Showing posts with label Mot. Show all posts
Showing posts with label Mot. Show all posts

Sunday, March 27, 2022

URDU ISLAMIC ARTICLE: Tik Toker died, Sister Brother, Zindagi, Tasbeeh Fatima, Raat, Ikhlaq, Salam, Geebat, Haya, Mot, Social Media, Saza, DUA, VERY USEFUL ISLAMIC ARTICLES

   

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed Latest jobs Karachi School Free Islamic Gift 



 Aaj ki Dua Apkay Naam


یہ دعا بہت پیاری ہے اِسے سکون سے پڑھیں اور دل میں آمین کہیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں. ھو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ھو جائے(آمین)😰😭


⚡اے اللہ رب العزت

💧اے ساری کائنات کے شہنشاہ

💧اے ساری مخلوق کے پالنے والے

💧اے زندگی موت کا فیصلہ کرنےوالے

💧اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک

💧اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک

💧اے انسانوں اور جناتوں کے معبود

💧اے عرشِ اعظم کے مالک

💧اے فرشتوں کے معبود

💧اے عزت اور ذلت کے مالک

💧اے بیماروں کو شِفا دینے والے

💧اے بادشاہوں کے بادشاہ

💧اے اللہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں

💧تیرے خطاکار بندے ہیں

💦ہمارے گناہوں کو معاف فرما🙏🙏

💦ہماری خطاؤں کو معاف فرما🙏

💦اے اللہ ہم اپنے اگلےپچھلے،صغیرہ کبیرہ سبھی گناہوں،خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں🙏🙏

💦اے اللہ رب العزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما

💦اے اللہ ہم گناہگار ہیں،سیاہ کار ہیں،بدکار ہیں تیرے احکام کے نافرمان ہیں،ناشُکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں، تیری توحید کی گواہی دیتے ہیں.

💦تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے

💦تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے

💦تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہے

💦ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں

💦تو اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف کر دے🙏🙏🙏

💦اے اللہ پاک ہمیں گمراہی کے راستے سے ہٹا کر صراط المستقیم کے راستے پہ چلنے والا بنا دے

💦اے اللہ ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے

💦زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے

💦ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے

💦ایمان پہ زندہ رکھ اور ایمان پہ ہی موت عطا کر

💦اے اللہ ہمیں تیرے احکام کی فرمابرداری کرنے والا بنا

💦اور تیرے پیارے حبیب جنابِ محمد رسول اللہ(صلی للہ ھو علیہ وآلہ وسلم) کے نیک اور پاکیزہ آداب کو اپنانے والا بنا دے

💦اے اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے

💦اے اللہ جو بیمار ہیں اُنہیں شفاءکاملہ عطا فرما

💦اے اللہ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ھوئے ہیں اُنکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے

💦اے رب العزت شیطان سے ہماری حفاظت فرما

💦اے اللہ اسلام کے دشمنوں کو ہدایت عطا فرما

💦اے اللہ حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما

💦اے پروردگارِ عالم ہمیں تُجھ سے مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ھر چیز پہ قادر ہے

💦اے اللہ جو مانگا وہ بھی عطا فرما اور جو مانگنے سے رِہ گیا وہ ب ھی عنائت فرما

💦ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور اِسے آگے بڑھا رہا ہے اُسکی ساری پریشانیوں،تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما اور صحت تندرستی عطا كر: یہ دُعا پوری ضرور پڑھیں

"اے میرے پروردگار اپنےپیارےمحبوب حضرت محمدﷺ کے صدقے پوری دُنیا میں جتنے لوگ وفات پا چُکے ہیں اُن کی مغفرت فرما، اُنہیں قبر کے عذاب سے بچا۔ جو بیمار ہیں یا پریشان ہیں تُو اُن کو اپنے کرم سے معاف فرما اور اُن کی بیماری اور پریشانیوں کو دُور فرما۔"

اے میرےالله اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقے جس نے مجھے یہ دُعا بھیجی ہے اُس کے تمام گُناہوں کو معاف فرما اور ہر کام میں کامیابی عطا فرما اور اُس کا نَصیب کھول دے۔ اٰمئین!


اپنے لئے ضرور دُعا کرؤایں نجانے کس کی زبان سے آپ کی تقدیر کھول جائے۔ 


نوٹ: آج کے دِن اگر یہ دُعا آگے شير نہ کر سکیں تو واپس مجھے ہی بھیج دیں۔








 گزشتہ روز سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک خوفناک ٹریفک حادثہ ہوا۔ جس میں سوشل میڈیا کے 2 ’’اسٹارز‘‘ (لڑکا اور لڑکی) جل کر کوئلہ ہوگئے۔ ساز القحطاني اور شاهر الشيباني ٹاک ٹاکر اور اسنیپ چیٹ اسٹار تھے۔ دونوں مل کر ڈانس کرتے اور ویڈیوز اپ لوڈ کرکے ارضِ وحی میں روشن خیالی کی جاری مہم میں اپنا حصہ ملاتے اور لوگوں سے واہ واہ سمیٹتے۔ ساز القحطانی (لڑکی) کا اصل نام أريج العمري تھا۔ 21 سال عمر تھی۔ ریاض کی کسی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھی۔ مکمل مغربی رنگ میں رنگی ہوئی۔ جسم ٹیٹوز سے پُر اور بال لڑکوں والے چھوٹے چھوٹے۔ ڈانس کی دلدادہ۔ مشہور قبیلہ قحطان سے تعلق تھا۔ جبکہ شاہر نایف کا شیبان سے۔ دونوں کی ’’دوستی‘‘ کا یہ تعلق اب سوشل میڈیا میں زیر بحث ہے کہ کس نوعیت کا تھا۔ گزشتہ دن ریاض میں یہ دونوں کار پہ جا رہے تھے۔ مستی میں اسپیڈ 260 کلومیٹر سے بھی تجاوز کر گئی۔ کار الٹ گئی تو فوراً آگ بھڑک اٹھی اور دونوں جل کر راکھ ہو گئے۔ کوئلہ بننے والے وجود اسپتال لائے گئے اور ڈی این اے سے ان کی شناخت ہوئی۔ جبکہ ایک تیسرے شخص کے بھی ان کے ساتھ جل مرنے کی اطلاع ہے۔ اس عبرت ناک انجام کے بعد اب رشتہ داروں کو خیال آیا کہ ٹک ٹاک اور دیگر سوشل سائٹس سے ان کے اکاؤنٹس بند کرا دیں تاکہ گناہ جاریہ کا تسلسل بند ہو۔ لیکن انتظامیہ نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔ اللہ دونوں کی مغفرت فرماے۔ موت کا کچھ نہیں پتہ۔ یہ اچانک کسی کے بھی دروازے پر دستک دے سکتی ہے۔ اس لئے سوشل میڈیا میں ایسی چیزیں اپ لوڈ کرنے سے پرہیز کیجئے، جو مرنے کے بعد نامۂ اعمال کو مسلسل سیاہ کرنے کا سبب بنیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو موت سے پہلے ہی تیاری اور توبہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


تحریر: ضیاء چترالی۔







۔ غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں 


کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا : ہم رات دن اللّٰه تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللّٰه تعالٰی ہمیں سزا نہیں دیتا. 

استاذ محترم نے جواب دیا : ایسی بات نہيں بلکہ اللّٰه تعالی ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا.

 اللّٰه تعالی کی سزائیں کیا ہوتی ہیں سنو... 


1- مناجات الہی کی لذت سے محرومی:   کیا رب سے مناجات کی لذت تم سے چھین نہیں لی گئی؟

 

2- قساوت قلبی: اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کا دل سخت ہو جائے؟

 

3- ایک بڑی سزا یہ بھی ہے کہ تمہیں نیکیوں کی توفیق بہت کم ملے ؟


4- تلاوت قرآن سے غفلت:  کیا ایسا نہیں ہوتا کہ دن کے دن گزر جاتے ہیں مگر تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ملتی بلکہ بسا اوقات قرآن کی یہ آیت سنتے ہیں جس ميں اللّٰه تعالى نے فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو اللّٰه کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہم یہ آیت سنتے ہیں مگر ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟

 

5- تہجد سے محرومی: لمبی لمبی راتیں گزر جاتی ہیں مگر کبھی تہجد کی توفیق نہیں ملتی؟

 

6-  نیکیوں کے موسم بہار کی ناقدری: نیکیوں کے موسم بہار آتے اور گزر جاتے ہیں جیسے رمضان کے روزے، شوال کے روزے اور ذوالحجہ کے مبارک ایام وغيرہ .... مگر ان موسم میں کما حقہ عبادت کرنے کی توفیق نہیں ملتی اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟ 


 7- عبادت کو بوجھ محسوس کرنا:  کیا تم عبادت کو بوجھ نہیں محسوس کرتے؟

 

8- ذکر الہی سے لاپرواہی: کیا اللّٰه کے ذکر سے تمہاری زبان خاموش نہیں رہتی؟ 


9- کیا نفسانی خواہشات کے سامنے خود کو  کمزور نہیں محسوس کرتے؟

 

10- دنيا کی محبت:  کیا تم مال و دولت اور منصب و شہرت کی بے جا حرص و لالچ  ميں مبتلا نہیں ہو؟ اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟

 

11- کبیرہ گناھوں کو معمولی سمجھنا:  کیا ایسا نہیں کہ تم بڑے بڑے گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہو جیسے جهوٹ غیبت چغلی؟


12- کیا بیشتر اوقات تم فضول اور لا یعنی چیزوں ميں مشغول نہیں رہتے؟


13- آخرت سے غفلت:  کیا تم نے آخرت کو بھلا کر دنیا کو اپنا سب سے بڑا مقصد نہیں بنا لیا ہے؟


یہ ساری محرومی اور بے توفیقی بھی اللّٰه کی طرف سے عذاب اور سزائیں ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا.


یاد رکھو اللّٰه تعالی کا یہ بہت معمولی عذاب ہے جسے ہم اپنے مال و اولاد اور صحت میں محسوس کرتے ہیں اور حقیقی  عذاب اور سب سے خطرناک سزا وہ ہے جو دل کو ملتی ہے.

اس لئے اللّٰه تعالیٰ سے عافیت کی دعاء مانگو اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو کیونکہ گناہ کے سبب بندہ عبادت کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے.

( عربی سے ترجمہ)






: ایک  بہن  کہتی ھے میں گھر کی صفائی میں مصروف تھی کہ اسی دوران میرے بھائی کا فون آیا کہ میں بیوی بچوں سمیت تمہاری ملاقات کیلئے آرہا ہوں.


کہتی ہے کہ میں باورچی خانہ چلی گئ ، تاکہ ان کیلئے جلدی میں کچھ تیار کرسکوں، پر گھر میں صرف دو تین آم ہی پڑے تھے،جلدی میں دو گلاس جوس ‏تیار کرلیئے. جب وہ آئے، تو بھائی کے ساتھ انکی ساس بھی تھیں!

جو کہ اس سے پہلے کبھی بھی نہیں آئی تھیں، تو میں نے دو گلاس جوس ماں اور بیٹی کے سامنے رکھ دیئے اور پانی کا گلاس بھائی کے سامنے رکھ کر کہا کہ، مجھے معلوم ہے کہ آپ کو سیون اپ پسند ہے... بھائی نے جیسے ہی گلاس منہ سے لگایا ‏تو سمجھ گئے کہ یہ تو پانی ہے،

اسی دوران ساس نے میرے بھائی سے کہا: بیٹا سیون اپ میرے معدے کیلئے اچھا ہے اس لئے میرا جوس تم پی لو اور سیون اپ مجھے دو!

یہاں پر میرے اوسان خطاء ہوئے،سخت شرمندگی ہوئی کہ میری چالاکی رسوا ہوجائیگی، پر ﷲ میرے بھائی کو سلامت رکھے ‏بھائی نے اپنی ساس سے کہا، اس گلاس سے تو میں نے کافی سیون اپ پی لیا ہے، آپ کیلئے میں فریج سے بوتل لاتا ہوں، انہوں  نے گلاس لیا اور جلدی سے باہر نکلے، تھوڑی دیر بعد ہم نے گلاس ٹوٹنے کی آواز سنی

 بھائی واپس آئے، ساس سے کہا کہ سیون اپ کی بوتل تو مجھ سے گر کر ٹوٹ گئی، میں جلدی سے آپ‏ کیلئے دکان سے ایک بوتل لے آتا ہوں؟ ساس نے سختی سے انکار کیا کہ چلو یہ میرے نصیب میں نہیں تھا.


   جب وہ رخصت ہونے لگے تو بھائی پیچھے رہے، خدا حافظ کہا مصافحہ کیلئے ہاتھ بڑھایا، اور اسی دوران میرے ہاتھ میں پیسے بھی تھمادیے ، اور مسکرا کر بولے، میری پیاری بہن کچن میں ‏گرے ہوئے سیون اپ کی جگہ کو دھو ڈالنا.

اسطرح میرے پیارے بھائی نے میری مالی کمزوری پر پردہ ڈالا اور میرے ساتھ ہمدردی سے مدد بھی کی۔


 محبت کے ساتھ رہیئے، اپنے بہنوں کا خاص خیال رکھیئے اور دوسروں کے بہنوں کو عزت کے نگاہ سے دیکھیئے ، یاد رکھئے  یہی ہمارے مذہب ، اچھے خاندانی  لوگوں اور معاشرے کا سنہری اصول اور رواج ہے .  جس کو آہستہ آہستہ گندا خون  رکھنے والے بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جو بھائی کبھی بہنوں کو پیسے دیا کرتے تھے آج بہنوں کے پیسوں پر پل رہے ہیں ۔  

 اللہ کے واسطے اپنی صفوں میں ان لوگوں کو پہچانیں   !!!!! جو آج اپنے آپ کو لبرل  کہلا رہے ہیں ۔ ۔۔۔۔۔ حقیقت میں یہ  ** ہیں ۔  بے پردگی ، دین سے دوری اور اللہ کے قرآن پاک میں واضح احکامات کا صاف انکار   اور نبی ﷺ کی تعلیمات سے انکار  اور نیک  لوگوں کو بھی گمراہ کرنے کے درپے ہیں ۔ 

عقلمند کو اشارہ ہی کافی ہے  .






🥀 چار چیزیں زندگی میں کبھی نہ چھوڑیں 🥀


✍🏻 شکر کرنا نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں زیادتی اور اضافے سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا

(سورة إبراہيم :آیت 7)


✍🏻 اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو یاد رکھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

فَاذْکُرُوْنِیْ اَذْکُرْکُمْ تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا

(سورة البقرة: آیت 152)


✍🏻 دعا کو نہ چھوڑیں ورنہ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے

أَدْعُوْنِيْ أَسْتَجِبْ لَكُمْ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا

(سورة غافر:آیت 60)


✍🏻 استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْن اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں

(سورة الأنفال :آیت 33)


مزید ایسی پوسٹیں حاصل کرنے کے لیے ھمارا گروپ جواٸن کریں







🌹 آئیں ایک سنت کو سیکھ کراس پر عمل کریں 🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا 

(ترمذی شریف حدیث نمبر 2678)

✨✨✨✨✨✨✨✨✨

 سنت نمبر پندرہ 

 سونے سے پہلے آخری تین قل پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں ملا کر ان پر پھونک ماریں اور سر سے پاؤں تک جہاں تک ہاتھ پہنچے پھیر لیں، پھر ابتدا اپنے سامنے والے حصے سے سر سے پیر تک ،پھر کمر پر پھیر لیں، ایسا تین بار کریں 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رات جب اپنے بستر پر آتے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کرتے، پھر ان دونوں پر یہ سورتیں: «قل هو الله أحد»،‌‌‌‏ «قل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس»پڑھ کر پھونک مارتے، پھر ان دونوں ہتھیلیوں کو اپنے جسم پر جہاں تک وہ پہنچتیں پھیرتے، اور شروع کرتے اپنے سر، چہرے اور بدن کے اگلے حصے سے، اور ایسا آپ تین بار کرتے۔

🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃🍃

عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‌‌‌‏    كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ كُلَّ لَيْلَةٍ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، ‌‌‌‌‌‏فَقَرَأَ فِيهِمَا:‌‌‌‏ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ يَبْدَأُ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ وَوَجْهِهِ وَمَا أَقْبَلَ مِنْ جَسَدِهِ، ‌‌‌‌‌‏يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ( ترمذی حدیث نمبر 3402)





🌹 آئیں ایک سنت کو سیکھ کراس پر عمل کریں 🌹

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا 

(ترمذی شریف حدیث نمبر 2678)

✨✨✨✨✨✨✨✨✨

 سنت نمبر دس 

 گھر میں داخل ہو کر گھر والوں کو سلام کرنا 

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : بیٹا ! جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ تو سلام کرو ، یہ تمہارے لئے بھی باعث برکت ہو گا ، اور تمہارے گھر والوں کے لئے بھی ۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا بُنَيَّ إِذَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِكَ فَسَلِّمْ يَكُونُ بَرَكَةً عَلَيْكَ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ. (رواه الترمذى 2698)









 

 🌹 آئیں مسائل سیکھیں 🌹

 جسم کے غیر ضروری بال اور ناخن کب تک کاٹیں 

 مسئلہ: ہر ہفتے ایک مرتبہ زیر ناف اور بغل کے بال ، اسی طرح ناخن کا ٹنا اور نہا دھو کر صاف ستھرا ہونا افضل ہے اس کے لئے سب سے بہتر جمعہ کا دن ہے کہ نماز سے پہلے یہ کام کر لئے جائیں ہر ہفتہ دشواری ہوتو پندرھویں دن کر لے، آخری حد چالیسواں دن ہے، اس سے زیادہ تاخیر نہیں کرنی چاہئے ، اگر چالیس دن گذر گئے اور مذکورہ چیزوں کی صفائی کسی شخص نے نہ کی تو وہ گنہگار ہوگا۔ 

 ناخن کاٹنے کا طریقہ 

 ناخن کاٹنے کا کوئی خاص طریقہ سنت اور صحیح احادیث سے ثابت نہیں

 البتہ  ناخن کاٹنے کا بہتر طریقہ یہ ہےکہ دائیں ہاتھ کے ناخن کاٹے جائیں اور شہادت والی انگلی سے ابتداء کرے پھر بائیں ہاتھ کے ناخن کاٹے جائیں اور بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے ابتداء کریں  اور پیر میں دائیں پیر کی سب سے چھوٹی انگلی سے شروع کرے اور بائیں پیر کی چھوٹی انگلی پر ختم کرے، اگر اس کی رعایت نہ ہوسکے تو کوئی مضائقہ نہیں،جس طرح ہوسکے کاٹ لے 

 مسئلہ:کٹے ہوئے ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیے اگر دفن نہ کریں تو کسی محفوظ جگہ ڈال دیں مگر گندی جگہ اور نجاست والی جگہ میں نہ ڈالیں اس سے بیمار ہوجانے کا اندیشہ ہے






 حدیث نمبر سولہ

الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ 

(سنن النسائي | كِتَابُ الْإِيمَانِ وَشَرَائِعِهِ  | ذِكْرُ شُعَبِ الْإِيمَانِ /رقم الحدیث 5006)

 حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 تشریح:شرم و حیا ایک ایسا اہم اور فطری وصف ہے  جس کو انسان کی سیرت سازی میں بہت زیادہ دخل ہے ، یہی وہ صفت ہے جو آدمی کو بہت سے برے کاموں اور بری باتوں سے روکتا اور فواحش و منکرات سے اس کو بچاتا ہے ، اور اچھے اور شریفانہ کاموں کیلئے آمادہ کرتا ہے، الغرض شرم و حیا انسان کی بہت سی خوبیوں کی جڑ بنیاد اور فواحش و منکرات سے اس کا محافظ ہے ، اسی لئے رسول اللہ نے اپنی تعلیم و تربیت میں اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔

 یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ قرآن و حدیث کی اصطلاح میں حیا کا مفہوم بہت وسیع ہے، ہمارےعرف اور محاورہ میں تو حیا کا تقاضا اتنا ہی سمجھا جاتا ہے کہ آدی فواحش سے بچے یعنی شرمناک باتیں اور شرمناک کام کرنے سے پرہیز کرے، لیکن قرآن و حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہو تا ہے کہ حیا طبیعت انسانی کی اس کیفیت کا نام ہے کہ ہر نامناسب بات اور ناپسندیدہ کام سے اس کو انقباض اور اس کے ارتکاب سے اذیت مو ، پھر قرآن و حدیث ہی سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ حیا کا تعلق صرف انسانوں سے نہیں ہے ، بلکہ حیا سب سے زیادہ مستحق وہ خالق و مالک ہے جس نے بندم کو وجود بخشا اور جس کی پروردگاری سے وہ ہر آن حصہ پار ہا ہے، اور جس کی نگاہ سے اس کا کوئی عمل اور کوئی حال چھپا نہیں ہے، اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ شرم وحیا کرنے والے انسانوں کو سب سے زیاد و شرم و حیا اپنے ماں باپ کی، اور اپنے بڑوں اور محسنوں کی ہوتی ہے ، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالی سب بڑوں سے بڑا اور سب محسنوں کا محسن ہے ، لہذا بندہ کو سب سے زیادہ شرم و حیا اس کی ہونی چاہئے ، اور اس حیا کا تقاضا یہ ہو گا کہ جو کام اور جو بات بھی اللہ تعالی کی مرضی اور اس کے حکم کے خلاف ہو، آدمی کی طبیعت اُس سے خود انقباض اور اذیت محسوس کرے اور اس سے باز رہے، اور جب بندہ کا یہ حال ہو جائے تو اس کی زندگی جیسی پاک اور اس کی سیرت جیسی پسندیدہ اور اللہ کی مرضی کے مطابق ہو گئی ظاہر ہے۔






🌹 عقیدہ نمبر 14 🌹

 منکر نکیر 

 جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو عالم برزخ میں اس کے پاس دو فرشتے منکر اور نکیر آکر پوچھتے ہیں،تیرا رب کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھتے ہیں، کہ یہ کون ہے؟ اگر ایماندار ہو تو ٹھیک ٹھیک جواب دیتا ہے اور اگر ایماندار نہ ہو تو سب باتوں کے جواب میں یہی کہتا ہے کہ مجھے خبر نہیں 

( بخاری، کتاب الجنائز ،حدیث نمبر 1338 )






 مفتی تقی عثمانی صاحب مدظلہ الاقدس

 کی سوشل میڈیا کے بارے میں اہم تحریر ۔

ا---------------------------------------------------------ا

سوشل میڈیا، فتنہ الحاد، اور ہماری نئی نسل

ا--------------------------------------------------------ا


ایک مسلمان کیلئے اولاد صرف ایک دنیوی نعمت ہی نہیں بلکہ آخرت کا سرمایہ اور بہترین صدقہ جاریہ ہے۔


بشرطیکہ کہ وہ صاحبِ ایمان ہو۔


سوشل میڈیا کے اس دور میں ایمان کے ڈاکو کس طرح خاموشی سے ہماری آئندہ نسلوں کو الحاد یا Athiesm (خدا کے وجود سے انکار) کی طرف دھکیل رہے ہیں، اس کی تفصیل اس تحریر میں پیش کی جائیگی۔


بظاہر پڑھائی اور اینٹرٹینمنٹ کیلئے اپنی ناسمجھ اولادوں کو اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ تک غیر محدود رسائی دینے والے والدین بالخصوص اس تحریر کو پڑھیں


ممکن ہے کہ خدا ناخواستہ آپکی اولاد اس فتنے کی زد میں آکر ایمان سے ہاتھ دھونے کے قریب ہو اور آپ بالکل لاعلم ہوں۔


کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر شہروں میں اس وقت ملحدین (خدا کے وجود سے انکاری) کی تعداد سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے بڑھ رہی ہے


اور اسکا شکار عام مسلمان گھرانوں کے 15-20 سال کے بچے بچیاں ہو رہے ہیں.


اسکی ایک دو نہیں سینکڑوں مثالیں ہیں اور علماء کرام دن رات اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں


معاملہ یہ ہے کہ۔۔۔۔۔


سوشل میڈیا، بالخصوص فیس بک، انسٹاگرام، اور ٹویٹر پر ایسے سینکڑوں اکاؤنٹس ہیں جنکا کام دن رات سائنسی بنیادوں پر خدا کے وجود سے انکار، دین اسلام کے مختلف احکام کا مذاق اڑانا، حضور اقدسﷺ کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں پر اعتراض، اور علماء کی تضحیک ہے۔


ان میں سے اکثر کا تعلق یورپ اور امریکہ میں قائم مختلف این جی اوز سے ہے جنکا مقصد ہی یہ ہے۔


عام طور سے انکے نام اس انداز کے ہوتے ہیں


Ex-Muslims Together

Atheist Muslims

Muslims Liberated

Muslim Awakening

Islam Exposed


ان کے کارکنان اور انکی تعلیمات سے اتفاق رکھنے والے سینکڑوں لڑکے اور لڑکیاں (جو انہی ممالک میں مقیم اور جن میں سے اکثر دین سے مکمل ناآشنا اور مغربی تعلیمی نظام کی پیداوار ہیں) پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر مسلمان ممالک کے نوجوانوں راغب کرنے میں مصروف رہتے ہیں


یہ بظاہر مسلمانوں کے نام سے اکاؤنٹس رکھتے ہیں مگر فکری طور پر ملحدین ہوتے ہیں


طریقہ واردات کچھ یوں ہوتا ہے کہ۔۔۔۔


- ابتداء اسلام پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا بلکہ مختلف اسلامی احکام کو سائنس اور لاجک کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ جان بوجھ کر ایسے دینی موضوعات پر بات کی جاتی ہے جو سائنس سے بھی ثابت شدہ ہیں.


اس طرح یہ ذہن سازی کی جاتی ہے کہ احکام دین سب کے سب سائنس سے مطابقت رکھتے ہیں اور جس چیز کی تصدیق سائنس کردے وہ یقیناً حق ہے


- اسکے بعد ایسے موضوعات کو کریدا جاتا ہے جو سائنس سے بالاتر ہیں، مثلآ وجود خدا، وحی کا علم، واقعہ معراج، وغیرہ جنکا تعلق خالصتاً ایمان بالغیب سے ہے، جو یقیناً حق ہیں مگر سائنس کی دسترس سے باہر ہیں


مگر چونکہ ذہن سازی یہ کی گئی ہے کہ معیار حق سائنس ہے، چنانچہ ان کلیدی عقائد کو مشکوک کیا جاتا ہے


- اسکے بعد معاملہ آگے بڑھتا ہے۔۔۔۔

 اور بات حضور اقدسﷺ کی ذاتی زندگی پر آتی ہے


ان معاملات کو غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے جنکی وضاحت عام ذہنی سطح سے نسبتاً بلند ہو


مثلاً، غلامی کا فلسفہ، مرد عورت میں مساوات، حضور اقدسﷺ کی شادیاں اور باندیاں، تعدد ازدواج، سیدہ عائشہ صدیقہ رض کی بوقت نکاح عمر وغیرہ


ایک راسخ العقیدہ مسلمان کیلئے یہ معاملات واضح ہیں لیکن کچے ذہن کے مسلمان بچے بچیاں جو دین سے لاعلم اور مغربی طرز زندگی سے مرعوب ہیں انکے لئے یہ باتیں نہایت پریشان کن اور ناقابل فہم ہیں


اور چونکہ دین اور علمائے دین سے تعلق ہے نہیں اسلئے قابل تشفی جواب کا کوئی راستہ نہیں


نتیجتاً وہ گوگل اور انٹرنیٹ سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں جہاں انہی ملحدین کی مختلف ویب سائٹس انکے شکوک کو یقین میں بدل دیتی ہیں


اس کے بعد ایمان تیزی سے رخصت ہوتا ہے


حج اور قربانی سے لیکر نکاح اور وراثت کے احکام تک اسلام کے ہر ہر حکم کو مغرب کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے اور بالآخر اسے ایک من گھڑت مذہب قرار دیکر خاموشی سے ترک کردیا جاتا ہے (العیاذ باللہ)


- کھلم کھلا اسلام کا مذاق اڑانا، حضورِ اقدسﷺ کی شان میں گستاخی اور خدا کے وجود سے انکار کا مرحلہ اسکے بعد آتا ہے


پھر یہ بچے بچیاں بھی خاموشی سے ایسی تنظیموں کے آلائے کار بن جاتے ہیں اور اپنے دوست احباب کو دین سے متنفر کرتے ہیں


یہ سب کچھ خاموشی سے ہمارے گرد بیٹھے 15-25 سال کے نوجوان Twitter، فیس بک وغیرہ پر کررہے ہیں


لیکن ہم بے خبر ہیں


سوال یہ ہے کہ اپنی اولاد کو اس سے کیسے بچایا جائے


اس سلسلے میں مندرجہ زیل امور کا خیال رکھیں


- اللہ تعالیٰ سے اپنے اور اپنی اولاد کیلئے سلامتی ایمان اور استقامت کی دعا کا اہتمام کریں


- خود بھی اور اولاد کو بھی وقتاً فوقتاً علماء کرام کی مجالس اور بزرگانِ دین کی صحبت میں لے جاتے رہیں تاکہ وہ ان سے مانوس ہوں اور اپنے معاملات میں ان سے رہنمائی حاصل کریں


- اولاد کو خود سے قریب کریں ،پیار دیں، انکے مسائل کو سنیں، سمجھیں اور حل کریں۔ ان سے اپنے معاملات میں مشورہ کریں، انکو اپنا رازدار بنائیں


اگر آپ انہیں دور رکھیں گے تو گمراہکن گروہ ان کو آسانی سے اپنے قریب کرلیں گے


- اپنے دین کو آہستہ آہستہ سیکھیں اور گھر میں اسکا تذکرہ رکھیں


- اگر بچے چھوٹے ہیں تو دنیوی تعلیم کے ساتھ انکی دینی تعلیم و تربیت کی بھی فکر کریں


- بغیر ضرورت شدیدہ بچوں کو اسمارٹ فون نہ دیں اور نہ خود رکھیں


- اگر دینا پڑے، تو شرائط کے ساتھ دیں، بے وقت استعمال پر پابندی رکھیں، رات کو تمام گھر کے فون اپنے کمرے میں جمع کوائیں، انکو اسکے صحیح استعمال کا طریقہ بتائیں


- بے وجہ سوشل میڈیا پر وقت گزارنے خود بھی بچیں اور اولاد کو بھی بچائیں


- بچوں کے سامنے ہر وقت فون استعمال کرنے سے گریز کریں


- کسی بھی شک یا وضاحت طلب معاملے میں انٹرنیٹ کی بجائے مستند علماء دین سے رہنمائی حاصل کریں


ایمان کو سلامتی کے ساتھ قبر میں لے جانا ایک مسلمان کی سب سے بڑی کامیابی ہے 


اپنی اولاد کو ایمان کے ڈاکوؤں سے بچائیں تاکہ ہماری آئیندہ نسلوں میں بھی دین باقی رہے


اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے، آمین

پاک ترک میڈیا فورم۔





 💚❤️❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚💚


جس طرح ریت میں پانی کے قطرے جذب ہو جاتے ہیں اور ان کا احساس بھی باقی نہیں رہتا ،،

اسی طرح ہمارے چند جملے کسی کے دل میں نشتر بن کر اتر سکتے ہیں اور دوسروں کے دل میں دکھ کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔۔

اسی لیے جب بھی کسی سے بات کریں تو یہ سوچ کر زبان سے الفاظ نکالیں کے جس طرح پانی کے چند قطرے ریت سے نہیں نکلے جا سکتے ، 

اسی طرح ایک دفعہ منہ سے نکلی ہوئی بات کا اثر بھی دل سے دوبارہ نہیں نکالا جاسکتا، لہذا کوئی بھی بات کرنے سے پہلے ضرور غور کرنا چاہیے۔۔


💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚

 

 💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚


مختصر وقت کی اچھی بات

شکل چاہے کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو اگر کردار اچھا نہیں تو آپ لوگوں کے دلوں میں جگہ نہیں بناسکتے.

پس کردار کی خوبصورتی پر محنت کیجیے کہ صورتیں فراموش کردی جاتی ہیں،لیکن اچھے اخلاق ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں..


💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚

 

 

 

 

 حدیث نمبر دس 

إِنَّ مِنْ خِيَارِكُمْ أَحْسَنَكُمْ أَخْلَاقًا

(صحيح البخاري | كِتَابُ الْمَنَاقِبِ.  | بَابُ صِفَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رقم الحدیث 3559)

 تم میں سب سے اچھے وہ لوگ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

 تشریح :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم میں ایمان کے بعد جن چیزوں پر بہت زیادہ زور دیا ہے ، اور انسان کی سعادت کو ان پر موقوف بتلایا ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اخلاق حسنہ اختیار کرے، اور اچھے اخلاق سے اپنے دین کی حفاظت کرےانسان کی زندگی  میں اخلاق کی بڑی اہمیت ہے اگر انسان کے اخلاق اچھے ہوں تو اس کی اپنی زندگی بھی قلبی سکون اور خوشگواری کے ساتھ گزرے گی اور دوسروں کے لئے بھی اس کا و جود رحمت اور چین کا سامان ہو گا ، اور اس کے برعکس اگر آدمی کے اخلاق برے ہوں، تو خود بھی وہ زندگی کے لطف ومسرت سے محروم رہے گا اور جن سے ان کا واسطہ اور تعلق ہو گا ان کی زندگیاں بھی بے مزا اور تلخ ہوں،یہ تو خوش اخلاقی اور بد اخلاقی کے وہ نقد و نیوی فائدے ہیں جن کا ہم آپ روز مرہ مشاہدہ اور تجربہ کرتے رہتے ہیں ، لیکن مرنے کے بعد والی ابدی زندگی میں ان دونوں کے نتیجے ان سے بہت زیادہ نکلنے والے ہیں ، آخرت میں خوش اخلاقی کا نتیجہ ارحم الراحمین کی رضا اور جنت ہے اور بد اخلاقی کا انجام اللہ کا غضب اور دوزخ کی آگ ہے۔ اللهم احفظنا




: مناسب لفظوں کا اِنتِخاب"


’’کھالو‘‘ کی جگہ ’’کھالیجئے‘‘، ’’میرا فیصلہ یہ ہے‘‘ کی جگہ ’’میری رائے یہ ہے‘‘، ’’میں یہ کہہ رہا تھا‘‘ کی جگہ ’’میں یہ عرض کررہا تھا‘‘، ”مجھے تم سے کام ہے“ کی جگہ ”مجھے آپ سے کچھ کام ہے“ یا” آپ کو تھوڑی زَحْمت دینی ہے“، ’’اندھے‘‘ کی جگہ” نابینا“، ’’بوڑھے‘‘ کی جگہ ’’بُزُرگ‘‘ ، ’’فلاں مرگیا‘‘ کی جگہ ’’فلاں کا اِنتِقال ہوگیا‘‘، ’’کیوں آئے ہو؟‘‘ کی جگہ’’ کیسے تشریف لائے؟‘‘ ، ’’مصیبت میں پڑگیا“ کی جگہ ’’آزمائش میں آگیا‘‘، ’’آپ غلط کہہ رہے ہیں ‘‘ کی جگہ ’’میری ناقص رائے یہ ہے کہ یہ بات اس طرح ہے ‘‘، ’’آپ میری بات نہیں سمجھے ‘‘ کی جگہ ’’شاید میں اپنی بات سمجھا نہیں پایا‘‘ وغیرہ استعمال کیجئے اور اس کے فوائد اپنی آنکھوں سے دیکھئے






Monday, December 14, 2020

Urdu Islamic Article: Lerki ka libas, Hijab, Anokhi Imdad, Hisab Kitab, Mukhtasar Amal, Pakistani Product, Maa, Behlool, Hazrat Junaid Baghdadi, Biwi ko satana tang kerna, Mot,

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 

 ✅ عورت کے لباس کی آٹھ شرائط

 


غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:


✔ 1- وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر یعنی سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں.


✔ 2- وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے خد و خال واضح کرے۔


✔ 3- باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے۔


✔ 4- وہ لباس خود بھی زينت کا باعث نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى اور كشيدہ كارى كى گئى ہو۔


✔ 5- اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو۔


✔ 6- وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو۔


✔ 7- وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو۔


✔ 8- لباس شہرت حاصل کرنے کا باعث نہ ہو۔


دیکھیں: "آداب الزفاف"از: البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور "حجاب المراۃ المسلمۃ" از: البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور "عودۃ الحجاب" ( 3 / 145 - 163 )۔


اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں ہے۔


┈••✾❀🕊💓🕊❀✾••┈┈•





انوکھی امداد ایسی بھی!


"محلے میں بچوں کو عربی و ناظرہ قرآن پڑھانے والی باجی کے گھر آٹا اور سبزی نہیں ہے، مگر وہ باپردہ خاتون باہر آکر مفت راشن والی لائن میں لگنے سے گھبرا رہی ہیں."


فری راشن تقسیم کرنے والے نوجوانوں کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی، انہوں نے متاثرین میں فری سبزی و آٹا کی تقسیم فوراً روک دیا. پڑھے لکھے نوجوان تھے. آپس میں رائے مشورہ کرنے لگے. بات چیت میں طے ہوا کہ نہ جانے کتنے سفید پوش اپنی آنکھوں میں ضرورت کے پیالے  لیے فری راشن کی لائنوں کو تکتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنے کی خاطر قریب نہیں پھٹکتے.


مشورے کے بعد نوجوانوں نے فری راشن کی تقسیم کا بورڈ بدل دیا اور دوسرا بورڈ آویزاں کردیا. 


ہر طرح کی سبزی 15 روپے کلو، مسالہ فری، آٹا، چاول، دال 15 روپے کلو. خصوصی آفر. 


اعلان سنتے ہی مفت خور بھکاریوں نے اپنی راہ لی، سفید پوش اور لاچار طبقہ ہاتھوں میں دس بیس روپئے کے ساتھ خریداری کے لئے آگیا. قطار میں کھڑا ہونے سے اسے گھبراہٹ نہ ہوئی، نہ ہلڑ بازی ہوئی. 

لائن میں ایک طرف بچوں کو قرآن پڑھانے والی باپردہ باجی بھی مٹھی میں معمولی سی رقم لیے اعتماد کے ساتھ نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھیں. ان کی باری آئی پیسے دیئے، سامان لیا اور اطمینان سے گھر آگئیں. سامان کھولا، دیکھا ان کے ذریعہ ادا کی گئی پوری قیمت سنتِ یوسف کی طرح ان کے سامان میں موجود ہے، لیکن انہیں خبر تک نہ ہو سکی تھی کہ کس نے وہ پیسے کب ان کے سامان میں رکھا تھا.

نوجوان ہر خریدار کے ساتھ یہی کررہے تھے. یقیناً علم کو جہالت پر مرتبہ حاصل ہے. 


مدد کیجیے، پر عزتِ نفس مجروح نہ کیجیے!! ضرورت مند سفید پوشوں کا خیال رکھئے، عزت دار مساکین کو عزت دیجیے.

یقین رکھئے اللہ تعالیٰ آپ پر زیادہ بااختیار ہے.

صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.






معاملہ بڑا حساس اور نازک ہے!!🙄🤐

حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان کرتے وقت بسا اوقات شدت تاثر سے ان پر کئی کئی بار بے ہوشی طاری ہوجاتی تھی۔حضرت معاویہ ؓ کو یہ حدیث پہنچی تو اس قدر روئے کہ بے ہوش ہوگئے۔
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ :👇

"روز قیامت جس شخص کے خلاف سب سے پہلے جہنم کا فیصلہ ہوگا وہ ایک شہید ہوگا ، اسے پروردگار کے سامنے حاضر کیا جائے گا ، ﷲ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائیگا وہ ان کا اقرار کرے گا ، پھر ﷲ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار!
میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا، یہاں تک کہ شہید ہوگیا ، اس طرح اپنی عزیز جان بھی تیرے لئے قربان کردی ۔ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے، تُونے تو جہاد اس لئے کیا تھا کہ تیری بہادری کے چرچے ہوں، سو یہ دنیا میں ہوچکے۔ پھر اس کے بار ے میں حکم ہوگا اور اسے اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اسی کے ساتھ ایک دوسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے دین کا علم سیکھا اور لوگوں کو سکھایا ہوگا اور قرآن بھی خوب پڑھا ہوگا، ﷲ تعالیٰ اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، سوال ہوگا کہ تُونے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟
وہ کہے گا کہ پروردگار ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور تیری رضا و خوشنودی کے لئے قرآن بھی پڑھا (الغرض زندگی بھر قرآن کی تعلیم اور دین کی نشر و اشاعت میں لگارہا )
ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے ۔تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قاری کہیں یہ تو دنیا میں ہوچکا۔ پھر اس کے بارے میں بھی عدالت ِ الٰہی سے یہ فیصلہ صادر ہوگا کہ اسے بھی اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔

اسی طرح ایک اور شخص حاضر کیا جائے گا جسے ﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کا مال اور خوب دولت سے نوازا ہوگا، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا ، ﷲ پوچھے گا کہ تُونے ان سے کیا کام لیا اور ان کا کیا حق ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار !
جس راستہ اور جس کام میں مال خرچ کرنا تجھے پسند ہے میں نے وہاں تیرا دیا ہوا مال خوب خرچ کیا تاکہ تو راضی ہوجائے ۔ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے ، تُونے تو مال اس لئے خرچ کیا تھا کہ تجھ کو سخی کہیں، دنیا میں یہ صلہ تجھے مل چکا، پھر اس کے بارے میں بھی یہی حکم ہوگا اور اسے اندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(مسلم )۔
اسی طرح حضرت جندب ؓ ایک روایت یوں نقل کرتے ہیں، رسول ﷲنے ارشاد فرمایا : "جو شخص ( کوئی عمل ) سنائے اور شہرت دینے کے لئے کرے تو ﷲ اس کو شہرت دے گا اور جو کوئی کام دکھانے کے لئے کرے ، ﷲاس کو خوب دکھا دے گا ۔"(بخاری)۔
اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ دنیا میں بھی یا آخرت میں جہنم میں داخل کئے جانے سے پہلے سرِ محشر ایسے لوگوں کو ان کی بد باطنی ظاہر فرما کر رسوا کرے گا کہ یہ لوگ اپنے عمل میں مخلص نہ تھے بلکہ شہرت و نمود اور ریا کاری سے نیک کام کرتے تھے۔







حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ
 کا ایک عجیب عارفانہ نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ حاضرین مجلس سے فرمانے لگے، آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے، میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں، کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:

پہلا اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو، وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو، دل میں یہ کہا کرو، اللہ جی ۔۔ 1۔ اس کام میں میری مدد فرمائیں ۔۔۔  2۔ میرے لئے آسان فرما دیں ۔۔۔ 3۔ عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔۔۔ 4۔ اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔

یہ چار مختصر جملے ہیں مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا۔ اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔

دوسرا انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔۔ 1۔ طبیعت کے مطابق ۔۔۔ 2۔ طبیعت کے خلاف ۔۔۔ 3۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد ۔۔۔ 4۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔ 

جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے، اس پر "اللهم لك الحمد ولك الشكر" کہنے کی عادت ڈالو۔ جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے، تو "انا لله وانا اليه راجعون" کہو۔ ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا  "استغفراللہ" کہو۔ مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو: "اللهم اِنى أعوذ بك من جميع الفتن ما ظهر منها وما بطن"۔

شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔ نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔ استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔ اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہو گئی۔

تیسرا شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔ اور چوتھا تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو اللہ جی ۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔ چند دن یہ نسخہ استعمال کرو، پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے، اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں!






پاکستانی چائے:
1. ٹپال دانے دار
2. وائیٹل چائی
3. میزان چائے

پاکستانی موٹرسائیکل : 
1. یونائیٹڈ
2. پاور 
3. سپر پاور
4. راوی
5. روڑ پرنس

پاکستانی الیکٹرونکس مصنوعات:
1. اورینٹ
2. پیل
3. ہائیر
4. اورنج
5. ڈوالینس
6. ویوز

پاکستانی سوپ(صابن):
1. کیپری
2. تبت
3. انگلش نیم
4. وائٹل 

پاکستانی مشروبات
1. گورمے کولا
2. پاک کولا
3. کولا نیکسٹ

پاکستانی ٹوٹھ پیسٹ:
1. میڈی کیم
2. انگلش
3. سوڈا وائیٹ

پاکستانی ملک پروڈکٹس:
1. ڈے فریش
2. حلیب
3. Adam
4. Nurpur 
5. Good milk
6. Millac

پاکستانی چاکلیٹس:
1. Novella
2. Jubilee
3. Now
4. Sonnet

پاکستانی موبائل فون: 
1. کیو موبائل 
2. Rivo Mobile
3. کلب موبائل  

پاکستانی شیونگ پروڈکٹس:
1. Treet
2. Tibet

پاکستانی کاسمیٹکس:
1. سیمسول
2. Tibet
3. Olivia
4. English
5. Medora
6. بائیو آملہ
7. Osem

پاکستانی بیکری پروڈکٹس:
1. نیشنل
2. Young's
3. Shangrilla/Fruiti-O
4. Fruitien
5. English
6. Mayfair
7. پاپولر/مازا

پاکستانی شہد:
1. Al Asal
2. ہاشمی
3. Young's

پاکستانی پیٹرول/ ڈیزل کمپنیز:
1. PSO
2. HASCOL
3. ATTOCK

#پاکستانی_بنو ☛☛
#پاکستانی_خریدو☛☛
#پروموٹ_پاکستان☛☛
#پروموٹپاکستانیمصنوعات ☛☛
#پاکستانزندہباد





مجھے یاد ہے بچپن میں جب کبھی ہمیں رات میں نیند نہیں آتی تو ہم اٹھ کر امی جان کے پاس چلے جایا کرتے تھے اور انہیں نیند سے بیدار کر کے کہا کرتے تھے
"امی مجھے نیند نہیں آرہی" امی فوراً نیند سے بیدار ہو کر پو چھتیں کیوں بیٹا کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟ 
پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتیں, پیٹ میں تو درد نہیں نا؟
اور تسلی کر لینے کے بعد اکثر اپنے پاس سلا لیا کرتیں یا جب تک ہم چاہتے ہمارے پاس بیٹھتیں. 
پھر ہم بڑے ہو گئے اور رات کو بے سُد ہو کر بے فکری کی نیند سونے لگے اور امی بوڑھی ہو گئیں انہیں اکثر راتوں کو نیند نہیں آتی اول تو ماں اپنے بچے کے آرام میں مخل نہیں ہوتی مگر کبھی وہ یہ غلطی کر ہی دے تو عموماً بچے ماں کو انٹی ڈپریشن یا نیند کی گولی کھاکر سونے کی تلقین کرتے ہیں یا اگر وہ بیمار ہوں تو روٹین کی دوائیں وغیرہ لینے کی ہدایت کر دیتے ہیں۔
در اصل بچپن میں اور بڑھاپے میں کافی مماثلت ہے دونوں عمروں میں کسی انجانی بات پر دل مضطرب ہو جاتا ہے۔
مگر خوش نصیب بچوں کا یہ اضطراب انکی مائیں اپنے ہاتھوں کے لمس سے ہی دور کر دیتی ہیں اکثر کسی بات پر روتے ہوئے بچے کا سر جب ماں اپنی گود میں رکھ کر ہاتھوں کی انگلیوں سے سہلہیں
 کرتی ہے تو یک دم بچہ سکون پا جاتا ہے شایدہم سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہمیشہ بے چینی کا علاج گولیاں, دوائیں نہیں ہوتیں کبھی کبھی ماؤں کو بھی ہمارے ہاتھوں کے لمس درکار ہوتے ہیں..
کبھی کبھی ان کے ناتواں جسم ہمارے مضبوط ہاتھوں سے آرام کے متلاشی ہوتے ہیں.. 
سوچیے ہم میں سے کتنے ایسے بچے ہیں جو راتوں کو اٹھ کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ پر سکون نیند سو رہے یا بڑھاپے کی ویران راتوں میں اپنے بچپن کو, 
اپنی ماں کے ہاتھوں کے لمس کو یاد کر رہے ہیں !!!




بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سے پوچھا
 شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ھیں؟

کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا،
لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ھاتھ سے کھانا،
خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا،
 اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ھاتھ دھونا۔ 

بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ھواور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وھاں سے اٹھ کر آگے چل دیئے

شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا،
 سرکار وہ دیوانہ ھے لیکن شیخ صاحب پھر وھاں پہنچے پھر سلام کیا

بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ھو؟ 
کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔
 بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ھوں گے

جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔
 بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔

شیخ صاحب پھر وھاں جا پہنچے سلام کیا بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وھی سوال کیا کون ھو؟

شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ھی بتا دیں؟ 

کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ھوئے ھیں۔

بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ھی چاھتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ھے

بہلول نے کہا 
جو آداب آپ بتا رھے ھيں وہ فرع ھیں اور اصل کچھ اور ھے، اصل یہ ھے کہ جو کھا رھے ھیں وہ حلال ھے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ھی لائےگا نور و ہدایت نہیں، 

شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ

بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ھے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیہودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا

سونے میں اصل یہ ھے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رھے،

دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رھے،
کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رھے۔۔






اسلام آباد میں بینک مینجر کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وڈیو بن گئی۔ وائرل ہوئی۔ مینجر بوائے مشہور ہوگیا۔ انتظامیہ حرکت میں آئی۔ ملزم کو گرفتار کیا۔ بینک نے نوکری سے نکال دیا اور ہمیشہ کیلئے کسی بھی بینک کی نوکری سے معزول کر دیا گیا۔ سُبکی اور ذلت کا اندازہ خود ہی لگا لیں۔ اور ہو سکتا ہے یہ بداخلاقی وہ پہلے بھی کرتا ہو مگر ربّ نے اسکی رسی دراز کی ہو۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ  ایک  دم  نہیں  ہوتا
میجر طفیل شہید سے اسکے ایک سینئر نے سوال کیا: "طفیل، کیا حال ہے؟ "
میجر صاحب نے کیا ہی عمدہ جواب دیا:
"سر، اللّہ تعالیٰ نے عیب چھپا کر لوگوں میں معزز بنا رکھا ہے۔"
جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہا ہے چند ثانیے رک جائے اور سوچے کہ ذات باری تعالٰی نے اسکے کیسے کیسے عیوب چھپا کر اسے لوگوں میں معزز بنا رکھا ہے!!
ربّ نے بینک منیجر والے انجام سے اسلئے محفوظ رکھا کہ دنیا میں وڈیو نہیں بنی۔
اپنی اور سب کی یاد دہانی کیلئے عرض کروں کہ وڈیو بن رہی ہے۔ بہت ہائی کوالٹی ریزولوشن والے کیمرے سب کچھ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اس دن سب سامنے کر دیا جائے گا جب ماں اپنی اولاد کو نہیں پہچانے گی۔
"تم سب نے لوٹ کر میرے ہاں ہی آنا ہے تب میں تمہیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔" (العنکبوت: ۸)






بیویوں کو ستانے والوں کا عبرتناک انجام


حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
اپنی بیوی کے پاس مسکراتے ہوئے آنا ، یہ سنت آج چھوٹی ہوئی ہے، جو بے دین ہیں وہ فرعون بن کر آتے ہیں، بڑی بڑی مونچھیں تان کرکے آنکھیں لال کرکے، تاکہ گھر والے رعب میں رہیں، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے بیوی کچھ کہہ دے، اس لیے اس پر رعب جمانے کے لئے نمرود وفرعون بن کر آتے ہیں۔

اور جو دیندار ہیں وہ گویا بایزید بسطامی اور خواجہ معین الدین چشتی اور بابا فرید الدین عطار بن کر آتے ہیں، مراقبہ میں آنکھیں بند کیے ہوئے، گویا عرش پر رہتے ہیں، زمین کی بات تو جانتے ہی نہیں، بیوی کی طرف تو محبت بھری نگاہ سے دیکھے گے ہی نہیں، بات بات پر جھڑک دینا، وہ بیچاری بات کرنا چاہتی ہے، یہ سرکار تسبیح لیے بیٹھے ہیں۔

دن بھر وہ بیچاری آپ کی منتظر ہے کہ اب میرا شوہر آئے گا تو اس سے دل بہلاوں گی، اور آپ گھر آتے ہی تسبیح لے کر بیٹھ گئے یا آتے ہی ٹیلیفون پر دوستوں سے باتوں میں ھوں یا کاروبار کی فکر میں لگ گئے، یا سوالات کا انبار لگادیا، یہ کام کرلیا، میں نے کہا تھا، یہ ہوگیا ؟ اس کا کیا ہوا ؟ کیوں نہیں ہوا ؟ اتنی دیر سے کیا کرتی رہی ؟ وغیرہ۔

یاد رکھیں یہ دونوں بیان کردہ طرز عمل خلاف سنت ہیں۔

گھر میں اپنی بیوی کے پاس جائیں تو مسکراتے ہوئے جائیں، اس سے باتیں کریں، اس کے کاموں میں ہاتھ بٹاکر سنت زندہ کیجئے، اور اللہ تعالی کو خوش کیجئے، تسبیحات ونوافل سے زیادہ ثواب والا کام اس وقت یہ ہے کہ اس کا حق ادا کیجئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : کہ سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا وہ ہے، جس کے اخلاق بیوی کے ساتھ اچھے ہوں۔

ہم دوستوں میں تو خوب ہنسیں گے، خوب لطیفے سنائیں گے، اور اپنی بیوی کے پاس جاکر سنجیدہ بزرگ بن جائیں گے، منہ سکیڑے ہوئے جیسا کہ ہنسنا جانتے ہی نہیں ہیں۔

مزید فرماتے ہیں : کہ اپنا تجربہ بتارہا ہوں، کہ جتنے لوگوں نے اپنی بیویوں کو ستایا اور رلایا، اور ان کی ٹھنڈی آہ کھنچوائی، میں نے ان کو دیکھا کہ کو فالج کا اٹیک ہوا، کسی کو کینسر ہوا، فرماتے ہیں کہ آنکھوں سے دیکھا ہوا حال بتارہا ہوں اور جس نے اللہ کی بندیوں پر رحم کیا، وہ اتنا جلدی ولی بنا جس کی کوئی حد نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب

آپ اب خود سوچ لیں کہ اللہ کی بندی کو جائز حدود میں خوش رکھ کر اللہ کا ولی بننا ہے یا پھر اللہ کی بندیوں کو بلاوجہ تکلیفیں دے کر اللہ کو ناراض کرنا ہے ؟؟؟
اللہ ہم سب کی اصلاح حال کروا کر دنیا سے جانے کی توفیق نصیب فرمائے آمین





❁ سلسلہ نمبر 41 ❁

🌹 ملفوظات طیبات🌹
 
🤲 خانقاہ حفیظیہ مکیہ کراچی 🤲
 ╮•┅═۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ❁🕋
https://www.facebook.com/pg/Ilm-e-Deen-106385124369385/jobs/

❁۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ═┅•╭
     💖 طیب اور خبیث 💖
              (گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔)

ایک شخص نے مجھے اپنا واقعہ سُنایا آپ میں سے کچھ حضرات اس کا نام جانتے ہیں۔ میں آپ کو اس کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ اس کا بیان ہے کہ میں اللہ اللہ کیا کرتا تھا۔ اس کی برکت سے میرے دل میں ایک چراغ روشن تھا ۔ ایک دن میں پانی والے تالاب کی جانب سے آ رہا تھا ، سُنہری مسجد کے قریب ایک ہندو نوجوان لڑکی پر میری نظر پڑ گئی ۔  نظر کا پڑنا تھا کہ چراغ بجھ گیا، پھر آج تک روشن نہیں ہوا۔ ۔ ۔ وہ تو ایسا نازک مزاج محبوب ہے کہ غیر پر نظر پڑ جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔، میلانِ طبع اپنی بس کی بات نہیں ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی طبعیت کو بُرائی سے روک لے۔ جیسے منہ زور گھوڑا ہو تو وہ روز لگائے گا، مگر سوار اس کو روکے گا۔ ۔ ۔ 
✍️🌹 اعمال طیبہ سے عامل مقبول بنتا ہے اور اعمال خبیثہ سے عامل مردور ہو جاتا ہے ۔
   اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ' لاَ یَقْبَلُ اِلاَّ طَـیِّبًا
( بے شک اللہ پاک ہے اور پاک چیزوں کو ہی قبول فرماتا ہے ) اللہ تعالیٰ کو تو انسان بھی طیب اور اعمال بھی طیب مقبول ہیں۔ 

سورۃ النور رکوع نمبر 3 پارہ نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔  
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ
(خبیث عورتیں خبیث مردوں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں۔ )

بعض عورتیں ایسی صفت ماب ہوتی ہیں کہ وہ اپنے سایہ کو بھی غیر مرد سے چھپاتی ہیں۔ چنانچہ دہلی میں پُرانے زمانے کے شُرفاء کے ہاں یہی تمدن تھا کہ عورتیں ڈولی میں گھروں سے باہر جاتی تھیں ۔ کہار (ڈولی اٹھانے والے مزدور) ڈولی کو ڈیوڑھی میں رکھ کر باہر چلے جاتے تھے ، عورت جب اندر بیٹھ جاتی تو وہ اندر آتے اور ڈولی اُٹھاتے ۔ جس گھر جانا ہوتا تھا وہاں پہنچ کر بھی اسی طرح ڈیوڑھی میں رکھ کر باہر چلے جاتے تھے تو عورت ڈولی سے نکل کر اندر چلی جاتی تھی ۔ اب تو جس نے ایمان بچانا ہو وہ آنکھیں نیچی کر لے۔ نوجوان لڑکیاں بناؤ سنگھار کر کے بے پردہ ہر جگہ گھومتی پھرتی ہیں۔ 
✍️🌹 انسان کے جسم پر جو غذا وہ کھاتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کابل کا پٹھان چونکہ دُنبے کھاتا ہے دُنبے میں چربی بہت ہوتی ہے اس لئے یہ دُنبے کھانے والا کابل کا پٹھان پوہ، ماگھ (سخت سردی کے مہینے) میں بھی اپنے اندر گرمی محسوس کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی ان ایام میں کمرے اندر بھی سردی سے ٹھٹھرتا ہوگا۔  ✍️ بالکل اسی طرح مال میں بھی اثر ہے اگر مال طیب ہوگا تو اس کا اثر بھی طیب ہوگا۔ 

حاجی مولا بخش صاحب ایک یونٹ بننے تک حکومتِ سندھ میں وزیر تھے۔ وہ اللہ اللہ کیا کرتے تھے ، وہ پہلے بھی حکومتوں میں وزیر رہ چکے تھے ۔ ان کا بیان ہے کہ ایک نواب صاحب نے اپنا ایک نمایندہ میرے پاس بھیجا اور اس نے آکر کہا کہ آپ نواب صاحب کا یہ کام کر دیں تو وہ آپ کی خدمت کر دیں گے۔ میں نے اُن سے کہا کہ "میں نواب صاحب کا کام کردوں گا مگر لوں گا کچھ نہیں"۔  اس سے ان کی تسلی نہ ہوئی، اس نے پھر وہی کہا ۔ میں نے پھر وہی جواب دیا۔ تیسری دفعہ جب اس نے کہا تو میں نے اس کو جواب دیا کہ "میں اپنی بیوی سے زنا نہیں کروانا چاہتا۔ جو لوگ رشوت لیتے ہیں ان کی بیویاں زنا کرواتی ہیں"۔ دیکھئے کہ یہ ہے مالِ خبیثہ کا اثر کہ انسان کو اعمالِ خبیثہ کی طرف لے جاتا ہے۔
 
ان کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ان کی بیوی لاہور آئی تو انار کلی میں ان کا بٹوہ کہیں کھو گیا۔ بٹوے میں کچھ سونا اور نوٹ تھے۔ اس نے جب وآپس جا کر یہ واقعہ سُنایا تو ان کا لڑکا کہنے لگا کہ ابا جی آپ تو کہا کرتے ہیں کہ "میری آمدنی حلال کی ہے اس لئے کبھی ضائع نہیں کی جا سکتی" یہ بٹوہ کیسے ضائع ہو گیا۔۔۔؟ حاجی مولا بخش صاحب کا بیان ہے کہ میں خاموش رہا۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ کچھ دنوں بعد مولا بخش شکار پور کے پتے پر ایک کارڈ آیا اس پر لکھا ہوا تھا کہ ایک بٹوہ ملا ہے وہ اگر آپ کا ہے تو اشیاء کی فہرست بتلا کر لے سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے فہرست بھیجی تو جو کچھ بٹوے میں تھا مل گیا۔ اتفاقاً اس میں ان کے نام کا چھپا ہوا کارڈ بھی تھا جس پر صرف ان کا نام اور شکار پور لکھا ہوا تھا۔ بٹوہ ایک ہندو وکیل کی لڑکی کو ملا اس نے اپنے باپ کو دے دیا اگر وہ چاہتے تو ہضم بھی کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔!

✍️ میں آپ سے ہمیشہ عرض کیا کرتا ہوں کہ میرا ایمان ہے کہ گورنمنٹ کے ہر محکمے میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سُنتا ہے۔ ان کی تعداد بمشکل ایک سو میں پانچ ہو گی۔
 
 ✍️🌹 خبیث اللہ تعالیٰ کے دروازے سے مردود ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت نہیں بنائی، وہ تو اس نے اپنے پاکیزہ بندوں کے لئے مہمان خانہ بنایا ہے۔ 
ایک ہی گھر میں بعض انسان طیب اور بعض خبیث یو تےہیں۔ اس دُنیا میں خبیثوں اور طیبوں کی مخلوط آبادی ہے۔ آگے چل کر تفریق کر دی جائے گی۔ سورۃ التحریم رکوع نمبر 3 پارہ 28 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
 ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ 
( اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کی مثال بیان فرماتےہیں۔ کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں میں سے دو کے نکاح میں تھیں ۔ پس ان دونوں نے (دین کے معاملے میں) ان دونوں نیک بندوں کی خیانت کی، پس وہ دونوں ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کچھ بھی نہ بچا سکے  اور ان سے کہا گیا کہ دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہو جاؤ ۔
اب دیکھیئے حالانکہ کہ دونوں کے خاوند امام الطیبین ہیں مگر ان کی بیویاں امامتہ اللخبیثین ہیں۔لیکن میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ آگے چل کر کوئی بھی خبیثیبن کی بستی میں طیب نہ ہوگا اور نہ ہی طیبین کی بستی میں کوئی خبیث ہو گا۔ ۔۔ اس قاعدہ اور کلیہ کہ صرف ایک ہی استثناء ہے ۔ بعض انسانوں کو جن کے اندر نورِ توحید ہوگا علاج کی غرض سے دوزخ میں کچھ عرصہ رکھا جائے گا وہ اپنی سزا بُھگت کر نور توحید کی برکت سے دوزخ سے نکل آئیں گے۔ اور جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ جس طرح مریض کو ہسپتا ل میں رکھا جاتا ہے بالکل اسی طرح دوزخ میں بھی مختلف وارڈز ہوں گے۔ وہاں ان کی کھالیں جل جائیں گی۔ اور وہاں سے نکنے کے بعد "نہر الحیوۃ" میں ڈالے جائیں گے۔ اورپھر وہاں سے نکال کر بہشت میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ 
                     (جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ )

مستند دینی پوسٹ کے لئے
👇👇🕋📖🎤📚📢👇
اصلاح قلب گروپ لنک جوائن اور شیئر کریں





فیس نک لنک لائک اور شیئر کریں






👈 موت کسی کو بتا کر نہیں آتی 👉

بس تیزی سے اپنی منزل کی طرف جارھی تھی کہ یکایک ڈرائیور نے بریک لگائی اور کنڈیکٹر سے مخاطب ہوا.. "سواری چڑھالو.."

کنڈیکٹر نے دروازہ کھول کر باہر دیکھا.. وھاں کوئی موجود نہیں تھا.....
سڑک دور دور تک ویران تھی.. اس نے حیرت سے ڈرئیور کی طرف دیکھا.. پھر آواز لگائی.. "باہر کوئی نہیں ہے استاد.. جانے دو....."

اسکے جانے دو کے جواب میں بس جب آگے نہ بڑھی تو اس کی حیرت میں مزید اضافہ ھوگیا..
سواریاں بھی ڈرائیور کو دیکھنے لگیں لیکن وہاں بالکل خاموشی تھی..
کنڈیکٹر جب اس کے پاس آیا تو اچھل پڑا....
کیونکہ ڈرائیور کا چہرہ بتارھا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں..!!

موت نہ کسی سے پوچھ کر آتی ہے اور نہ کسی کو بتاکر آتی ہے پھر بھی ہم ہر وقت گناھوں میں مشغول ہیں...؟

ہم میں سے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو کانوں میں ہیڈ فونز لگا کر ہر وقت گانوں کی دھن میں مست رھتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو رات کو سونے کے وقت گانے سنتے سنتے سوجاتے ہیں..

اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر وقت فلم اور ڈراموں کے حوالے ہیں.. اس دوران نہ نماز کا ھوش نہ تلاوت کا شوق نہ ذکر واذکار کا ذوق..
ذرا سوچیئے 
اس حالت میں اگر خدانخواستہ ھماری موت واقع ھوجاۓ تو ہمارا کیا حشر ہو گا..؟

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے. آمین