Showing posts with label lerki ka libas. Show all posts
Showing posts with label lerki ka libas. Show all posts

Monday, December 14, 2020

Urdu Islamic Article: Lerki ka libas, Hijab, Anokhi Imdad, Hisab Kitab, Mukhtasar Amal, Pakistani Product, Maa, Behlool, Hazrat Junaid Baghdadi, Biwi ko satana tang kerna, Mot,

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 

 ✅ عورت کے لباس کی آٹھ شرائط

 


غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:


✔ 1- وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر یعنی سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں.


✔ 2- وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے خد و خال واضح کرے۔


✔ 3- باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے۔


✔ 4- وہ لباس خود بھی زينت کا باعث نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى اور كشيدہ كارى كى گئى ہو۔


✔ 5- اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو۔


✔ 6- وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو۔


✔ 7- وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو۔


✔ 8- لباس شہرت حاصل کرنے کا باعث نہ ہو۔


دیکھیں: "آداب الزفاف"از: البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور "حجاب المراۃ المسلمۃ" از: البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور "عودۃ الحجاب" ( 3 / 145 - 163 )۔


اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں ہے۔


┈••✾❀🕊💓🕊❀✾••┈┈•





انوکھی امداد ایسی بھی!


"محلے میں بچوں کو عربی و ناظرہ قرآن پڑھانے والی باجی کے گھر آٹا اور سبزی نہیں ہے، مگر وہ باپردہ خاتون باہر آکر مفت راشن والی لائن میں لگنے سے گھبرا رہی ہیں."


فری راشن تقسیم کرنے والے نوجوانوں کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی، انہوں نے متاثرین میں فری سبزی و آٹا کی تقسیم فوراً روک دیا. پڑھے لکھے نوجوان تھے. آپس میں رائے مشورہ کرنے لگے. بات چیت میں طے ہوا کہ نہ جانے کتنے سفید پوش اپنی آنکھوں میں ضرورت کے پیالے  لیے فری راشن کی لائنوں کو تکتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنے کی خاطر قریب نہیں پھٹکتے.


مشورے کے بعد نوجوانوں نے فری راشن کی تقسیم کا بورڈ بدل دیا اور دوسرا بورڈ آویزاں کردیا. 


ہر طرح کی سبزی 15 روپے کلو، مسالہ فری، آٹا، چاول، دال 15 روپے کلو. خصوصی آفر. 


اعلان سنتے ہی مفت خور بھکاریوں نے اپنی راہ لی، سفید پوش اور لاچار طبقہ ہاتھوں میں دس بیس روپئے کے ساتھ خریداری کے لئے آگیا. قطار میں کھڑا ہونے سے اسے گھبراہٹ نہ ہوئی، نہ ہلڑ بازی ہوئی. 

لائن میں ایک طرف بچوں کو قرآن پڑھانے والی باپردہ باجی بھی مٹھی میں معمولی سی رقم لیے اعتماد کے ساتھ نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھیں. ان کی باری آئی پیسے دیئے، سامان لیا اور اطمینان سے گھر آگئیں. سامان کھولا، دیکھا ان کے ذریعہ ادا کی گئی پوری قیمت سنتِ یوسف کی طرح ان کے سامان میں موجود ہے، لیکن انہیں خبر تک نہ ہو سکی تھی کہ کس نے وہ پیسے کب ان کے سامان میں رکھا تھا.

نوجوان ہر خریدار کے ساتھ یہی کررہے تھے. یقیناً علم کو جہالت پر مرتبہ حاصل ہے. 


مدد کیجیے، پر عزتِ نفس مجروح نہ کیجیے!! ضرورت مند سفید پوشوں کا خیال رکھئے، عزت دار مساکین کو عزت دیجیے.

یقین رکھئے اللہ تعالیٰ آپ پر زیادہ بااختیار ہے.

صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.






معاملہ بڑا حساس اور نازک ہے!!🙄🤐

حضرت ابوہریرہ ؓ اس حدیث کو بیان کرتے وقت بسا اوقات شدت تاثر سے ان پر کئی کئی بار بے ہوشی طاری ہوجاتی تھی۔حضرت معاویہ ؓ کو یہ حدیث پہنچی تو اس قدر روئے کہ بے ہوش ہوگئے۔
حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ :👇

"روز قیامت جس شخص کے خلاف سب سے پہلے جہنم کا فیصلہ ہوگا وہ ایک شہید ہوگا ، اسے پروردگار کے سامنے حاضر کیا جائے گا ، ﷲ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائیگا وہ ان کا اقرار کرے گا ، پھر ﷲ تعالیٰ پوچھے گا کہ تم نے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار!
میں نے تیرے راستہ میں جہاد کیا، یہاں تک کہ شہید ہوگیا ، اس طرح اپنی عزیز جان بھی تیرے لئے قربان کردی ۔ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے، تُونے تو جہاد اس لئے کیا تھا کہ تیری بہادری کے چرچے ہوں، سو یہ دنیا میں ہوچکے۔ پھر اس کے بار ے میں حکم ہوگا اور اسے اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

اسی کے ساتھ ایک دوسرے شخص کو لایا جائے گا جس نے دین کا علم سیکھا اور لوگوں کو سکھایا ہوگا اور قرآن بھی خوب پڑھا ہوگا، ﷲ تعالیٰ اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا، سوال ہوگا کہ تُونے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا ؟
وہ کہے گا کہ پروردگار ! میں نے علم سیکھا اور دوسروں کو بھی سکھایا اور تیری رضا و خوشنودی کے لئے قرآن بھی پڑھا (الغرض زندگی بھر قرآن کی تعلیم اور دین کی نشر و اشاعت میں لگارہا )
ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے ۔تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تجھے عالم کہیں اور قاری کہیں یہ تو دنیا میں ہوچکا۔ پھر اس کے بارے میں بھی عدالت ِ الٰہی سے یہ فیصلہ صادر ہوگا کہ اسے بھی اوندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے۔

اسی طرح ایک اور شخص حاضر کیا جائے گا جسے ﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کا مال اور خوب دولت سے نوازا ہوگا، وہ بھی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا ، ﷲ پوچھے گا کہ تُونے ان سے کیا کام لیا اور ان کا کیا حق ادا کیا ؟ وہ کہے گا کہ پروردگار !
جس راستہ اور جس کام میں مال خرچ کرنا تجھے پسند ہے میں نے وہاں تیرا دیا ہوا مال خوب خرچ کیا تاکہ تو راضی ہوجائے ۔ﷲ تعالیٰ فرمائے گا کہ تُو جھوٹ کہتا ہے ، تُونے تو مال اس لئے خرچ کیا تھا کہ تجھ کو سخی کہیں، دنیا میں یہ صلہ تجھے مل چکا، پھر اس کے بارے میں بھی یہی حکم ہوگا اور اسے اندھے منہ گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"(مسلم )۔
اسی طرح حضرت جندب ؓ ایک روایت یوں نقل کرتے ہیں، رسول ﷲنے ارشاد فرمایا : "جو شخص ( کوئی عمل ) سنائے اور شہرت دینے کے لئے کرے تو ﷲ اس کو شہرت دے گا اور جو کوئی کام دکھانے کے لئے کرے ، ﷲاس کو خوب دکھا دے گا ۔"(بخاری)۔
اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ ﷲ تعالیٰ دنیا میں بھی یا آخرت میں جہنم میں داخل کئے جانے سے پہلے سرِ محشر ایسے لوگوں کو ان کی بد باطنی ظاہر فرما کر رسوا کرے گا کہ یہ لوگ اپنے عمل میں مخلص نہ تھے بلکہ شہرت و نمود اور ریا کاری سے نیک کام کرتے تھے۔







حضرت ڈاکٹر عبد الحئی عارفی رحمتہ اللہ علیہ
 کا ایک عجیب عارفانہ نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دفعہ حاضرین مجلس سے فرمانے لگے، آپ کہاں لمبے لمبے مراقبے اور وظائف کرو گے، میں تمہیں اللہ کے قرب کا مختصر راستہ بتائے دیتا ہوں، کچھ دن کر لو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے، قرب کی منزلیں کیسے طے ہوتی ہیں:

پہلا اللہ پاک سے چُپکے چُپکے باتیں کرنے کی عادت ڈالو، وہ اس طرح کہ جب بھی کوئی جائز کام کرنے لگو، دل میں یہ کہا کرو، اللہ جی ۔۔ 1۔ اس کام میں میری مدد فرمائیں ۔۔۔  2۔ میرے لئے آسان فرما دیں ۔۔۔ 3۔ عافیت کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچائیں ۔۔۔ 4۔ اپنی بارگاہ میں قبول فرما لیں۔

یہ چار مختصر جملے ہیں مگر دن میں سینکڑوں دفعہ اللہ کی طرف رجوع ہو جائیگا۔ اور یہ ہی مومن کا مطلوب ہے کہ اسکا تعلق ہر وقت اللہ سے قائم رہے۔

دوسرا انسان کو روز مرہ زندگی میں چار حالتوں سے واسطہ پڑتا ہے ۔۔۔ 1۔ طبیعت کے مطابق ۔۔۔ 2۔ طبیعت کے خلاف ۔۔۔ 3۔ ماضی کی غلطیاں اور نقصان کی یاد ۔۔۔ 4۔ مستقبل کے خطرات اور اندیشے۔ 

جو معاملہ طبیعت کے مطابق ہو جائے، اس پر "اللهم لك الحمد ولك الشكر" کہنے کی عادت ڈالو۔ جو معاملہ طبیعت کے خلاف ہو جائے، تو "انا لله وانا اليه راجعون" کہو۔ ماضی کی لغزش یاد آجائے تو فورا  "استغفراللہ" کہو۔ مستقبل کے خطرات سامنے ہوں تو کہو: "اللهم اِنى أعوذ بك من جميع الفتن ما ظهر منها وما بطن"۔

شکر سے موجودہ نعمت محفوظ ہو گئی۔ نقصان پر صبر سے اجر محفوظ ہو گیا اور اللہ کی معیت نصیب ہو گی۔ استغفار سے ماضی صاف ہو گیا۔ اور اللهم انى أعوذ بك سے مستقبل کی حفاظت ہو گئی۔

تیسرا شریعت کے فرائض و واجبات کا علم حاصل کر کے وہ ادا کرتے رہو اور گناہِ کبیرہ سے بچتے رہو۔ اور چوتھا تھوڑی دیر کوئی بھی مسنون ذکر کر کے اللہ پاک سے یہ درخواست کر لیا کرو اللہ جی ۔۔۔ میں آپ کا بننا چاھتا ہوں، مجھے اپنا بنا لیں، اپنی محبت اور معرفت عطا فرما دیں۔ چند دن یہ نسخہ استعمال کرو، پھر دیکھو کیا سے کیا ہوتا ہے، اور قرب کی منزلیں کیسے تیزی سے طے ہوتی ہیں!






پاکستانی چائے:
1. ٹپال دانے دار
2. وائیٹل چائی
3. میزان چائے

پاکستانی موٹرسائیکل : 
1. یونائیٹڈ
2. پاور 
3. سپر پاور
4. راوی
5. روڑ پرنس

پاکستانی الیکٹرونکس مصنوعات:
1. اورینٹ
2. پیل
3. ہائیر
4. اورنج
5. ڈوالینس
6. ویوز

پاکستانی سوپ(صابن):
1. کیپری
2. تبت
3. انگلش نیم
4. وائٹل 

پاکستانی مشروبات
1. گورمے کولا
2. پاک کولا
3. کولا نیکسٹ

پاکستانی ٹوٹھ پیسٹ:
1. میڈی کیم
2. انگلش
3. سوڈا وائیٹ

پاکستانی ملک پروڈکٹس:
1. ڈے فریش
2. حلیب
3. Adam
4. Nurpur 
5. Good milk
6. Millac

پاکستانی چاکلیٹس:
1. Novella
2. Jubilee
3. Now
4. Sonnet

پاکستانی موبائل فون: 
1. کیو موبائل 
2. Rivo Mobile
3. کلب موبائل  

پاکستانی شیونگ پروڈکٹس:
1. Treet
2. Tibet

پاکستانی کاسمیٹکس:
1. سیمسول
2. Tibet
3. Olivia
4. English
5. Medora
6. بائیو آملہ
7. Osem

پاکستانی بیکری پروڈکٹس:
1. نیشنل
2. Young's
3. Shangrilla/Fruiti-O
4. Fruitien
5. English
6. Mayfair
7. پاپولر/مازا

پاکستانی شہد:
1. Al Asal
2. ہاشمی
3. Young's

پاکستانی پیٹرول/ ڈیزل کمپنیز:
1. PSO
2. HASCOL
3. ATTOCK

#پاکستانی_بنو ☛☛
#پاکستانی_خریدو☛☛
#پروموٹ_پاکستان☛☛
#پروموٹپاکستانیمصنوعات ☛☛
#پاکستانزندہباد





مجھے یاد ہے بچپن میں جب کبھی ہمیں رات میں نیند نہیں آتی تو ہم اٹھ کر امی جان کے پاس چلے جایا کرتے تھے اور انہیں نیند سے بیدار کر کے کہا کرتے تھے
"امی مجھے نیند نہیں آرہی" امی فوراً نیند سے بیدار ہو کر پو چھتیں کیوں بیٹا کیا ہوا طبعیت تو ٹھیک ہے نا؟ 
پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتیں, پیٹ میں تو درد نہیں نا؟
اور تسلی کر لینے کے بعد اکثر اپنے پاس سلا لیا کرتیں یا جب تک ہم چاہتے ہمارے پاس بیٹھتیں. 
پھر ہم بڑے ہو گئے اور رات کو بے سُد ہو کر بے فکری کی نیند سونے لگے اور امی بوڑھی ہو گئیں انہیں اکثر راتوں کو نیند نہیں آتی اول تو ماں اپنے بچے کے آرام میں مخل نہیں ہوتی مگر کبھی وہ یہ غلطی کر ہی دے تو عموماً بچے ماں کو انٹی ڈپریشن یا نیند کی گولی کھاکر سونے کی تلقین کرتے ہیں یا اگر وہ بیمار ہوں تو روٹین کی دوائیں وغیرہ لینے کی ہدایت کر دیتے ہیں۔
در اصل بچپن میں اور بڑھاپے میں کافی مماثلت ہے دونوں عمروں میں کسی انجانی بات پر دل مضطرب ہو جاتا ہے۔
مگر خوش نصیب بچوں کا یہ اضطراب انکی مائیں اپنے ہاتھوں کے لمس سے ہی دور کر دیتی ہیں اکثر کسی بات پر روتے ہوئے بچے کا سر جب ماں اپنی گود میں رکھ کر ہاتھوں کی انگلیوں سے سہلہیں
 کرتی ہے تو یک دم بچہ سکون پا جاتا ہے شایدہم سمجھ ہی نہیں پائے کہ ہمیشہ بے چینی کا علاج گولیاں, دوائیں نہیں ہوتیں کبھی کبھی ماؤں کو بھی ہمارے ہاتھوں کے لمس درکار ہوتے ہیں..
کبھی کبھی ان کے ناتواں جسم ہمارے مضبوط ہاتھوں سے آرام کے متلاشی ہوتے ہیں.. 
سوچیے ہم میں سے کتنے ایسے بچے ہیں جو راتوں کو اٹھ کر اپنے والدین کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ پر سکون نیند سو رہے یا بڑھاپے کی ویران راتوں میں اپنے بچپن کو, 
اپنی ماں کے ہاتھوں کے لمس کو یاد کر رہے ہیں !!!




بہلول نے حضرت جنيد بغدادی سے پوچھا
 شیخ صاحب کھانے کے آداب جانتے ھیں؟

کہنے لگے، بسم اللہ کہنا، اپنے سامنے سے کھانا،
لقمہ چھوٹا لینا، سیدھے ھاتھ سے کھانا،
خوب چبا کر کھانا، دوسرے کے لقمہ پر نظر نہ کرنا،
 اللہ کا ذکر کرنا، الحمدللہ کہنا، اول و آخر ھاتھ دھونا۔ 

بہلول نے کہا، لوگوں کے مرشد ھواور کھانے کے آداب نہیں جانتے اپنے دامن کو جھاڑا اور وھاں سے اٹھ کر آگے چل دیئے

شیخ صاحب بھی پیچھے چل دیئے، مریدوں نے اصرار کیا،
 سرکار وہ دیوانہ ھے لیکن شیخ صاحب پھر وھاں پہنچے پھر سلام کیا

بہلول نے سلام کا جواب دیا اور پھر پوچھا کون ھو؟ 
کہا جنید بغدادی جو کھانے کے آداب نہیں جانتا۔
 بہلول نے پوچھا اچھا بولنے کے آداب تو جانتے ھوں گے

جی الحمدللہ، متکلم مخاطب کے مطابق بولے، بےموقعہ، بے محل اور بےحساب نہ بولے، ظاہر و باطن کا خیال رکھے۔
 بہلول نے کہا کھانا تو کھانا، آپ بولنے کے آداب بھی نہیں جانتے، بہلول نے پھر دامن جھاڑا اورتھوڑا سا اور آگے چل کر بیٹھ گئے۔

شیخ صاحب پھر وھاں جا پہنچے سلام کیا بہلول نے سلام کا جواب دیا، پھر وھی سوال کیا کون ھو؟

شیخ صاحب نے کہا، جنید بغدادی جو کھانے اور بولنے کے آداب نہیں جانتا۔ بہلول نے اچھا سونے کے آداب ھی بتا دیں؟ 

کہا نماز عشاء کے بعد، ذکر و تسبیح، سورہ اور وہ سارے آداب بتا دیئے جو روایات میں ذکر ھوئے ھیں۔

بہلول نے کہا آپ یہ بھی نہیں جانتے، اٹھ کر آگے چلنا ھی چاھتے تھے کہ شیخ صاحب نے دامن پکڑ لیا اور کہا جب میں نہیں جانتا تو بتانا آپ پر واجب ھے

بہلول نے کہا 
جو آداب آپ بتا رھے ھيں وہ فرع ھیں اور اصل کچھ اور ھے، اصل یہ ھے کہ جو کھا رھے ھیں وہ حلال ھے یا حرام، لقمہ حرام کو جتنا بھی آداب سے کھاؤ گے وہ دل میں تاریکی ھی لائےگا نور و ہدایت نہیں، 

شیخ صاحب نے کہا جزاک اللہ

بہلول نے کہا کلام میں اصل یہ ھے کہ جو بولو اللہ کی رضا و خوشنودی کیلئے بولو اگر کسی دنیاوی غرض کیلئے بولو گے یا بیہودہ بول بولو گے تو وہ وبال جان بن جائے گا

سونے میں اصل یہ ھے کہ دیکھو دل میں کسی مؤمن یا مسلمان کا بغض لیکر یا حسد و کینہ لیکر تو نہیں سو رھے،

دنیا کی محبت، مال کی فکر میں تو نہیں سو رھے،
کسی کا حق گردن پر لیکر تو نہيں سو رھے۔۔






اسلام آباد میں بینک مینجر کی جانب سے ایک خاتون کو جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وڈیو بن گئی۔ وائرل ہوئی۔ مینجر بوائے مشہور ہوگیا۔ انتظامیہ حرکت میں آئی۔ ملزم کو گرفتار کیا۔ بینک نے نوکری سے نکال دیا اور ہمیشہ کیلئے کسی بھی بینک کی نوکری سے معزول کر دیا گیا۔ سُبکی اور ذلت کا اندازہ خود ہی لگا لیں۔ اور ہو سکتا ہے یہ بداخلاقی وہ پہلے بھی کرتا ہو مگر ربّ نے اسکی رسی دراز کی ہو۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ  ایک  دم  نہیں  ہوتا
میجر طفیل شہید سے اسکے ایک سینئر نے سوال کیا: "طفیل، کیا حال ہے؟ "
میجر صاحب نے کیا ہی عمدہ جواب دیا:
"سر، اللّہ تعالیٰ نے عیب چھپا کر لوگوں میں معزز بنا رکھا ہے۔"
جو بھی اس تحریر کو پڑھ رہا ہے چند ثانیے رک جائے اور سوچے کہ ذات باری تعالٰی نے اسکے کیسے کیسے عیوب چھپا کر اسے لوگوں میں معزز بنا رکھا ہے!!
ربّ نے بینک منیجر والے انجام سے اسلئے محفوظ رکھا کہ دنیا میں وڈیو نہیں بنی۔
اپنی اور سب کی یاد دہانی کیلئے عرض کروں کہ وڈیو بن رہی ہے۔ بہت ہائی کوالٹی ریزولوشن والے کیمرے سب کچھ ریکارڈ کر رہے ہیں۔ اس دن سب سامنے کر دیا جائے گا جب ماں اپنی اولاد کو نہیں پہچانے گی۔
"تم سب نے لوٹ کر میرے ہاں ہی آنا ہے تب میں تمہیں بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے تھے۔" (العنکبوت: ۸)






بیویوں کو ستانے والوں کا عبرتناک انجام


حضرت مولانا حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
اپنی بیوی کے پاس مسکراتے ہوئے آنا ، یہ سنت آج چھوٹی ہوئی ہے، جو بے دین ہیں وہ فرعون بن کر آتے ہیں، بڑی بڑی مونچھیں تان کرکے آنکھیں لال کرکے، تاکہ گھر والے رعب میں رہیں، ایسا نہ ہو کہ مجھ سے بیوی کچھ کہہ دے، اس لیے اس پر رعب جمانے کے لئے نمرود وفرعون بن کر آتے ہیں۔

اور جو دیندار ہیں وہ گویا بایزید بسطامی اور خواجہ معین الدین چشتی اور بابا فرید الدین عطار بن کر آتے ہیں، مراقبہ میں آنکھیں بند کیے ہوئے، گویا عرش پر رہتے ہیں، زمین کی بات تو جانتے ہی نہیں، بیوی کی طرف تو محبت بھری نگاہ سے دیکھے گے ہی نہیں، بات بات پر جھڑک دینا، وہ بیچاری بات کرنا چاہتی ہے، یہ سرکار تسبیح لیے بیٹھے ہیں۔

دن بھر وہ بیچاری آپ کی منتظر ہے کہ اب میرا شوہر آئے گا تو اس سے دل بہلاوں گی، اور آپ گھر آتے ہی تسبیح لے کر بیٹھ گئے یا آتے ہی ٹیلیفون پر دوستوں سے باتوں میں ھوں یا کاروبار کی فکر میں لگ گئے، یا سوالات کا انبار لگادیا، یہ کام کرلیا، میں نے کہا تھا، یہ ہوگیا ؟ اس کا کیا ہوا ؟ کیوں نہیں ہوا ؟ اتنی دیر سے کیا کرتی رہی ؟ وغیرہ۔

یاد رکھیں یہ دونوں بیان کردہ طرز عمل خلاف سنت ہیں۔

گھر میں اپنی بیوی کے پاس جائیں تو مسکراتے ہوئے جائیں، اس سے باتیں کریں، اس کے کاموں میں ہاتھ بٹاکر سنت زندہ کیجئے، اور اللہ تعالی کو خوش کیجئے، تسبیحات ونوافل سے زیادہ ثواب والا کام اس وقت یہ ہے کہ اس کا حق ادا کیجئے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : کہ سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا وہ ہے، جس کے اخلاق بیوی کے ساتھ اچھے ہوں۔

ہم دوستوں میں تو خوب ہنسیں گے، خوب لطیفے سنائیں گے، اور اپنی بیوی کے پاس جاکر سنجیدہ بزرگ بن جائیں گے، منہ سکیڑے ہوئے جیسا کہ ہنسنا جانتے ہی نہیں ہیں۔

مزید فرماتے ہیں : کہ اپنا تجربہ بتارہا ہوں، کہ جتنے لوگوں نے اپنی بیویوں کو ستایا اور رلایا، اور ان کی ٹھنڈی آہ کھنچوائی، میں نے ان کو دیکھا کہ کو فالج کا اٹیک ہوا، کسی کو کینسر ہوا، فرماتے ہیں کہ آنکھوں سے دیکھا ہوا حال بتارہا ہوں اور جس نے اللہ کی بندیوں پر رحم کیا، وہ اتنا جلدی ولی بنا جس کی کوئی حد نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب

آپ اب خود سوچ لیں کہ اللہ کی بندی کو جائز حدود میں خوش رکھ کر اللہ کا ولی بننا ہے یا پھر اللہ کی بندیوں کو بلاوجہ تکلیفیں دے کر اللہ کو ناراض کرنا ہے ؟؟؟
اللہ ہم سب کی اصلاح حال کروا کر دنیا سے جانے کی توفیق نصیب فرمائے آمین





❁ سلسلہ نمبر 41 ❁

🌹 ملفوظات طیبات🌹
 
🤲 خانقاہ حفیظیہ مکیہ کراچی 🤲
 ╮•┅═۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ❁🕋
https://www.facebook.com/pg/Ilm-e-Deen-106385124369385/jobs/

❁۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ـ═┅•╭
     💖 طیب اور خبیث 💖
              (گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔)

ایک شخص نے مجھے اپنا واقعہ سُنایا آپ میں سے کچھ حضرات اس کا نام جانتے ہیں۔ میں آپ کو اس کا نام نہیں بتاؤں گا ۔ اس کا بیان ہے کہ میں اللہ اللہ کیا کرتا تھا۔ اس کی برکت سے میرے دل میں ایک چراغ روشن تھا ۔ ایک دن میں پانی والے تالاب کی جانب سے آ رہا تھا ، سُنہری مسجد کے قریب ایک ہندو نوجوان لڑکی پر میری نظر پڑ گئی ۔  نظر کا پڑنا تھا کہ چراغ بجھ گیا، پھر آج تک روشن نہیں ہوا۔ ۔ ۔ وہ تو ایسا نازک مزاج محبوب ہے کہ غیر پر نظر پڑ جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔، میلانِ طبع اپنی بس کی بات نہیں ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی طبعیت کو بُرائی سے روک لے۔ جیسے منہ زور گھوڑا ہو تو وہ روز لگائے گا، مگر سوار اس کو روکے گا۔ ۔ ۔ 
✍️🌹 اعمال طیبہ سے عامل مقبول بنتا ہے اور اعمال خبیثہ سے عامل مردور ہو جاتا ہے ۔
   اِنَّ اللّٰہَ طَیِّبٌ' لاَ یَقْبَلُ اِلاَّ طَـیِّبًا
( بے شک اللہ پاک ہے اور پاک چیزوں کو ہی قبول فرماتا ہے ) اللہ تعالیٰ کو تو انسان بھی طیب اور اعمال بھی طیب مقبول ہیں۔ 

سورۃ النور رکوع نمبر 3 پارہ نمبر 18 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔  
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ
(خبیث عورتیں خبیث مردوں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں اور پاک مرد پاک عورتوں کے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لئے ہیں۔ )

بعض عورتیں ایسی صفت ماب ہوتی ہیں کہ وہ اپنے سایہ کو بھی غیر مرد سے چھپاتی ہیں۔ چنانچہ دہلی میں پُرانے زمانے کے شُرفاء کے ہاں یہی تمدن تھا کہ عورتیں ڈولی میں گھروں سے باہر جاتی تھیں ۔ کہار (ڈولی اٹھانے والے مزدور) ڈولی کو ڈیوڑھی میں رکھ کر باہر چلے جاتے تھے ، عورت جب اندر بیٹھ جاتی تو وہ اندر آتے اور ڈولی اُٹھاتے ۔ جس گھر جانا ہوتا تھا وہاں پہنچ کر بھی اسی طرح ڈیوڑھی میں رکھ کر باہر چلے جاتے تھے تو عورت ڈولی سے نکل کر اندر چلی جاتی تھی ۔ اب تو جس نے ایمان بچانا ہو وہ آنکھیں نیچی کر لے۔ نوجوان لڑکیاں بناؤ سنگھار کر کے بے پردہ ہر جگہ گھومتی پھرتی ہیں۔ 
✍️🌹 انسان کے جسم پر جو غذا وہ کھاتا ہے اس کا اثر ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ کابل کا پٹھان چونکہ دُنبے کھاتا ہے دُنبے میں چربی بہت ہوتی ہے اس لئے یہ دُنبے کھانے والا کابل کا پٹھان پوہ، ماگھ (سخت سردی کے مہینے) میں بھی اپنے اندر گرمی محسوس کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستانی ان ایام میں کمرے اندر بھی سردی سے ٹھٹھرتا ہوگا۔  ✍️ بالکل اسی طرح مال میں بھی اثر ہے اگر مال طیب ہوگا تو اس کا اثر بھی طیب ہوگا۔ 

حاجی مولا بخش صاحب ایک یونٹ بننے تک حکومتِ سندھ میں وزیر تھے۔ وہ اللہ اللہ کیا کرتے تھے ، وہ پہلے بھی حکومتوں میں وزیر رہ چکے تھے ۔ ان کا بیان ہے کہ ایک نواب صاحب نے اپنا ایک نمایندہ میرے پاس بھیجا اور اس نے آکر کہا کہ آپ نواب صاحب کا یہ کام کر دیں تو وہ آپ کی خدمت کر دیں گے۔ میں نے اُن سے کہا کہ "میں نواب صاحب کا کام کردوں گا مگر لوں گا کچھ نہیں"۔  اس سے ان کی تسلی نہ ہوئی، اس نے پھر وہی کہا ۔ میں نے پھر وہی جواب دیا۔ تیسری دفعہ جب اس نے کہا تو میں نے اس کو جواب دیا کہ "میں اپنی بیوی سے زنا نہیں کروانا چاہتا۔ جو لوگ رشوت لیتے ہیں ان کی بیویاں زنا کرواتی ہیں"۔ دیکھئے کہ یہ ہے مالِ خبیثہ کا اثر کہ انسان کو اعمالِ خبیثہ کی طرف لے جاتا ہے۔
 
ان کا ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ ان کی بیوی لاہور آئی تو انار کلی میں ان کا بٹوہ کہیں کھو گیا۔ بٹوے میں کچھ سونا اور نوٹ تھے۔ اس نے جب وآپس جا کر یہ واقعہ سُنایا تو ان کا لڑکا کہنے لگا کہ ابا جی آپ تو کہا کرتے ہیں کہ "میری آمدنی حلال کی ہے اس لئے کبھی ضائع نہیں کی جا سکتی" یہ بٹوہ کیسے ضائع ہو گیا۔۔۔؟ حاجی مولا بخش صاحب کا بیان ہے کہ میں خاموش رہا۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ کچھ دنوں بعد مولا بخش شکار پور کے پتے پر ایک کارڈ آیا اس پر لکھا ہوا تھا کہ ایک بٹوہ ملا ہے وہ اگر آپ کا ہے تو اشیاء کی فہرست بتلا کر لے سکتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے فہرست بھیجی تو جو کچھ بٹوے میں تھا مل گیا۔ اتفاقاً اس میں ان کے نام کا چھپا ہوا کارڈ بھی تھا جس پر صرف ان کا نام اور شکار پور لکھا ہوا تھا۔ بٹوہ ایک ہندو وکیل کی لڑکی کو ملا اس نے اپنے باپ کو دے دیا اگر وہ چاہتے تو ہضم بھی کر سکتے تھے ۔ ۔ ۔!

✍️ میں آپ سے ہمیشہ عرض کیا کرتا ہوں کہ میرا ایمان ہے کہ گورنمنٹ کے ہر محکمے میں اللہ کے نیک بندے موجود ہیں۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی کون سُنتا ہے۔ ان کی تعداد بمشکل ایک سو میں پانچ ہو گی۔
 
 ✍️🌹 خبیث اللہ تعالیٰ کے دروازے سے مردود ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جنت نہیں بنائی، وہ تو اس نے اپنے پاکیزہ بندوں کے لئے مہمان خانہ بنایا ہے۔ 
ایک ہی گھر میں بعض انسان طیب اور بعض خبیث یو تےہیں۔ اس دُنیا میں خبیثوں اور طیبوں کی مخلوط آبادی ہے۔ آگے چل کر تفریق کر دی جائے گی۔ سورۃ التحریم رکوع نمبر 3 پارہ 28 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
 ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ وَامْرَأَتَ لُوطٍ ۖ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا وَقِيلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ 
( اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح علیہ السلام اور لوط علیہ السلام کی بیویوں کی مثال بیان فرماتےہیں۔ کہ یہ دونوں ہمارے نیک بندوں میں سے دو کے نکاح میں تھیں ۔ پس ان دونوں نے (دین کے معاملے میں) ان دونوں نیک بندوں کی خیانت کی، پس وہ دونوں ان دونوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے کچھ بھی نہ بچا سکے  اور ان سے کہا گیا کہ دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی داخل ہو جاؤ ۔
اب دیکھیئے حالانکہ کہ دونوں کے خاوند امام الطیبین ہیں مگر ان کی بیویاں امامتہ اللخبیثین ہیں۔لیکن میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں ۔ آگے چل کر کوئی بھی خبیثیبن کی بستی میں طیب نہ ہوگا اور نہ ہی طیبین کی بستی میں کوئی خبیث ہو گا۔ ۔۔ اس قاعدہ اور کلیہ کہ صرف ایک ہی استثناء ہے ۔ بعض انسانوں کو جن کے اندر نورِ توحید ہوگا علاج کی غرض سے دوزخ میں کچھ عرصہ رکھا جائے گا وہ اپنی سزا بُھگت کر نور توحید کی برکت سے دوزخ سے نکل آئیں گے۔ اور جنت میں داخل کر دئیے جائیں گے۔ جس طرح مریض کو ہسپتا ل میں رکھا جاتا ہے بالکل اسی طرح دوزخ میں بھی مختلف وارڈز ہوں گے۔ وہاں ان کی کھالیں جل جائیں گی۔ اور وہاں سے نکنے کے بعد "نہر الحیوۃ" میں ڈالے جائیں گے۔ اورپھر وہاں سے نکال کر بہشت میں پہنچا دئیے جائیں گے۔ 
                     (جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ )

مستند دینی پوسٹ کے لئے
👇👇🕋📖🎤📚📢👇
اصلاح قلب گروپ لنک جوائن اور شیئر کریں





فیس نک لنک لائک اور شیئر کریں






👈 موت کسی کو بتا کر نہیں آتی 👉

بس تیزی سے اپنی منزل کی طرف جارھی تھی کہ یکایک ڈرائیور نے بریک لگائی اور کنڈیکٹر سے مخاطب ہوا.. "سواری چڑھالو.."

کنڈیکٹر نے دروازہ کھول کر باہر دیکھا.. وھاں کوئی موجود نہیں تھا.....
سڑک دور دور تک ویران تھی.. اس نے حیرت سے ڈرئیور کی طرف دیکھا.. پھر آواز لگائی.. "باہر کوئی نہیں ہے استاد.. جانے دو....."

اسکے جانے دو کے جواب میں بس جب آگے نہ بڑھی تو اس کی حیرت میں مزید اضافہ ھوگیا..
سواریاں بھی ڈرائیور کو دیکھنے لگیں لیکن وہاں بالکل خاموشی تھی..
کنڈیکٹر جب اس کے پاس آیا تو اچھل پڑا....
کیونکہ ڈرائیور کا چہرہ بتارھا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں..!!

موت نہ کسی سے پوچھ کر آتی ہے اور نہ کسی کو بتاکر آتی ہے پھر بھی ہم ہر وقت گناھوں میں مشغول ہیں...؟

ہم میں سے بعض دوست ایسے بھی ہیں جو کانوں میں ہیڈ فونز لگا کر ہر وقت گانوں کی دھن میں مست رھتے ہیں اور بعض تو ایسے بھی ہیں جو رات کو سونے کے وقت گانے سنتے سنتے سوجاتے ہیں..

اور کچھ ایسے بھی ہیں جو ہر وقت فلم اور ڈراموں کے حوالے ہیں.. اس دوران نہ نماز کا ھوش نہ تلاوت کا شوق نہ ذکر واذکار کا ذوق..
ذرا سوچیئے 
اس حالت میں اگر خدانخواستہ ھماری موت واقع ھوجاۓ تو ہمارا کیا حشر ہو گا..؟

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے. آمین




Urdu Islamic Article: Mobile, Cell Phone, Women Wardrobe, Lerki ka libas, Nikkah, Mobile Sim Ring tone Ganay, Hamari Shadi, Karachi university, Jamia Tur Rasheed, Akhirat,

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 

 🥀 موبائل کا استعمال🥀


    یہ تحریر موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک کام کی بات اور نصیحت ہے اسے خود بھی پڑھیں اور دوسروں کو شئر بھی کریں۔

 کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرات ِصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا امتحان لیا تھا، جب کہ وہ حالتِ احرام میں تھے- حج و عمرہ کے احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہوتاہے- امتحان اس طرح ہوا کہ شکار کو ان کے اتنے قریب تک پہنچا دیا کہ اگر ان میں سے کوئی اسلحہ و آلات کے بغیر ہاتھ سے شکار پکڑنا چاہے تو پکڑ سکے۔

اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

کہ ’’اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گا جن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکو گے، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘‘ (مائدہ: ۹۴)

       اس زمانے میں بھی ایسا ہی امتحان اور ابتلاء بکثرت پیش آرہا ہے، البتہ اس کا انداز اور طریقہ قدرے مختلف ہے۔

وہ کیا ہے اور کیسے ہے؟

آج سے تقریباً ۱۰-۲۰ سال پہلے فحش تصاویر اور ناجائز ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا؛ لیکن آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اعاذنا للہ منہ

اللہ تعالی کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے:

لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب۔ اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔

تنہائی میں اپنے جسمانی اعضاء کی خاموشی و بے زبانی سے دھوکے میں نہ پڑو؛ اسلیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔

قرآن میں ہے:

"آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے کرتوت کی گواہی دیں گے"۔

خلوت میں معصیت اور خطرناک:

کسی نے کیا خوب بات کہی ہے: کہ ’’جب کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہو، عین اسی وقت ہوا کے جھونکے سے دروازے کا پردہ ہلنے لگے اور اس کے ہلنے سے آدمی یہ سمجھ کر ڈر جائے کہ کوئی آگیا، تو یہ ڈرنا اس گناہ سے بڑا ہے جو وہ کر رہا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ شخص مخلوق کے دیکھنے کے اندیشے سے بھی ڈرتا ہے، جب کہ اللہ تعالی اس کو یقینا دیکھ رہے ہیں، پھر بھی خوف نہیں کرتا۔

کوئی شخص تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

"کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے، سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا کمپیوٹر بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے تو وہاں بلی ہوتی ہے"۔

اے میرے پیارے بھائی! اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اس کا خوف کیوں نہیں؟

علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

کہ تمام علماء �


ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ

ﻃﻼﻕ ﮐﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﺳﺎﺱ ﺑﮩﻮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻋﻮﺭﺕ ﺫﻟﯿﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ

ﺷﻮﮨﺮ ﺍﮔﺮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮮ ﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺳﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﺪﯾﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ


1 ۔ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﮩﻮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﺌﯿﮯ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮧ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺎﮞ ﮨﮯﻣﺎﮞ ﭘﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ


-2 ﺟﺐ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﻣﺪﺍﻭﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﮨﯽ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ


-3 ﺟﺐ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ، ﺳﺎﺱ ﻧﻨﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ، ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﭘﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ !!


ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻏﯿﺮ ﺟﺎﻧﺒﺪﺍﺭﺍﻧﮧ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮩﯽ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ !


ﻣﺮﺩ ﺑﯿﭽﺎﺭﮦ ﺗﻮ ﺭﺷﺘﮯ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ - ﺳﺎﺱ ﺑﮩﻮ ﻧﻨﺪ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﺭﺷﺘﮯ ﭨﯿﮭﮏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺷﺎﺋﺪ ﮨﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮔﮭﺮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﻃﻼﻗﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﮞ





✅ عورت کے لباس کی آٹھ شرائط 


غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:


✔ 1- وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر یعنی سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں.


✔ 2- وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے خد و خال واضح کرے۔


✔ 3- باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے۔


✔ 4- وہ لباس خود بھی زينت کا باعث نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى اور كشيدہ كارى كى گئى ہو۔


✔ 5- اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو۔


✔ 6- وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو۔


✔ 7- وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو۔


✔ 8- لباس شہرت حاصل کرنے کا باعث نہ ہو۔


دیکھیں: "آداب الزفاف"از: البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور "حجاب المراۃ المسلمۃ" از: البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور "عودۃ الحجاب" ( 3 / 145 - 163 )۔


اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں ہے۔


┈••✾❀🕊💓🕊❀✾••┈┈•






ایک نکاح ایسا بھی

 

  محمد قاسم شمالی

 ہندستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے _ ایک دوپہر گھر میں آئے اور صحن میں بچھے ہوئے پلنگ پر بیٹھ گئے _ دوپہر کا کھانا نکالتے ہوئے بیوی نے کہا :

"اجی، بچی کی شادی بیاہ کی بھی کچھ فکر کیجئے _"

      بچی تھوڑی دور باورچی خانے کے چبوترے پر بیٹھی دال دھو رہی تھی _ محمد قاسم نے ایک نظر بچی پر ڈالی _ بیوی نے ابھی پلنگ پر دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ محمد قاسم اترے ، پیر میں جوتے ڈالے اور باہر چلے گئے _ بیوی کہتی رہ گئی کہ کھانا تو کھالیتے _

     بیٹھک میں آکر محمد قاسم نے کسی سے کہا : "ذرا مولوی عبداللہ کو بلا لاؤ " عبداللہ ان کے بھانجے تھے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے _ قریب ہی کرائے کے ایک کمرہ میں رہتے تھے _ ماموں کا پیغام ملا تو بھاگے ہوئے آئے _ وہ کپڑے تو صاف ستھرے پہنے ہوئے تھے ، مگر پاجامے کے ایک پائنچے میں کھونچا لگا ہوا تھا اور کچھ لکھنے کے دوران دوات الٹ جانے کی بنا پر قمیص کے دامن پرروشنائی کا ایک چھوٹا سا نشان پڑ گیا تھا

محمد قاسم نے بھانجے سے کہا :"میاں، تم نے اپنی شادی کے بارے میں کچھ سوچا؟"

     ماموں کے سوال پر مولوی عبداللہ کچھ سٹپٹا سے گئے _

"بزرگوں کی موجودگی میں بھلا میں کیا سوچوں؟ "عبد اللہ نے جواب دیا _

" تو اِکرامَن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تمہاری مرضی ہو تو تم دونوں کا نکاح پڑھا دیا جائے_" محمد قاسم نے کہا _

عبداللہ نے لمحہ بھر سوچا_

"ماموں جی! آپ اور اباجی جو بھی فیصلہ کریں گے اس سے مجھے انکار کی مجال نہیں_"



  محمد قاسم کے بہنوئی انصار علی اپنی ملازمت کے سلسلے میں وطن سے بہت دور گوالیارمیں رہتے تھے_ انہوں نے قاسم سے کہہ رکھا تھا کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو عبداللہ کی شادی کر دیجیے گا _ اپنے بھانجے کا جواب سن کر محمد قاسم نے اسے وہیں ٹھہرنے کو کہا اور اندر گھر میں چلے گئے _ وہاں بیوی کو مخاطب کیا:

"اکرامن کے لئے مولوی عبداللہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ گھر کا بچہ ہے، کچھ دیکھنا بھالنا تو ہے نہیں ، تمہاری مرضی ہو تو نکاح پڑھ دیا جائے_"

     محمد قاسم کی بیوی کو بھی تجویز مناسب لگی _ دونوں میں اتفاق رائے ہو گیا تو محمد قاسم بیٹی کے پاس آئے _ وہ ابھی تک دال دھونے میں مشغول تھی _ وہ وہیں بیٹی کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے _

"بیٹی! ہم نے سوچا ہے کہ مولوی عبداللہ سے تمہارا نکاح پڑھا دیں، مگر پہلے تم بتاؤ ، تمہاری مرضی کیا ہے؟ "

اِکرامن شرم کے مارے دہری ہوگئی _ گھٹنوں میں منہ چھپا لیا _ 

محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "اجی، توبہ ہے، بچیوں سے بھلا یوں شادی بیاہ کی بات کیا کرتے ہیں کیا؟" 

"کیوں اس میں کیا عیب ہے؟شرع کاملہ ہے، بچی کی رائے پوچھنی لازم ہے _ شرع کے معاملے میں کیا شرم؟ اگر اکرامن کی رائے نہ ہو تو کوئی اور صورت دیکھیں گے ، مگر جس طرح مولوی عبداللہ کی مرضی معلوم کی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اکرامن کی رائے بھی معلوم ہو جائے _"

    محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "باحیا بچیاں منہ پھاڑ کے 'ہاں' نہیں کیا کرتیں _ انکار ہوتا تو وہ میری طرف دیکھتی ، یا اٹھ کر کمرہ میں چلی جاتی ، اس طرح میں اس کا عندیہ سمجھ لیتی _ ان معاملات میں بچیوں کی خاموشی ہی ان کی رضامندی ہوتی ہے _ اسے بھی مولوی عبداللہ کی طرح بھلا کیا اعتراض ہوگا؟" 

    بیوی کی بات سن کر محمد قاسم اٹھے اور باہر چلے گئے _ بیٹھک میں عبد اللہ ماموں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے _ وہاں دوچار لوگ اور بھی موجود تھے _ محمد قاسم نے ان کو بلایا اور کہا: "میں مولوی عبداللہ کا نکاح اپنی بیٹی امت الاکرام سے کر رہا ہوں _" 

انھوں نے ان میں سے ایک آدمی کو دو پیسے دے کر کہا:"نکڑ کی دکان سے تھوڑے سے چھوہارے لے آؤ_"

   انہی حاضرین میں سے دو گواہ بن گئے _ ذرا دیر میں نکاح پڑھا دیا گیا _ پھر محمد قاسم نے دولہا میاں ہی سے کہا: "باہر جاکر ایک ڈولی لے آؤ اور اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر سدھارو_" 

   ڈولی آگئی تو محمد قاسم پھر گھر میں آئے اور بیٹی کے پاس گئے ، جو ظہر کی نمازپڑھنے کے بعد ابھی جانماز ہی پر بیٹھی تھی_

"بیٹی! اللہ کا شکر ہے، میں تمہارے فرض سے سبک دوش ہوگیا _ مولوی عبداللہ ڈولی لئے باہر تمھارے منتظر ہیں_ اب تم ان کے ساتھ اپنے گھر جاؤ_"

    محمد قاسم کی بیوی نے کہا:

"ارے ،ایسا چٹ پٹ شادی بیاہ کردیا _ مجھے کچھ تو مہلت دی ہوتی کہ بچی کے دوچار جوڑے کپڑے بنا دیتی _ کم از کم نکاح کے وقت تو اچھے کپڑے بدلوادیتی_"

"کیوں ، ان کپڑوں میں کیا عیب ہے؟ کیا ان میں وہ نماز نہیں پڑھ سکتی؟"

"بھلا وہ نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ ابھی تو اس نے ظہر کی نماز پڑھی ہے انہی کپڑوں میں _"

"تو بس ، نماز کے کپڑوں سے اچھا جوڑا اور کون سا ہوگا؟ رہی بات بچی کو کچھ دینے دلانے کی تو کوئی ضروری ہے کہ آج ہی دو _ تمہاری بیٹی ہے اور مولوی عبداللہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے _ ان کے لئے کیا تکلف کرنا؟ ہاں، گھر کی ضرورت کا سامان ،جب چاہو ، بھجوا دینا _ "

    اس اثنا میں ماں نے اکرامن کو برقعہ اڑھایا ، دعا دی ، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور لے جا کر ڈولی میں بٹھا آئے _ لے جاتے ہوئے بیٹی کو زندگی ، شوہر کے حقوق اور گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں نصیحتیں کرتے رہے _ ادھر ڈولی روانہ ہوئی ، ادھر ماں نے نائن کے ہاتھ بیٹی کے روز کے کپڑوں کی پوٹلی اور کھانا پکانے اور کھانے کے چند برتن بھیج دئے بس یہی کل جہیز تھا

     اگلے دن محمد قاسم نے بیٹی داماد کو گھر پر بلایا_ گھر میں جو سالن روٹی پکا تھا ، باہر مردانے میں لے کر آئے اور جو لوگ بیٹھک میں موجود تھے ان سے کہا :

"بھائی ، یہ مولوی عبداللہ کا ولیمہ ہے _ ان کے ابا تو گوالیار میں ہیں _ وہ تو گرمی کے موسم ہی میں آئیں گے _ مدرسہ کی چھٹی ہوگی تو مولوی عبداللہ بیوی کو لے کر اپنی ماں سے مل آئیں گے _ مولوی عبداللہ کی والدہ محمد قاسم کی خالہ زاد بہن تھیں اور قریب کے دوسرے قصبہ میں رہتی تھیں_

یہ واقعہ ہے دیوبند کا _

محمد قاسم بعد میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے نام سے مشہور ہوئے _ دارالعلوم دیوبند کے بانی _ان کے بھانجے مولوی عبداللہ اسی دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے _ یہاں سے فارغ ہو کر وہ علی گڑھ کے ناظم دینیات بنے _

روایت:

مولانا عبداللہ انصاریؒ کے پڑپوتے محمد طارق غازی

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬❂انسان انسانیت سے ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔

ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔ _________

📜☜ گروپ محفل قلم  میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں






تمام مسلمان بھائی متوجہ ہوں

اگر آپکی موبائل سم پر گانے لگے ھوئے ھیں تو ان کو بند کروا دیں اس میں آپ کے دو فائدے ھیں

ایک تو آپکے جو فضول پیسے ضائع ھوتے ھیں وہ بچ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ جتنے لوگ گانا سنکر گناہ گار ھوتے ھیں وہ سب گناہ بھی آپ کو نھیں ملے گا

جزاک اللہ خیرا

تمام نیٹ ورکس کے کوڈ یہ ہیں

👇👇👇

(1)زونگ سے UNR لکھ کر 230 پر بھیج دیں

(2)ٹیلی نار سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں

(3)موبی لنک سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں

(4)یوفون سے UNSUB لکھ کر 666 پر بھیجیں

(5)وارد سے RBT OF لکھ کر 7171پر بھیجیں*

یہ معلومات سب کو سینڈ کریں

جتنے لوگ اس پر عمل کر کے اپنی سم سے گانے بند کرائیں گے

آپ کو ثواب ملے گا






🕯🔥ہماری شادیاں بربادیاں کیوں بن رہی ہیں؟؟؟🔥🕯


➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


1⃣ 🔥👈 عورتوں کا خوشبو لگا کرشادی ہالز میں آنا


🌸رسول ﷺ نے تو ایسی عورت کو زانیہ کہا ھے جو خوشبو لگا کر مسجد تک بھی جائے اور اس کی خوشبو دوسرے پا لیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایسی عورتیں شاید انگلیوں پہ گنی جاسکیں جو شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشبو لگا کر نا جاتیں ہوں ۔ایسے میں برکت کیونکر نازل ہو گی؟


2⃣🔥👈 مرد و زن کا اختلاط


🌸ایک دفعہ مسجد سے نکلتے ہوئے صحابہ و صحابیات کا اختلاط ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو تنبیہ کی کہ وہ رستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ سائڈ پر ہو کر چلیں۔صحابیات یہ تنبیہ سن کر اس طرح کنارے کنارے چلا کرتی تھیں کہ انکے کپڑے رستے کی جھاڑیوں سے اٹک جاتے تھے۔آج حال یہ کہ نکاح وولیمہ کی کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اختلاط نہ ہوتا ہو؟ کیا ایسے میں ہم نکاح کی برکات سمیٹ سکتے ہیں؟


3⃣🔥👈 لباس پہن کر بھی ننگی ھونا


🌸رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعض عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔ آج دیکھا جائے تو ٹائٹس، شارٹ شرٹس، جالی دار کپڑے  کی صورت میں ایسے لباس عام ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ھے کہ یہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر تو کاسیات، عاریات کے ساتھ ساتھ اور  زیادہ بن سنور کر ممیلات  یعنی دوسروں کوما‏ئل کرنے والیاں بن کر ہوبہو رسول اللہ ﷺ کی وعید کی مستحق بن جاتیں ہیں۔ ایسی عورتوں کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گی۔ کیا ایسا نکاح اجر کا سبب بنے گا یا گناہ کا؟


4⃣ 🔥👈 موسیقی


🌸اب خوشی کا موقع ہے، دوست احباب جمع ہیں، ایسے میں گانا بجانا تو لازمی ہے۔ جب کہ سلف کے اقوال میں یہ ملتا ھے کہ گانا زنا کی سیڑھی ہے۔ بینڈ باجے کے بغیر شادی کو اب "سوگ" سے تشبیہ دی جاتی۔


5⃣🔥👈 دلہا میاں کا عورتوں کی سائیڈ پہ جانا


🌸ایک انتہائی فضول اور گھٹیا رسم یہ ھے کہ دلہا میاں نے بیوی تو ایک بنائی ھے لیکن ہمارے جاہلی رسم و رواج نے اب سب راستے کلیئر کردیئے ھیں۔ دلہا میاں دودھ پلائی و سلامی کے لیے خواتین والی سائیڈ پہ جاتے ھیں۔ بنی سنوری عورتیں ہیں، آج محرم نامحرم کی ساری تقسیم مٹ گئی ہے۔ھنسی مذاق ہے۔ ایسے ایسے تبصرے ہیں جنہیں ہمارے آبا و اجداد سنتے تو شاید موقعے پر بے ہوش ہو جاتے لیکن ہم تو اسے خوشیاں منانا کہتے ھیں (شاید صحابہ و صحابیات کو تو خوشیاں منانا ہی نہیں آتی تھیں ؟َ!) نعوذبااللہ من ذالک


6⃣🔥👈 مکلاوا


🌸شادی سے اگلے دن دلہا میاں سسرال پہنچتے ہیں جہاں سالیاں ہیں، سالوں کی بیگمات ہیں، کسی کے قد پر کسی کے رنگ پر چٹکلے ہیں۔ دلہا میاں بلا روک ٹوک گھر میں گھوم رھے ہیں۔ شریعت کی حدوں سے آج چھٹی کا دن ہے۔ اس "چھٹی" کے ختم ہوتے ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں...



🤲اللہ ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے آمین



✦┈┈❁❀






اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔الحمدللہ آج کراچی کی  ایک ایسی عظیم یونیورسٹی میں جانا ہوا جو دین اور دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کسی تعارف کی محتاج نہیں  ہے میری مراد "جامعتہ الرشید کراچی" یہ ایک ایسی عظیم دینی اور دنیاوی درسگاہ ہے جہاں طالب علم کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی طالب علم کو دنیا والوں کے سامنے  اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے ،جس طرح اس یونیورسٹی کا دینی علوم اور فنون کے اعتبار سے بڑی بڑی درسگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے اس کا شمار چند نامی گرامی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے ، اس کے کئ شعبہ جات ہیں ان میں سے ایک شعبہ "حفاظ کورسز " کا بھی ہے جس میں قوم کے مستقبل کے معماروں کی تربیت کا خاص اور جدید انتظام ہے یہ اپنے طلباء کو شروع ہی سے عربی اور انگلش میں ایک بلند مقام تک پہنچا دیتی ہے۔حفظ اور پرائمری  پاس کرنے کے بعد جو طالب علم اس یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے تو وہ اس یونیورسٹی میں ایک سال کے اندر آٹھویں تک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ عربی بول چال میں بھی کافی حد تک دسترس حاصل کر لیتا ہے،پھر دوسرے سال کے اندر وہ طالب علم انگلش لینگویج  پارٹ ون کے ساتھ نویں  کا بورڈ کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے اور اسی طرح تیسرے سال میں انگلش لینگویج پارٹ ٹو کے ساتھ دسویں کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے، اور چوتھے سال کے اندر وہ درس نظامی کا پہلا سال یعنی "اولی" پڑھنے کے ساتھ گیارہویں بھی مکمل کر لیتا  ہے ،اسی طرح پانچویں سال میں درس نظامی کا دوسرا یعنی "ثانیہ " مکمل کرنے کے ساتھ بارہویں کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے اور ان پانچوں سالوں میں یہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ "مارشل آرٹ  " میں بھی درجہ بدرجہ کامیابی اور مہارت حاصل کرتے ہوئےبلیک بیلٹ تک کا سفر بڑی خوبی کے ساتھ مکمل کر لیتا پے ( اور مارشل آرٹ  یعنی کراٹے میں تربیت حاصل کرنا تمام طلباء حفاظ پر لازم ہے )،اور اسی دوران "جمناسٹک" کی بھی تربیت دی جاتی ہے  ،اس کے علاوہ بھی اس یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات موجود ہیں  ، مثلا البیرونی ماڈل اسکول،   جس میں یونیورسٹی کے لیول تک تعلیم دی جاتی ہے،اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جس کو قلم بند کرنا مجھ جیسے نا چیز طالب علم کے لیے بہت مشکل ہے۔بس آخر میں اتنا ہی کہوں گا یہ یونیورسٹی پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے عموما اور پاکستانی مسلمانوں کے لیے خصوصا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ،اللہ سے دعا ہے کہ  اللہ اس یونیورسٹی کو اور تمام دین کی خدمت کرنے والوں کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور ہر طرح کے شرور سے محفوظ فرما ئے آمین ۔بقلم: محمد زمان  یاسین ۔





😜😜😜😜😜😜😜😜


پاکستان 2050 میں ان شاء اللہ..


جوزف : ہیلو مارک ۔ کل تم آفس نہیں آئے تھے ؟ خیریت؟


مارک: ہاں یار۔ میں پاکستانی ایمبیسی گیا تھا۔ ویزہ لینے۔


جوزف : اچھا واقعی ؟ پھر کیا ہوا ؟ میں نے سنا ہے آجکل انہوں نے بہت سختیاں کردی ہیں ۔


مارک : ہاں ۔ لیکن میں نے پھر بھی کسی نہ کسی طرح لے ہی لیا۔


جوزف: بہت اچھے یار۔ مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کہ ویزہ پراسیس میں کتنا وقت لگا ؟


مارک : بس کچھ مت پوچھو یار۔ تقریباً مہینہ بھر لگ گیا۔ پہلی بار جب میں پاکستان ایمبیسی گیا تھا تو صبح 4:30 پر وہاں پہنچا۔ پھر بھی مجھ سےپہلے 10 لوگ کھڑے تھے۔ لمبی قطار۔ اور ہاں مجھ سے کچھ آگے بل گیٹ بھی اپنا پاسپورٹ اور بنک سٹیٹمنٹ ہاتھ میں لیا لائن میں کھڑا تھا۔


جوزف : اچھا۔ بل گیٹ کو ویزہ مل گیا ۔


مارک : نہیں۔ انہوں نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ بل گیٹ پاکستان جانے کے بعد وہاں سلپ ہوجائے گا اور امریکہ واپس نہیں آئے گا۔


جوزف : یار ۔ پاکستانی ایمبیسی کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ اسلام آباد میں ہماری امریکن ایمبیسی تو پاکستانیوں کو ایک گھنٹے میں ویزہ دے دیتی ہے۔ پھر یہ کیوں ایسا کرتے ہیں ؟


مارک : ارے یار ۔ تمھیں تو پتہ ہے پاکستان اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ اسکا ویزہ لینا گویا مریخ کا ویزہ لینے کے برابر ہے۔ اور پھر قصور ہمارا امریکیوں کا بھی ہے۔ ہم بھی وہاں وزٹ ویزہ پر جاکر واپس نہیں آتے نا۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ ۔ تمھیں ویزہ کیسے مل گیا ؟


مارک : میں نے وہاں کی مشہور فرم 'پھالیہ شوگر ملز لمٹیڈ' سے بزنس وزٹ کا انویٹیشن منگوایا تھا۔ بس اسی بنیاد پر کام بن گیا۔


جوزف : ایک بار پھر مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کب جا رہے ہو پاکستان ؟


مارک : جیسے ہی ٹکٹ ملا۔ دراصل میں نے دنیا کی مشہور ترین اور اعلی کلاس کی ائیر لائن میں ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ میرا بچپن سے خواب تھا کہ کسی دن پاکستان انٹرنیشنل ایر لائنز PIA میں سفر کر سکوں۔ اگر ٹکٹ مل گیا تو میرا دیرینہ خواب پورا ہوجائے گا۔


جوزف : پاکستان میں کتنا عرصہ رکو گے ؟


مارک : کتنا عرصہ ؟ کیا مطلب ؟ مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو پاکستان چھوڑ کر واپس امریکہ آنے کی سوچوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے انٹرنیٹ پر چیٹ کے ذریعے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے مضافات میں ایک صحت افزا مقام 'کامونکی' کی ایک لڑکی سیٹ کر لی ہے۔ میں اس سے شادی کرکے گرین پاسپورٹ اپلائی کردوں گا اور وہیں سیٹ ہوجاؤں گا۔


جوزف : یار تم بہت خوش قسمت ہو۔ لیکن تمھارے ماں باپ کا کیا ہوگا۔


مارک : پاکستانی گرین پاسپورٹ مل جانے کے بعد میں ماما-پاپا کو بھی وہیں بلا لوں گا۔


جوزف : کس شہر میں رہو گے ؟


مارک : کامونکی والی لڑکی نے مجھے کہا ہے کہ پنجاب سٹیٹ صحت و صفائی کے اعلی معیار کی وجہ سے ویسے تو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن ہم کراچی سیٹل ہوں گے۔ وہاں آپرچیونٹیز بہت ہیں۔ پتہ ہے نا ؟ کراچی اس وقت دنیا میں ٹریڈ اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اول نمبر کا شہر ہے۔ اور وہاں کا 660 منزلہ حبیب بنک پلازہ دیکھنا بھی میری زندگی کی بہت بڑی خواہش ہے۔ سنا ہے اسکی اوپرکی 200 منزلیں بادلوں میں ڈھکی رہتی ہیں۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤو واٹ آ ڈریم یار۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ اپنے ساتھ کتنے ڈالرز لے کر جاؤ گے ؟


مارک : ڈالرز ؟ وہاں کون پوچھتا ہے۔ تمھیں پتہ ہے ایک پاک-روپے کے مقابلے میں آجکل 210 ڈالرز بنتے ہیں۔ یعنی میری اگر وہاں 10 ہزار پاکستانی بھی تنخواہ نکل آئی تو امریکہ میں چند مہینوں میں لاکھوں پتی بن جاؤں گا۔


جوزف : میں نے سنا ہے پاکستان کا لائف سٹینڈرڈ بہت اعلی ہے۔


مارک : ہاں۔ ایسے ہی ہے۔ وہاں پر BMW لکژری کار 25 ہزار پاک روپے میں ، جبکہ مرسٹڈیز 32 ہزار میں مل جاتی ہے۔ لیکن مین تو سوزوکی یا چنگچی لوں گا۔ خالصتاً پاکستانی میڈ آٹوز ہیں۔ کچھ مہنگی ہیں لیکن بہت اعلی کلاس کی ہیں۔


البتہ کراچی میں فلیٹ بہت مہنگے ہیں۔ اور کوئی بھی بلڈنگ 100 فلور سے کم تو ہے ہی نہیں۔ انسان ہر وقت خود کو فضاؤں میں اڑتا محسوس کرتا ہے۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ کہ وہاں کام کیا کرو گے۔


مارک : میں نے معلومات کی ہیں۔ وہاں پر آئی-ٹی میں بہت سکوپ ہے۔ لیکن تم تو جانتے ہو وہ ہمارے ملک کے تعلیمی معیار کو اپنے برابر نہیں سمجھتے اس لیے مجھے شروع میں وہاں کسی کسان کے ' گدھے' وغیرہ نہلانے پڑیں گے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کسی مشہور پارک کے دروازے پر 'جوتے پالش ' کا کھوکھا ہی کھول لوں۔ کچھ نہ ہوا تو ٹیکسی کا لائسنس کرلوں گا۔ امریکہ سے تو پھر بھی کئی گنا بہتر کما لوں گا۔ اورہاں اگر میں وہاں کا گرین پاسپورٹ ہولڈر ہوگیا تو پھر ساری زندگی حکومت مجھے بےروزگاری الاؤنس اور میڈیکل سہولیات فری فراہم کرے گی۔ اور گرین پاسپورٹ کی بنا پر مجھے دنیا کے 80 فیصد ممالک میں بغیر ویزے کے وزٹ کرنے کی سہولت مل جائے گی۔


جوزف : بہت خوب ۔ یہ بتاؤ ۔ تمھیں انکی زبان کیسے آئے گی ؟


مارک : اوہ بھائی ۔ میں پچھلے 10 سال سے اردو لینگوئج سیکھ رہا ہوں۔ کالج میں آپشنل سبجیکٹ بھی اردو ہی لیا تھا۔ اور ہاں میں نے TOUFL بھی A گریڈ میں پاس کیا ہے۔


جوزف : یہTOUFL کیا ہے ؟


مارک : Test Of Urdu as a Foreign Language


جوزف : تم بہت خوش قسمت ہو یار۔ کاش میں تمھاری جگہ ہوتا۔


سنا ہے وہاں پر ٹرین سسٹم بہت اچھا ہے۔


مارک : ہاں ۔ کراچی سے لاہور اور وہاں سے پشاور اور کوئٹہ کے لیے دنیا کی تیز ترین اور آرام دہ ترین ٹرین 'تیز گام' چلتی ہے۔ اس میں سفر کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ اور لاہور میں ہی دنیا کا مشہور فلم سٹوڈیو لالی وڈ بھی ہے۔ جہاں پر میں دنیا کے عظیم اداکاروں سلطان راہی ، شفقت چیمہ اور ریما کے مجسمے دیکھوں گا۔ سنا ہے آجکل انکے بچے بھی فلم انڈسٹری میں ہیں۔


اور راولپنڈی میں دنیا کی سب سے بڑی اور گہری جھیل 'راول ڈیم' بھی ہے۔ اس میں بوٹنگ کرنا بھی مجھے ہمیشہ سے ہی خواب لگتا ہے۔ لیکن اب یہ خواب بھی حقیقت بن جائے گا۔


جوزف : سنا ہے ہمارا صدر اگلے مہینہ امداد لینے پاکستان بھی جائے گا ؟


مارک : ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ اور قرضے بھی ری-شیڈول کروانے ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان کے محکمہ نسواریات کا منسٹر پختون خان ، وہائٹ ہاؤس آیا تھا تو 10 لاکھ روپے کا ڈونیشن تو صرف یہاں چلنے والے ایک منشیات کے ادارے کو دے گیا تھا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ منشیات باآسانی مہیا ہوسکیں۔


جوزف : اچھا تمھیں یاد ہے ہمارا پرائمری سکول کا کلاس فیلو 'پیٹر' ۔ وہ بھی تو کہیں پاکستان میں سیٹ ہے۔


مارک : ہاں۔ وہ کوئٹہ کے قریب ایک وادی ' پوستان' میں سیٹ ہے۔ سنا ہے پوسٹ کے کھیت سے پوست اکٹھی کرنے کا کام ہے اسکا۔ ایک ہی سیزن میں اتنا کما لیتا ہے کہ باقی 6 ماہ بیٹھ کر کھاتا رہتا ہے۔ عیش ہے اسکی تو۔


جوزف : یار میں بھی پاکستانی ویزہ کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ انسٹرکشن تو دو ؟


مارک : پاکستانی ایمبیسی میں ہمیشہ شلوار قمیض پہن کر جانا۔ وہ لوگ اپنے قومی لباس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اور کوشش کرنا کہ ویزہ کی درخواست انگریزی کی بجائے اردو میں پُر کرنا۔ اس سے بھی اچھا تاثر ملے گا۔


اور ایمبیسی میں داخل ہوتے ہی 'السلام علیکم ۔ جناب کیا حال ہے ؟' کہنا مت بھولنا۔


اس سے پتہ چلے گا کہ آپ کتنے مہذب ہو۔


جوزف : تھینک یو یار۔


مارک : تھینک یو نہیں شکریہ ۔ اب میں پاکستانی ویزہ ہولڈر ہوں۔ مجھے شکریہ کہنے میں فخر ہے ۔ اللہ حافظ


😂😂😂


منقول/.







🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

تھا حکومت کا  فرعون کو  بھی نشہ

  ظلم  پر   ظلم  وہ  خلقت  پہ  کرتا  رہا

  جب  سمندر   میں  ڈوبا  تو  کہنے لگا

  اس حکومت کے حاصل سے  کیا فائدہ

 

               

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  کتنا معروف  قصہ ھے  شدداد کا

  روح  جب اس  تن سے  نکلی گئی

  مرتے وقت وہ لوگوں سے کہتا گیا

  ایسی جنت  بنانے  سے کیا  فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  مالداري    میں   مشہور   قارون  تھا

  وہ  مخالف تھا  موسی  و  ھارون کا

 جب زمین میں دھنسايا گیا تو کہنے لگا

  ایسے  بے جان  خزانے سے کیا  فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  قابل   ذکر  قصہ   ھے  نمرود  کا

  وہ  بھی   انکار کرتا  تھا معبود کا

اس کے بھیجےکو مچھر نےکھا کر کہا

 یوں   بڑائی  جتانے  سے  کیا فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  اپنی  شہرت  پہ   یوں  نہ  مچل

  ایک دن آ دبوچے گي تجھ کو اجل

  روح  کو صاف کر نیک اعمال کر

   جسم ِظاہر بنانے  سے کیا   فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  خواب ِغفلت میں سوئے ہوئے مومنو

  عیش و عشرت بڑھانے سے کیا فائدہ

   آنکھ   کھولو   اور  یاد  رب  کو کرو

  عمر  یوں ھی گنوانے سے کیا   فائدہ






آخرت کی عدالت کے کچھ قوانین


 آخرت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے یہ قوانین جان لیجئے-


‏1- ساری فائلیں بالکل اوپن ہوں گی

‏﷽ ﴿ونُخرِجُ لَهُ يَوْمَ القِيامَةِ كِتابا يَلقاهُ مَنْشُورًا﴾... سورة بني إسرائيل 13

ترجمہ: اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پا لے گا۔


‏2- سخت نگرانی کی حالت میں پیشی ہو گی

‏﷽ ﴿ وَجَاءتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ﴾... سورة ق 21

ترجمہ: اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک لانے والا ہوگا اور ایک گواہی دینے والا۔


‏3- کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾.. ... سورة ق 29

ترجمہ: میں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔


‏4- آپ کی دفاع کے لیے وہاں کوئی وکیل نہ ہوگا

‏﷽ ﴿اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا﴾.. سورة بني إسرائيل 14

ترجمہ: لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے ۔  آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔


‏5- رشوت اور سفارش بالکل نہیں چلے گا

‏﷽ ﴿يَوْمَ لا يَنفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ﴾... سورة الشعراء 88

ترجمہ: اس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد۔ 


‏6- ناموں میں کوئی تشابہ نہ ہوگا

‏﷽ ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾... سورة مريم 64

ترجمہ: تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔


‏7- فیصلہ ہاتھ میں دیا جائے گا

‏﷽ ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيهْ﴾... سورة الحاقة 19

ترجمہ: سو جسے اس  کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا کہ لو میرا نامۂ اعمال پڑھو۔


‏8- کوئی غائبانہ فیصلہ نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ﴾... سورة يس 32

ترجمہ: اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کی جائیں گے۔


‏9- فیصلے میں کوئی رد و بدل نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ﴾... سورة ق 29

ترجمہ: میرے یہاں فیصلے بدلے نہیں جاتے۔


‏10- وہاں جھوٹے گواہ نہ ہوں گے

‏﷽ ﴿ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }... سورة النور 24

ترجمہ:  جبکہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔


‏11- ساری فائلیں حاضر ہونگی

‏﷽ { أحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ } سورة المجادلة 6

ترجمہ: جسے اللہ نے شمار  رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے۔


‏12- اعمال تولنے کے لئے باریک پیمانہ ہوگا

‏﷽ {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسبين } سورة الأنبياء 47

ترجمہ: قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو ۔  پھر کسی پر کچھ بھی ظلم  نہ کیا جائے گا ۔  اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گےاور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔


یاد رکھئے آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا دورانیہ ایک سیکنڈ بھی نہیں ہے


( رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ)



جب میں چار سال کا تھا 

تو میرا یقین تھا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں

 جب میں چھ سال کا تھا 

لگتا تھا میرے ابو سب کچھ جانتے ہیں


 جب میں دس سال کا تھا 

میرے ابوبہت اچھے ہیں لیکن بس ذرا غصے کے تیز ہیں

 جب میں بارہ سال کا تھا 

میرے ابو تب بہت اچھے تھے جب میں چھوٹا تھا


 جب میں چودہ سال کا تھا 

لگتا تھا میرے ابو بہت حساس ہوگئے ہیں

 جب میں سولہ سال کا تھا 

میرے ابوجدید دور کے تقاظوں سے آشنا نہیں ہیں


 جب میں اٹھارہ سال کا تھا 

میرے ابو میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے


 جب میں بیس سال کا تھا 

میرے ابو کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں امی بیچاری کیسےان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں


 جب میں پچیس سال کا تھا 

لگتا کہ میرے ابو کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو میں کرتا ہوں


 جب میں تیس سال کا تھا 

میرے ابو کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی جو مجھے ہے۔


 جب میں چالیس سال کا تھا 

ابو نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔


 جب میں پینتالیس سال کا تھا 

مجھے حیرت ہے کہ ابو نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا۔


 جب میں پچاس سال کا تھا 

میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں ابو ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔


 جب میں پچپن سال کا تھا 

میرے ابو بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انہوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔


 جب میں ساٹھ سال کا ہوا 

مجھے احساس ہوا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں


غور کیجیے کہ اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔


آئیے ہم اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کریں، ان کی خوب خدمت کریں اور ان سے بہت سا پیار کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے 


اللہ کریم ہم سب کے والدین ان میں سے جو بقید حیات ہیں کو اچھی صحت اور لمبی عمر دے اور ان کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے، آمین