Monday, March 28, 2022

Urdu Islamic Article New: zakat, Social Media, Honesty, Sachai ki aihmiyat, Tasbeeh Fatime, Durood, Nama, Gunah Kabeera, Biwi, Wife, Buzurg

 

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed Latest jobs Karachi School Free Islamic Gift 



 

زکوٰۃ کے متعلق انتہائی اہم معلومات آور ہر طبقے مثلا عام لوگ، تاجر، زمیندار اور جانور پالنے والوں کے لئے

خدارا خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک پہنچانے کا فرض ادا کریں۔ شکریہ. جزاک اللہ۔

1 lakh.  👉2500.   

2 lakh.  👉5000.   

3 lakh.  👉7500.    

4 lakh.  👉10000.  

5 lakh.  👉12500.  

6 lakh.  👉15000.  

7 lakh.  👉17500.  

8 lakh.  👉20000.  

9 lakh.  👉22500.  

10 lakh. 👉25000. 

20 lakh. 👉50000. 

30 lakh. 👉75000. 

40 lakh. 👉1 lakh.

50 lakh. 👉125000

1 cror.    👉250000

2 caror.  👉5 lakh.

 

ہم زکوٰۃ کیسےادا کریں؟

 

اکثرمسلمان رمضان المبارک میں زکاة ادا کرتے ہیں اس لیے

اللہ کی توفیق سےیہ تحریر پڑھنےکےبعدآپ اس قابل ہوجائیں گےکہ آپ جان سکیں

🔹سونا چاندی

🔸زمین کی پیداوار

🔹مال تجارت

🔸جانور

🔹پلاٹ

🔸کرایہ پر دیےگئے مکان

🔹گاڑیوں 

اوردکان وغیرہ کی زکاۃ کیسے اداکی جاتی ہے۔

 

1۔زکوٰۃکا انکار کرنے والاکافر ہے۔(حم السجدۃآیت نمبر6-7)

2۔زکوٰۃادا نہ کرنے والے کو قیامت کے دن سخت عذاب دیا جائےگا۔(التوبہ34-35)

📌3۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والی قوم قحط سالی کاشکار ہوجاتی ہے۔(طبرانی)

4۔زکاة كامنکر

جوزکاۃادانہیں کرتااسکی نماز،روزہ،حج سب بیکار اور حبث ہیں۔

5 ۔زکوٰۃاداکرنے والےقیامت کے دن ہر قسم کےغم اورخوف سےمحفوظ ہونگے۔(البقرہ277)

6۔زکوٰۃ کی ادائیگی گناہوں کا کفارہ اور درجات کی بلندی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔(التوبہ103)

 

زکوٰۃکا حکم

ہر مال دارمسلمان مردہویاعورت پر زکوٰۃ واجب ہے۔خواہ وہ بالغ ہو یا نابالغ ،عاقل ہویا غیر عاقل 

بشرط یہ کہ وہ صاحب نصاب ہو۔

 

نوٹ۔سود،رشوت،چوری ڈکیتی،اور دیگرحرام ذرائع سےکمایا ہوا مال ان سے زکاۃدینے کابالکل فائدہ نہیں ہوگا۔

صرف حلال کمائی سے دی گئی زکوٰۃ قابل قبول ہے۔

 

زکوٰۃ کتنی چیزوں پر ہے

زکوٰۃ چار چیزوں پر فرض ہے ۔

1۔سونا چاندی

2۔زمین کی پیداوار

3۔مال تجارت

4۔جانور۔

 

⬅سونے کی زکوٰۃ

87گرام یعنی ساڑھےسات تولے سونا پر زکاۃ واجب ہے

(ابن ماجہ1/1448)

نوٹ۔سونا محفوظ جگہ ہو یا استعمال میں ہر ایک پرزکاۃ واجب ہے۔(سنن ابودائودکتاب الزکاۃ اوردیکھئے حاکم جز اول صفحہ 390 ۔

فتح الباری جز چار صفحہ 13)

⬅چاندی کی زکوٰۃ

612گرام یعنی ساڑھےباون تولے چاندی پر زکاۃواجب ہے اس سے کم وزن پر نہیں۔(ابن ماجہ)

✅زکوٰۃ کی شرح

زکاۃ کی شرح بلحاظ قیمت یا بلحاظ وزن اڑھائی فیصد ہے۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

زمین کی پیدا وار پر زکوٰۃ

مصنوعی ذرائع سے سیراب ہونے والی زمین کی پیدا وار اگر پانچ وسق سے زیادہ ہےیعنی(725کلوگرام تقریبا18من)ہے

تو زکاۃ یعنی عشر بیسواں حصہ دینا ہوگاورنہ نہیں۔

قدرتی ذرائع سے سیراب ہونے والی پیداوار پر شرح زکاۃ دسواں حصہ ہے دیکھئے(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

نوٹ: زرعی زمین والےافراد گندم،مکی،چاول،باجرہ،آلو،سورج مکھی،کپاس،گنااوردیگر قسم کی پیداوار سے زکاۃیعنی (عشر )بیسواں حصہ ہرپیداوار سےنکالیں۔

(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

⬅اونٹوں کی زکوٰۃ

پانچ اونٹوں کی زکاۃ ایک بکری اور دس اونٹوں کی زکاۃ دو بکریاں ہیں۔پانچ سے کم اونٹوں پر زکاۃ واجب نہیں۔(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

⬅بھینسوں اور گایوں کی زکوٰۃ

30گائیوں پر ایک بکری زکوٰۃہے۔

40گائیوں پردوسال سے بڑا بچھڑا زکاۃ دیں۔(ترمذی1/509)

بھینسوں کی زکوٰۃکی شرح بھی گائیوں کی طرح ہے۔

بھیڑبکریوں کی زکوٰۃ

40سے ایک سو بیس بھیڑ بکریوں پر ایک بکری زکاۃ ہے۔

120 سےلےکر200تک دو بکریاں زکاۃ۔

(صحیح بخاری کتاب الزکاۃ)

چالیس بکریوں سے کم پرزکاۃ نہیں۔

کرایہ پر دیئے گئےمکان پر زکوٰۃ

کرایہ پردیئے گئے مکان پر زکوٰۃنہیں لیکن اگراسکاکرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے جو نصاب تک پہنچ جائے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو پھراس کرائے پر زکوٰۃ واجب ہے۔اگر کرایہ سال پورا ہونے سے پہلے خرچ ہو جائے توپھر زکوٰۃنہیں۔شرح زکوٰۃ اڑھائی فیصد ہوگی۔

 

گاڑیوں پر زکوٰۃ

کرایہ پر چلنےوالی گاڑیوں پر زکوٰۃ نہیں بلکہ اسکے کرایہ پر ہےوہ بھی اس شرط کےساتھ کہ کرایہ سال بھر جمع ہوتا رہے اور نصاب تک پہنچ جائے

 

نوٹ:

گھریلو استعمال والی گاڑیوں،جانوروں،

حفاظتی ہتھیار۔مکان وغیرہ پر زکوٰۃ نہیں (صحیح بخاری)

 

سامان تجارت پر زکوٰۃ

دکان کسی بھی قسم کی ہو اسکےسامان تجارت پر زکوٰۃدینا واجب ہے اس شرط کے ساتھ کہ وہ مال نصاب کو پہنچ جائے اوراس پرایک سال گزر جائے۔

نوٹ:

دکان کےتمام مال کا حساب کر کے اسکا چالیسواں حصہ زکاۃ دیں یعنی ۔دکان کی اس آمدنی پرزکاۃنہیں جوساتھ ساتھ خرچ ہوتی رہے صرف اس آمدنی پر زکاہ دینا ہوگی جوبنک وغیرہ میں پورا سال پڑی رہے اور وہ پیسے اتنے ہوکہ انسے ساڑھےباون تولےچاندی خریدی جاسکے

 

پلاٹ یا زمین پر زکوٰۃ

جو پلاٹ منافع حاصل کرنے کے لیئے خریدا ہو اس پر زکاۃ ہوگی ذاتی استعمال کے لیئے خریدا گیا پلاٹ پر زکاۃ نہیں۔

(سنن ابی دائودکتاب الزکاۃ حدیث نمبر1562)

کس کس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔

ماں باپ اور اولاد کےسوا سب زکاۃ کےمستحق مسلمانوں کو زکاۃ دی جاسکتی ہے۔والدین اور اولاد پر اصل مال خرچ کریں زکاۃ نہیں۔

نوٹ:

(ماں باپ میں دادا دادی ، نانا نانی اور اولاد میں پوتے پوتیاں،نواسیاں نواسے بھی شامل ہیں۔( ابن باز)

 

زکوٰۃکےمستحق لوگ

1۔مساکین(حاجت مند)

2۔غریب 

3۔ زکاۃوصول کرنےوالے

4۔مقروض

5۔غیرمسلم جواسلام کے لیے نرم گوشہ رکھتاہو

6۔قیدی

7۔ مجاھدین

8۔مسافر (سورۃالتوبہ60)

Q.1 

 سوال:   زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟

جواب:  پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔

Q2 

سوال:   زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟

جواب:    مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ  کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔

Q 3 

سوال:   کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب:  ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو

Q4 

سوال:   کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب:  ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔

Q5 

سوال:   کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب:  اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی  کے برابر ہو۔

Q6 

سوال:   کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب:  اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔

Q7 

سوال:   اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

 

جواب:  فرض ہے۔

Q8 

سوال:   چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟

جواب:  فرض ہے۔

Q9 

سوال:   عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟

جواب:  فرض ہے۔

Q10 

سوال:   ایک صاحب نصاب شخص کودرمیان سال میں ۳۵ہزار کی آمدنی ہوئی،تویہ۳۵ ہزار بھی اموالِ زکوۃ میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟

جواب:  شامل کئے جائیں گے۔

Q 11 

سوال:   صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰة فرض  ہےیانہیں؟

جواب:  فرض ہے۔

Q12 

سوال:   مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟

جواب:  فرض نہیں ہے۔

Q13 

سوال:   استعمال والے زیورات پر زکوٰة ہے یا نہیں؟

جواب:  زکوٰة ہے۔

Q14

سوال:   زکوٰة انگریزی مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی یاہجری(قمری)مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی؟

جواب:  قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جائےگی۔

Q15

سوال:   پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے اس پر زکوٰة واجب ہوگی یانہیں؟

جواب:  واجب ہوگی۔

Q16

سوال:   پلاٹ خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو اس پر زکوٰة واجب ہےیا نہیں؟

جواب:  جب فروخت کردیا جاے اور رقم پر ایک سال گزر جاےتب زکوٰة فرض ہے .اگر پہلے سے صاحب نصاب ہےتو یہ رقم نصاب مین مل جاے گی

Q17

سوال:   جو پلاٹ رہائشی مکان کے لئے خریدا گیا ہو اس پر زکوٰة ہےیا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q18

سوال:   اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلاٹ خریدا جائے توزکوۃ کس طرح ادا کی جائےگی؟

جواب:  ان کی کل مالیت پر زکوٰة ہر سال واجب ہوگی۔

Q19

سوال:   جو مکان کرایہ پر دیا ہے،اس کی زکوٰة  کا کیا حکم ہے؟

جواب:  اس کے کرایہ پر جبکہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰة واجب ہوگی۔

Q20

سوال:   حج کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوٰة ہے یا نہیں؟

جواب:  زکوٰة واجب ہے۔

Q21

سوال:   کسی کوہم زکوٰة د یں اور اس کو بتائیں نہیں تو زکوٰة  اداہوجائے گی یانہیں؟

جواب:  ادا ہوجائے گی۔

Q22

سوال:   ملازم نے اضافی تنخواہ کا مطالبہ کیاتو مالک نے زکوٰة کی نیت سے اضافہ کردیا کیا اس کی زکوٰة ادا ہوئی یا نہیں؟

جواب:  زکوٰة ادا نہیں ہوئی۔

Q23

سوال:   کیاانکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰة ادا ہوجاتی ہے؟

جواب:  زکوٰة ادا نہیں ہوتی۔

Q24

سوال:   اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد، اسی طرح شوہر بیوی ایک دُوسرے کو زکوٰة دے سکتےہیں یانہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q25

سوال:   جو لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں ان کو زکوٰة دینا جائزہےیا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q26

سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (ہاشمی حضرات) کو زکوٰة دے

 سکتے ہیں یانہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q27

سوال:   اپنے بھائی، بہن، چچا، بھتیجے، ماموں، بھانجے کو زکوٰة دینا جائز ہےیانہیں؟

جواب:  جائز ہے اگر مستحق ہیں ۔

Q28

سوال:   آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب، ان پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو تواس کو زکوٰة دی جاسکتی ہے یا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q29

سوال:   اگرسید غریب اور ضرورت مند ہو تو ان کی خدمت کیسے کرنی چاہئے؟

جواب:  زکوۃ وصدقات کےعلاوہ دُوسرے فنڈ سے۔

Q30

سوال:   سادات کو زکوٰة کیوں نہیں دی جاتی؟

جواب:  زکوٰة، لوگوں کے مال کا میل ہے۔

Q31

سوال:   سیّد کی غیرسیّدبیوی  جو زکوۃ کی مستحق ہو زکوٰة دی جاسکتی ہےیا نہیں؟

جواب:  اس کو زکوٰة دے سکتے ہیں۔

Q32

سوال:   مال دار بیوی کا غریب شوہربیوی کے علاوہ دوسروں سےزکوٰة لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب:  لے سکتا ہے۔

Q33

سوال:   غیرمسلم کو نفلی صدقہ دےسکتے ہیں،کیا وہ زکوٰة اور صدقۂ فطر کےبھی مستحق  ہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q34

سوال:   مدارسِ عربیہ میں زکوٰة دینا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:  بہتر ہےبوجہ دین کی اشاعت کے 

 

Q35

سوال:   صاحبِ نصاب لوگ بھی خود کو مسکین ظاہر کرکے زکوۃ حاصل کرلیتے ہیں، اس کاکیا حکم ہے؟

جواب:  ان کو زکوٰة لینا حرام ہے۔

Q36

سوال:   چندہ وصول کرنے والے کو زکوٰة سے مقرّرہ حصہ دینا جائزہےیانہیں؟

جواب:  جائز نہیں۔

Q37

سوال:   زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، تو پیداوار اُٹھنے کے وقت اس پر کتنا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دینا واجب ہے؟

جواب:  دسواں حصہ۔

Q38

سوال:   اگر زمین کو خود سیراب کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار کاکتنا حصہ صدقہ کرنا واجب ہے؟

جواب:  بیسواں حصہ۔

Q39

سوال:   ایک ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کرکے دوسرے ملک بھیجا جائے تو زکوۃ کی ادائیگی کا اعتبار کس ملک کی کرنسی کا ہوگا؟

جواب:  جس ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کی گئی۔

Q40

سوال:   رہائشی گھر، جسم کے کپڑے ، گھر کے سامان ،سواری میں زکوۃ فرض ہے یانہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q41

سوال:   جواہر جیسے موتی ، یاقوت، اور زبر جدپر زکوۃ فرض ہے یانہیں جب کہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوں؟

جواب:  نہیں۔

Q42

سوال:   زکوۃ کی ادائیگی کب واجب ہوگی؟

جواب:  نصاب پر قمری سال کا گذرنا شرط ہے۔

Q43

سوال:   اگر سال کے شروع میں نصاب کامل ہو، پھر سال کے درمیان کم ہوجائے ليكن نصاب سے كم نہ ہو پھر سال کے اخیر میں نصاب کامل ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں؟

جواب:  واجب ہوگی۔

Q44

سوال:   ایک شخص شروع سال میں مالک نصاب ہوگیا،درمیان سال میں اس مال میں اوراضافہ ہوگیا،اضافہ تجارت سے ہوا ہویا کسی نے تحفہ یاہدیہ دیاہویا میراث کا مال ملاہو،بہرحال مال میں اضافہ ہوگیا،اب پورے مال پر زکوہ واجب ہوگی یاشروع سال کے مال پر واجب ہوگی؟

جواب:  پورے مال پر واجب ہوگی۔

Q45

سوال:   جو شخص اپنے تمام مال کو صدقہ کردے اور اس میں زکوٰۃ کی نیت نہ کرے تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی یانہیں؟

جواب:  ساقط ہوجائےگی۔

Q46۔

 

سوال:   اگر کسی شخص کا فقیر کے پاس قرض ہو اور وہ زکوٰۃ کی نیت سے اس کے ذمہ کو بری کردے تو زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح  ہوگی یانہیں؟

جواب:  ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ۔

Q47

سوال:   سونا چاندی کی زکوٰۃ میں سونا اور چاندی کا ٹکڑا وزن سے نکالےیا قیمت ادا کرے؟

جواب:  اختیار ہے۔

Q48

سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں فقیر کسے کہتے ہیں؟

جواب:  وہ شخص ہوتا ہے جو نصاب سے کم كا مالک ہوتا ہے۔

Q49

سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مسکین کسے کہتے ہیں؟

جواب:  جو بالکل کسی چیز کا مالک نہ ہو

Q50

سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں عامل کسے کہتے ہیں؟

جواب:  وہ شخص ہوتا ہے جو زکوۃ اور عشر کو اکھٹا کرتا ہے۔اور  اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو.

۔

Q51

سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مقروض کسے کہتے ہیں؟

جواب:  یہ وہ شخص ہے جس کے ذمہ قرض ہو، اپنے قرض کی ادائیگی کے بعد نصاب کامل کا مالک نہ رہ جاتا ہو۔تجارتی قرض کا مسئلہ الگ ہے

 Q52

۔

سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مسافر سے کیامراد ہے؟

جواب:  جس کا اپنے وطن میں مال ہو، لیکن اس کا مال سفر میں ختم ہوچکا ہو اور منگوانے کا کوی ذریعہ بهی نہ ہو 

Q53

سوال:   مسافر پر زکوۃ کی کتنی رقم خرچ کرنا درست ہے؟

جواب:  اتنی مقدار صر ف کی جائے گی کہ وہ اپنے وطن پہنچ سکے۔

Q54

سوال:   زکوۃ کی تمام قسموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیاکسی ایک قسم پر صرف کرنا  جائز ہے؟

جواب:  دونوں جائز ہے۔

Q55

 سوال:  کافر کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟

جواب:  جائزنہیں۔

Q56

سوال:   مالدار کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟

جواب:  جائز نہیں۔

Q57

سوال:   مالداربچے پر زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟

جواب:  جائز نہیں

Q58۔

سوال:   بنی ہاشم اور ان کے غلاموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟

جواب:  جائز نہیں

Q59۔

سوال:   مالک نصاب کا زکوۃ کو اپنے اصول پر جیسے باپ ، دادا ، اوپر تک صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟

جواب:  جائز نہیں

Q60۔

سوال:   مالک نصاب کا اپنے فروع پر جیسے ، بیٹا ،پوتا، نیچے تک زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟

جواب:  جائز نہی

Q61۔

سوال:   مالک نصاب بیوی شوہر پراور مالک نصاب شوہر اپنی بیوی پر زکوۃ صرف کرسکتا ہے یا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q62

سوال:   مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟

جواب:  جائز نہیں

Q63۔

سوال:   میت کو کفنانے یا میت کے قرض کو پورا کرنے میں زکوٰۃ صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:  جائز نہیں۔

Q64

سوال:   زکوٰۃ کی ادائیگی بغیر تملیک(مالک بنانا) کے صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q65

سوال:   زکوۃ رشتہ داروں پر اورپھر پڑوسیوں پر صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب:  بہتر ہے۔

Q66

سوال:   مکمل نصاب کےبقدر زکوۃ ایک شخص کو دینا درست ہےیانہیں؟

جواب:  مکروہ تنزیہی  ہے۔

Q67

سوال:   مقروض پر اس کے قرضے کی ادائیگی کیلئے نصاب سے زیادہ صرف کرنا مکروہ ہے یا نہیں؟

جواب:  مکروہ نہیں۔

Q68

سوال:   بغیر ضرورت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوٰۃ کو منتقل کرناکیسا ہے؟

جواب:  مکروہ  تنزیہی هے 

Q69۔

سوال:   اپنے رشتہ داروں کیلئے زکوۃ کا منتقل کرناکیسا ہے؟

جواب:  مکروہ نہیں ہے۔

Q70

سوال:   مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟

جواب:  جائز نہیں۔

Q71

 

سوال:   ایک شخص جو زکاة کا مستحق نہیں ہے، لیکن وہ ڈاکٹر بننا چاہتاہے،کیا اس کو زکاة دی جاسکتی ہے؟

جواب:  صدقات نافلہ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔

Q72

 

سوال:   اگر زکاة کسی غریب غیر مسلم کو دیدی جائے تو اداہوجائے گی یا نہیں؟

جواب:  زکاة ادا نہ ہوگی۔

Q73

سوال:   کیا اپنے مستحق زکاة بھائی کو زکاة کی رقم دی جا سکتی ہے؟

جواب:  دی جا سکتی ہے ۔

 

Q74

سوال:   کیا مستحق زکاة چچیرے ، ممیرے، خلیرے بھائی کو یا اپنے بھتیجے کو زکاة دے سکتے ہیں ؟

جواب:  دے سکتے ہیں

۔

سوال:   کیا مدرسہ کے مہتمم یا ناظم  کو جو طلبہ کی وکیل ہوتے ہیں زکاة دی جاسکتی ہے ؟

 

جواب:  دی جاسکتی ہے۔بلکہ افضل ہے

Q75 

سوال:   زکوۃ کی ادائیگی کے لئےسونےکی قیمت فروخت کا اعتبارہوگا یاقیمت خرید کا ؟

جواب:  قیمت فروخت

Q76

۔

سوال:   سونے پر زکاة موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی یا خریدنے کے وقت کی قیمت کے حساب سے ہوگی ؟

جواب:  موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔

Q77

۔

سوال:   کیا زکاة مستحق زکاة اپنے بھانجے کی تعلیم پر خرچ کرسکتے ہیں؟

جواب:  ہاں۔مگر اس کو دے دی جائے تاکہ وہ مالک بن جاے

Q78

سوال:   کیا نابالغ بیٹا یا بیٹی کے مال پر بھی زکوة دینا فرض ہے؟

جواب:  نہیں

Q79

 

سوال:   مسجد کے امام یامؤذن کی ماہانہ تنخواہ کو زکاۃ میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں؟

جواب:  نہیں۔

Q80

سوال:   کیا لڑکی زکوة کی رقم اپنے والدین کو دے سکتی ہے۔

جواب:  نہیں۔

Q81

 

سوال:   کیا نفلی صدقہ کا گوشت صدقہ کرنے والا بھی خود استعمال کرسکتا ہے؟

جواب:  کرسکتا ہے۔

Q82

سوال:   صدقات واجبہ جیسے نذر وغیرہ کا گوشت  کیا صدقہ دینے والا خود بھی کھاسکتا ہے۔

جواب:  نہیں.

جو بات اپکو تفصیلا بتلائ گئ اپ اسکو

شئیر کریں اور  ہم سب کو بتائیے کہ زکوة کیسے ادا کریں شکریہ

●❯───────────❮●

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

   ایک لڑکے کی... تربیت ایک فرد... کی تربیت ہوتی ہے... اور ایک لڑکی کی تربیت... پورے خاندان کی... تربیت ہوتی ہے... 

♥️🖤♥️🖤♥️🖤♥️🖤♥️

   ہمارا مقصد صرف اصلاح کرنا ہے پیاری بہنوں اور بیٹیوں کا بس

 اس ہمارے گروپ میں... تقریبا مستقبل کی مائیں ہیں... سب  تو ہماری... کوشش ہوتی ہے ...کہ آپ کی تربیت اچھے... طریقے سے کی جائے ... اچھے انداز سے ۔۔۔آپکی اصلاح کی جاۓ۔۔تاکہ آپ اپنی زندگی گزاریں۔۔۔ اچھی ماں بن کے۔۔۔ہماری کوشش ہوتی ہے ...ہم آپ کو ہر موضوع... پر ویڈیو دکھائیں ...ہر طرح کی دینی... پوسٹ آپکو... دکھائیں تاکہ آپ... اپنا گھر اچھے... انداز میں اچھے طریقے... سے سنبھال سکیں

 

 

 

 

 

 

"سوشل میڈیا کے بھائی بہن"

 

پہلے ہم دنیا داروں کو سمجھاتے تھے کہ لڑکے لڑکی کا چیٹنگ کرنا درست نہیں، یہ دنیا و آخرت میں خطرے کا باعث ہے اب اس فیس بک نے ہمارے مذہبی کہلانے والوں کو بھی اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔کئی افراد بالخصوص طلباء و طالبات عالمہ و عالمات  کو دیکھا جا رہا ہے کہ نہ صرف ایک دوسرے کو ایڈ کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی پوسٹ پر کمنٹس بھی کر رہے ہوتے ہیں اور "جی بھائی" "جی بہن" کر کے اپنے آپ کو حیا کا پیکر بھی ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ میں تو اپنی مسلمان بھائی یا بہن کو کمنٹ کر رہا ہوں۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔

اسی طرح لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے  واٹس ایپ گروپس میں شامل ہو کر پرسنل میں میسج کر کے ایک نامحرم سے بات چیت کر کے دوستی اور عاشقی معشوقی جیسے خطرناک شیطانی جال میں پھنس جاتے ہیں  یہ برائی کا entrance gate ہے۔

بالفرض کسی اہل علم کی پوسٹ سے مستفیض ہونا مقصود ہے تو کیا ضروری ہے اس کی پوسٹ پر کمنٹ کر کے یا پرسنل میسج کر کے موجودگی کا احساس بھی دلایا جائے۔اسلامی بہن پوسٹ کرے تو کیا اسلامی بھائی پر لازم ہے کہ کمنٹ کر کے اپنی علمیت کا اظہار کرے؟ یہ بڑی برائی کا دروازہ کھل چکا ہے اس کا سد باب کیا جانا چاہیے نہیں تو وہ دن دور نہیں جب مذہبی لوگوں کے متعلق بھی پیار محبت کی خبریں سننے کو ملیں بلکہ یہ تو اللہ پاک کی کرم نوازی ہے کہ ہمارے عیبوں کی پردہ پوشی فرما رکھی ہے ورنہ تجربہ یہ ہے کہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی عشق مجازی کے چکروں نے دونوں ہی طبقوں کو گھومایا ہوا ہے اور اس کی ابتداء یہیں سے ہوتی ہے۔مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ ان کا فیس بک پر یا واٹس ایپ کی پرسنل چیٹ پر کام کیا ہے؟ چلو اکاؤنٹ بنایا بھی تو یہ طوفان بدتمیزی جو چل پڑا ہے سمجھ سے باہر ہے۔شاید ان کو اپنے آپ پر بہت اعتماد ہوتا ہوگا کہ ہم ان چکروں میں نہیں پڑتے  ان کو ادراک نہیں ہے کہ بات کہاں تک جا سکتی ہے۔ہاں شریعت نے جہاں اجازت دی ہے وہ الگ مسئلہ ہے لیکن فقہ کا قاعدہ ہے "الضرورت تتقدر بقدرھا " جو کام ضرورت کے تحت کیا جاتا ہے وہ اتنا ہی ہو جتنی ضرورت ہے۔اللہ کرے اس خطرناک جال سے ہمارے ناسمجھ بھائی بہن اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہوجائیں۔

 

آخر میں یہی کہوں گا کہ جس بہن یا بھائی نے اس گے گزرے دور میں اپنے اوپر کنٹرول رکھا اور نامحرم کے ساتھ تعلقات استوار کرنے سے بچا رہا تو اسے اللہ تعالیٰ آخرت میں ضرور اپنی اعلی اور ارفع جنتوں کا مھمان بنائیں گے

نوٹ: اس طرح کی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ شئیر کرنے کی التجا ہے۔

پاک ترک میڈیا فورم

 

 

 

 

 

سچائی کی اہمیت

 

اگر دیکھا جائے تو بنیادی طور پر صدق اور کذب یعنی سچ اور جھوٹ دونوں الگ الگ مستقل صفات ہیں، دونوں علیحدہ علیحدہ خصلتیں ہیں، اور کسی بھی انسان کے اندر دونوں صفات کے پائے جانے کا امکان بدرجۂ اتم رہتا ہے، یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ سچ یا جھوٹ دونوں کے بولنے پر قادر ہے، اللہ نے اس دنیا میں چھوٹ دے رکھی ہے، تاکہ وہ اپنے بندوں کو آزمائے، مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ سچ کی اور سچ بولنے والوں کی کیا قدر وقیمت ہے، اور جھوٹ بولنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز میں سچائی کی اہمیت کو واضح کیا ہے اور لوگوں کو اس پر چلنے کی ترغیب دلائی ہے، قرآن کریم کی بےشمار آیتیں اس جانب اشارہ کرتی ہیں، اگر آپ قرآن کریم کی آیتوں میں غور کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ سچ کا کتنا بڑا مقام ومرتبہ ہے کہ سچائی کی نسبت کہیں خود اللہ کی ذات کی جانب ہے تو کہیں انبیاء کی جانب ہے، کہیں صالحین کی جانب ہےتو کہیں صالحات کی جانب ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آَمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ، (التوبة: ۱۱۹) 

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔

اور دوسری جگہ ارشاد فرمایا: فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ، (محمد: ۲۱) تو اگر وہ اللہ کے ساتھ سچے رہیں تو ان کے لئے بہتری ہے۔

ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا (النساء: ۸۷) اللہ تعالیٰ سے زیاده سچی بات والا اور کون ہوگا۔

ایک دوسری جگہ ارشادہے:وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا، (النساء: ۱۲۲) یہ ہے اللہ کا وعده جو سراسر سچا ہے اور کون ہے جو اپنی بات میں اللہ سے زیاده سچا ہو؟۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کویہ صدق اس قدر محبوب وپسندیدہ ہے کہ اس نے اپنے لیے استعمال فرمایا ہ…

 

 

 

 

 

: حدیث نمبر 25

 مَنْ صَلَّى عَلَيَّ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا 

(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الصَّلَاةُ  | بَابٌ : الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ/رقم الحدیث 408)

 جس شخص نے ایک بار مجھ پر درود بھیجا اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 *تشریح:اللہ تعالیٰ نے جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں پھلوں اور پھولوں کو الگ الگ رنگتیں دی ہیں اور ان میں مختلف قسم کی خوشبوئیں رکھی ہیں اسی طرح مختلف عبادات اور اذکار و دعوات کے الگ الگ خواص اور برکات ہیں، درود شریف کی امتیازی خاصیت یہ ہے کہ خلوصِ دل سے اس کی کثرت ، اللہ تعالیٰ کی خاص نظر رحمت ، رسول اللہ کے روحانی قرب اور آپ کی خصوصی شفقت و عنایت حاصل ہونے کا خاص الخاص وسیلہ ہے *

ذرا غور کریں ! اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کا فلاں بندہ آپ کے لئے اور آپ کے گھر والوں اور سب متعلقین کے لئے اچھی سے اچھی دعائیں برابر کرتا رہتا ہے ، اپنے لئے اللہ تعالیٰ سے اتنا نہیں مانگتا جتنا آپ کے لئے مانگتا ہے اور یہ اس کا محبوب ترین مشغلہ ہے تو آپ کے دل میں اس کی کیسی قدر و محبت اور خیرخواہی کا کیسا جذبہ پیدا ہو گا ۔ پھر جب کبھی اللہ کا وہ بندہ آپ سے ملے گا اور آپ کے سامنے آئے گا تو آپ کس طرح اس سے ملیں گے ۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اللہ کا جو بندہ ایمان و اخلاص کے ساتھ رسول اللہ پر کثرت سے درود و سلام پڑھے اس پر آپ کی کیسی نظر عنایت ہو گی اور قیامت و آخرت میں اس کے ساتھ آپ کا معاملہ کیا ہو گا اور رسول اللہ کو اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا جو مقام حاصل ہے اس کو پیش نظر رکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس بندے سے اللہ تعالیٰ کتنا خوش ہو گا اور اس پر اس کا اکیسا کرم ہو گا 

 اس حدیث اور دوسری اس جیسی احادیث کا مقصد و مدعا ہم امتیوں کو یہی بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صلوٰۃ و سلام کا تمغہ اور اس کی بے انتہا عنایتیں اور رحمتیں حاصل کرنے کا ایک کامیاب اور بہترین ذریعہ خلوص قلب سے رسول اللہ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایک دفعہ کے صلوٰۃ و سلام کے صلہ میں دس دفعہ صلوٰۃ و سلام بھیجتا ہے دس درجے بلند فرماتا ہے ، نامہ اعمال میں سے دس گناہ محو کر دئیے اور مٹا دئیے جاتے ہیں اور دس نیکیاں لکھا دی جاتی ہیں ۔ مثلاً اگر کوئی بندہ رسول اللہپر روزانہ صرف سو دفعہ درودِ پاک پڑھتا ہے،اللہ اکبر ۔ کتنا سستا اور نفع بخش سودا ہے اور کتنے خاسر اور بےنصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے اس سعادت اور کمائی سے خود کو محروم کر رکھا ہے، اللہ تعالیٰ یقین نصیب فرمائے اور عمل کی توفیق دے ۔

 

 

 

 

🌹 آئیں مسائل سیکھیں 🌹

 درج ذیل تین اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے:

(1) سورج نکلنے کے وقت

(2) زوال کے وقت

(3) سورج غروب ہونے کے وقت 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 شرائطِ نماز 

 نماز  کے درست ہونے کے لئے کل سات شرطیں ہیں: (یعنی جن کا نماز کے شروع کرنے سے پہلے اہتمام کرنا ضروری ہے) 

 (1) حدثِ اکبر (جنابت) اورحدثِ اصغر سے پاک ہونا

 (2) نمازی کے بدن، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا

 (3) ستر ڈھانکنا (یعنی مرد کے لئے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لئے چہرہ، ہتھیلیاں اور قدم چھوڑکر بقیہ پورا بدن چھپانا)

 (4) قبلہ کی طرف رخ کرنا

 (5) نماز کا وقت ہونا 

 (6) نماز شروع کرنے سے پہلے نماز کی نیت کرنا 

 (7) تکبیر تحریمہ کہنا۔ 

 

 

 

: 🌹 آئیں ایک سنت کو سیکھ کراس پر عمل کریں 🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا 

(ترمذی شریف حدیث نمبر 2678)

✨✨✨✨✨✨✨✨✨

سنت نمبر بیس 

سونے سے پہلے تسبیح فاطمی کا اہتمام کرنا

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ بات بتانے کے لیے حاضر ہوئیں کہ چکی پیسنے کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں کتنی تکلیف ہے۔ انہیں معلوم ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ غلام آئے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی ملاقات نہ ہو سکی۔ اس لیے عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کا ذکر کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں تشریف لائے  ( رات کے وقت )  ہم اس وقت اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ہم نے اٹھنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں جس طرح تھے اسی طرح رہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے۔ میں نے آپ کے قدموں کی ٹھنڈک اپنے پیٹ پر محسوس کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تم دونوں نے جو چیز مجھ سے مانگی ہے، کیا میں تمہیں اس سے بہتر ایک بات نہ بتا دوں؟ جب تم  ( رات کے وقت )  اپنے بستر پر لیٹ جاؤ تو 33 مرتبہ «سبحان الله»،‌‌‌‏ 33 مرتبہ «الحمد الله» اور 34 مرتبہ «الله اكبر» پڑھ لیا کرو یہ تمہارے لیے لونڈی غلام سے بہتر ہے۔

🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃

أَنَّ فَاطِمَةَ عَلَيْهِمَا السَّلَام أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشْكُو إِلَيْهِ مَا تَلْقَى فِي يَدِهَا مِنَ الرَّحَى وَبَلَغَهَا أَنَّهُ جَاءَهُ رَقِيقٌ فَلَمْ تُصَادِفْهُ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ ، قَالَ : فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ، فَذَهَبْنَا نَقُومُ ، فَقَالَ : عَلَى مَكَانِكُمَا ، فَجَاءَ فَقَعَدَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى بَطْنِي ، فَقَالَ : أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى خَيْرٍ مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا أَوْ أَوَيْتُمَا إِلَى فِرَاشِكُمَا ؟ فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَاحْمَدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ ، وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ ۔(صحيح البخاري | كِتَابُ النَّفَقَاتِ.  | بَابُ عَمَلِ الْمَرْأَةِ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا. 5361)

 

 

 

 

🌹 آئیں مسائل سیکھیں 🌹

 درج ذیل تین اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے:

(1) سورج نکلنے کے وقت

(2) زوال کے وقت

(3) سورج غروب ہونے کے وقت 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 شرائطِ نماز 

 نماز  کے درست ہونے کے لئے کل سات شرطیں ہیں: (یعنی جن کا نماز کے شروع کرنے سے پہلے اہتمام کرنا ضروری ہے) 

 (1) حدثِ اکبر (جنابت) اورحدثِ اصغر سے پاک ہونا

 (2) نمازی کے بدن، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا

 (3) ستر ڈھانکنا (یعنی مرد کے لئے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور عورت کے لئے چہرہ، ہتھیلیاں اور قدم چھوڑکر بقیہ پورا بدن چھپانا)

 (4) قبلہ کی طرف رخ کرنا

 (5) نماز کا وقت ہونا 

 (6) نماز شروع کرنے سے پہلے نماز کی نیت کرنا 

 (7) تکبیر تحریمہ کہنا۔ 

 

 

 

 

: 🌹 پوسٹ نمبر 20 🌹

 گناہ کبیرہ 

 گناہ نام ہے ہر ایسے کام کا جو اللہ تعالی کے حکم اور مرضی کے خلاف ہو،اس لئے گناہ چاہے چھوٹا ہو یا بڑا اس سے بچنا ضروری ہے اور اگر کوئی شخص ہمت کر کے کبیرہ گناہوں سے بچ جائے تو اللہ تعالی کا وعدہ ہے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کو وہ خود معاف فرما دیں گے 

  بڑے بڑے گناہوں میں سے چند یہ ہیں 

 1۔ ناحق کسی کو قتل کرنا  2۔زنا کرنا  3۔جان بوجھ کر نماز  چھوڑ دینا  4۔زکوۃ ادا نہ کرنا 

 5۔ بلا عذر رمضان المبارک کے روزے نہ رکھنا 

 6۔ خود کشی کرنا 7۔ والدین کی نافرمانی کرنا 8۔ جھوٹ بولنا 9۔ جھوٹی گواہی دینا 10۔سودی معاملہ کرنا 11۔ تکبّر کرنا 12۔وعدے کی خلاف ورزی کرنا 13۔شراب پینا 14۔ستر نہ چھپانا 15۔ناپ تول میں کمی کرنا 16۔بہنوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا 17۔داڑھی مونڈنا یا ایک مٹھی سے کم رکھنا

 

 

 

 

🌹 رمضان کی تیاری 🌹

 بزمِ احبابِ اشرف 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم رمضان سے پہلے خطبہ دیتے اور فرماتے

 تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے پس تم اُس کے لئے تیاری کرو اور اُس میں اپنی نیتوں کو درست کرلو 

”كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ رَمَضَانَ خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ قَالَ:أَتَاكُمْ شَهْرُ رَمَضَانَ فَشَمِّرُوْا لَهُ وَأَحْسِنُوْا نِيَّاتِكُمْ فِيْهِ“

(کنز العمال عن الدّیلمی: 24269)

اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کی آمد سے قبل اُس کیلئے پہلے سے تیاری کرنی چاہیئے اورقاعدہ بھی یہی ہے ہر چیز کی تیاری اُس کے آنے سے پہلے ہوتی ہے، مثلاً مہمان کی آمد ہو تو اُس کے آنے بعد نہیں، آنے سے پہلے تیاری ہوتی ہے، اِسی طرح رمضان بھی مؤمن کے لئے ایک بہت ہی اہم اور معزز مہمان ہے، اُس کی قدر دانی کے لئے بھی پہلے سے ذہنی اور عملی طور پر تیار ہونا چاہیئے۔

رمضان کی تیاری میں دوچیزیں ہیں: 

(1) دنیاوی اعتبار سے۔

 (2) دینی اعتبار سے۔

 دنیاوی اعتبار سے:

 اِس طرح کہ دنیاوی مشاغل و مصروفیات سے اپنے آپ کو جس قدر بھی فارغ کرسکتے ہوں کرلیں، تاکہ رمضان المبارک کا مہینہ مکمل یکسوئی کے ساتھ عبادت اور رجوع الی اللہ میں گزارا جاسکے،اِس کے لئے چند اہم تجاویز ذکر کی جارہی ہیں، اِن کی مدد سے ان شاء اللہ اپنے آپ کو رمضان کے لئے فارغ کیا جاسکتا ہے:

️ عید کی تمام شاپنگ شعبان المعظم میں ہی کرکے فارغ ہوجائیں، کیونکہ رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں کو شاپنگ مال اور مارکیٹس کے نذر کرنا ، بالخصوص جبکہ اُس کی وجہ سے روزہ، نمازیں اور تراویح کی نماز متاثر ہوتی ہو یہ رمضان جیسے عظیم اور بابرکت کی بڑی ناقدری ہے، جس میں عوام و خواص بہت سے لوگ مبتلا ہیں۔ 

 

️ راشن اور گھر کا دیگر سودا سلف جو روز مرّہ کے معمولات میں خریدا جاتا ہے، وہ رمضان المبارک سے پہلے ہی جہاں تک ممکن ہو ایک ساتھ ہی خرید کر فارغ ہوجائیں تاکہ رمضان المبارک میں یکسوئی حاصل ہوسکے۔ 

️ جو کام رمضان المبارک میں موقوف کیے جاسکتے ہوں اُنہیں موقوف کردیجئے، ہم اگر اپنے کاموں کا جائزہ لیں تو بہت سے ایسے کام نظر آئیں گے جنہیں اگر ایک مہینے تک ہم نہ کریں تو کوئی حرج لازم نہیں آئے گا؛ مثلاً اخبار بینی، دوستوں کے ساتھ گپ شپ، انٹر نیٹ استعمال کرنے کی مصروفیت، سیل فونز پر کی جانے والی بہت سی فضول اور لا یعنی مشغولیت، آؤٹنگ کے نام پر کی جانے والی پکنک اورتفریحات، ویک اینڈ منانے کے لیے فوڈز پوائنٹ پر جانا، یہ اور اِس جیسے اور بھی بہت سے ایسے کام ہیں جن میں بہت سے فضول اور لغو ہیں اور بہت سے گناہ کے زمرے میں آتے ہیں ، ان سب سے بچنا ضروری ہے اور رمضان المبارک میں ایسے کاموں سے اجتناب کرنا اور بھی ضروری ہے۔ 

️ سال بھر میں دفتر اور ملازمت سے ملنے والی ایسی چھٹیاں جن کو آپ کسی بھی وقت استعمال کرسکتے ہوں اُن کو اِستعمال کرنے کے لئے رمضان المبارک کے مہینے سے بہتر کوئی وقت نہیں، ایسی چھٹیوں کو رمضان میں استعمال کیجئے، تاکہ خوب یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ صرف ایک کام یعنی عبادت اور رجوع الی اللہ کیا جاسکے۔ 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

:::::بیوی کا اثر کہاں تک جاتا ہے::::

 

_خواتین آخری سطور لازمی پڑھیں___

 

مرد کے تقوے پرہیز گاری اور حلال و حرام کمائی ہونے میں عورت کا بہت عمل دخل ہے

 

ایک بزرگ پانچ وقت کی نماز اشراق و چاشت و تہجد باقاعدگی سے پڑھا کرتے تھے 

 

ایک دن زوجہ محترمہ کو کہنے لگے کہ تم صرف پانچ نمازیں پڑھتی ہو کبھی تہجد بھی پڑھ لیا کرو

 

بیوی صاحبہ نے بات سنی اور خاموشی اختیار کر لی

 

دوسرے دن بابا جی بمشکل فجر کی نماز وہ بھی آخری وقت میں پڑھ سکے آنکھ کھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی

 

بیگم صاحبہ کو کہتے ہیں 

 

آج پتا نہیں کیا ہوا فجر کی نماز مشکل سے پڑھ سکا ہوں

 

بیگم صاحبہ مسکرا کر کہنے لگی میرے سر تاج پہلے میں با وضوء کھانا بناتی تھی جس کی برکت سے آپکی تہجد میں آسانی سے آنکھ کھل جاتی تھی 

 

کل آپ نے مجھے طعنہ لگایا تو میں نے رات کا کھانا بے وضوء بنایا جس کی وجہ سے آپکی تہجد تو گئی آپ کے لیئے فجر کی نماز پڑھنا بھی مشکل ہوگیا 

 

اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ جو خواتین با وضوء کھانا بناتی ہیں اور پاکی کا خاص خیال رکھتی ہیں اس گھر کے مردوں پہ تقوی و پرہیز گاری کے اثرات نظر آتے ہیں

 

بیوی حسین ہو تو صرف دنیاوی حور ہوگی اور اگر متقیہ اور علم  والی ہو تو آخرت میں سینکڑوں حوروں کے ملنے کا سبب بن جاتی ہے

 

حبیب عجمی کی بیوی ان کو رات کے آخری پہر اٹھاتی اور بلند آواز سے کہتی

اے بندہِ خدا اٹھ اور دیکھ رات گزر گئی اور تیرا راستہ طویل اور تیرے پاس زادِ راہ قلیل ہے صالحین کے قافلے ہمارے سامنے سے گزر گئے ہیں اور ھم یہاں تنہاء رہ گئے ہیں

 

جن نفوسِ قدسیہ کی ازواج ایسی ہوں تو انکی زندگی پاک و صاف اور یہیں جنت کا عکس ہوتی ہے

 

خواتین مردوں کی بازو نیکی و عبادت میں بنیں مردوں سے آخرت کے انعامات کا تقاضا کریں نہ کہ فانی مال کی طلب میں حرام کمانے پر مجبور کریں

 

خواتین کی نیکی و بدی کا اثر نسلوں میں جاتا ہے لہذا عارضی آسائش کے لیئے نسلوں کا بیڑہ غرق مت کریں،،،

️💚️💚️💚️💚️💚

 

 

 

 

 

بزرگوں پر تشدد

       🍁⛱️🍁              🍁⛱️🍁

ارے صاحب❗

یہ بزرگی ایسے ہی نہیں آ جاتی۔۔۔

یہ تو ایک اعلیٰ مقام ہے میرے رب کی عطا ہے۔

میرا رب سفید بالوں والوں کی حیاء کرتا ہے۔

بزرگوں کی خدمت تو ایک قرض ہے ، ایک عبادت ہے ۔۔۔

خدمت گزار کو اس کی وصولی اور ثواب اس کے بڑھاپے میں ملے گا ۔

ہم جو آج چار بندوں کے سامنے بول سکتے ہیں، سلجھے ہوئے طریقے سے اپنے آپ کو پریزنٹ کر سکتے ہیں، اس سب کے پیچھے کہیں نہ کہیں انکا ہاتھ ہے، انکی دعائیں ہیں۔

 

لیکن اب بہت کچھ بدلتا نظر آ رہا ہے۔

 

 بزرگوں پر تشددکی مختلف اقسام ہیں۔ 

 

ہم خاموشی سے اپنے آس پاس بسنے والے بزرگوں پر نظر ڈالیں اور اپنے اور اپنے بچوں کا ان بزرگوں سے رویہ دیکھیں۔ 

      🍁⛱️🍁  

نظر انداز کرنا:

 

💧کھانے پینے اور انکی پرہیزی غذا میں لا پرواہی

💧بتیسی، عینک، سننے کا آلہ،

💧لاٹھی خراب ہو جانے پر لانے میں دیر کرنا 

💧کپڑوں اور جسمانی صفائی کا خیال نہ کرنا

💧ڈاکٹر کے پاس لیجانے اور دوائیوں میں کوتاہی

💧خشک ایڑیاں صاف نہ کرنا، 

💧جلد اور بالوں کی صفائی کا خیال نہ کرنا، 

💧کمرے میں بہت دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دینا

     🍁⛱️🍁  

جسمانی طور پر: 

 

🔅اٹھنے بیٹھنے چلنے میں اگر انکو مشکل ہو تو انکے لیے کسی مددگار کا انتظام نہ کرنا، خود بھی جب تک ٹال سکیں، ٹالنا۔ 

 

🔅کبھی کپڑے خراب ہو جائیں تو سب کے سامنے اس بات کا ذکر کرنا، یا انکے سامنے بار بار تذکرہ کرنا

 

🔅انکے آرام کے اوقات میں اونچا ٹی وی لگانا اور بچوں کو شور ڈالنے سے منع نہ کرنا

     🍁⛱️🍁  

مالی طور پر: 

 

🪙 لین دین، ضروریات اور آسائشوں پر خرچ کرنے کے لیے پیسے نہ دینا

 

🪙انکی زندگی میں ہی انکی جائداد بانٹنے اور حصوں کا ذکر کرنا 

 

🪙ان سے لیے پیسوں کا انکو جواب نہ دینا کہ کہاں سے آئے،  اور کدھر گئے 

 

🪙سب گھر والوں کے موسمی کپڑے اور جوتے لینا اور انکو بھول جانا۔

 

🪙 عید، شادی کے مواقع پر سب کی شاپنگ ہو جانا، انکو چھوڑ دینا۔ 

        🍁⛱️🍁  

 

بنیادی حقوق کی تلفی:

 

🪶وقت نہ دینا۔ 

 

🪶سلام دعا اور پیسے دے دینے کے بعد سمجھنا کہ حق ادا ہو گیا۔

 

🪶سب سمجھدار لوگوں سے مشورے کا اہتمام کرنا لیکن والدین کو شامل نہ کرنا

 

🪶انکے فیصلے خود کرنا، انکو انکی مرضی نہ کرنے دینا 

 

🪶تیز آواز یا سخت لہجے میں چڑ کر جواب دینا 

 

🪶اپنے بچوں کو انکے نانا نانی، دادا دادی کے قریب ہونے کے مواقع نہ دینا،

 

🪶 بچوں کو انکے چھوٹے چھوٹے کام کرنے کی ترغیب نہ دینا

 

یہ بھی ممکن ہے کہ۔۔۔

 یہی بزرگ جب خود جوان تھے، انہوں نے اولاد کے ساتھ بس پیسہ لو اور پیسہ دو کا تعلق رکھا ہو۔ بچپن سے کوئی جذباتی تعلق بنایا ہی نہیں ہو۔ 

 

لیکن اب وہ کمزور ہیں۔ ہم نے انہیں امتحان میں نہیں ڈالنا، بڑھاپا خود ہی ایک امتحان ہے۔

ہمیں چاہیے کہ۔۔۔

 

️ انکے پاس بیٹھیں، حال احوال پوچھیں۔

🧡بار بار کے سنے ہوئے انکے قصے کہانیاں پھر سے سن لیں، ان سے مشورے لیا کریں، 

 

💜دور ہوں تو فون کر لیں۔

 

💚 ہو سکے تو آن لائن درسِ قرآن وغیرہ سے جوڑ دیں۔

 

 💙پکنک وغیرہ پر انکی صحت کے پیشِ نظر اگر ساتھ لیجانا ممکن نہ ہو تو الگ سے باہر گھمانے پھرانے لیجائیں۔

 

 🖤ٹیکنالوجی جیسے فون ایپ  وغیرہ سمجھانی ہو تو صبر و تحمل سے سمجھائیں۔ 

 

🤍حتی المقدور کوشش یہی کرنی ہے کہ انہیں گھر کا اہم فرد سمجھیں اور اپنے مال، وقت، اور محبت میں انکا خاص حصہ رکھیں۔

 

💛ان کی خدمت عبادت سمجھ کر کریں۔

 

🤎 اور اللہ کی رضا کے لیے انکے ساتھ حسنِ سلوک کرتے رہیں۔

 

                                         

              🍃 

 

           🍁⛱️🍁         

🍁⛱️🍁

تحریر،، نیر تاباں 

انتخاب،، عابد چوہدری 

 

▬▬▬۩۞۩▬▬▬

          🌼Join🌼

 

   🇵🇰 اپنے بچوں کی اچھی تربیت اورتربیہ گروپ کی مزید تحریریں اور ویڈیوز اور روزانہ اصلاحی اور سبق آموز کہانی حاصل کرنے اور واٹس ایپ گروپ جوائن کرنے کیلئے اس نمبر پر تربیہ لکھ کر واٹس ایپ میسج کریں

03459277238 

 ▬▬▬۩۞۩▬▬▬

[

 

 

 

حدیث نمبر 27 

السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ

(سنن النسائي | كِتَابُ الطَّهَارَةِ  | بَابٌ : التَّرْغِيبُ فِي السِّوَاكِ/رقم الحدیث 5)

 مسواک منہ کو بہت زیادہ پاک صاف کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ خوش کرنے والی چیز ہے 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 تشریح:کسی چیز میں حُسن کے دو پہلو ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ وہ دنیاوی زندگی کے لحاظ سے فائدہ مند اور عام انسانوں کے نزدیک پسندیدہ ہو،دوسرے یہ کہ وہ اللہ تعالی کی محبوب اور آخرت کے ثواب کا وسیلہ ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں بتلایا کہ مسواک میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں اس سے منہ کی صفائی ہوتی ہے، گندے مادے خارج ہو جاتے ہیں،منہ کی بدبو زائل ہو جاتی ہے یہ اس کے نقد دنیاوی فوائد ہیں اور دوسرا اخروی نفع اس کا یہ ہے کہ یہ اللہ تعالی کی رضا حاصل ہونے کا بھی خاص وسیلہ ہے

 

 

 

 

🌹 آئیں ایک سنت کو سیکھ کراس پر عمل کریں 🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا 

(ترمذی شریف حدیث نمبر 2678)

✨✨✨✨✨✨✨✨✨

 سنت نمبر 21 

 جب چھینک آئے تو منہ کو ڈھانپ لینا 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ کو جب چھینک آتی تھی تو آپ اپنے ہاتھ یا کپڑے سے چہرہ مبارک کو ڈھک لیتے تھے ، اور اس کی آواز کو دبا لیتے تھے* 

🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ غَطَّى وَجْهَهُ بِيَدِهِ أَوْ بِثَوْبِهِ وَغَضَّ بِهَا صَوْتَهُ.

(سنن الترمذي | أَبْوَابُ الْأَدَبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ  | بَابٌ : خَفْضُ الصَّوْتِ وَتَخْمِيرُ الْوَجْهِ عِنْدَ الْعُطَاسِ/رقم الحدیث 2745)

 

 

 

 

 

🌹 آئیں مسائل سیکھیں 🌹

 نماز میں چھ فرائض ہیں 

 (1) تحریمہ یعنی اللہ اکبر سے نماز شروع کرنا۔

 (2) قیام یعنی کھڑا ہونا۔ 

 (3) قرأت یعنی فرض نماز کی دو رکعت میں اور سنن نوافل اور وتر کی ہر رکعت میں قرآن کریم کی کوئی بڑی آیت یا تین چھوٹی آیتیں پڑھنا۔

 (4) رکوع کرنا۔

 (5) سجدہ کرنا۔ 

 (6) تشہد پڑھنے کے بقدر قعدہ اخیرہ میں بیٹھنا

 اہم مسئلہ

 اگر مقتدی اس حال میں جماعت میں پہنچا کہ امام رکوع میں جاچکا تھا، مقتدی نے جلد بازی میں اس طرح تکبیر کہی کہ لفظ ’’اللہ‘‘ تو کھڑے ہونے کی حالت میں اداکیا اور لفظ ’’اکبر‘‘ اس کی زبان سے اس وقت نکلا جب کہ وہ رکوع کی حالت میں پہنچ چکا تھا تو اس مقتدی کی نماز شروع نہیں ہوئی۔ اس لئے کہ پوری تکبیر تحریمہ کا کھڑے ہونے کی حالت میں کہنا فرض ہے۔

 

 

 

 

 

حسن خاتمہ سے کیا مراد ہے؟

 

الشيخ بن عثيمين رحمة الله فرماتے ہيں:

 

اچھے انجام کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ضرور مسجد میں فوت ہوں ، یا جائے نماز پر  ، یا آپ جس وقت فوت ہوں تو قرآن آپ کے ہاتھ میں ہو یا آپ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہوں.

 

تمام مخلوقات میں سے بہترین حضرت محمد صلى الله عليه و سلم جس وقت فوت   ہوئے وہ اپنے بستر پر تھے.

 

آپ صلى الله عليه وسلم کے دوست ابوبکر صدیق رضي الله عنه جو صحابہ میں سے بہترین تھے وہ اپنےبستر پرفوت ہوئے

 

خالد بن الوليد رضي الله عنه جن کا لقب سیف اللہ تها وہ اپنے بستر پرفوت ہوئے 

 

▪️لیکن حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ شرک سے پاک ہوں

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ نفاق سے پاک ہوں

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ آپ بدعتوں سے پاک ہوں 

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ آپ قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوں

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ آپ مسلمانوں کے خون ، مال اور عزت  کے بوجھ سے ہلکے ہوں

 

▪️ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے ہوں،

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ آپ کا دل سلامت ہو نیت پاک ہو اور آپ حسن اخلاق پر ہوں،

 

▪️ کسی مسلمان کے لیے آپ کے دل میں کوئی بغض کینہ اور نفرت نہ ہو ،

 

▪️حسن خاتمہ یہ ہے کہ آپ اس حال میں فوت ہوں کہ آپ پانچوں نمازوں کو ان کےوقت پر  ادا کرنے والے ہوں

 

اللهم انا نسألك حسن الخاتمة

 

 اللهم أَحسنْ عاقبتَنا في الأمور كلِّها وأجرْنا من خزي الدنيا وعذابِ الآخرة

 

”اے اللہ پاک تمام کاموں میں ہمارا انجام اچھا کردے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا لے.“

 

آمین یا رب العالمین

نوٹ اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

[

 

 

 

: حدیث نمبر 30

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالْمُرْتَشِيَ

(سنن أبي داود | أَوَّلُ كِتَابِ الْأَقْضِيةِ  | بَابٌ : فِي كَرَاهِيةِ الرِّشْوَةِ /رقم الحدیث 3580)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی رشوت دینے اور رشوت لینے والے پر 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 تشریح:کسی مجرم کے لئے اللہ یا اس کے رسول کی طرف سے لعنت اس سے انتہائی ناراضی و بیزاری کا اعلان اور نہایت سنگین سزا ہے۔ اللہ کی طرف سے کسی پر لعنت کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خداوند رحمن و رحیم نے اس مجرم کو اپنی وسیع رحمت سے محروم کر دینے کا فیصلہ فرما دیا ہے۔ اور اللہ کے رسول یا فرشتوں کی طرف سے لعنت کا مطلب اس شخص سے بیزاری اور اس کے قابل لعنت ہونے کا اعلان اور اس کی رحمت سے محروم کر دیئے جانے کی بددعا ہوتی ہے۔ اس بنا پر حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت لینے والوں اور رشوت دینے والوں سے اپنی انتہائی ناراضی وبیزای کا اظہار فرمایا اور ان کے لئے بد دعا فرمائی کہ اللہ ان کو اپنی رحمت سے محروم کردے۔ اللہ کی پناہ! رحمت اللعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم جس بد نصیب سے بیزاری کا اعلان فرمایا اور اس کے لیے رحمت خداوندی سے محروم کیے جانے کی بد دعا فرمائیں اس بدبخت کا کہاں ٹھکانا!

 

 

 

 

🌹 آئیں ایک سنت کو سیکھ کراس پر عمل کریں 🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا 

(ترمذی شریف حدیث نمبر 2678)

✨✨✨✨✨✨✨✨✨

 سنت نمبر 22 

 سیدھے ہاتھ سے کھانا پینا 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کچھ کھائے تو داہنے ہاتھ سے کھائے اور جب کچھ پئیے تو داہنے ہاتھ سے پئیے 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی نہ بائیں ہاتھ سے کھائے اور نہ اس سے پئیے ۔ کیوں کہ (یہ شیطانی طریقہ ہے) وہ بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے ۔

🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ. 

 عَنِ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ، وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ، وَيَشْرَبُ بِهَا

(صحيح مسلم | كِتَابٌ : الْأَشْرِبَةُ  | بَابٌ : آدَابُ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ، وَأَحْكَامُهُمَا/رقم الحدیث 2020)

 

No comments:

Post a Comment