Saturday, December 19, 2020

Urdu Islamic Article: Ishq Nabwi, Parathay, Corona, Durood Shareef ki barkat, Khutba, Musalman, Shaitan, Naseehat, Zikrar Allah

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 

 مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے،
جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے۔
واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے ۔

فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے (کے دوران) مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔

جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔

سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟

بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:
"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔"
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے۔

┈┈ 🍃🌸🍃 ┈┈•🌼🌿🌼🌸🌼🌿
اَلّٰلھُمَّ صَلِّی عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی ابْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ

اَلّٰلھُمَّ بَارِک عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاھِیْمَ وَ عَلٰی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ  اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
 •
┈┈ 🍃🌸🍃 ┈┈•🌼🌿🌼🌸🌼🌿

🍀🍀جَـــــــــــــــــــزَاک الـــلّٰـــهُ خَـــــــــيْراً کَـــــــــثِیْراً و احسن الجزاء فِــــــــي الْـــــــــدُّنْــــــــــيَا وَالاَخِــــــــــرَةْ🍀🍀
Copied

 

 

 

2پراٹھے

ایک فکرانگیز اور متاثرکن واقعہ،
ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔
شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔
سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔
جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔
ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے اپنے کھانے کیلئے جال پھینکا ہوتا تو کسی مچھلی نے نہیں پھنسنا تھا، میں نے تمہارے ساتھ نیکی گویا اپنی بھلائی کیلئے کی تھی نا کہ کسی اجرت کیلئے۔ تم یہ پراٹھے لے کر جاؤ اور اپنے اہل خانہ کو کھلاؤ۔
ابو نصر پرااٹھے لئے خوشی خوشی اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا کہ اُس نے راستے میں بھوکوں ماری ایک عورت کو روتے دیکھا جس کے پاس ہی اُس کا بیحال بیٹا بھی بیٹھا تھا۔ ابو نصر نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے پراٹھوں کو دیکھا اور اپنے آپ سے کہا کہ اس عورت اور اس کے بچے اور اُس کے اپنے بچے اور بیوی میں کیا فرق ہے، معاملہ تو ایک جیسا ہی ہے، وہ بھی بھوکے ہیں اور یہ بھی بھوکے ہیں۔ پراٹھے کن کو دے؟ عورت کی آنکھوں کی طرف دیکھا تو اس کے بہتے آنسو نا دیکھ سکا اور اپنا سر جھکا لیا۔ پراٹھے عوررت کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا یہ لو؛ خود بھی کھاؤ اور اپنے بیٹے کو بھی بھی کھلاؤ۔ عورت کے چہرے پر خوشی اور اُس کے بیٹے کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
ابو نصر غمگین دل لئے واپس اپنے گھر کی طرف یہ سوچتے ہوئے چل دیا کہ اپنے بھوکے بیوی بیٹے کا کیسے سامنا کرے گا؟
گھر جاتے ہوئے راستے میں اُس نے ایک منادی والا دیکھا جو کہہ رہا تھا؛ ہے کوئی جو اُسے ابو نصر سے ملا دے۔ لوگوں نے منادی والے سے کہا یہ دیکھو تو، یہی تو ہے ابو نصر۔ اُس نے ابو نصر سے کہا؛ تیرے باپ نے میرے پاس آج سے بیس سال پہلے تیس ہزار درہم امانت رکھے تھے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ ان پیسوں کا کرنا کیا ہے۔ جب سے تیرا والد فوت ہوا ہے میں ڈھونڈتا پھر رہا ہوں کہ کوئی میری ملاقات تجھ سے کرا دے۔ آج میں نے تمہیں پا ہی لیا ہے تو یہ لو تیس ہزار درہم، یہ تیرے باپ کا مال ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میں بیٹھے بٹھائے امیر ہو گیا۔ میرے کئی کئی گھر بنے اور میری تجارت پھیلتی چلی گئی۔ میں نے کبھی بھی اللہ کے نام پر دینے میں کنجوسی نا کی، ایک ہی بار میں شکرانے کے طور پر ہزار ہزار درہم صدقہ دے دیا کرتا تھا۔ مجھے اپنے آپ پر رشک آتا تھا کہ کیسے فراخدلی سے صدقہ خیرات کرنے والا بن گیا ہوں۔
ایک بار میں نے خواب دیکھا کہ حساب کتاب کا دن آن پہنچا ہے اور میدان میں ترازو نصب کر دیا گیاہے۔ منادی کرنے والے نے آواز دی ابو نصر کو لایا جائے اور اُس کے گناہ و ثواب تولے جائیں۔
کہتا ہے؛ پلڑے میں ایک طرف میری نیکیاں اور دوسری طرف میرے گناہ رکھے گئے تو گناہوں کا پلڑا بھاری تھا۔
میں نے پوچھا آخر کہاں گئے ہیں میرے صدقات جو میں اللہ کی راہ میں دیتا رہا تھا؟
تولنے والوں نے میرے صدقات نیکیوں کے پلڑے میں رکھ دیئے۔ ہر ہزار ہزار درہم کے صدقہ کے نیچے نفس کی شہوت، میری خود نمائی کی خواہش اور ریا کاری کا ملمع چڑھا ہوا تھا جس نے ان صدقات کو روئی سے بھی زیادہ ہلکا بنا دیا تھا۔ میرے گناہوں کا پلڑا ابھی بھی بھاری تھا۔ میں رو پڑا اور کہا، ہائے رے میری نجات کیسے ہوگی؟
منادی والے نے میری بات کو سُنا تو پھر پوچھا؛ ہے کوئی باقی اس کا عمل تو لے آؤ۔
میں نے سُنا ایک فرشہ کہہ رہا تھا ہاں اس کے دیئے ہوئے دو پُراٹھے ہیں جو ابھی تک میزان میں نہیں رکھے گئے۔ وہ دو پُراٹھے ترازو پر رکھے گئے تو نیکیوں کا پلڑا اُٹھا ضرور مگر ابھی نا تو برابر تھا اور نا ہی زیادہ۔
مُنادی کرنے والے نے پھر پوچھا؛ ہے کچھ اس کا اور کوئی عمل؟ فرشتے نے جواب دیا ہاں اس کیلئے ابھی کچھ باقی ہے۔ منادی نے پوچھا وہ کیا؟ کہا اُس عورت کے آنسو جسے اس نے اپنے دو پراٹھے دیئے تھے۔
عورت کے آنسو نیکیوں کے پلڑے میں ڈالے گئے جن کے پہاڑ جیسے وزن نے ترازو کے نیکیوں والے پلڑے کو گناہوں کے پلڑے کے برابر لا کر کھڑا کر دیا۔ ابو نصر کہتا ہے میرا دل خوش ہوا کہ اب نجات ہو جائے گی۔
منادی نے پوچھا ہے کوئی کچھ اور باقی عمل اس کا؟
فرشتے نے کہا؛ ہاں، ابھی اس بچے کی مُسکراہٹ کو پلڑے میں رکھنا باقی ہے جو پراٹھے لیتے ہوئے اس کے چہرے پر آئی تھی۔ مسکراہٹ کیا پلڑے میں رکھی گئی نیکیوں والا پلڑا بھاری سے بھاری ہوتا چلا گیا۔ منادی کرنے ولا بول اُٹھا یہ شخص نجات پا گیا ہے۔
ابو نصر کہتا ہے؛ میری نیند سے آنکھ کھل گئی اور میں نے اپنے آپ سے کہا؛ اے ابو نصر آج تجھے تیرے بڑے بڑے صدقوں نہیں بلکہ
"آج تجھے تیری 2 روٹیوں نےبچا لیا

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

تیز بخار، کھانسی، شدید جسم درد، منہ کا کڑوا پن اور سونگھنے، ذائقے کی حس ختم ہونے جیسی علامات تقریباً پورے پاکستان میں پھیل چکی ہیں۔

خدارا اپنی حفاظت کریں۔

1- ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں
2- برف کا استعمال مکمل طور پر بند کردیں
3- جوشاندہ پئیں
4- بھاپ لیں
5- انڈے کھائیں
6- انجیر کھائیں
7- بادام کھائیں
8- لونگ، الاچی، دارچینی کا قہوہ پئیں
9- مٹن سوپ پئیں، کالی مرچ ادرک، ہلدی ڈال کر
10- دیسی مرغی کا سوپ پئیں، کالی مرچ، ادرک، ہلدی ڈال کر
11- کیلشیم کسی بھی صورت میں لازمی لیں
12- پانی کا استعمال زیادہ کریں

ﷲ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو
 
اس پیغام کو نظر انداز نہ کریں.
جزاکم ﷲ خیراً کثیرا

 

 

 

 

 

 

 

رسول اللّه کا ہر امتی زندگی میں ایک بار یہ تحریر ضرور ضرور پڑھے)

اگر آپ اپنے دماغ کو روشن کرنا چاہتے ہیں اور  روحانیت کی دنیا میں پرواز کرنا چاہتے ہیں تو ایک ایک لفظ غور سے پڑھیں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نہ ہی کسی مدرسے میں پڑھے نہ درس نظامی کی تو آپ کو علامہ کیوں کہا جاتا ہے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ واقعی میں نے کوئی عالم فاضل کا کورس نہیں کیا لیکن بات اصل میں کچھ اور ہے فرمانے لگے کہ دنیا کی مجھے یہ عزت دینا اور میرے کلام میں یہ اثر اور میرے قلب و روح کی یہ تازگی یہ سب رسول اللّه
  سے والہانہ عشق و محبت کی بدولت ہے اور یہ سب تب ممکن ہوئی جب میں نے رسول اللّه پہ درود پاک پڑھنا شروع کیا فرمایا کہ درود پاک کا یہ ورد بڑھتا گیا اور میں اس تعداد کو محفوظ کرتا گیا لاکھ دو لاکھ اور ایسے ہی جوں جوں آگے بڑھتا گیا اللہ میرے دماغ کو میرے دل کو میری روح کو روشن کرتا رہا۔ اور جب میں نے رسول اللّه کی ذات گرامی پہ  ایک کروڑ درود پاک مکمل کیا تو اللہ رب العزت نے میرا انگ انگ روشن کر دیا لوگوں کے دلوں میں میری عزت بیٹھ گئی میرے کلام میں ایسا اثر ہوا کہ اللہ اللہ جب کلام لکھنے بیٹھتا الفاظ بارش کی طرح اترتے اس کے بعد علامہ صاحب درود پاک تواتر سے پڑھتے بس یہی راز تھا جو علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے ہم پہ آشکار کر دیا میرے ایک عزیز ہیں جو ایئر فورس میں ملازمت کررے تھے وہاں ان کی ملاقات ایک عاشق رسول اللّه سے ہوئی جن سے یہ راز ان کو معلوم ہوا اور انہوں نے خود مجھے بتایا کہ میری زندگی پہلے کی بہت عجیب تھی لیکن جب میں نے مصمم ارادہ کیا اور محبت سے درود پاک کا ورد شروع کیا اور جب زندگی میں پہلی دفعہ ایک لاکھ درود پاک گن کے پورا کیا تو ایک خواب دیکھتا ہوں ک میں کہیں محو سفر ہوں اور میرے سامنے ایک نہایت غلیظ نالہ ہے اور اس نالے کے اس پار بہت سہانی سرسبز اور جنت جیسی دنیا ہے خیر میں نے جیسے تیسے کر کے بہت مشکل سے وہ نالہ پار کیا اور اس پار پہنچ گیا جب میں نے پیچھے دیکھا تو وہی نالہ جس میں غلاظت تھی وہ نہایت صاف شفاف نہر میں تبدیل ہو چکا ہے حتی کہ اس بہتے پانی کے نیچے رنگ برنگ کے پتھر تک نظر آ رہے ہیں اور  جسے دیکھ کے روح خوش ہو جائے اور میرے کپڑے نہایت صاف ستھرے اجلے اور سفید ہو چکے ہیں اور میرا ظاہری حسن بھی بڑھ چکا ہے الحمدللہ مجھے خواب ہی میں بتایا گیا کہ یہ نالہ میں بہتا پانی تمہارے اعمال ہیں جو پہلے غلیظ تھے اور اب درود پاک کی بدولت ان کی صفائی ہو چکی اب یہ سارے نیکیوں میں تبدیل ہو چکے ہیں یقین جانیں وہ دن اور آج کا دن وہ بندہ کب سے سروس سے ریٹائر ہو چکا ہے آج بھی ان کا درود پاک کا ورد جاری و ساری ہے اور بہت سے جوان لڑکوں کو درود پاک کے ورد کی لذت سے روشناس کرا چکے ہیں اور  آج اس بندہ کی روحانی کیفیت ماشااللہ کمال کی ہے اور اس بندہ کے دل و دماغ اور روح اس پاک ورد یعنی  رسول اللّه پہ درود پاک کی بدولت روشن ہیں تو دوستوں اپنی زندگی میں یہ کام ضرور کریں آج ہی سے پختہ ارادہ کریں کہ ان شااللہ ان شااللہ میں نے رسول اللّه کی ذات مقدس پہ گن کے ایک کروڑ مرتبہ محبت و شوق سے درود پاک ضرور پڑھنا ہے یقین مانیں جیسے جیسے آپ  رسول اللّه پہ درود پاک پڑھتے جائیں گے آپ پہ بہت سارے انکشافات ہوتے جائیں گے اور دل و دماغ و روح کے ایسے دریچے کھلیں گے کہ آپ ششدر رہ جائیں گے روزانہ کی بنیاد پہ درود پاک کا ورد اپنا معمول بنا لیں پھر دیکھیں  سبحان اللہ اللہ ہم سب کو آقا و مولا مدنی تاجدار رسول اللّه محمد پہ درود پاک پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائے آمین اس پہ خود بھی عمل کریں اور اپنے گھر والوں کو بھی آگاہ کریں خصوصا نوجوان بہن بھائیوں دوستوں کو ضرور ضرور اس ورد پاک کا بتائیں جو جو عمل کرے گا آپ کے ساتھ اس نورانی لڑی میں پرویا جائے گا اور آپ کا بھی بھلا ہو گا بہت بھلا ہو گا

(پلیز آگے سنڈ کرتے جائیں جتنے لوگ درودپاک پڑھیں گے آپ کو بھی ثواب ملتا رھے گا)♥️

 

 

 

 

 

 

 

 

 


خطيب مسجد الحرام مكة المكرمة کے خطبہ جمعہ سے إقتباس:
Please Read Translation

قیمتیں بہت بلند ہیں

اور عورتیں بـے پردہ ہیں

اور مسجدیں خالی ہیں

اور اللہ تعالی کے احکامات کی بغاوت ہـو رہی ہـے

چوروں کے پاس دلائل ہیں

اور مجاہدں کو ہـتھکڑیا لگا کر پابند سلاسل کر دیا گیا ہـے

اور زنا کو حلال قرار دے دیا گیا

اور  نکاح کو مشکل بنا دیا گیا

اور عورتیں مردوں پر حکمرانی کرتی ہیں

اور مسلمانوں کی زمین دشمنوں کے قبضہ میں ہـے

اور فقراء اور مساکین کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہـے ہیں

اور قیامت کی بڑی بڑی تمام نشانیاں پوری ہـوچکی ہیں سوائے چند ایک کے

پس توبہ کو لازم پکڑو  توبہ کو لازم پکڑو

سوراخ والے بیگ سے ڈرو!
نیکیوں کو برباد کرنے سے بچو’’ زندگی کم اور کام زیادہ ‘‘اور جس بیگ میں نیکیاں رکھنی ہیں اس میں سوراخ ہیں

آپ وضو بہت اچھے طریقے سے کرتے ہیں؟ لیکن پانی بہت زیادہ ضائع کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ فقراء اور مساکین پر صدقہ وخیرات کرتے ہیں پھر ان کی تذلیل کرکے ان پر ہـنستے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ راتوں کو قیام کرتے ہیں دن کا روزہ رکھتے ہیں اور اپنے رب کی اطاعت کرتے ہیں لیکن قطع رحمی بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

آپ روزہ بھی رکھتے ہیں اور بھوک اور پیاس پر صبر بھی کرتے ہیں لیکن پھر گالی گلوچ لعن طعن بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

خواتین اپنے کپڑوں کے اوپر عبایا پہننے کے باوجود خوشبو لگا کر بازار آتی ہیں تو کیا فائد ایسے پردے کا؟
(سوراخ والا بیگ )

آپ مہمان کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور اس سے حسن سلوک بھی کرتے ہیں لیکن اسکے جانے کے بعد اسکی غیبت اور برائی بھی کرتے ہیں
(سوراخ والا بیگ )

اپنی نیکیوں کو ضائع ہـونے سے بچائیں جنہیں بڑی مشکل سے جمع کرتے ہـو اور پھر انہیں کس طرح آسانی کے ساتھ ضائع کر دیتے ہـو خدارا اس سے باز آجاؤ۔۔۔۔
(سوراخ والا بیگ )
.
اے اللہ میں تجھ سے اپنے لیـے اور اپنے دوست واحباب کے لیـے ہـدایت اور مغفرت کا سوال کرتا ہـوں ۔

عربوں کے عجوبـے یعنی ان کے شوق نرالے ہیں

وہ حج کے سفر کو اس لیـے اختیار نہیں کرتے کیونکہ اس میں بہت بڑی تکلیف اور مشقت ہـے،،، لیکن سیرو سیاحت میں دلچسپی اور رغبت میں تمہیں ذرا بھی تکلیف اور مشقت نہیں ہـوتی؟ کتنی عجیب بات ہـے

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)
.
قربانی کا جانور آپ اس لیـے نہیں خریدتے کہ وہ بہت مہنگا ہـے لیکن معاشرتی سٹیٹس کو برقرار رکھنے لیـے قیمتی قیمتی آئی فون خریدتے ہـو

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)
..
(آپ فضول گفتگو میں وقت برباد کردیتے ہیں چاہـے وہ دن میں 100 مرتبہ ہی کیوں نہ کرنی پڑے )

اور آپ قرآن کریم کی دس آیات بھی تلاوت نہیں کرتے حجت کے طور پر کیا آپ کے پاس تلاوت قرآن کریم کرنے کی فرصت نہیں؟

(آگاہ رہـو اللہ کا سودا بڑا قیمتی ہـے)

 

 

 

 

 

 

بارہ سال کا ایک بچہ ہاتھ میں تلوار پکڑے تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک طرف لپکا جارہا تھا۔ دھوپ بھی خاصی تیز تھی، بستی میں سناٹا طاری تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس بچے کو کسی کی پروا نہیں۔ لپکتے قدموں کا رخ بستی سے باہر کی طرف تھا، چہرہ غصے سے سرخ تھا,
آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا۔ بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔ ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے والے نے شفقت سے پوچھا:

" میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟"

بچے نے جواب دیا : " آپ کی تلاش میں۔"

اس بچے کا نام زبیر  رضی اللہ عنہ تھا۔ باپ کا نام عوام اور ماں کا نام صفیہ رضی اللہ عنھا تھی-
 یہ بچہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا پھوپی زاد بھائی تھا۔

قصہ یہ پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں افواہ پھیلی کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کفار نے پہاڑوں میں پکڑلیا ہے۔ مکہ میں دشمن تو بہت زیادہ تھے، اس لیے ایسا ہو بھی سکتا تھا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر بارہ سال تھی فوراً تلوار اٹھائی اور اکیلے ہی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم مل گئے۔ پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا:

" اگر واقعی مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے۔"

اس بارہ سالہ بچے نے جواب دیا:

" میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔"

پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ بات سن کر مسکرا پڑے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطافرمائی۔
 اللہ تعالٰی کو یہ ادا پسند آئی۔
 جبرئیل( علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوئے اور عرض کیا زبیر کو خوش خبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی ملے گا__

(حیاۃ صحابہ سے ماخوذ )
Copy post

 

 

 

 

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شیطان آدمی کے سر کے پیچھے رات میں سوتے وقت
تین گرہیں لگا دیتا ہے
اور ہر گرہ پر یہ افسوں پھونک دیتا ہے کہ سو جا ابھی رات بہت باقی ہے پھر اگر
کوئی بیدار ہو کر اللہ کی یاد کرنے لگا تو ایک گرہ کھل جاتی ہے پھر جب وضو کرتا ہے تو
دوسری گرہ کھل جاتی ہے۔
پھر اگر نماز (فرض یا نفل) پڑھے تو تیسری گرہ بھی کھل
جاتی ہے۔ اس طرح صبح کے وقت آدمی چاق و چوبند خوش مزاج رہتا ہے۔ ورنہ سست اور بدباطن رہتا ہے۔
(صحیح البخاری:1142)

 

 

 

 

 

لاحول ولاقوة الا بالله کا مطلب

حضرت عبدالله بن مسعود رضى الله عنه فرماتے ہيں كہ!! ""لاحول ولاقوة الا بالله""
كو ميں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم كے سامنے پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ اس کا مطلب جانتے ہو کیا ہے؟؟؟
.
میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوب جانتے ہیں ـ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی ارشاد فرمایا!
اس کا مطلب یہ ہے گناہ سے پھرنے کی طاقت نہیں مگر اللہ کی حفاظت سے اور
اللہ کی عبادت کرنے کی قوت نہیں مگر اللہ کی مدد سے اور فرمایا جو بندہ ہر وقت
استغفار کرتا رہتا ہے اللہ اس کی ہر مشکل آسان کر دیتا ہے اور ہر غم دور کر دیتا ہے،
اور ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے کہ جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا
.
لاحول ولا قوة الا بالله كے فوائد
.
■ ١ يہ كلمہ عرش کے نیچے جنت کا خزانہ ہے، اور جنت کی چھت عرش الھی ہے،
اس کے پڑھنے سے اعمال صالحہ کے اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق
ہونے لگتی ہے، اس معنی میں یہ جنت کا خزانہ
.
■ ٢ نبى كريم صلى الله عليه وسلم نے فرمايا كہ!
""لاحول ولا قوة الا بالله "" ننانوے دنياوى واخروى بيماريوں كى دوا ہے، جن ميں سب سے
ادنى بيمارى غم ہے، چاهے دنيا كا ہو يا آخرت كا، یعنی اس سے دل سے غم دور ہوتا ہے،
دل میں سکون و اطمینان آجاتا ہے..
.
جب بهی دل میں پریشانی و غم محسوس کرو تب ایک جگہ بیٹھ کر سو دفعہ یا اس سے زیاده
دل ہی دل میں دهیان توجہ سے پڑهے،ان شاء الله دل میں سکون و اطمینان آجائے گا.
.
■ ٣ جب بنده اس كلمه كو پڑھتا ہے تو اللہ تعالی عرش پر فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ میرا
بندہ فرماں بردار ہو گیا اور سرکشی چھوڑ دی، یہ نعمت کیا کم ہے کہ بندہ زمین پر یہ کلمہ
پڑھتا ہے اور حق تعالی عرش پر فرشتوں کے مجمع میں اس کا ذکر فرماتے ھیں ـ ـ ـ؟
سبحان اللہ!
ایڈمن نورسحر💥

 

 

 

 

 

صرکی ایک معلمہ کاواقعہ وہ معلمہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتی تھی کہ قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں
"وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی"(سورۃ طٰهٰ۔84)
ترجمہ
(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)
 وہ کہا کرتی تھیں کہ میں اس آیت سے بہت متاثر ہوں جب بھی میں اذان کی آواز سنتی ہوں اور اگر میں کسی بھی کام میں مصروف ہوں، میں اپنے آپ کو یہ آیت یاد دلاتی ہوں اور سب کچھ چھوڑ کر نماز ادا کرنے کھڑی ہو جاتی ہوں رات کو 2:00بجے جب تہجد کا الارم بجتا ہے اور میں گہری نیند میں مزید سونا چاہتی ہوں تو یہ آیت مجھے یاد آتی ہے اور مجھے جگاتی ہے.
اس خاتون کے شوہر کی عادت تھی کہ کام سے واپس گھر آتے وقت وہ اسے فون پر کھانے کے متعلق ہدایات دیتا تا کہ اس کے گھر پہنچنے پر گرما گرم کھانا تیار ملے اور وہ کھانا کھا کر سو جائے. ایک دن اس نے فون پر مہشی کھانے کی فرمائش کی (انگور کے پتوں میں چاول بھرے جاتے ہیں اور پھر ان کو ہلکی آنچ پر پکنے رکھا جاتا ہے بہت وقت طلب ڈش ہے) اتنی دیر میں اذان کی آواز سنائی دی تو اس کے صرف تین رولز رہ گئے تھے (جن کے بھرنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگتے) لیکن اس نے حسب عادت سب کام چھوڑے اور نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی، اس خاتون کا شوہر اسے بار بار فون کرتا رہا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سجدے میں ہے اور کھانا ابھی تک تیار نہیں ہے اس نے دیکھا کہ صرف تین رولز بھرنے رہ گئے ہیں تو اسے شدید غصہ آیا اور اسی غصے کے عالم میں اس نے اپنی بیوی کو ڈانٹنا شروع کر دیا "تم اپنا کام ختم کر کے دیگچی چولہے پر رکھ کر بھی نماز ادا کر سکتی تھی، تین رولز بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے"،لیکن اس کی بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا جب وہ اس کے پاس آیا تو دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس کا انتقال ہو چکا ہے.
سبحان الله اگر اس نے ہماری طرح یہ سوچا ہوتا کہ چلو کوئی بات نہیں پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں پھر نماز پڑھ لیں گے تو اس کا انتقال کچن میں ہوتا. لیکن ایک شخص کا انتقال اسی حالت میں ہوتا ہے جس پر وہ ساری زندگی گزارتا ہے اور اسی حالت میں وہ دوبارہ اٹھایا جائے گا. ہمارے آقا حضرت محمد
نے ارشاد فرمایا کہ ہر شخص اسی حالت میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ فوت ہوا
آئیے آج ایک عہد کریں...
••#بہنوں_کےلئے : جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دے سب کام ایک طرف رکھیں اور نماز کے لئے اٹھ کھڑی ہوں (زیادہ سے زیادہ 20 منٹ تک جو کہ اقامہ ٹائم بھی ہے) ہمارے آقا
سے کسی نے پوچھا کہ الله تعالٰی کے نزدیک سب سے محبوب عمل کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا نماز کو اس کے اولین وقت میں ادا کرنا.
بھائیوں_کےلئے : جیسے ہی آپ اذان کی آواز سنیں فوراً وضو کریں اور مسجد چلے جائیں. اپنے آپ کو یہ آیت بار بار یاد دلاتے رہیں

"وَعَجِلتُ اِلَیکَ رَبِّ لِتَرضٰی" (سورۃ طٰهٰ84)
ترجمہ_(اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تا کہ تو خوش ہو)

 

 

 

 

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment