Showing posts with label Nikkah. Show all posts
Showing posts with label Nikkah. Show all posts

Monday, December 14, 2020

Urdu Islamic Article: Learning, Seekhna, Sister, Mia Biwi, Husband Wife, Rizq, Azan, Masjid, Namaz, Olad ki perwarish, Nikkah, Shadi

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 🔘 سیکھتے سیکھتے 🔘


سیکھتے سیکھتے گاڑی چلا نا آ ہی جاتی ہے

سیکھتے سیکھتے کھانا پکانا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے چلنا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے کمپیوٹر چلانا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے موبائل چلانا آ ہی جاتا ہے


تو سیکھتے سیکھتے دین اسلام کیوں نہیں آسکتا؟

بات یہ ھے کہ دین اسلام سیکھنا ھی نہیں چاہتے اس کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں


لیکن باقی سب چیزوں کیلیئے بہت وقت ھے

انگریزی آجاتی ہے

کمپیوٹر آجا تا ہے

موبائل آجاتا ہے

ریاضی آجاتی ہے

فزکس آجاتی ہے

کیمسٹری آجاتی ہے

بوٹنی آجاتی ہے

بائیولوجی بھی آجاتی ہے

نہیں آتا تو اسلام سمجھ میں نہیں آتا نماز سمجھ میں نہیں آتی -۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔- دراصل ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے






•      👈 بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں 👉


صبح صبح چائے کی دکان پہ 
میرا دوست میرے پاس آ بیٹھا 
مجھے سلام کیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے 
میرا ہاتھ پکڑا روتے ہوئے بولا فارس میں آج خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا ہوں

میں حیران تھا اس کی کمر پہ تھپکی دی ارے ایسا کیا ہوا گیا شیر کو
وہ مجھ سے نظریں نہ ملا رہا تھا 
پھر زور زور سے رونے لگا
سب لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے میں اس کو چپ کروایا
ارے پاگل سب دیکھ رہے ہیں میرے سینے سے لگ گیا 
روتے ہوئے بولا 
فارس بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں 

میں سوچ میں گم ۔۔۔کیا  ہو گیا تم کو ایسا کیوں بول۔رہے ہو 
کہنے لگا 
فارس پتا ہے 
بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں 
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی میں ابو یا امی جاتے ہیں 
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی 
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے 
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں 
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے 
اور تمہاری ماں 
ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے 
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے 
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں 

فارس مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے 
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا 
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا 
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس 
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب 
ماں چپ رہی 
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری 
بہن کچھ نہ بولی 

4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او 
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن 
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں 

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو 
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں  سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا 
بہن سامنے بیٹھی تھی 
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں  بہن کو حصہ نہیں دوں گا 
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی 
وہ بیچاری خاموش تھی 

 فارس کافی عرصے سے  کام کاج ہے نہیں 
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی 
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں 
بہت پریشان تھا میں 
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ دو 
بھوک سر پہ تھی 
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ 
کے اتنے میں بہن گھر آگئی 
میں غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس

بیوی میرے پاس آئی 
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے 

پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی 
بھائی پریشان ہو میں مسکرایا نہیں تو 
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری 
گود میں کھیلتے رہے ہو 
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو 
پھر میرے قریب ہوئی 
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے 
آہستہ سے بولی 
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے 
تیرا بھائی شہر گیا ہوا تھا 
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ 
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر 
بیٹے کا علاج کروا 
اور جا اٹھ نائی کی دکان پہ جا داڑھی بڑھا رکھی ہے 
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے 
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا 
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم  ہے 
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے 

شاید اس کی جمع پونجی تھی 
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر 
تیرے بھائی کو تنخواہ ملے گی تو آوں گئ پھر 

جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے 
اب بازار جاو اور داڑھی منڈوا کر آو 
وہ جلدی سے جانے لگی 
 اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی 

فارس بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا 
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں 
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں  کر سکتیں 
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا

اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
 اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں 
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے  ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،
بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں.


┄┅════❁ اردو تحـــــاریـــــر ❁════┅┄






میاں بیوی کے درمیان رات کا حصہ بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔

کہ دونوں میاں بیوی اپنے کام وغیرہ سے مکمل فارغ ہوۓ ایک دوسرے کے ساتھ بند کمرے میں وقت گزارتے ہیں اور یقین جانیں یہی وہ خوبصورت وقت یے کہ اپنی ازدواجی زندگی کو خوب سے خوب تر بنایا جاسکتا ہے، اس وقت بیوی کی باتیں سنی جایئں، کچھ اپنی باتیں سنائی جائیں، بیوی سے دن بھر کام کا احوال لیا جاۓ، دن بھر کے کاموں میں بیوی کی تعریف کی جاۓ۔

۔✿❀࿐≼منتخب اردو تحریریں❍••══┅┄

بیوی کی خوبصورتی کی تعریف کی جاۓ، بیوی سے دل لگی کی باتیں کی جائیں، اس سے محبت کا اظہار کیا جاۓ، یہ اعمال بہت زیادہ ضروری ہیں کیوں کہ دونوں میاں بیوی ہی دن بھر کام سے تھکے ہارے آرام کے لیۓ بستر پر آتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے پیار بھرے، محبت بھرے الفاظوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ دونوں کے منہ سے نکلے الفاظ سیدھے ایک دوسرے کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں بشرط دونوں کے درمیان موبائل اور ٹیلیوژن جیسی فضول چیزیں نا ہوں۔ یہ میاں اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے کہ موبائل اور ٹیلیوژن کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو پیار اور محبت کے ساتھ وقت دیا جاۓ۔

دن بھر میاں بیوی اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور ایک رات کا وقت ملتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دیں اور اگر ایسے میں شوہر اپنے موبائل میں مصروف رہے، بیوی اپنے موبائل میں تو جناب معاف کیجیۓ گا یہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی نہیں بلکہ ایک رسمی ازدواجی زندگی ہے جہاں بس رسمیں پوری ہورہی ہیں کہ صبح اٹھے کام پر چلے گۓ بیوی گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئ، رات کو آۓ کھانا کھایا باہر راؤنڈ لگایا آکر موبائل استعمال کرتے کرتے سوگۓ، یقین جانیں یہ رسمی ازدواجی زندگی ہے۔

خوشگوار ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو وقت دینا بہت ضروری ہے، ایک دوسرے سے دل لگانا بہت ضروری یے، ایک دوسرے کا احساس، ایک دوسرے کی قدر بہت ضروری یے، ایک دوسرے سے پیار کی باتیں، محبت کا اظہار بہت ضروری ہے۔
اب لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ میر شاہ نواز  صاحب آپ فلمی باتیں کر رہے ہیں، ارے نہیں جناب یہ سب تو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھنے کو ملتا یے کہ وہ اپنی بیویوں کو اچھی طرح وقت دیا کرتے تھے، گھر کے کاموں میں انکا ہاتھ بٹایا کرتے تھے،  چلتے پھرتے بیویوں سے محبت کا اظہار کیا کرتے تھے، بیوی کی دل جوئی کیا کرتے تھے، لہذا ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر عمل کرتے ہوۓ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے۔

لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس موبائل فون نے رشتوں میں بہت دوریاں پیدا کردی ہیں، موبائل فون کا استعمال غلط نہیں لیکن بے وقت موبائل کا استعمال نا صرف صحت کے لیۓ نقصاندہ ہے بلکہ رشتوں میں بھی بہت زیادہ دوریاں پیدا کردیتا ہے۔

♾♾🍃🌸 منتخب اردو تحریریں 🌸🍃♾♾

میں تو یہ کہوں گا کہ جب ماں باپ، بیوی، بچوں کے ساتھ ہوں تو موبائل کو آف کردیں، یا کم از کم خاموش کرکے رکھ دیں، ماں باپ کے ساتھ ہوں موبائل رکھ دیں، بچے ساتھ ہوں موبائل رکھ دیں، بیوی ساتھ ہو موبائل رکھ دیں، ہمارا فرض ہے انہیں وقت دینا اور اس فرض کی ادایئگی میں ذرا سی سستی رشتوں میں ایسی دوریاں پیدا کردیں گی جو بعد میں سنبھالے نہیں جائے گی 

اللہ کریم آپ سب کو آپنے حصار میں رکھے اور صحت تندرستی کے ساتھ لازوال خوشیاں نصیب فرمائے
آمین ثمہ آمین جزاک اللہ خیر کثیرا............






*ﻣﺆﺫﻥ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮩﺎ ۔ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯﭘﮑﻮﮌﻭﮞ
ﮐﯽ ﮐﮍﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺷﻮﺭﻣﭽﺎﺗﮯ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ
ﮐﯿﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ*
*ﺩﻭﺳﺘﻮ ! ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﻮ ، ﺑﻼﻭﺍ
ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ*
*ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﮬﯽ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ۔
ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ۔
ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﮨﮏ ﺷﺎﯾﺪ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ، ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﮯ
ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ* ۔
"* ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﮨﮏ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ"*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ؟؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﺍﻥ ﺳﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔*
"* ﺭﺯﻕ ﺣﻼﻝ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺑﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ ،
ﺁﭖ ﮔﺎﮨﮏ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ
ﺗﮭﮯ"*
*ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ۔ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ
ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﯾﺎ ۔ ﻣﯿﮟ
ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺭﮎ ﮐﺮ ﻓﻼﺡ ﮐﺎ
ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺭﺯﻕ ﺗﻮ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ - ﺑﯿﭩﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ
ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ* ، *ﺳﺎﺭﯼ ﻟﺬﺗﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﻃﺮﻑ ، ﯾﮧ ﻟﺬﺕ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ" *
*ﺭﺯﻕ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ
ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺴﯽ
ﮐﺴﯽ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻥ ﺍﺳﮯ
ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻦ ﭘﺎﺗﮯ ۔ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﻠﮧ
ﻭﮦ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺩﮮ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ۔
ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ۔*"
*ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﭨﭩﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺑﮭﯽ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ
ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﺩﮮﺟﻮ
ﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﭘﺮ ﻓﻮﺭًﺍ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﮯ*!!!!
*ﺁﻣﯿﻦ ﯾﺎ ﺭﺑﺎﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ۔






آج کی نسل جب والدین بنیں گے تو کیسے پرورش کریں گے اپنی اولاد کی جب خود ہی ہر قسم کی برائی میں ملوث ہوں گے تو اپنی اولاد کی تربیت کیسے کریں گے👇

💕آج کی ماں سالن روٹی میں نہیں بلکہ ٹک ٹوک، رانجھا رانجھا کر دی، کہیں دیپ جلے اور میرے پاس تم ہو ٹی وی سیریل میں کھو چکی ہے وہ یوٹیوب کی دیوانی ہو چکی ہے
آج کی ماں بھی اس دور کی طرح جدید ہے

💕بچی نے شسرٹس پہنی ہیں تو کوئی بات نہیں، tights پہنی ہیں تو کوئی بات نہیں، شرٹ چھوٹی ہے تو کوئی بات نہیں، ٹک ٹوک پر بیٹھی ہے تو کوئی بات نہیں، گھنٹوں موبائل پر لگی ہے تو کوئی بات نہیں، الگ کمرے میں بیٹھی ہے تو کوئی بات نہیں، فیس بک پر تصویر اپلوڈ کر رہی ہے تو کوئی بات نہیں، ٹک ٹوک پر ویڈیو بنا کر ڈال رہی ہے کوئی بات نہیں
بیٹا رات کو دیر سے گھر آتا ہے تو کوئی بات نہیں، بیٹا کزن کے ساتھ اٹیچ ہے تو کوئی بات نہیں، بیٹا گھنٹوں فون پر کسی سے باتیں کرتا ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ جدید دور ہے۔

💕 یہ سب تو آج کل کا فیشن ہے تو اتنا تو چلتا ہی رہتا ہے
آج کی ماں اور آج کا باپ خود اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں تو کوئی بات نہیں
فیشن، سٹیٹس کو اور یہ ماڈرنیزم ہماری تربیت اور اخلاقیات کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں
پھر یہ سب تو ہونا ہی ہے اور ہوتا ہی رہے گا
ہم اخلاقی پستی اور تربیت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں، ہم حرام اور حلال کا فرق ختم کر چکے ہیں، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا کہتے کہتے "بہت کچھ" اور پھر "سب کچھ" ہو جاتا ہے.

💕پھر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، ناک رگڑتے ہیں اور اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں، ماتم کرتے ہیں اور اسی طرح غلطی پر غلطی کرتے کرتے زندگی تمام ہو جاتی ہے.
میں سوچتا ہوں کہ آج کی نسل جب والدین بنیں گے تو کیسے پرورش کریں گے اپنی اولاد کی جب خود ہی ہر قسم کی برائی میں ملوث ہوں گے تو اپنی اولاد کی تربیت کیسے کریں گے🤔؟..



جائز کاموں میں مصروف رہنا بڑی نعمت ہے
آج سے پانچ سال قبل لکھا گیا استاد محترم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم بالصحۃ و العافیۃ کا ایک مختصر لیکن پر اثر مضمون۔
"مسلسل مصروفیت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے آدمی نفسیاتی مریض نہیں بنتا......آدمی کو کبھی بیکار نہیں بیٹھنا چاہیے،اس پر لازم ہے کہ آخرت کے لیے کوئی کام کرے یا دنیا کا کوئی جائز کا کرے ہاں جب تھک جائے تو آرام کرے اور سوجائے".☝️



زندگی ایک کتاب ہے
      پہلاصفحہ پیدائش
آخری صفحہ موت " درمیانی صفحات خالی، اس میں جو پسند ہو لکهیں ،،بس ایسا کچهہ لکهیں کہ "اللہ"کو دکهاتے ہوئے شرمندگی نہ ہو
                               🌹🌹🌹
اے اللہ ہم پر رحم فرما





ایک نکاح ایسا بھی
 
  محمد قاسم شمالی
 ہندستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے _ ایک دوپہر گھر میں آئے اور صحن میں بچھے ہوئے پلنگ پر بیٹھ گئے _ دوپہر کا کھانا نکالتے ہوئے بیوی نے کہا :
"اجی، بچی کی شادی بیاہ کی بھی کچھ فکر کیجئے _"
      بچی تھوڑی دور باورچی خانے کے چبوترے پر بیٹھی دال دھو رہی تھی _ محمد قاسم نے ایک نظر بچی پر ڈالی _ بیوی نے ابھی پلنگ پر دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ محمد قاسم اترے ، پیر میں جوتے ڈالے اور باہر چلے گئے _ بیوی کہتی رہ گئی کہ کھانا تو کھالیتے _
     بیٹھک میں آکر محمد قاسم نے کسی سے کہا : "ذرا مولوی عبداللہ کو بلا لاؤ " عبداللہ ان کے بھانجے تھے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے _ قریب ہی کرائے کے ایک کمرہ میں رہتے تھے _ ماموں کا پیغام ملا تو بھاگے ہوئے آئے _ وہ کپڑے تو صاف ستھرے پہنے ہوئے تھے ، مگر پاجامے کے ایک پائنچے میں کھونچا لگا ہوا تھا اور کچھ لکھنے کے دوران دوات الٹ جانے کی بنا پر قمیص کے دامن پرروشنائی کا ایک چھوٹا سا نشان پڑ گیا تھا
محمد قاسم نے بھانجے سے کہا :"میاں، تم نے اپنی شادی کے بارے میں کچھ سوچا؟"
     ماموں کے سوال پر مولوی عبداللہ کچھ سٹپٹا سے گئے _
"بزرگوں کی موجودگی میں بھلا میں کیا سوچوں؟ "عبد اللہ نے جواب دیا _
" تو اِکرامَن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تمہاری مرضی ہو تو تم دونوں کا نکاح پڑھا دیا جائے_" محمد قاسم نے کہا _
عبداللہ نے لمحہ بھر سوچا_
"ماموں جی! آپ اور اباجی جو بھی فیصلہ کریں گے اس سے مجھے انکار کی مجال نہیں_"


  محمد قاسم کے بہنوئی انصار علی اپنی ملازمت کے سلسلے میں وطن سے بہت دور گوالیارمیں رہتے تھے_ انہوں نے قاسم سے کہہ رکھا تھا کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو عبداللہ کی شادی کر دیجیے گا _ اپنے بھانجے کا جواب سن کر محمد قاسم نے اسے وہیں ٹھہرنے کو کہا اور اندر گھر میں چلے گئے _ وہاں بیوی کو مخاطب کیا:
"اکرامن کے لئے مولوی عبداللہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ گھر کا بچہ ہے، کچھ دیکھنا بھالنا تو ہے نہیں ، تمہاری مرضی ہو تو نکاح پڑھ دیا جائے_"
     محمد قاسم کی بیوی کو بھی تجویز مناسب لگی _ دونوں میں اتفاق رائے ہو گیا تو محمد قاسم بیٹی کے پاس آئے _ وہ ابھی تک دال دھونے میں مشغول تھی _ وہ وہیں بیٹی کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے _
"بیٹی! ہم نے سوچا ہے کہ مولوی عبداللہ سے تمہارا نکاح پڑھا دیں، مگر پہلے تم بتاؤ ، تمہاری مرضی کیا ہے؟ "
اِکرامن شرم کے مارے دہری ہوگئی _ گھٹنوں میں منہ چھپا لیا _ 
محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "اجی، توبہ ہے، بچیوں سے بھلا یوں شادی بیاہ کی بات کیا کرتے ہیں کیا؟" 
"کیوں اس میں کیا عیب ہے؟شرع کاملہ ہے، بچی کی رائے پوچھنی لازم ہے _ شرع کے معاملے میں کیا شرم؟ اگر اکرامن کی رائے نہ ہو تو کوئی اور صورت دیکھیں گے ، مگر جس طرح مولوی عبداللہ کی مرضی معلوم کی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اکرامن کی رائے بھی معلوم ہو جائے _"
    محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "باحیا بچیاں منہ پھاڑ کے 'ہاں' نہیں کیا کرتیں _ انکار ہوتا تو وہ میری طرف دیکھتی ، یا اٹھ کر کمرہ میں چلی جاتی ، اس طرح میں اس کا عندیہ سمجھ لیتی _ ان معاملات میں بچیوں کی خاموشی ہی ان کی رضامندی ہوتی ہے _ اسے بھی مولوی عبداللہ کی طرح بھلا کیا اعتراض ہوگا؟" 
    بیوی کی بات سن کر محمد قاسم اٹھے اور باہر چلے گئے _ بیٹھک میں عبد اللہ ماموں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے _ وہاں دوچار لوگ اور بھی موجود تھے _ محمد قاسم نے ان کو بلایا اور کہا: "میں مولوی عبداللہ کا نکاح اپنی بیٹی امت الاکرام سے کر رہا ہوں _" 
انھوں نے ان میں سے ایک آدمی کو دو پیسے دے کر کہا:"نکڑ کی دکان سے تھوڑے سے چھوہارے لے آؤ_"
   انہی حاضرین میں سے دو گواہ بن گئے _ ذرا دیر میں نکاح پڑھا دیا گیا _ پھر محمد قاسم نے دولہا میاں ہی سے کہا: "باہر جاکر ایک ڈولی لے آؤ اور اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر سدھارو_" 
   ڈولی آگئی تو محمد قاسم پھر گھر میں آئے اور بیٹی کے پاس گئے ، جو ظہر کی نمازپڑھنے کے بعد ابھی جانماز ہی پر بیٹھی تھی_
"بیٹی! اللہ کا شکر ہے، میں تمہارے فرض سے سبک دوش ہوگیا _ مولوی عبداللہ ڈولی لئے باہر تمھارے منتظر ہیں_ اب تم ان کے ساتھ اپنے گھر جاؤ_"
    محمد قاسم کی بیوی نے کہا:
"ارے ،ایسا چٹ پٹ شادی بیاہ کردیا _ مجھے کچھ تو مہلت دی ہوتی کہ بچی کے دوچار جوڑے کپڑے بنا دیتی _ کم از کم نکاح کے وقت تو اچھے کپڑے بدلوادیتی_"
"کیوں ، ان کپڑوں میں کیا عیب ہے؟ کیا ان میں وہ نماز نہیں پڑھ سکتی؟"
"بھلا وہ نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ ابھی تو اس نے ظہر کی نماز پڑھی ہے انہی کپڑوں میں _"
"تو بس ، نماز کے کپڑوں سے اچھا جوڑا اور کون سا ہوگا؟ رہی بات بچی کو کچھ دینے دلانے کی تو کوئی ضروری ہے کہ آج ہی دو _ تمہاری بیٹی ہے اور مولوی عبداللہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے _ ان کے لئے کیا تکلف کرنا؟ ہاں، گھر کی ضرورت کا سامان ،جب چاہو ، بھجوا دینا _ "
    اس اثنا میں ماں نے اکرامن کو برقعہ اڑھایا ، دعا دی ، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور لے جا کر ڈولی میں بٹھا آئے _ لے جاتے ہوئے بیٹی کو زندگی ، شوہر کے حقوق اور گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں نصیحتیں کرتے رہے _ ادھر ڈولی روانہ ہوئی ، ادھر ماں نے نائن کے ہاتھ بیٹی کے روز کے کپڑوں کی پوٹلی اور کھانا پکانے اور کھانے کے چند برتن بھیج دئے بس یہی کل جہیز تھا
     اگلے دن محمد قاسم نے بیٹی داماد کو گھر پر بلایا_ گھر میں جو سالن روٹی پکا تھا ، باہر مردانے میں لے کر آئے اور جو لوگ بیٹھک میں موجود تھے ان سے کہا :
"بھائی ، یہ مولوی عبداللہ کا ولیمہ ہے _ ان کے ابا تو گوالیار میں ہیں _ وہ تو گرمی کے موسم ہی میں آئیں گے _ مدرسہ کی چھٹی ہوگی تو مولوی عبداللہ بیوی کو لے کر اپنی ماں سے مل آئیں گے _ مولوی عبداللہ کی والدہ محمد قاسم کی خالہ زاد بہن تھیں اور قریب کے دوسرے قصبہ میں رہتی تھیں_
یہ واقعہ ہے دیوبند کا _
محمد قاسم بعد میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے نام سے مشہور ہوئے _ دارالعلوم دیوبند کے بانی _ان کے بھانجے مولوی عبداللہ اسی دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے _ یہاں سے فارغ ہو کر وہ علی گڑھ کے ناظم دینیات بنے _
روایت:
مولانا عبداللہ انصاریؒ کے پڑپوتے محمد طارق غازی
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬❂انسان انسانیت سے ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔ _________
📜☜ گروپ محفل قلم  میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں
*📱03105500110





🕯🔥ہماری شادیاں بربادیاں کیوں بن رہی ہیں؟؟؟🔥🕯

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

1⃣ 🔥👈 عورتوں کا خوشبو لگا کرشادی ہالز میں آنا

🌸رسول ﷺ نے تو ایسی عورت کو زانیہ کہا ھے جو خوشبو لگا کر مسجد تک بھی جائے اور اس کی خوشبو دوسرے پا لیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایسی عورتیں شاید انگلیوں پہ گنی جاسکیں جو شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشبو لگا کر نا جاتیں ہوں ۔ایسے میں برکت کیونکر نازل ہو گی؟

2⃣🔥👈 مرد و زن کا اختلاط

🌸ایک دفعہ مسجد سے نکلتے ہوئے صحابہ و صحابیات کا اختلاط ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو تنبیہ کی کہ وہ رستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ سائڈ پر ہو کر چلیں۔صحابیات یہ تنبیہ سن کر اس طرح کنارے کنارے چلا کرتی تھیں کہ انکے کپڑے رستے کی جھاڑیوں سے اٹک جاتے تھے۔آج حال یہ کہ نکاح وولیمہ کی کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اختلاط نہ ہوتا ہو؟ کیا ایسے میں ہم نکاح کی برکات سمیٹ سکتے ہیں؟

3⃣🔥👈 لباس پہن کر بھی ننگی ھونا

🌸رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعض عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔ آج دیکھا جائے تو ٹائٹس، شارٹ شرٹس، جالی دار کپڑے  کی صورت میں ایسے لباس عام ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ھے کہ یہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر تو کاسیات، عاریات کے ساتھ ساتھ اور  زیادہ بن سنور کر ممیلات  یعنی دوسروں کوما‏ئل کرنے والیاں بن کر ہوبہو رسول اللہ ﷺ کی وعید کی مستحق بن جاتیں ہیں۔ ایسی عورتوں کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گی۔ کیا ایسا نکاح اجر کا سبب بنے گا یا گناہ کا؟

4⃣ 🔥👈 موسیقی

🌸اب خوشی کا موقع ہے، دوست احباب جمع ہیں، ایسے میں گانا بجانا تو لازمی ہے۔ جب کہ سلف کے اقوال میں یہ ملتا ھے کہ گانا زنا کی سیڑھی ہے۔ بینڈ باجے کے بغیر شادی کو اب "سوگ" سے تشبیہ دی جاتی۔

5⃣🔥👈 دلہا میاں کا عورتوں کی سائیڈ پہ جانا

🌸ایک انتہائی فضول اور گھٹیا رسم یہ ھے کہ دلہا میاں نے بیوی تو ایک بنائی ھے لیکن ہمارے جاہلی رسم و رواج نے اب سب راستے کلیئر کردیئے ھیں۔ دلہا میاں دودھ پلائی و سلامی کے لیے خواتین والی سائیڈ پہ جاتے ھیں۔ بنی سنوری عورتیں ہیں، آج محرم نامحرم کی ساری تقسیم مٹ گئی ہے۔ھنسی مذاق ہے۔ ایسے ایسے تبصرے ہیں جنہیں ہمارے آبا و اجداد سنتے تو شاید موقعے پر بے ہوش ہو جاتے لیکن ہم تو اسے خوشیاں منانا کہتے ھیں (شاید صحابہ و صحابیات کو تو خوشیاں منانا ہی نہیں آتی تھیں ؟َ!) نعوذبااللہ من ذالک

6⃣🔥👈 مکلاوا

🌸شادی سے اگلے دن دلہا میاں سسرال پہنچتے ہیں جہاں سالیاں ہیں، سالوں کی بیگمات ہیں، کسی کے قد پر کسی کے رنگ پر چٹکلے ہیں۔ دلہا میاں بلا روک ٹوک گھر میں گھوم رھے ہیں۔ شریعت کی حدوں سے آج چھٹی کا دن ہے۔ اس "چھٹی" کے ختم ہوتے ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں...


🤲اللہ ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے آمین


✦┈┈❁❀



Urdu Islamic Article: Mobile, Cell Phone, Women Wardrobe, Lerki ka libas, Nikkah, Mobile Sim Ring tone Ganay, Hamari Shadi, Karachi university, Jamia Tur Rasheed, Akhirat,

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 

 🥀 موبائل کا استعمال🥀


    یہ تحریر موبائل استعمال کرنے والوں کے لیے رونگٹے کھڑے کر دینے والی ایک کام کی بات اور نصیحت ہے اسے خود بھی پڑھیں اور دوسروں کو شئر بھی کریں۔

 کیا آپ جانتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرات ِصحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا امتحان لیا تھا، جب کہ وہ حالتِ احرام میں تھے- حج و عمرہ کے احرام کی حالت میں شکار ممنوع ہوتاہے- امتحان اس طرح ہوا کہ شکار کو ان کے اتنے قریب تک پہنچا دیا کہ اگر ان میں سے کوئی اسلحہ و آلات کے بغیر ہاتھ سے شکار پکڑنا چاہے تو پکڑ سکے۔

اللہ تعالٰی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

کہ ’’اے ایمان والو! اللہ تمہیں شکار کے کچھ جانوروں کے ذریعہ ضرور آزمائے گا جن کو تم تمہارے نیزوں اور ہاتھ سے پکڑ سکو گے، تاکہ وہ یہ جان لے کہ کون ہے جو اس کو دیکھے بغیر بھی اس سے ڈرتا ہے۔ پھر جو شخص اس کے بعد بھی حد سے تجاوز کرے گا وہ دردناک سزا کا مستحق ہوگا۔‘‘ (مائدہ: ۹۴)

       اس زمانے میں بھی ایسا ہی امتحان اور ابتلاء بکثرت پیش آرہا ہے، البتہ اس کا انداز اور طریقہ قدرے مختلف ہے۔

وہ کیا ہے اور کیسے ہے؟

آج سے تقریباً ۱۰-۲۰ سال پہلے فحش تصاویر اور ناجائز ویڈیو کلپس وغیرہ کا حصول کافی حد تک دشوار اور مشکل ہوا کرتا تھا؛ لیکن آج کل موبائل اسکرین یا کمپیوٹر کے بٹن کو ہلکا سا ٹچ کرنے سے یہ سارے مناظر آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ اعاذنا للہ منہ

اللہ تعالی کے ارشاد کو یاد کیجئے اور غور فرمائیے:

لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب۔ اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔

تنہائی میں اپنے جسمانی اعضاء کی خاموشی و بے زبانی سے دھوکے میں نہ پڑو؛ اسلیے کہ ایک دن ان کے بولنے کا بھی آنے والا ہے۔

قرآن میں ہے:

"آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے کرتوت کی گواہی دیں گے"۔

خلوت میں معصیت اور خطرناک:

کسی نے کیا خوب بات کہی ہے: کہ ’’جب کوئی آدمی گناہ میں مبتلا ہو، عین اسی وقت ہوا کے جھونکے سے دروازے کا پردہ ہلنے لگے اور اس کے ہلنے سے آدمی یہ سمجھ کر ڈر جائے کہ کوئی آگیا، تو یہ ڈرنا اس گناہ سے بڑا ہے جو وہ کر رہا تھا۔‘‘ کیونکہ یہ شخص مخلوق کے دیکھنے کے اندیشے سے بھی ڈرتا ہے، جب کہ اللہ تعالی اس کو یقینا دیکھ رہے ہیں، پھر بھی خوف نہیں کرتا۔

کوئی شخص تصاویر دیکھنے میں مشغول ہو اور دروازے پر کچھ آہٹ محسوس ہو تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟

"کلیجہ منہ کوآ جاتا ہے، سانس رک جاتی ہے اور دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ پھر وہ اپنا کمپیوٹر بند کرکے دروازہ کھول کر دیکھتا ہے تو وہاں بلی ہوتی ہے"۔

اے میرے پیارے بھائی! اللہ تعالی اس سے بھی زیادہ قریب ہے، اس کا خوف کیوں نہیں؟

علامہ شنقیطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

کہ تمام علماء �


ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ

ﻃﻼﻕ ﮐﮯ 80 ﻓﯿﺼﺪ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

ﺳﺎﺱ ﺑﮩﻮ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﯽ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻋﻮﺭﺕ ﺫﻟﯿﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ

ﺷﻮﮨﺮ ﺍﮔﺮ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﻮ ﻣﺎﺭﮮ ﯾﺎ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﺳﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﻧﻨﺪﯾﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ


1 ۔ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﮩﻮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﺌﯿﮯ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﮨﺎﺗﮫ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮧ ﺍﭨﮭﮯ ﮔﺎ ﮨﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺩ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﺎﮞ ﮨﮯﻣﺎﮞ ﭘﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ


-2 ﺟﺐ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﺎﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﮯ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﻣﺪﺍﻭﺍ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﻇﺎﻟﻢ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﮨﯽ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﮔﺎ


-3 ﺟﺐ ﺑﯿﻮﯼ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ، ﺳﺎﺱ ﻧﻨﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﮐﺮﺩﮦ ﻇﻠﻤﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﮞ ﺳﻨﺎﺋﮯ ﮔﯽ، ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﮨﺮ ﺍﺱ ﭘﮧ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺮﺩ ﭘﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ !!


ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻏﯿﺮ ﺟﺎﻧﺒﺪﺍﺭﺍﻧﮧ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮩﯽ ﻧﮑﻠﮯ ﮔﺎ ﮐﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﮯ ﺗﺤﻔﻆ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ !


ﻣﺮﺩ ﺑﯿﭽﺎﺭﮦ ﺗﻮ ﺭﺷﺘﮯ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ، ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ - ﺳﺎﺱ ﺑﮩﻮ ﻧﻨﺪ ﺑﮭﺎﺑﯽ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺗﯿﻦ ﺭﺷﺘﮯ ﭨﯿﮭﮏ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺷﺎﺋﺪ ﮨﯽ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮔﮭﺮ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭﻃﻼﻗﯿﮟ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﻮﮞ





✅ عورت کے لباس کی آٹھ شرائط 


غير محرم مردوں كے سامنے جو لباس عورت پہن كر آسكتى ہے اس ميں آٹھ شروط كا ہونا ضرورى ہے، شروط درج ذيل ہيں:


✔ 1- وہ لباس سارے جسم كے ليے ساتر یعنی سارے جسم كو چھپانے والا ہو، جس ميں ہاتھ اور چہرہ بھى شامل ہيں.


✔ 2- وہ لباس كھلا اور واسع ہو، جو نہ تو جسم كے اعضاء كا حجم واضح كرتا ہو، اور نہ ہى جسم كے خد و خال واضح کرے۔


✔ 3- باريك نہ ہو كہ جلد كى رنگت واضح كرتا پھرے۔


✔ 4- وہ لباس خود بھی زينت کا باعث نہ ہو، مثلا اس پر كڑھائى اور كشيدہ كارى كى گئى ہو۔


✔ 5- اس لباس كو خوشبو نہ لگائى گئى ہو۔


✔ 6- وہ لباس مردوں كے لباس كى مشابہ نہ ہو۔


✔ 7- وہ لباس كافر عورتوں كے لباس سے مشابہ نہ ہو۔


✔ 8- لباس شہرت حاصل کرنے کا باعث نہ ہو۔


دیکھیں: "آداب الزفاف"از: البانى رحمہ اللہ ( 177 ) اور "حجاب المراۃ المسلمۃ" از: البانى رحمہ اللہ ( 19 - 111 ) اور "عودۃ الحجاب" ( 3 / 145 - 163 )۔


اس بنا پر عورت كے ليے مردوں كے سامنے پينٹ ( پتلون ) يا پائجامہ پہن كر آنا جائز نہيں ہے۔


┈••✾❀🕊💓🕊❀✾••┈┈•






ایک نکاح ایسا بھی

 

  محمد قاسم شمالی

 ہندستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے _ ایک دوپہر گھر میں آئے اور صحن میں بچھے ہوئے پلنگ پر بیٹھ گئے _ دوپہر کا کھانا نکالتے ہوئے بیوی نے کہا :

"اجی، بچی کی شادی بیاہ کی بھی کچھ فکر کیجئے _"

      بچی تھوڑی دور باورچی خانے کے چبوترے پر بیٹھی دال دھو رہی تھی _ محمد قاسم نے ایک نظر بچی پر ڈالی _ بیوی نے ابھی پلنگ پر دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ محمد قاسم اترے ، پیر میں جوتے ڈالے اور باہر چلے گئے _ بیوی کہتی رہ گئی کہ کھانا تو کھالیتے _

     بیٹھک میں آکر محمد قاسم نے کسی سے کہا : "ذرا مولوی عبداللہ کو بلا لاؤ " عبداللہ ان کے بھانجے تھے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے _ قریب ہی کرائے کے ایک کمرہ میں رہتے تھے _ ماموں کا پیغام ملا تو بھاگے ہوئے آئے _ وہ کپڑے تو صاف ستھرے پہنے ہوئے تھے ، مگر پاجامے کے ایک پائنچے میں کھونچا لگا ہوا تھا اور کچھ لکھنے کے دوران دوات الٹ جانے کی بنا پر قمیص کے دامن پرروشنائی کا ایک چھوٹا سا نشان پڑ گیا تھا

محمد قاسم نے بھانجے سے کہا :"میاں، تم نے اپنی شادی کے بارے میں کچھ سوچا؟"

     ماموں کے سوال پر مولوی عبداللہ کچھ سٹپٹا سے گئے _

"بزرگوں کی موجودگی میں بھلا میں کیا سوچوں؟ "عبد اللہ نے جواب دیا _

" تو اِکرامَن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تمہاری مرضی ہو تو تم دونوں کا نکاح پڑھا دیا جائے_" محمد قاسم نے کہا _

عبداللہ نے لمحہ بھر سوچا_

"ماموں جی! آپ اور اباجی جو بھی فیصلہ کریں گے اس سے مجھے انکار کی مجال نہیں_"



  محمد قاسم کے بہنوئی انصار علی اپنی ملازمت کے سلسلے میں وطن سے بہت دور گوالیارمیں رہتے تھے_ انہوں نے قاسم سے کہہ رکھا تھا کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو عبداللہ کی شادی کر دیجیے گا _ اپنے بھانجے کا جواب سن کر محمد قاسم نے اسے وہیں ٹھہرنے کو کہا اور اندر گھر میں چلے گئے _ وہاں بیوی کو مخاطب کیا:

"اکرامن کے لئے مولوی عبداللہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ گھر کا بچہ ہے، کچھ دیکھنا بھالنا تو ہے نہیں ، تمہاری مرضی ہو تو نکاح پڑھ دیا جائے_"

     محمد قاسم کی بیوی کو بھی تجویز مناسب لگی _ دونوں میں اتفاق رائے ہو گیا تو محمد قاسم بیٹی کے پاس آئے _ وہ ابھی تک دال دھونے میں مشغول تھی _ وہ وہیں بیٹی کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے _

"بیٹی! ہم نے سوچا ہے کہ مولوی عبداللہ سے تمہارا نکاح پڑھا دیں، مگر پہلے تم بتاؤ ، تمہاری مرضی کیا ہے؟ "

اِکرامن شرم کے مارے دہری ہوگئی _ گھٹنوں میں منہ چھپا لیا _ 

محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "اجی، توبہ ہے، بچیوں سے بھلا یوں شادی بیاہ کی بات کیا کرتے ہیں کیا؟" 

"کیوں اس میں کیا عیب ہے؟شرع کاملہ ہے، بچی کی رائے پوچھنی لازم ہے _ شرع کے معاملے میں کیا شرم؟ اگر اکرامن کی رائے نہ ہو تو کوئی اور صورت دیکھیں گے ، مگر جس طرح مولوی عبداللہ کی مرضی معلوم کی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اکرامن کی رائے بھی معلوم ہو جائے _"

    محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "باحیا بچیاں منہ پھاڑ کے 'ہاں' نہیں کیا کرتیں _ انکار ہوتا تو وہ میری طرف دیکھتی ، یا اٹھ کر کمرہ میں چلی جاتی ، اس طرح میں اس کا عندیہ سمجھ لیتی _ ان معاملات میں بچیوں کی خاموشی ہی ان کی رضامندی ہوتی ہے _ اسے بھی مولوی عبداللہ کی طرح بھلا کیا اعتراض ہوگا؟" 

    بیوی کی بات سن کر محمد قاسم اٹھے اور باہر چلے گئے _ بیٹھک میں عبد اللہ ماموں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے _ وہاں دوچار لوگ اور بھی موجود تھے _ محمد قاسم نے ان کو بلایا اور کہا: "میں مولوی عبداللہ کا نکاح اپنی بیٹی امت الاکرام سے کر رہا ہوں _" 

انھوں نے ان میں سے ایک آدمی کو دو پیسے دے کر کہا:"نکڑ کی دکان سے تھوڑے سے چھوہارے لے آؤ_"

   انہی حاضرین میں سے دو گواہ بن گئے _ ذرا دیر میں نکاح پڑھا دیا گیا _ پھر محمد قاسم نے دولہا میاں ہی سے کہا: "باہر جاکر ایک ڈولی لے آؤ اور اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر سدھارو_" 

   ڈولی آگئی تو محمد قاسم پھر گھر میں آئے اور بیٹی کے پاس گئے ، جو ظہر کی نمازپڑھنے کے بعد ابھی جانماز ہی پر بیٹھی تھی_

"بیٹی! اللہ کا شکر ہے، میں تمہارے فرض سے سبک دوش ہوگیا _ مولوی عبداللہ ڈولی لئے باہر تمھارے منتظر ہیں_ اب تم ان کے ساتھ اپنے گھر جاؤ_"

    محمد قاسم کی بیوی نے کہا:

"ارے ،ایسا چٹ پٹ شادی بیاہ کردیا _ مجھے کچھ تو مہلت دی ہوتی کہ بچی کے دوچار جوڑے کپڑے بنا دیتی _ کم از کم نکاح کے وقت تو اچھے کپڑے بدلوادیتی_"

"کیوں ، ان کپڑوں میں کیا عیب ہے؟ کیا ان میں وہ نماز نہیں پڑھ سکتی؟"

"بھلا وہ نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ ابھی تو اس نے ظہر کی نماز پڑھی ہے انہی کپڑوں میں _"

"تو بس ، نماز کے کپڑوں سے اچھا جوڑا اور کون سا ہوگا؟ رہی بات بچی کو کچھ دینے دلانے کی تو کوئی ضروری ہے کہ آج ہی دو _ تمہاری بیٹی ہے اور مولوی عبداللہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے _ ان کے لئے کیا تکلف کرنا؟ ہاں، گھر کی ضرورت کا سامان ،جب چاہو ، بھجوا دینا _ "

    اس اثنا میں ماں نے اکرامن کو برقعہ اڑھایا ، دعا دی ، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور لے جا کر ڈولی میں بٹھا آئے _ لے جاتے ہوئے بیٹی کو زندگی ، شوہر کے حقوق اور گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں نصیحتیں کرتے رہے _ ادھر ڈولی روانہ ہوئی ، ادھر ماں نے نائن کے ہاتھ بیٹی کے روز کے کپڑوں کی پوٹلی اور کھانا پکانے اور کھانے کے چند برتن بھیج دئے بس یہی کل جہیز تھا

     اگلے دن محمد قاسم نے بیٹی داماد کو گھر پر بلایا_ گھر میں جو سالن روٹی پکا تھا ، باہر مردانے میں لے کر آئے اور جو لوگ بیٹھک میں موجود تھے ان سے کہا :

"بھائی ، یہ مولوی عبداللہ کا ولیمہ ہے _ ان کے ابا تو گوالیار میں ہیں _ وہ تو گرمی کے موسم ہی میں آئیں گے _ مدرسہ کی چھٹی ہوگی تو مولوی عبداللہ بیوی کو لے کر اپنی ماں سے مل آئیں گے _ مولوی عبداللہ کی والدہ محمد قاسم کی خالہ زاد بہن تھیں اور قریب کے دوسرے قصبہ میں رہتی تھیں_

یہ واقعہ ہے دیوبند کا _

محمد قاسم بعد میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے نام سے مشہور ہوئے _ دارالعلوم دیوبند کے بانی _ان کے بھانجے مولوی عبداللہ اسی دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے _ یہاں سے فارغ ہو کر وہ علی گڑھ کے ناظم دینیات بنے _

روایت:

مولانا عبداللہ انصاریؒ کے پڑپوتے محمد طارق غازی

❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬❂انسان انسانیت سے ہے۔

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔

ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔ _________

📜☜ گروپ محفل قلم  میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں






تمام مسلمان بھائی متوجہ ہوں

اگر آپکی موبائل سم پر گانے لگے ھوئے ھیں تو ان کو بند کروا دیں اس میں آپ کے دو فائدے ھیں

ایک تو آپکے جو فضول پیسے ضائع ھوتے ھیں وہ بچ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ جتنے لوگ گانا سنکر گناہ گار ھوتے ھیں وہ سب گناہ بھی آپ کو نھیں ملے گا

جزاک اللہ خیرا

تمام نیٹ ورکس کے کوڈ یہ ہیں

👇👇👇

(1)زونگ سے UNR لکھ کر 230 پر بھیج دیں

(2)ٹیلی نار سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں

(3)موبی لنک سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں

(4)یوفون سے UNSUB لکھ کر 666 پر بھیجیں

(5)وارد سے RBT OF لکھ کر 7171پر بھیجیں*

یہ معلومات سب کو سینڈ کریں

جتنے لوگ اس پر عمل کر کے اپنی سم سے گانے بند کرائیں گے

آپ کو ثواب ملے گا






🕯🔥ہماری شادیاں بربادیاں کیوں بن رہی ہیں؟؟؟🔥🕯


➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖


1⃣ 🔥👈 عورتوں کا خوشبو لگا کرشادی ہالز میں آنا


🌸رسول ﷺ نے تو ایسی عورت کو زانیہ کہا ھے جو خوشبو لگا کر مسجد تک بھی جائے اور اس کی خوشبو دوسرے پا لیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایسی عورتیں شاید انگلیوں پہ گنی جاسکیں جو شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشبو لگا کر نا جاتیں ہوں ۔ایسے میں برکت کیونکر نازل ہو گی؟


2⃣🔥👈 مرد و زن کا اختلاط


🌸ایک دفعہ مسجد سے نکلتے ہوئے صحابہ و صحابیات کا اختلاط ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو تنبیہ کی کہ وہ رستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ سائڈ پر ہو کر چلیں۔صحابیات یہ تنبیہ سن کر اس طرح کنارے کنارے چلا کرتی تھیں کہ انکے کپڑے رستے کی جھاڑیوں سے اٹک جاتے تھے۔آج حال یہ کہ نکاح وولیمہ کی کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اختلاط نہ ہوتا ہو؟ کیا ایسے میں ہم نکاح کی برکات سمیٹ سکتے ہیں؟


3⃣🔥👈 لباس پہن کر بھی ننگی ھونا


🌸رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعض عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔ آج دیکھا جائے تو ٹائٹس، شارٹ شرٹس، جالی دار کپڑے  کی صورت میں ایسے لباس عام ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ھے کہ یہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر تو کاسیات، عاریات کے ساتھ ساتھ اور  زیادہ بن سنور کر ممیلات  یعنی دوسروں کوما‏ئل کرنے والیاں بن کر ہوبہو رسول اللہ ﷺ کی وعید کی مستحق بن جاتیں ہیں۔ ایسی عورتوں کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گی۔ کیا ایسا نکاح اجر کا سبب بنے گا یا گناہ کا؟


4⃣ 🔥👈 موسیقی


🌸اب خوشی کا موقع ہے، دوست احباب جمع ہیں، ایسے میں گانا بجانا تو لازمی ہے۔ جب کہ سلف کے اقوال میں یہ ملتا ھے کہ گانا زنا کی سیڑھی ہے۔ بینڈ باجے کے بغیر شادی کو اب "سوگ" سے تشبیہ دی جاتی۔


5⃣🔥👈 دلہا میاں کا عورتوں کی سائیڈ پہ جانا


🌸ایک انتہائی فضول اور گھٹیا رسم یہ ھے کہ دلہا میاں نے بیوی تو ایک بنائی ھے لیکن ہمارے جاہلی رسم و رواج نے اب سب راستے کلیئر کردیئے ھیں۔ دلہا میاں دودھ پلائی و سلامی کے لیے خواتین والی سائیڈ پہ جاتے ھیں۔ بنی سنوری عورتیں ہیں، آج محرم نامحرم کی ساری تقسیم مٹ گئی ہے۔ھنسی مذاق ہے۔ ایسے ایسے تبصرے ہیں جنہیں ہمارے آبا و اجداد سنتے تو شاید موقعے پر بے ہوش ہو جاتے لیکن ہم تو اسے خوشیاں منانا کہتے ھیں (شاید صحابہ و صحابیات کو تو خوشیاں منانا ہی نہیں آتی تھیں ؟َ!) نعوذبااللہ من ذالک


6⃣🔥👈 مکلاوا


🌸شادی سے اگلے دن دلہا میاں سسرال پہنچتے ہیں جہاں سالیاں ہیں، سالوں کی بیگمات ہیں، کسی کے قد پر کسی کے رنگ پر چٹکلے ہیں۔ دلہا میاں بلا روک ٹوک گھر میں گھوم رھے ہیں۔ شریعت کی حدوں سے آج چھٹی کا دن ہے۔ اس "چھٹی" کے ختم ہوتے ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں...



🤲اللہ ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے آمین



✦┈┈❁❀






اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔الحمدللہ آج کراچی کی  ایک ایسی عظیم یونیورسٹی میں جانا ہوا جو دین اور دنیاوی تعلیم کے لحاظ سے کسی تعارف کی محتاج نہیں  ہے میری مراد "جامعتہ الرشید کراچی" یہ ایک ایسی عظیم دینی اور دنیاوی درسگاہ ہے جہاں طالب علم کو دینی تعلیم دی جاتی ہے اس کے ساتھ ہی طالب علم کو دنیا والوں کے سامنے  اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہے ،جس طرح اس یونیورسٹی کا دینی علوم اور فنون کے اعتبار سے بڑی بڑی درسگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اسی طرح دنیاوی تعلیم کے اعتبار سے اس کا شمار چند نامی گرامی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے ، اس کے کئ شعبہ جات ہیں ان میں سے ایک شعبہ "حفاظ کورسز " کا بھی ہے جس میں قوم کے مستقبل کے معماروں کی تربیت کا خاص اور جدید انتظام ہے یہ اپنے طلباء کو شروع ہی سے عربی اور انگلش میں ایک بلند مقام تک پہنچا دیتی ہے۔حفظ اور پرائمری  پاس کرنے کے بعد جو طالب علم اس یونیورسٹی میں داخلہ لیتا ہے تو وہ اس یونیورسٹی میں ایک سال کے اندر آٹھویں تک تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ عربی بول چال میں بھی کافی حد تک دسترس حاصل کر لیتا ہے،پھر دوسرے سال کے اندر وہ طالب علم انگلش لینگویج  پارٹ ون کے ساتھ نویں  کا بورڈ کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے اور اسی طرح تیسرے سال میں انگلش لینگویج پارٹ ٹو کے ساتھ دسویں کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے، اور چوتھے سال کے اندر وہ درس نظامی کا پہلا سال یعنی "اولی" پڑھنے کے ساتھ گیارہویں بھی مکمل کر لیتا  ہے ،اسی طرح پانچویں سال میں درس نظامی کا دوسرا یعنی "ثانیہ " مکمل کرنے کے ساتھ بارہویں کا امتحان بھی پاس کر لیتا ہے اور ان پانچوں سالوں میں یہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ "مارشل آرٹ  " میں بھی درجہ بدرجہ کامیابی اور مہارت حاصل کرتے ہوئےبلیک بیلٹ تک کا سفر بڑی خوبی کے ساتھ مکمل کر لیتا پے ( اور مارشل آرٹ  یعنی کراٹے میں تربیت حاصل کرنا تمام طلباء حفاظ پر لازم ہے )،اور اسی دوران "جمناسٹک" کی بھی تربیت دی جاتی ہے  ،اس کے علاوہ بھی اس یونیورسٹی میں مختلف شعبہ جات موجود ہیں  ، مثلا البیرونی ماڈل اسکول،   جس میں یونیورسٹی کے لیول تک تعلیم دی جاتی ہے،اس کے علاوہ بھی بہت کچھ جس کو قلم بند کرنا مجھ جیسے نا چیز طالب علم کے لیے بہت مشکل ہے۔بس آخر میں اتنا ہی کہوں گا یہ یونیورسٹی پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے عموما اور پاکستانی مسلمانوں کے لیے خصوصا اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ،اللہ سے دعا ہے کہ  اللہ اس یونیورسٹی کو اور تمام دین کی خدمت کرنے والوں کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے اور ہر طرح کے شرور سے محفوظ فرما ئے آمین ۔بقلم: محمد زمان  یاسین ۔





😜😜😜😜😜😜😜😜


پاکستان 2050 میں ان شاء اللہ..


جوزف : ہیلو مارک ۔ کل تم آفس نہیں آئے تھے ؟ خیریت؟


مارک: ہاں یار۔ میں پاکستانی ایمبیسی گیا تھا۔ ویزہ لینے۔


جوزف : اچھا واقعی ؟ پھر کیا ہوا ؟ میں نے سنا ہے آجکل انہوں نے بہت سختیاں کردی ہیں ۔


مارک : ہاں ۔ لیکن میں نے پھر بھی کسی نہ کسی طرح لے ہی لیا۔


جوزف: بہت اچھے یار۔ مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کہ ویزہ پراسیس میں کتنا وقت لگا ؟


مارک : بس کچھ مت پوچھو یار۔ تقریباً مہینہ بھر لگ گیا۔ پہلی بار جب میں پاکستان ایمبیسی گیا تھا تو صبح 4:30 پر وہاں پہنچا۔ پھر بھی مجھ سےپہلے 10 لوگ کھڑے تھے۔ لمبی قطار۔ اور ہاں مجھ سے کچھ آگے بل گیٹ بھی اپنا پاسپورٹ اور بنک سٹیٹمنٹ ہاتھ میں لیا لائن میں کھڑا تھا۔


جوزف : اچھا۔ بل گیٹ کو ویزہ مل گیا ۔


مارک : نہیں۔ انہوں نے خطرہ ظاہر کیا ہے کہ بل گیٹ پاکستان جانے کے بعد وہاں سلپ ہوجائے گا اور امریکہ واپس نہیں آئے گا۔


جوزف : یار ۔ پاکستانی ایمبیسی کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے۔ اسلام آباد میں ہماری امریکن ایمبیسی تو پاکستانیوں کو ایک گھنٹے میں ویزہ دے دیتی ہے۔ پھر یہ کیوں ایسا کرتے ہیں ؟


مارک : ارے یار ۔ تمھیں تو پتہ ہے پاکستان اس وقت دنیا کی سپر پاور ہے۔ اسکا ویزہ لینا گویا مریخ کا ویزہ لینے کے برابر ہے۔ اور پھر قصور ہمارا امریکیوں کا بھی ہے۔ ہم بھی وہاں وزٹ ویزہ پر جاکر واپس نہیں آتے نا۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ ۔ تمھیں ویزہ کیسے مل گیا ؟


مارک : میں نے وہاں کی مشہور فرم 'پھالیہ شوگر ملز لمٹیڈ' سے بزنس وزٹ کا انویٹیشن منگوایا تھا۔ بس اسی بنیاد پر کام بن گیا۔


جوزف : ایک بار پھر مبارک ہو۔ یہ بتاؤ کب جا رہے ہو پاکستان ؟


مارک : جیسے ہی ٹکٹ ملا۔ دراصل میں نے دنیا کی مشہور ترین اور اعلی کلاس کی ائیر لائن میں ٹکٹ کے لیے درخواست دی ہے۔ میرا بچپن سے خواب تھا کہ کسی دن پاکستان انٹرنیشنل ایر لائنز PIA میں سفر کر سکوں۔ اگر ٹکٹ مل گیا تو میرا دیرینہ خواب پورا ہوجائے گا۔


جوزف : پاکستان میں کتنا عرصہ رکو گے ؟


مارک : کتنا عرصہ ؟ کیا مطلب ؟ مجھے کسی پاگل کتے نے کاٹا ہے جو پاکستان چھوڑ کر واپس امریکہ آنے کی سوچوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ میں نے انٹرنیٹ پر چیٹ کے ذریعے پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کے مضافات میں ایک صحت افزا مقام 'کامونکی' کی ایک لڑکی سیٹ کر لی ہے۔ میں اس سے شادی کرکے گرین پاسپورٹ اپلائی کردوں گا اور وہیں سیٹ ہوجاؤں گا۔


جوزف : یار تم بہت خوش قسمت ہو۔ لیکن تمھارے ماں باپ کا کیا ہوگا۔


مارک : پاکستانی گرین پاسپورٹ مل جانے کے بعد میں ماما-پاپا کو بھی وہیں بلا لوں گا۔


جوزف : کس شہر میں رہو گے ؟


مارک : کامونکی والی لڑکی نے مجھے کہا ہے کہ پنجاب سٹیٹ صحت و صفائی کے اعلی معیار کی وجہ سے ویسے تو دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ لیکن ہم کراچی سیٹل ہوں گے۔ وہاں آپرچیونٹیز بہت ہیں۔ پتہ ہے نا ؟ کراچی اس وقت دنیا میں ٹریڈ اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے اول نمبر کا شہر ہے۔ اور وہاں کا 660 منزلہ حبیب بنک پلازہ دیکھنا بھی میری زندگی کی بہت بڑی خواہش ہے۔ سنا ہے اسکی اوپرکی 200 منزلیں بادلوں میں ڈھکی رہتی ہیں۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤو واٹ آ ڈریم یار۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ اپنے ساتھ کتنے ڈالرز لے کر جاؤ گے ؟


مارک : ڈالرز ؟ وہاں کون پوچھتا ہے۔ تمھیں پتہ ہے ایک پاک-روپے کے مقابلے میں آجکل 210 ڈالرز بنتے ہیں۔ یعنی میری اگر وہاں 10 ہزار پاکستانی بھی تنخواہ نکل آئی تو امریکہ میں چند مہینوں میں لاکھوں پتی بن جاؤں گا۔


جوزف : میں نے سنا ہے پاکستان کا لائف سٹینڈرڈ بہت اعلی ہے۔


مارک : ہاں۔ ایسے ہی ہے۔ وہاں پر BMW لکژری کار 25 ہزار پاک روپے میں ، جبکہ مرسٹڈیز 32 ہزار میں مل جاتی ہے۔ لیکن مین تو سوزوکی یا چنگچی لوں گا۔ خالصتاً پاکستانی میڈ آٹوز ہیں۔ کچھ مہنگی ہیں لیکن بہت اعلی کلاس کی ہیں۔


البتہ کراچی میں فلیٹ بہت مہنگے ہیں۔ اور کوئی بھی بلڈنگ 100 فلور سے کم تو ہے ہی نہیں۔ انسان ہر وقت خود کو فضاؤں میں اڑتا محسوس کرتا ہے۔


جوزف : اچھا یہ بتاؤ کہ وہاں کام کیا کرو گے۔


مارک : میں نے معلومات کی ہیں۔ وہاں پر آئی-ٹی میں بہت سکوپ ہے۔ لیکن تم تو جانتے ہو وہ ہمارے ملک کے تعلیمی معیار کو اپنے برابر نہیں سمجھتے اس لیے مجھے شروع میں وہاں کسی کسان کے ' گدھے' وغیرہ نہلانے پڑیں گے۔ یا پھر ہوسکتا ہے کسی مشہور پارک کے دروازے پر 'جوتے پالش ' کا کھوکھا ہی کھول لوں۔ کچھ نہ ہوا تو ٹیکسی کا لائسنس کرلوں گا۔ امریکہ سے تو پھر بھی کئی گنا بہتر کما لوں گا۔ اورہاں اگر میں وہاں کا گرین پاسپورٹ ہولڈر ہوگیا تو پھر ساری زندگی حکومت مجھے بےروزگاری الاؤنس اور میڈیکل سہولیات فری فراہم کرے گی۔ اور گرین پاسپورٹ کی بنا پر مجھے دنیا کے 80 فیصد ممالک میں بغیر ویزے کے وزٹ کرنے کی سہولت مل جائے گی۔


جوزف : بہت خوب ۔ یہ بتاؤ ۔ تمھیں انکی زبان کیسے آئے گی ؟


مارک : اوہ بھائی ۔ میں پچھلے 10 سال سے اردو لینگوئج سیکھ رہا ہوں۔ کالج میں آپشنل سبجیکٹ بھی اردو ہی لیا تھا۔ اور ہاں میں نے TOUFL بھی A گریڈ میں پاس کیا ہے۔


جوزف : یہTOUFL کیا ہے ؟


مارک : Test Of Urdu as a Foreign Language


جوزف : تم بہت خوش قسمت ہو یار۔ کاش میں تمھاری جگہ ہوتا۔


سنا ہے وہاں پر ٹرین سسٹم بہت اچھا ہے۔


مارک : ہاں ۔ کراچی سے لاہور اور وہاں سے پشاور اور کوئٹہ کے لیے دنیا کی تیز ترین اور آرام دہ ترین ٹرین 'تیز گام' چلتی ہے۔ اس میں سفر کا بھی اپنا ہی مزہ ہے۔ اور لاہور میں ہی دنیا کا مشہور فلم سٹوڈیو لالی وڈ بھی ہے۔ جہاں پر میں دنیا کے عظیم اداکاروں سلطان راہی ، شفقت چیمہ اور ریما کے مجسمے دیکھوں گا۔ سنا ہے آجکل انکے بچے بھی فلم انڈسٹری میں ہیں۔


اور راولپنڈی میں دنیا کی سب سے بڑی اور گہری جھیل 'راول ڈیم' بھی ہے۔ اس میں بوٹنگ کرنا بھی مجھے ہمیشہ سے ہی خواب لگتا ہے۔ لیکن اب یہ خواب بھی حقیقت بن جائے گا۔


جوزف : سنا ہے ہمارا صدر اگلے مہینہ امداد لینے پاکستان بھی جائے گا ؟


مارک : ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ اور قرضے بھی ری-شیڈول کروانے ہیں۔ پچھلے دنوں پاکستان کے محکمہ نسواریات کا منسٹر پختون خان ، وہائٹ ہاؤس آیا تھا تو 10 لاکھ روپے کا ڈونیشن تو صرف یہاں چلنے والے ایک منشیات کے ادارے کو دے گیا تھا۔ تاکہ ہماری نوجوان نسل کو زیادہ سے زیادہ منشیات باآسانی مہیا ہوسکیں۔


جوزف : اچھا تمھیں یاد ہے ہمارا پرائمری سکول کا کلاس فیلو 'پیٹر' ۔ وہ بھی تو کہیں پاکستان میں سیٹ ہے۔


مارک : ہاں۔ وہ کوئٹہ کے قریب ایک وادی ' پوستان' میں سیٹ ہے۔ سنا ہے پوسٹ کے کھیت سے پوست اکٹھی کرنے کا کام ہے اسکا۔ ایک ہی سیزن میں اتنا کما لیتا ہے کہ باقی 6 ماہ بیٹھ کر کھاتا رہتا ہے۔ عیش ہے اسکی تو۔


جوزف : یار میں بھی پاکستانی ویزہ کے لیے اپلائی کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے کچھ انسٹرکشن تو دو ؟


مارک : پاکستانی ایمبیسی میں ہمیشہ شلوار قمیض پہن کر جانا۔ وہ لوگ اپنے قومی لباس کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ اور کوشش کرنا کہ ویزہ کی درخواست انگریزی کی بجائے اردو میں پُر کرنا۔ اس سے بھی اچھا تاثر ملے گا۔


اور ایمبیسی میں داخل ہوتے ہی 'السلام علیکم ۔ جناب کیا حال ہے ؟' کہنا مت بھولنا۔


اس سے پتہ چلے گا کہ آپ کتنے مہذب ہو۔


جوزف : تھینک یو یار۔


مارک : تھینک یو نہیں شکریہ ۔ اب میں پاکستانی ویزہ ہولڈر ہوں۔ مجھے شکریہ کہنے میں فخر ہے ۔ اللہ حافظ


😂😂😂


منقول/.







🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

تھا حکومت کا  فرعون کو  بھی نشہ

  ظلم  پر   ظلم  وہ  خلقت  پہ  کرتا  رہا

  جب  سمندر   میں  ڈوبا  تو  کہنے لگا

  اس حکومت کے حاصل سے  کیا فائدہ

 

               

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  کتنا معروف  قصہ ھے  شدداد کا

  روح  جب اس  تن سے  نکلی گئی

  مرتے وقت وہ لوگوں سے کہتا گیا

  ایسی جنت  بنانے  سے کیا  فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  مالداري    میں   مشہور   قارون  تھا

  وہ  مخالف تھا  موسی  و  ھارون کا

 جب زمین میں دھنسايا گیا تو کہنے لگا

  ایسے  بے جان  خزانے سے کیا  فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  قابل   ذکر  قصہ   ھے  نمرود  کا

  وہ  بھی   انکار کرتا  تھا معبود کا

اس کے بھیجےکو مچھر نےکھا کر کہا

 یوں   بڑائی  جتانے  سے  کیا فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  اپنی  شہرت  پہ   یوں  نہ  مچل

  ایک دن آ دبوچے گي تجھ کو اجل

  روح  کو صاف کر نیک اعمال کر

   جسم ِظاہر بنانے  سے کیا   فائدہ


              

🌹✍🏻ـ

ـ░▒▓██▓▒░

  خواب ِغفلت میں سوئے ہوئے مومنو

  عیش و عشرت بڑھانے سے کیا فائدہ

   آنکھ   کھولو   اور  یاد  رب  کو کرو

  عمر  یوں ھی گنوانے سے کیا   فائدہ






آخرت کی عدالت کے کچھ قوانین


 آخرت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے یہ قوانین جان لیجئے-


‏1- ساری فائلیں بالکل اوپن ہوں گی

‏﷽ ﴿ونُخرِجُ لَهُ يَوْمَ القِيامَةِ كِتابا يَلقاهُ مَنْشُورًا﴾... سورة بني إسرائيل 13

ترجمہ: اور بروز قیامت ہم اس کے سامنے اس کا نامہ اعمال نکالیں گے جسے وہ اپنے اوپر کھلا ہوا پا لے گا۔


‏2- سخت نگرانی کی حالت میں پیشی ہو گی

‏﷽ ﴿ وَجَاءتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ﴾... سورة ق 21

ترجمہ: اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک لانے والا ہوگا اور ایک گواہی دینے والا۔


‏3- کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿وَمَا أَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ﴾.. ... سورة ق 29

ترجمہ: میں اپنے بندوں پر ذرہ برابر بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔


‏4- آپ کی دفاع کے لیے وہاں کوئی وکیل نہ ہوگا

‏﷽ ﴿اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَىٰ بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا﴾.. سورة بني إسرائيل 14

ترجمہ: لے! خود ہی اپنی کتاب آپ پڑھ لے ۔  آج تو تو آپ ہی اپنا خود حساب لینے کو کافی ہے۔


‏5- رشوت اور سفارش بالکل نہیں چلے گا

‏﷽ ﴿يَوْمَ لا يَنفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ﴾... سورة الشعراء 88

ترجمہ: اس دن نہ مال کام آئے گا نہ اولاد۔ 


‏6- ناموں میں کوئی تشابہ نہ ہوگا

‏﷽ ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾... سورة مريم 64

ترجمہ: تمہارا رب بھولنے والا نہیں۔


‏7- فیصلہ ہاتھ میں دیا جائے گا

‏﷽ ﴿فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَؤُوا كِتَابِيهْ﴾... سورة الحاقة 19

ترجمہ: سو جسے اس  کا نامۂ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا تو وہ کہنے لگے گا کہ لو میرا نامۂ اعمال پڑھو۔


‏8- کوئی غائبانہ فیصلہ نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿وَإِنْ كُلٌّ لَمَّا جَمِيعٌ لَدَيْنَا مُحْضَرُونَ﴾... سورة يس 32

ترجمہ: اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کی جائیں گے۔


‏9- فیصلے میں کوئی رد و بدل نہیں ہوگا

‏﷽ ﴿مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ﴾... سورة ق 29

ترجمہ: میرے یہاں فیصلے بدلے نہیں جاتے۔


‏10- وہاں جھوٹے گواہ نہ ہوں گے

‏﷽ ﴿ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ }... سورة النور 24

ترجمہ:  جبکہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔


‏11- ساری فائلیں حاضر ہونگی

‏﷽ { أحْصَاهُ اللَّهُ وَنَسُوهُ ۚ } سورة المجادلة 6

ترجمہ: جسے اللہ نے شمار  رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے۔


‏12- اعمال تولنے کے لئے باریک پیمانہ ہوگا

‏﷽ {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسبين } سورة الأنبياء 47

ترجمہ: قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو ۔  پھر کسی پر کچھ بھی ظلم  نہ کیا جائے گا ۔  اور اگر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا ہم اسے لا حاضر کریں گےاور ہم کافی ہیں حساب کرنے والے۔


یاد رکھئے آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا دورانیہ ایک سیکنڈ بھی نہیں ہے


( رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ)



جب میں چار سال کا تھا 

تو میرا یقین تھا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں

 جب میں چھ سال کا تھا 

لگتا تھا میرے ابو سب کچھ جانتے ہیں


 جب میں دس سال کا تھا 

میرے ابوبہت اچھے ہیں لیکن بس ذرا غصے کے تیز ہیں

 جب میں بارہ سال کا تھا 

میرے ابو تب بہت اچھے تھے جب میں چھوٹا تھا


 جب میں چودہ سال کا تھا 

لگتا تھا میرے ابو بہت حساس ہوگئے ہیں

 جب میں سولہ سال کا تھا 

میرے ابوجدید دور کے تقاظوں سے آشنا نہیں ہیں


 جب میں اٹھارہ سال کا تھا 

میرے ابو میں برداشت کی کمی بڑھتی جارہی ہے


 جب میں بیس سال کا تھا 

میرے ابو کے ساتھ تو وقت گزارنا بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں امی بیچاری کیسےان کے ساتھ اتنی مدت سے گزارہ کررہی ہیں


 جب میں پچیس سال کا تھا 

لگتا کہ میرے ابو کو ہر اس چیز پر اعتراض ہے جو میں کرتا ہوں


 جب میں تیس سال کا تھا 

میرے ابو کے ساتھ باہمی رضامندی بہت ہی مشکل کام ہے۔شاید دادا جان کو بھی ابو سے یہی شکایت ہوتی ہوگی جو مجھے ہے۔


 جب میں چالیس سال کا تھا 

ابو نے میری پرورش بہت ہی اچھے اصولوں کے ذریعے کی، مجھے بھی اپنے بچوں کی پرورش ایسی ہی کرنی چاہیے۔


 جب میں پینتالیس سال کا تھا 

مجھے حیرت ہے کہ ابو نے ہم سب کو کیسے اتنے اچھے طریقے سے پالا پوسا۔


 جب میں پچاس سال کا تھا 

میرے لیے تو بچوں کی تربیت بہت ہی مشکل کام ہے، پتہ نہیں ابو ہماری تعلیم و تربیت اور پرورش میں کتنی اذیت سے گزرے ہوں گے۔


 جب میں پچپن سال کا تھا 

میرے ابو بہت دانا اور دور اندیش تھے اور انہوں نے ہماری پرورش اور تعلیم و تربیت کے لیے بہت ہی زبردست منصوبہ بندی کی تھی۔


 جب میں ساٹھ سال کا ہوا 

مجھے احساس ہوا کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں


غور کیجیے کہ اس دائرے کو مکمل ہونے میں چھپن سال لگے اور بات آخر میں پھر پہلے والے قدم پرآگئی کہ میرے ابو سب سے اچھے ہیں۔


آئیے ہم اپنے والدین سے بہترین سلوک کریں، ان کے سامنے اف تک نہ کریں، ان کی خوب خدمت کریں اور ان سے بہت سا پیار کریں قبل اس کے کہ بہت دیر ہوجائے 


اللہ کریم ہم سب کے والدین ان میں سے جو بقید حیات ہیں کو اچھی صحت اور لمبی عمر دے اور ان کا سایہ ہمارے سر پر سلامت رکھے، آمین