نہیں سنی۔ اس وقت بهی 5 منٹ کی بات تهی.نماز پڑھنے سے آپ کی تهکاوٹ کتنی بڑھ جاتی.؟؟

 کیا آپکو اپنے اس پروردگار سے اتنا پیار بهی نہیں جس نے آپکو سب کچھ دیا. کیا پروردگار کو یہ بات پسند آئی ہو گی.

 

بیوی پر سکتہ طاری ہو گیا اور روتے ہوئے بولی:

 مجھے معاف کر دیں۔ مجھ سے غلطی ہو گئی۔ میں سمجھ گئی ہوں۔ میں سچے دل سے استغفار کرتی ہوں۔ میرے پروردگار مجهے معاف فرما۔ 

 

سچا شریک حیات وہی ہے جو آپ کو دنیاوی تحفظ اور خوشیوں کے ساتھ کے آخرت میں  بهی سرخرو کروائے اور آپ کے ساتھ کھڑا ہو اور آپ کو بھٹکنے سے بچائے.

خدا وند تعالی ہم سب کو نماز پڑهنے کی توفیق عطا فرمائے.

آمین ثم آمین یارب العالمین

 

حقیقی_نوٹ : اس پوسٹ نے میری زندگی بدل دی۔ میں ساری رات سوچتا رہا کہ میرے رب کو کتنا برا لگتا ہوگا کہ میرا تخلیق کیا گیا بندہ، میرے ہی بلاوے کو نظر انداز کر رہا ہے۔۔

اللّٰہ تعالیٰ میری غلطیوں کو معاف فرمائے۔۔ 

 

اللّٰہ تعالیٰ اس پیغام کو شیئر کرنے والوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے


 

 

 

 

No comments:

Post a Comment