Showing posts with label Ishq Nabwi. Show all posts
Showing posts with label Ishq Nabwi. Show all posts

Saturday, December 19, 2020

Urdu Islamic Article: Ishq Nabwi, Parathay, Corona, Durood Shareef ki barkat, Khutba, Musalman, Shaitan, Naseehat, Zikrar Allah

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 

 مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے،
جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے۔
واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے ۔

فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے (کے دوران) مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔

جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔

سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:
"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔"
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے۔

•
┈┈• ❀ 🍃🌸🍃 ❀ •┈┈•🌼🌿🌼🌸🌼🌿
اَلّٰلھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی ابْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَلّٰلھُمَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ  اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
 •
┈┈• ❀ 🍃🌸🍃 ❀ •┈┈•🌼🌿🌼🌸🌼🌿

🍀🍀جَـــــــــــــــــــزَاک الـــلّٰـــهُ خَـــــــــيْراً کَـــــــــثِیْراً و احسن الجزاء فِــــــــي الْـــــــــدُّنْــــــــــيَا وَالاَخِــــــــــرَةْ🍀🍀
Copied

 

 

 

2پراٹھے

ایک فکرانگیز اور متاثرکن واقعہ،
ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پرااٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔
میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔
عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟
فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اے ابو نصر آج تجھے تیرے بڑے بڑے صدقوں نہیں بلکہ
"آج تجھے تیری 2 روٹیوں نےبچا لیا

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔

خدارا اپنی حفاظت کریں۔

1- ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں
2- برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں
3- جوشاندہ پئیں
4- بھاپ لیں
5- انڈے کھائیں
6- انجیر کھائیں
7- بادام کھائیں
8- لونگ، الاچی، دارچینی کا قہوہ پئیں
9- مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر
10- دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کر
11- کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں
12- پانی کا استعمال زیادہ کریں

ﷲ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو
 
اس پیغام کو نظر انداز نہ کریں.
جزاکم ﷲ خیراً کثیرا

 

 

 

 

 

 

 

رسول اللّهﷺ کا ہر امتی زندگی میں ایک بار یہ تحریر ضرور ضرور پڑھے)

اگر آپ اپنے دماغ کو روشن کرنا چاہتے ہیں اور  روحانیت کی دنیا میں پرواز کرنا چاہتے ہیں تو ایک ایک لفظ غور سے پڑھیں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نہ ہی کسی مدرسے میں پڑھے نہ درس نظامی کی تو آپ کو علامہ کیوں کہا جاتا ہے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی میں نے کوئی عالم فاضل کا کورس نہیں کیا لیکن بات اصل میں کچھ اور ہے فرمانے لگے کہ دنیا کی مجھے یہ عزت دینا اور میرے کلام میں یہ اثر اور میرے قلب و روح کی یہ تازگی یہ سب رسول اللّه
ﷺ  سے والہانہ عشق و محبت کی بدولت ہے اور یہ سب تب ممکن ہوئی جب میں نے رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھنا شروع کیا فرمایا کہ درود پاک کا یہ ورد بڑھتا گیا اور میں اس تعداد کو محفوظ کرتا گیا لاکھ دو لاکھ اور ایسے ہی جوں جوں آگے بڑھتا گیا اللہ میرے دماغ کو میرے دل کو میری روح کو روشن کرتا رہا۔ اور جب میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات گرامی پہ  ایک کروڑ درود پاک مکمل کیا تو اللہ رب العزت نے میرا انگ انگ روشن کر دیا لوگوں کے دلوں میں میری عزت بیٹھ گئی میرے کلام میں ایسا اثر ہوا کہ اللہ اللہ جب کلام لکھنے بیٹھتا الفاظ بارش کی طرح اترتے اس کے بعد علامہ صاحب درود پاک تواتر سے پڑھتے بس یہی راز تھا جو علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ہم پہ آشکار کر دیا میرے ایک عزیز ہیں جو ایئر فورس میں ملازمت کررے تھے وہاں ان کی ملاقات ایک عاشق رسول اللّهﷺ سے ہوئی جن سے یہ راز ان کو معلوم ہوا اور انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میری زندگی پہلے کی بہت عجیب تھی لیکن جب میں نے مصمم ارادہ کیا اور محبت سے درود پاک کا ورد شروع کیا اور جب زندگی میں پہلی دفعہ ایک لاکھ درود پاک گن کے پورا کیا تو ایک خواب دیکھتا ہوں ک میں کہیں محو سفر ہوں اور میرے سامنے ایک نہایت غلیظ نالہ ہے اور اس نالے کے اس پار بہت سہانی سرسبز اور جنت جیسی دنیا ہے خیر میں نے جیسے تیسے کر کے بہت مشکل سے وہ نالہ پار کیا اور اس پار پہنچ گیا جب میں نے پیچھے دیکھا تو وہی نالہ جس میں غلاظت تھی وہ نہایت صاف شفاف نہر میں تبدیل ہو چکا ہے حتی کہ اس بہتے پانی کے نیچے رنگ برنگ کے پتھر تک نظر آ رہے ہیں اور  جسے دیکھ کے روح خوش ہو جائے اور میرے کپڑے نہایت صاف ستھرے اجلے اور سفید ہو چکے ہیں اور میرا ظاہری حسن بھی بڑھ چکا ہے الحمدللہ مجھے خواب ہی میں بتایا گیا کہ یہ نالہ میں بہتا پانی تمہارے اعمال ہیں جو پہلے غلیظ تھے اور اب درود پاک کی بدولت ان کی صفائی ہو چکی اب یہ سارے نیکیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یقین جانیں وہ دن اور آج کا دن وہ بندہ کب سے سروس سے ریٹائر ہو چکا ہے آج بھی ان کا درود پاک کا ورد جاری و ساری ہے اور بہت سے جوان لڑکوں کو درود پاک کے ورد کی لذت سے روشناس کرا چکے ہیں اور  آج اس بندہ کی روحانی کیفیت ماشااللہ کمال کی ہے اور اس بندہ کے دل و دماغ اور روح اس پاک ورد یعنی  رسول اللّهﷺ پہ درود پاک کی بدولت روشن ہیں تو دوستوں اپنی زندگی میں یہ کام ضرور کریں آج ہی سے پختہ ارادہ کریں کہ ان شااللہ ان شااللہ میں نے رسول اللّهﷺ کی ذات مقدس پہ گن کے ایک کروڑ مرتبہ محبت و شوق سے درود پاک ضرور پڑھنا ہے یقین مانیں جیسے جیسے آپ  رسول اللّهﷺ پہ درود پاک پڑھتے جائیں گے آپ پہ بہت سارے انکشافات ہوتے جائیں گے اور دل و دماغ و روح کے ایسے دریچے کھلیں گے کہ آپ ششدر رہ جائیں گے روزانہ کی بنیاد پہ درود پاک کا ورد اپنا معمول بنا لیں پھر دیکھیں  سبحان اللہ اللہ ہم سب کو آقا و مولا مدنی تاجدار رسول اللّه محمد ﷺ پہ درود پاک پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین اس پہ خود بھی عمل کریں اور اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کریں خصوصا نوجوان بہن بھائیوں دوستوں کو ضرور ضرور اس ورد پاک کا بتائیں جو جو عمل کرے گا آپ کے ساتھ اس نورانی لڑی میں پرویا جائے گا اور آپ کا بھی بھلا ہو گا بہت بھلا ہو گا

(پلیز آگے سنڈ کرتے جائیں جتنے لوگ درودپاک پڑھیں گے آپ کو بھی ثواب ملتا رھے گا)♥️

 

 

 

 

 

 

 

 

 


خطيب مسجد الحرام مكة المكرمة کے خطبہ جمعہ سے إقتباس:
Please Read Translation

قیمتیں بہت بلند ہیں

اور عورتیں بـے پردہ ہیں

اور مسجدیں خالی ہیں

اور اللہ تعالی کے احکامات کی بغاوت ہـو رہی ہـے

چوروں کے پاس دلائل ہیں

اور مجاہدں کو ہـتھکڑیا لگا کر پابند سلاسل کر دیا گیا ہـے

اور زنا کو حلال قرار دے دیا گیا

اور  نکاح کو مشکل بنا دیا گیا

اور عورتیں مردوں پر حکمرانی کرتی ہیں

اور مسلمانوں کی زمین دشمنوں کے قبضہ میں ہـے

اور فقراء اور مساکین کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہـے ہیں

اور قیامت کی بڑی بڑی تمام نشانیاں پوری ہـوچکی ہیں سوائے چند ایک کے

پس توبہ کو لازم پکڑو  توبہ کو لازم پکڑو

سوراخ والے بیگ سے ڈرو!
نیکیوں کو برباد کرنے سے بچو’’ زندگی کم اور کام زیادہ ‘‘اور جس بیگ میں نیکیاں رکھنی ہیں اس میں سوراخ ہیں

آپ وضو بہت اچھے طریقے سے کرتے ہیں؟ لیکن پانی بہت زیادہ ضائع کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ فقراء اور مساکین پر صدقہ وخیرات کرتے ہیں پھر ان کی تذلیل کرکے ان پر ہـنستے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ راتوں کو قیام کرتے ہیں دن کا روزہ رکھتے ہیں اور اپنے رب کی اطاعت کرتے ہیں لیکن قطع رحمی بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ روزہ بھی رکھتے ہیں اور بھوک اور پیاس پر صبر بھی کرتے ہیں لیکن پھر گالی گلوچ لعن طعن بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

خواتین اپنے کپڑوں کے اوپر عبایا پہننے کے باوجود خوشبو لگا کر بازار آتی ہیں تو کیا فائد ایسے پردے کا؟
(سوراخ والا بیگ )

آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور اس سے حسن سلوک بھی کرتے ہیں لیکن اسکے جانے کے بعد اسکی غیبت اور برائی بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

اپنی نیکیوں کو ضائع ہـونے سے بچائیں جنہیں بڑی مشکل سے جمع کرتے ہـو اور پھر انہیں کس طرح آسانی کے ساتھ ضائع کر دیتے ہـو خدارا اس سے باز آجاؤ۔۔۔۔
(سوراخ والا بیگ )
.
اے اللہ میں تجھ سے اپنے لیـے اور اپنے دوست واحباب کے لیـے ہـدایت اور مغفرت کا سوال کرتا ہـوں ۔

عربوں کے عجوبـے یعنی ان کے شوق نرالے ہیں

وہ حج کے سفر کو اس لیـے اختیار نہیں کرتے کیونکہ اس میں بہت بڑی تکلیف اور مشقت ہـے،،، لیکن سیرو سیاحت میں دلچسپی اور رغبت میں تمہیں ذرا بھی تکلیف اور مشقت نہیں ہـوتی؟ کتنی عجیب بات ہـے

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)
.
قربانی کا جانور آپ اس لیـے نہیں خریدتے کہ وہ بہت مہنگا ہـے لیکن معاشرتی سٹیٹس کو برقرار رکھنے لیـے قیمتی قیمتی آئی فون خریدتے ہـو

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)
..
(آپ فضول گفتگو میں وقت برباد کردیتے ہیں چاہـے وہ دن میں 100 مرتبہ ہی کیوں نہ کرنی پڑے )

اور آپ قرآن کریم کی دس آیات بھی تلاوت نہیں کرتے حجت کے طور پر کیا آپ کے پاس تلاوت قرآن کریم کرنے کی فرصت نہیں؟

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)

 

 

 

 

 

 

بارہ سال کا ایک بچہ ہاتھ میں تلوار پکڑے تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک طرف لپکا جارہا تھا۔ دھوپ بھی خاصی تیز تھی، بستی میں سناٹا طاری تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس بچے کو کسی کی پروا نہیں۔ لپکتے قدموں کا رخ بستی سے باہر کی طرف تھا، چہرہ غصے سے سرخ تھا,
آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا۔ بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔ ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے والے نے شفقت سے پوچھا:

" میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟"

بچے نے جواب دیا : " آپ کی تلاش میں۔"

اس بچے کا نام زبیر  رضی اللہ عنہ تھا۔ باپ کا نام عوام اور ماں کا نام صفیہ رضی اللہ عنھا تھی-
 یہ بچہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا پھوپی زاد بھائی تھا۔

قصہ یہ پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں افواہ پھیلی کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کفار نے پہاڑوں میں پکڑلیا ہے۔ مکہ میں دشمن تو بہت زیادہ تھے، اس لیے ایسا ہو بھی سکتا تھا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر بارہ سال تھی فوراً تلوار اٹھائی اور اکیلے ہی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم مل گئے۔ پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا:

" اگر واقعی مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے۔"

اس بارہ سالہ بچے نے جواب دیا:

" میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔"

پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ بات سن کر مسکرا پڑے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطافرمائی۔
 اللہ تعالٰی کو یہ ادا پسند آئی۔
 جبرئیل( علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوئے اور عرض کیا زبیر کو خوش خبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی ملے گا__

(حیاۃ صحابہ سے ماخوذ )
Copy post

 

 

 

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت
تین گرہیں لگا دیتا ہے
اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر
کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو
دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔
پھر اگر نماز (فرض یا نفل) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل
جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے۔
(صحیح البخاری:1142)

 

 

 

 

 

لاحول ولاقوة الا بالله کا مطلب

حضرت عبدالله بن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہيں كہ!! ""لاحول ولاقوة الا بالله""
كو ميں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم كے سامنے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ اس کا مطلب جانتے ہو کیا ہے؟؟؟
.
میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب جانتے ہیں ـ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا!
اس کا مطلب یہ ہے گناہ سے پھرنے کی طاقت نہیں مگر اللہ کی حفاظت سے اور
اللہ کی عبادت کرنے کی قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے اور فرمایا جو بندہ ہر وقت
استغفار کرتا رہتا ہے اللہ اس کی ہر مشکل آسان کر دیتا ہے اور ہر غم دور کر دیتا ہے،
اور ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے کہ جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا
.
لاحول ولا قوة الا بالله كے فوائد
.
■ ١ يہ كلمہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے، اور جنت کی چھت عرش الھی ہے،
اس کے پڑھنے سے اعمال صالحہ کے اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق
ہونے لگتی ہے، اس معنی میں یہ جنت کا خزانہ
.
■ ٢ نبى كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كہ!
""لاحول ولا قوة الا بالله "" ننانوے دنياوى واخروى بيماريوں كى دوا ہے، جن ميں سب سے
ادنى بيمارى غم ہے، چاهے دنيا كا ہو يا آخرت كا، یعنی اس سے دل سے غم دور ہوتا ہے،
دل میں سکون و اطمینان آجاتا ہے..
.
جب بهی دل میں پریشانی و غم محسوس کرو تب ایک جگہ بیٹھ کر سو دفعہ یا اس سے زیاده
دل ہی دل میں دهیان توجہ سے پڑهے،ان شاء الله دل میں سکون و اطمینان آجائے گا.
.
■ ٣ جب بنده اس كلمه كو پڑھتا ہے تو اللہ تعالی عرش پر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرا
بندہ فرماں بردار ہو گیا اور سرکشی چھوڑ دی، یہ نعمت کیا کم ہے کہ بندہ زمین پر یہ کلمہ
پڑھتا ہے اور حق تعالی عرش پر فرشتوں کے مجمع میں اس کا ذکر فرماتے ھیں ـ ـ ـ؟
سبحان اللہ!
ایڈمن نورسحر💥

 

 

 

 

 

صرکی ایک معلمہ کاواقعہ وہ معلمہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتی تھی کہ قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں
"وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی"(سورۃ طٰهٰ۔84)
ترجمہ
(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)
 وہ کہا کرتی تھیں کہ میں اس آیت سے بہت متاثر ہوں جب بھی میں اذان کی آواز سنتی ہوں اور اگر میں کسی بھی کام میں مصروف ہوں، میں اپنے آپ کو یہ آیت یاد دلاتی ہوں اور سب کچھ چھوڑ کر نماز ادا کرنے کھڑی ہو جاتی ہوں رات کو 2:00بجے جب تہجد کا الارم بجتا ہے اور میں گہری نیند میں مزید سونا چاہتی ہوں تو یہ آیت مجھے یاد آتی ہے اور مجھے جگاتی ہے.
اس خاتون کے شوہر کی عادت تھی کہ کام سے واپس گھر آتے وقت وہ اسے فون پر کھانے کے متعلق ہدایات دیتا تا کہ اس کے گھر پہنچنے پر گرما گرم کھانا تیار ملے اور وہ کھانا کھا کر سو جائے. ایک دن اس نے فون پر مہشی کھانے کی فرمائش کی (انگور کے پتوں میں چاول بھرے جاتے ہیں اور پھر ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھا جاتا ہے بہت وقت طلب ڈش ہے) اتنی دیر میں اذان کی آواز سنائی دی تو اس کے صرف تین رولز رہ گئے تھے (جن کے بھرنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگتے) لیکن اس نے حسب عادت سب کام چھوڑے اور نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی، اس خاتون کا شوہر اسے بار بار فون کرتا رہا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سجدے میں ہے اور کھانا ابھی تک تیار نہیں ہے اس نے دیکھا کہ صرف تین رولز بھرنے رہ گئے ہیں تو اسے شدید غصہ آیا اور اسی غصے کے عالم میں اس نے اپنی بیوی کو ڈانٹنا شروع کر دیا "تم اپنا کام ختم کر کے دیگچی چولہے پر رکھ کر بھی نماز ادا کر سکتی تھی، تین رولز بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے"،لیکن اس کی بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا جب وہ اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس کا انتقال ہو چکا ہے.
سبحان الله اگر اس نے ہماری طرح یہ سوچا ہوتا کہ چلو کوئی بات نہیں پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں پھر نماز پڑھ لیں گے تو اس کا انتقال کچن میں ہوتا. لیکن ایک شخص کا انتقال اسی حالت میں ہوتا ہے جس پر وہ ساری زندگی گزارتا ہے اور اسی حالت میں وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا. ہمارے آقا حضرت محمد
ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر شخص اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ فوت ہوا
آئیے آج ایک عہد کریں...
••#بہنوں_کےلئے : جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دے سب کام ایک طرف رکھیں اور نماز کے لئے اٹھ کھڑی ہوں (زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک جو کہ اقامہ ٹائم بھی ہے) ہمارے آقا
ﷺ سے کسی نے پوچھا کہ الله تعالٰی کے نزدیک سب سے محبوب عمل کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نماز کو اس کے اولین وقت میں ادا کرنا.
بھائیوں_کےلئے : جیسے ہی آپ اذان کی آواز سنیں فوراً وضو کریں اور مسجد چلے جائیں. اپنے آپ کو یہ آیت بار بار یاد دلاتے رہیں

"وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی" (سورۃ طٰهٰ84)
ترجمہ_(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)

 

 

 

 

 

 

 

 

Monday, December 14, 2020

Urdu Islamic Article: Jawed Gamdi, Ameer Admi, Ishq Nabwi, Science, Nazar e bad, Musalman ki hukoomat, Masjid e Nabwi, Late Night Jagna, Mother Maa,

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 

کسی آبادی میں ایک امیر آدمی نے نیا مکان بنایا اور وہاں آکر رہنے لگا یہ امیر آدمی کبھی کسی کی مدد نہیں کرتا تھا...

اسی محلے میں کچھ دکاندار ایسے تھے جو خود امیر نہیں تھے لیکن لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے🤫

ایک قصائی تھا جو اکثر غریبوں کو مفت اور بہت عمدہ گوشت دے دیا کرتا تھا۔

.ایک راشن والا تھا جو ہر مہینہ کچھ گھرانوں کو ان کے گھر تک مفت راشن پہنچا دیتا تھا۔

ایک دودھ والا تھا جو بچوں والے گھروں میں مفت دودھ پہنچاتا۔

لوگ مالدار شخص کو خوب برا کہتے کہ دیکھو اتنا مال ہونے کے باوجود کسی کی مدد نہیں کرتا ہے اور یہ دکاندار بے چارے خود سارا دن محنت کرتے ہیں لیکن غریبوں کا خیال بھی رکھتے ہیں۔

کچھ عرصہ اسی طرح گذر گیا اور سب نے مالدار آدمی سے ناطہ توڑ لیا اور جب اس مالدار کا انتقال ہوا تو محلہ سے کوئی بھی اس کے جنازے میں شریک نہ ہوا.

مالدار کی موت کے اگلے روز ایک ًغریب نے گوشت والے سے مفت گوشت مانگا تو اس نے دینے سے صاف انکار کردیا....

دودھ والے نے مفت دودھ سے صاف انکار کردیا.

راشن والے نے مفت راشن دینے سے صاف انکار کردیا..

پتہ ہے کیوں؟؟؟؟؟؟

ان سب کا ایک ہی جواب تھا، تمہیں یہاں سے کچھ بھی مفت نہیں مل سکتا کیونکہ وہ جو تمہارے پیسے ادا کیا کرتا تھا کل دنیا سے چلا گیا ہے


کبھی کسی کے بارے میں خود سے فیصلہ نہ کرو کیونکہ تم نہیں جانتے کس کا باطن کتنا پاکیزہ ہے







ہندوستان کی ریاست کتیانہ جونا گڑھ میں ایک سنگ تراش رہتا تھا جو حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم کا دیوانہ تھا💚❤


درودشریف سے اسے محبت تھی کام کے دوران بھی وہ درودشریف پڑھتا رہتا تھا درودشریف کی مشہور کتاب دلائل الخیرات اسے زبانی یاد تھی❤


اس کا ایک معمول تھا جب بھی کوئی پتھر تراشتا تو اس کا ایک باب پڑھتا. ایک دفعہ حج کے موسم میں قافلے مکہ مکرمہ کی طرف رواں دواں تھے تو اس کی قسمت کا ستارہ چمک اٹھا💞

ایک رات جب سویا تو دل کی آنکھیں کھل گئیں. کیا دیکھتا ہے کہ مدینہ منورہ میں حاضر ہے اور حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم بھی جلوہ فرما ہیں💚


سبز گنبد کے انوار سے فضا منور ہو رہی ہے اور مسجد نبوی صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم کے مینار بھی نور برسا رہے ہیں، مگر ایک مینار کا کنگرہ شکستہ تھا❤


 اتنے میں حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم کے لب مبارک کو جنبش ہوئی اور الفاظ یوں ترتیب پائے دیوانے وہ دیکھو، ہماری مسجد کے مینار کا ایک کنگرہ ٹوٹ گیا ہے، تم ہمارے مدینہ منورہ میں آؤ اور اس کنگرے کو ازسرنو بنا دو💞


جب اس سنگ تراش کی آنکھ کھلی تو کانوں میں حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم کے ادا کئے ہوئے کلمات گونج رہے تھے💚


مدینے کا بلاوہ آ چکا تھا. مگر سنگ تراش کی آنکھوں میں یہ سوچ کر آنسو آئے کہ میں تو بہت غریب ہوں، میرے پاس مدینہ منورہ جانے کے وسائل کہاں ہیں، لیکن عشق نے ہمت دی، 😥


آرزو نے دلاسہ دیا کہ تمہیں تو خود حضور نبی کریم صلی علیہ وآلہ  وسلم نے بلایا ہے، تم وسائل کی فکر کیوں کرتے ہو. چنانچہ دیوانے نے رخت سفر باندھا. اوزار کا تھیلا کندھے پر چڑھایا اور پور بندر کی بندرگاہ کی طرف چل پڑا


ادھر پور بندر کی بندرگاہ پر سفینہ مدینہ تیار کھڑا تھا مسافر پورے ہو چکے تھے مگر عجیب تماشا تھا کہ کپتان کی کوشش کے باوجود سفینہ چلنے کا نام نہ لیتا تھا💞


 اتنے میں جہاز میں سے کسی کی نظر دور سے جھومتے ہوئے آتے دیوانے پر پڑی لوگ سمجھے کہ شاید ایک مسافر رہ گیا تھا جہاز گہرے پانی میں کھڑا تھا. دیوانے کو لینے کے لیے ایک کشتی آئی💞


دیوانہ اس کشتی کے ذریعے جہاز میں سوار ہو گیا. اس کے سوار ہوتے ہی جہاز جھومتا ہوا مدینے چل پڑا. نہ اس سے کسی نے ٹکٹ مانگا. نہ اس کے پاس تھا. بالآخر دیوانہ مدینہ منورہ پہنچ گیا💚❤


اب دیوانہ جھومتا ہوا روضہ رسول صلی ﷲ علیہ وآلہ  وسلم کی طرف چلا جا رہا تھا کچھ خدام حرم کی نظر دیوانے پر پڑی تو پکار اٹھے ارے یہ تو وہی ہے جس کا حلیہ ہمیں دکھایا گیا ہے💞


دیوانے نے اشکبار آنکھوں سے سنہری جالیوں پر حاضری دی. پھر باہر آ کر خواب میں جو جگہ دکھائی گئی تھی، اس کو دیکھا تو واقعی ایک کنگرہ شکستہ تھا❤


 اپنی کمر میں رسی بندھوا کر خدام کی مدد سے دیوانہ گھٹنوں کے بل اوپر چڑھا اگر حضور نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کا حکم نہ ہوتا تو عاشق گنبد و مینار پر جانے کی جرأت تو کجا ایسا کرنے کے لیے سوچ بھی نہیں سکتا💞


اور حسب الارشاد کنگرہ ازسرنو بنا دیا واہ رے دیوانے دیوانے کی خوش بختی جب دیوانے کی بے تاب روح نے سبز گنبد کا قرب پایا تو بے قراری اور اضطراب بے حد بڑھ گیا. دیوانہ کام مکمل کر چکا تھا اور اب اسے نیچے آنا تھا، 


لیکن اس کی روح مضطر نے لوٹنے سے انکار کر دیا. جب دیوانے کا وجود نیچے آیا تو دیکھنے والوں کے کلیجے پھٹ گئے کیوں کہ دیوانے کی روح تو کبھی کی سبز گنبد کی رعنائیوں پر نثار ہو چکی تھی❤💚


دیوانہ دم توڑ چکا تھا💞


💞 فِداک اٙبِی و اُمّی و رُوحِی و ماٰلی و نٙفسی و وٙلدیّ  یٙارٙسُول اللّہ ﺻَﻠّﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧُ علیہ ﻭَّﺁﻟِﮧ ﻭَﺳَﻠَّﻢَ 💞







❓لوگ جاوید احمد غامدی کی طرف کیوں مائل ہیں؟؟؟


❗میں بتاتا ہوں


📚. آپ اگر کسی عالم دین سے سوال کریں کہ مجھ سے سخت سردی میں فجر کی نماز کے لئے نہیں اٹھا جاتا ؟

❗. تو عالم دین آپ کو جواب دے گا


🕔 . الارم لگا کر سوئیں یا رات کو جلدی سوئیں

👩🏻‍🦰 . بیگم سے کہیں وہ آپ کو جگا دے گی 

🥛 ۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مار دے یا کوئی اور طریقہ استعمال کریں ۔


👌🏻۔ اگر کسی عالم سے پوچھا جائے کہ گرمیوں میں روزہ رکھنا مشکل ہے خصوصاً جب اور جہاں دن زیادہ بڑے ہوں تو ایسے میں کیا کریں  -

❗۔ عالم جواب دے گا کہ دینی احکام کے ساتھ خود کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا ، 

🌒 ⭐   جو کام رات میں ہو سکتے ہیں  آپ اپنے وہ معمولات رات میں کرلیں اور دن کو خصوصاً زیادہ دھوپ میں کام نہ کریں یا قابل برداشت حد تک کریں ۔

👌🏻۔ واضح رہے کہ بعض ممالک میں گرمیوں کے رمضان المبارک کے دوران دفاتر ، سکول کالج اور یونیورسٹیاں رات کو کھلتی ہیں  وغیرہ ۔


❓۔ یہی سوال جاوید احمد غامدی صاحب سے پوچھا 


🎤 ۔ تو انہوں نے اطمینان سے فرما دیا کہ :

🌨️ ۔ رمضان کوشفٹ کر لیں اور سال کے کسی ٹھنڈے مہینے کو رمضان قرار دے کر روزے رکھیں ۔


✍🏻 ۔ یہ صرف ایک مثال دی گئی ہے ۔ 

➕۔ موصوف کے بہت سارے مسائل کے حل اسی طرح کے ہی ہیں ۔ 


⭕ ۔ جیسے سود لینا حرام ہے اور دینا حرام نہیں ہے ۔ 

⭕ ۔ چہرے کا پردہ اس وقت کا معاشرتی کلچر تھا ۔ 

⭕ ۔ لڑکا لڑکی مصافحہ کر سکتے ہیں ۔

وغیرہ وغیرہ


❓اب آپ ہی بتائیں سست اور کاہل مسلمان علماء حق کو چھوڑ کر جاوید احمد غامدی کی طرف نہ بھاگیں تو کیا کریں -


📚 ۔ تو حضور عرض یہ ہے کہ دین اسلام میں 

"میرے مطابق"

یا 

"میرے خیال"


جیسے جملوں کی بالکل گنجائش نہیں ہے


📚 ۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے


✅ ۔ نہ ہی اس میں کمی جائز ہے 

نہ ہی زیادتی جائز ہے


🤫 ۔ نہ ہی عقل کے گھوڑے دوڑانے کی اجازت ہے-


🕵️‍♀️۔ جاوید احمد غامدی اس امت میں ایک روشن خیال فسادی کا کردار نبھا رہا ہے

اور اسے ایسے اداروں کی سپورٹ حاصل ہے جس سے اسلام کو یورپین سوچ اور اس ماحول کے مطابق ڈھالا جائے


👌🏻۔ اس لئے ضروت اس امر کی ہے کہ اسے بھرپور طریقے سے ایکسپوز کیا جائے ،

📢 ۔ اور اس کی حقیقت کو لوگوں کے سامنے واضح کیا جائے تاکہ لاعلمی میں وہ اپنا ایمان نہ گنوا بیٹھیں -


صدقہ جاریہ سمجھ کر شیئر کیجئے- 

🚫 ۔ خود بھی اس فتنے سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں ۔


🤲🏻 . جزاکم اللہ خیرا و أحسن الجزاء







سائنس پڑهنا حرام نہیں،  ذہن کو کافر بنا لینا حرام ہے.

 انگریزی پڑهنا حرام نہیں، انگریز بننا حرام ہے.

 ہم انگریزی پڑهنے کو منع نہیں کرتے انگریز بننے کو منع کرتے ہیں.

 انگریزی خوب پڑهو لیکن اپنے کلچر کو فنا مت کرو.

  گاندھی کو دیکھ لو کہ لندن کی سڑکوں پر لنگوٹی باندھ کر چلتا تها. کہتا تها کہ انگریزوں کاکلچر اپناوں گا تو میرا کلچر تباہ ہوجائےگا. افسوس ایک کافر کو اتنی عقل آگئی،  ایک باطل مذہب کے پیرو کو ایسی سمجھ آجائے اور ہمیں اپنے  سچے  مذہب  پر ایمان  نہ  آئے. گاندھی تو جہنم میں جلے گا. ہم اگر مذہب پر چلیں گے تو جنت ملے گی لیکن اس کے باوجود ہم انگریزوں  کے کلچر میں فنا ہو رہے ہیں.

   ہمیں تو اپنی اسلامی تہذیب کو اپنانا چاہیے تها  لیکن ہم نے انگریزوں کی تہذیب کو اپنی تہذیب پر فوقیت دے دی. ہم بس اسی ذہنیت کو حرام بتاتے ہیں ورنہ اگر صرف انگریزی پڑهتے تو کیا بات تهی.

انگریزی دور کے گورنر اور علی گڑھ کے سابق چانسلر نواب چهتاری کا پوتا تها. اللہ نے جب توفیق دی تو داڑھی بهی رکھ لی، لباس بهی بالکل شرعی، کوئی دیکھ کر نہیں کہہ سکتا تها کہ یہ انگریزی پڑها ہوا ہے. ایک بار میرے شیخ حضرت پهولپوری رحمہ اللہ کے ساتھ علی گڑھ سے سفر کر رہا تها ڈی لیکس ٹرین میں. دوسرے ڈبوں میں جا کر حضرت کے ملفوظات کا انگریزی میں ترجمہ کرکے لوگوں کو سنایا. پهر آکر حضرت سے عرض کیا کہ آپ کے ملفوظات کو میں نے لوگوں کو انگریزی میں سنایا.

 حضرت بہت خوش ہوئے. انگریزی پڑھ رہے ہو تو بجائے اس نیت کے کہ انگریز بنوں گا نیت بدل لو کہ انگریز کو اسلام پیش کروں گا. اس نیت سے انگریزی پڑهنا عبادت ہے. انگریزی پڑهنا ثواب لکها جا رہا ہے.

حضرت خواجہ عزیز الحسن صاحب مجذوب ڈپٹی کلکٹر تهے. حضرت تهانوی رحمہ اللہ سے بیعت ہو کر ولی اللہ ہوئے. حالانکہ ڈپٹی کلکٹر تهے لیکن وضع قطع اسلامی تهی. خوبصورت بهی بہت تهے. غوری خاندان کے تهے گورے  چٹے، گول ٹوپی، شیروانی اور پائجامہ پہنتے تهے. ایک بار سب افسران کو  کمشنر نے بلایا تها. انگریز تها اور سب کوٹ پتلون میں تهے. خواجہ صاحب پہنچتے ہیں تو کمشنر کهڑا ہوتا ہے،  ہاتھ ملاتا ہے، ان کےلئے کرسی منگواتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کا لباس تو شاہانہ لباس ہے،  عالم گیر اور شاہ جہاں کا لباس ہے. دوسروں کے متعلق کہا کہ یہ سب تو میرے نقال ہیں.

جو قوم اپنی تہذیب اور کلچر کو فنا کرتی ہے وہ دوسری قوموں کی نظر میں ذلیل ہوجاتی ہے کہ اس نے اپنی تہذیب کو حقیر سمجها.  جب اسنے اپنی تہذیب کو حقیر سمجها دوسری قوم اسکو حقیر سمجهنے لگتی ہے. اور جو قوم اپنی تہذیب کو برقرار رکهتی ہے دوسری قوم کی نظر میں اسکی عزت ہوتی ہے.

آج اگر دین پر عمل کرنے کی ہمت نہیں ہورہی رفتہ رفتہ شروع کرو. یہ مطلب نہیں کہ آج ہی انگریزی لباس چهوڑ دو،  داڑھی رکھ لو. لیکن ان باتوں کو دل سے برا جانو اور رفتہ رفتہ چهوڑنے کی کوشش کرو کسی اللہ والے سے تعلق کرلو پهر جس طرح وہ کہے اس پر عمل کرتے رہو،  انشاءاللہ ایک دن ہمت پیدا ہوجائے گی.

اقتباس: خزائن معرفت و محبت

حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحبؒ






🍁 خبردار نظر بد حق ہے 🍁

لوگوں کو یہ جاننا ضروری نہیں کہ میں اپنی ازدواجی زندگی میں کتنا خوش ہوں..... یہ بھی ضروری نہیں کہ کھانوں پینوں کی تصویریں سوشل میڈیا گروپس وغیرہ میں شئیر کردیں...


 یہ بھی ضروری نہیں کہ اپنے بچوں کی تصویریں لوگوں کیساتھ شئیر کرتے پھریں.. کتنے محروم ہونگے...کتنی شیطانی نظریں پڑتی ہونگی...جو اللہ کے ذکر سے عاری ہوتی ہیں...

پھر ساتھ لکھتے ہیں(اللہ نظر بد سے بچاے) یہ دعا کا مقام ہے 


 جو کہ آپ نے خود پیاروں کی تصویریں زہریلی نظروں کے بیچ پھینک دیں...؟؟ جان بوجھ کر انگاروں کی نظر کر رہے ہیں پھر اللہ اللہ کر رہے ہیں۔۔


 یہ بھی ہرگز ضروری نہیں کہ آپ آپنی تصاویر کسی کیساتھ شئیر کردیں❌ یا سوشل میڈیا پے ڈالدیں... کیا آپکو معلوم ہے کہ آپکی ہم عمر کتنے لوگ اس نعمت کیلئے ترس رہے ہیں، اندازہ ہے آپکو ؟ نہیں نا..آپ ایسی نعمت دوسروں کو دکھا رہے ہیں جس سے بہت سارے محروم ہیں..اللہ کا خوف کریں...خود کو وحشی نظروں سے بچائیں.


 لوگوں کا یہ جاننا بھی ضروری نہیں کہ آپ کہاں گئے  کہاں سے آرھے، کیا کھا رہے ہیں، کیا بنا رہے ہیں..


❎ زندگیاں سوشل میڈیا کیوجہ سے اوپن ہوگئی ہیں... پیالیوں میں بچی ہوئی چائے تک ہم سوشل میڈیا کی نظر کر دیتے ہیں...


 ھر شوھر کو فرمان بر دار بیوی نصیب نہیں.. احتیاط کرو..


 ہر بیوی کیلئے فرشتہ صفت شوھر ملنا ممکن نہیں.. احتیاط..


 ہر ماں کے بیٹے ذہین قابل کیوٹ نہیں ہوتے...احتیاط 


 ہر ایک کو آپکی طرح ہر چیزیں میسر نہیں..احتیاط


ہر بیوی اور شوھر  آپکی طرح خوش نہیں..   احتیاط


 ہر ایک کے پاس گھومنے پھرنے کی استطاعت نہیں..احتیاط 


 ہر ایک کے پاس اچھے رسٹورنٹ میں کھانے کی سکت نہیں..احتیاط 


 ہر ایک آپ کیطرح شاپنگ کرنے سے قاصر ہے..احتیاط


 ہر ایک کو آپکی طرح گھر باغات گاڑی نصیب نہیں..احتیاط


بہنو/بھائیو...


ہم اللہ تعالی پہ توکل کا ہرگز انکار نہیں کرتے.....

لیکن...


اپنے گھروں کے اسرار کی حفاظت از حد ضروری ہے


جب اللہ تعالی نے ان پر پردہ کر رکھا ھے تو باپردہ ہی رہنے دیں...



نظر بد انسان کو موت تک اور اونٹ کو ہانڈی تک پہنچا دیتی ہے۔       (صحیح الجامع حدیث نمبر 4144)



❤ اللہ تعالی میری اور آپکی حفاظت فرما.







"" مسلمانوں کی 800  سالہ کامیاب حکومت کا یہ بھی ایک راز تھا ""


قطب الدین ایبک شکار کھیل رہے تھے، تیر چلایا اور جب شکار کے نزدیک گئے، دیکھا تو ایک نوجوان ان تیر سے گھائل گر پڑا تڑپ رہا ہے...کچھ ہی پل میں اس گھائل نوجوان کی موت ہوجاتی ہے پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ پاس کے ہی ایک گاؤں میں رہنے والی بزرگ کا اکلوتا سہارا تھا.

اور جنگل سے لکڑیاں چن کر بیچتا اور جو ملتااسی سے اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ بھرتا تھا

قطب الدین ایبک اس کی ماں کے پاس گیا، بتایا کہ اس کی تیر سے غلطی سے اس کے

بیٹے کی موت ہوگئی ماں روتے روتے بے ہوش ہوگئی.

پھر قطب الدین نے خود کو قاضی کے حوالے کیا اور اپنا جرم بتاتے ہوئے اپنے خلاف مقدمہ چلانے کی آزادی دی قاضی نے مقدمہ شروع کیا بوڑھی ماں کو عدالت میں بلایا اور کہا کہ تم جو سزا کہو گی

وہی سزا اس مجرم کو دی جائے گی.

بوڑھی عورت نے کہا کہ ایسا بادشاہ پھر کہاں ملے گا جو اپنی ہی سلطنت میں اپنے ہی خلاف مقدمہ چلائےاس غلطی کے لئے جو اس نے جان بوجھ کر نہیں کی.... آج سے قطب الدین ہی میرا بیٹا ہے اور میں اسے معاف کرتی ہوں.

قاضی نے قطب الدین کو بری کیا اور کہا اگر تم نے عدالت میں ذرا بھی اپنی بادشاہت دکھائی ہوتی تو میں اس بڑھیا کے حوالے نہ کرکے خود ہی سخت سزا دیتا.

اس پر قطب الدین نے اپنی کمر سے خنجر نکال کر قاضی کو دکھاتے ہوئے کہا اگر تم نے

مجھ سے مجرم کی طرح رویہ نہ اپنایا ہوتا تو اور میری بادشاہت کا خیال کیا ہوتا تومیں تمہیں اسی خنجر سے موت کے گھاٹ اتار دیتا یہ ہے اصل حکمرانی بادشاہت و انصاف.اور یہی ہے اسلام کی تعلیمات....







❣️"مسجد نبوی ص کی تعمیر"❣️ 


لوگ تاج محل کو محبت کی علامت قرار دیتے ھیں مگر یقین کریں کہ عثمانی دور میں مسجد نبوی ﷺ کی تعمیر تعمیرات کی دنیا میں محبت اور عقیدت کی معراج ھے

ذرا پڑھیے اور اپنے دلوں کو عشق نبی ﷺ سے منور کریں۔


ترکوں نے جب مسجد نبوی کی تعمیر کاارادہ کیا تو انہوں نے اپنی وسیع عریض ریاست میں اعلان کیا کہ انھیں عمارت 

سازی سے متعلق فنون کے ماہرین درکار ھیں، اعلان کرنے کی دیر تھی کہ ھر علم کے مانے ھوۓ لوگوں نے اپنی خدمات پیش کیں، 


سلطان کے حکم سے استنبول کے باہر ایک شہر بسایا گیا جس میں اطراف عالم سے آنے والے ان ماہرین کو الگ الگ محلوں میں بسایا گیا اس کے بعد عقیدت اور حیرت کا ایسا باب شروع ھوا جس کی نظیر مشکل ھے.

 خلیفۂ وقت جو دنیا کا سب سے بڑا فرمانروا تھا شہر میں آیا اور ھر شعبے کے ماہر کو تاکید کی کہ اپنے ذھین ترین بچے کو اپنا فن اس طرح سکھاۓ کہ اسے یکتا و بیمثال کر دے اس اثنا میں ترک حکومت اس بچے کو حافظ قرآن اور شہسوار بناۓ گی 


دنیا کی تاریخ کا یہ عجیب و غریب منصوبہ کئی سال جاری رھا 25 سال بعد نوجوانوں کی ایسی جماعت تیار ہوئی جو نہ صرف اپنے شعبے میں یکتاۓ روزگار تھے بلکہ ہر شخص حافظ قرآن اور باعمل مسلمان بھی تھا یہ لگ بھگ 500 لوگ تھے اسی دوران ترکوں نے پتھروں کی نئی کانیں دریافت کیں، جنگلوں سے لکڑیاں کٹوایٔیں، تختے حاصل کئے گئے اور شیشے کا سامان بہم پہنچایا گیا،


یہ سارا سامان نبی کریم ﷺ کے شہر پہنچایا گیا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لیۓ مدینہ سے دور ایک بستی بسائی گیٔ تا کہ شور سے مدینہ کا ماحول خراب نہ ھو، 


نبی ﷺ کے ادب کی وجہ سے اگر کسی پتھر میں ترمیم کی ضرورت پڑتی تو اسے واپس اسی بستی بھیجا جاتا ماھرین کو حکم تھا کہ ھر شخص کام کے دوران با وضو رھے اور درود شریف اور تلاوت قرآن میں مشغول رھے ھجرہ مبارک کی جالیوں کو کپڑے سے لپیٹ دیا گیا کہ گرد غبار اندر روضہ پاک میں نہ جاۓ ستون لگاۓ گئے کہ ریاض الجنت اور روضہ پاک پر مٹی نہ گرے یہ کام پندرہ سال تک چلتا رھا اور تاریخ عالم گواہ ھے ایسی محبت ایسی عقیدت سے کوئی تعمیر نہ کبھی پہلے ہوئی اور نہ کبھی بعد میں ھو گی ۔ سبحان اللہ سبحان اللہ سبحان اللہ ❤️❤️❤️❤️❤️





لیٹ نائٹ جاگنا


لیٹ نائٹ بلاوجہ جاگنا نقصان دہ ہے 

اس لیے نہیں کہ اس وقت شیطان کا غلبہ ہوتا یا افیر اسی وقت بنتے تنہائی میں غلط باتیں ہوتی رہتیں

بلکہ

لیٹ نائٹ جاگنے کی وجہ سے ھمارا نارمل بائیولوجیکل کلاک ڈسٹرب ہوجاتا ہے


کیسے؟


جواب: 

ھمیں نیند لانے کا موجب ایک ھارمون ہے جسے "میلاٹونن ھارمون" کہا جاتا ہے ھمارے جسم کی default ڈیفالٹ سیٹنگز میں یہ ہارمون جیسے ہی شام کا دھندلکا شروع ہوتا اور ھلکی ھلکی تاریکی چھاتی ہے تو یہ ھارمون ریلیز ہونا شروع ہو جاتا نتیتجا اگلے گھنٹے دو گھنٹوں میں ھمیں شدت سے نیند محسوس ہوتی ہے


لیکن ھم کرتے کیا ہیں ؟؟


ھم اپنی نیند کی خواہش کو دباتے رہتے ہیں چاہے وہ ڈرامے کی صورت میں ہو، پڑھائی کی صورت میں، فیسبک ہو یا چیٹ ، نتیتجا ھم مسلسل پریکٹس کے بعد میلاٹونن کے جلدی ریلیز کو روک دیتے ہیں کرتے کرتے بالآخر یا تو کلیا ھماری نیند غائب ہو جاتی ہے یا پھر دیر سے نیند آتی ہے

اب نیند نہ آنے کی وجہ سے کیا ہوتا سبھی اس سے بخوبی واقف ہیں 


سٹریس ھارمون ریلیز ہوتے


سٹریس ھارمون کی الگ کارستانیاں ہیں جو ھمارا بیڑہ غرق کرتے ، مختصرا ، بالوں کا پتلا ہونا، چہرے پر دانے، جسم پر بال انا، رنگ گہرا پڑجانا، دل کا دھڑکنا،کمزوری اور بہت سی خواتین کی بیماریاں جن کو بیان کرنا مناسب نہیں


یہ تو ہوگئی لیٹ سونے کی ںات

اب

اگر کوئی یہ کہے کہ جی میں لیٹ تو سوتا ہوں لیکن 8 گھنٹے کی پوری نیند لیتا تو مجھے اثر نہیں پڑتا


نہیں جناب!!


فرق پڑتا ہے اور بہت زیادہ پڑتا ہے،نیند وہی ہے جو رات کو کی جائے ، میلاٹونن ھارمون رات کے وقت ریلیز ہوتا اور صبح کے وقت اسکا اثر کم ہونا شروع ہوجاتا


اگر آپ ساری رات جاگ کر صبح کے وقت سوئےتو یہ میلاٹونن کی وجہ سے نہیں بلکہ تھکان کی وجہ سے غنودگی ہوگی اور آپ ڈیپ سیلیپ میں نہیں جاسکوگے


جسے آپ سوتے جاگتے والی کیفیت کہتے آپ اس کیفیت میں سارا دن رہوگے

اس لیے کوشش کریں جلدی کھانا کھائیں اور تمام کام نمٹا کر جلدی بیڈ پہ جائیں اور فجر کے وقت جلدی اٹھیں 


*اسلام نے ھمیں 

جو طریقہ کار سکھایا ہے

وہ نہ صرف ھماری صحت کے لیے بہترین ہے بلکہ ھماری اخلاقی تربیت اور گناہوں سے بچنے مین بھی بے حد معاون ثابت ہوتا ہے* ...





۔                        👈 ماں 👉


  ایک لڑکا باپ کے انتقال کے بعد اپنی ماں کو اولڈ ہاوس چھوڑ آیا اور مسلسل اس کی خبرگیری کرتا تها-

ایک روز اولڈ ہاوس سے فون آیا کہ تمہاری والدہ کا آخری وقت ہے فورا پہنچو-

ماں کے پاس جاکر بیٹے نے پوچها: اماں آپ کو کچھ چاہیئے جو میں لے آؤں ?


ماں نے کہا: 

بیٹا یہاں اولڈ ہاوس میں کولر خرید کے رکھ دینا چونکہ بہت گرمی ہے اور یہاں رہنے والے لوگ بہت تکلیف و پریشانی میں رہتے ہیں-  ٹوٹے ہوئے شیشوں کو بدلوادینا, تاکہ سردی میں یہ لوگ آرام سے رہیں, صحن میں درخت لگادینا تاکہ اس کے سایہ میں آرام کرسکیں, فریج میں اچھی غذا رکهدینا, کتنی ہی راتیں میں بغیر کھانے کے سوئی ہوں-


بیٹے نے حیرت سے کہا:  اماں! آپ دنیا سے جارہی ہیں اور مجھ سے یہ درخواست کررہی ہیں اور پہلے مجھ سے شکایت نہیں کی?


ماں نے کہا: ہاں میرے بیٹے! مجهے گرمی, سردی, بھوک پیاس کی عادت ہے لیکن مجھے ڈر ہے جب تیرے بچے ضعیفی میں تجھے یہاں لے کر آئیں تو تجھے تکلیف ہوگی کیونکہ: 


*میں نے تجھے بہت ناز و نعم سے پالا تها

__________


. ✒📚 آسانیاں گروپس ✒📚 . _________