Showing posts with label Husband Wife. Show all posts
Showing posts with label Husband Wife. Show all posts

Monday, December 14, 2020

Urdu Islamic Article: Learning, Seekhna, Sister, Mia Biwi, Husband Wife, Rizq, Azan, Masjid, Namaz, Olad ki perwarish, Nikkah, Shadi

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 Namaz ki pabandi kijyay, Quran Majeed ki Tilawat her roz kijyay, Quran or Sunnat kay mutabiq zindagee guzarain, Tahajud ki Namaz perhnay ki koshish kijyay, apki jo field hay us ki zada say zada knowledge hasil karain, free time may tution perhanay ki koshish kijyay ya positive activities may busy rahay takay gunah say bachain, Zada say Zada Dua Mangiyay, English communication skills ko zada say zada improve karain.

Pleae click on the following link, inshaAllah it will be beneficial for your deen , duniya, Akhirat and career as well. Very useful and exciting stuff is waiting for you.

Email id of HR department, Islamic Wazaif, Islamic Dua, Islamic Videos, Zikar Azkaar (Allah kay zikar say dil ko sukoon milta hay), Islamic Messages and Islamic Bayans.
 
https://proudpakistaniblogging.blogspot.com/2018/05/all-time-best-post-of-sharing-is-caring.html
​​

 

 

 🔘 سیکھتے سیکھتے 🔘


سیکھتے سیکھتے گاڑی چلا نا آ ہی جاتی ہے

سیکھتے سیکھتے کھانا پکانا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے چلنا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے کمپیوٹر چلانا آ ہی جاتا ہے

سیکھتے سیکھتے موبائل چلانا آ ہی جاتا ہے


تو سیکھتے سیکھتے دین اسلام کیوں نہیں آسکتا؟

بات یہ ھے کہ دین اسلام سیکھنا ھی نہیں چاہتے اس کے لئے ہمارے پاس وقت نہیں


لیکن باقی سب چیزوں کیلیئے بہت وقت ھے

انگریزی آجاتی ہے

کمپیوٹر آجا تا ہے

موبائل آجاتا ہے

ریاضی آجاتی ہے

فزکس آجاتی ہے

کیمسٹری آجاتی ہے

بوٹنی آجاتی ہے

بائیولوجی بھی آجاتی ہے

نہیں آتا تو اسلام سمجھ میں نہیں آتا نماز سمجھ میں نہیں آتی -۔۔۔۔۔کیونکہ۔۔۔۔۔۔- دراصل ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے






•      👈 بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں 👉


صبح صبح چائے کی دکان پہ 
میرا دوست میرے پاس آ بیٹھا 
مجھے سلام کیا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے 
میرا ہاتھ پکڑا روتے ہوئے بولا فارس میں آج خود کو بہت چھوٹا محسوس کر رہا ہوں

میں حیران تھا اس کی کمر پہ تھپکی دی ارے ایسا کیا ہوا گیا شیر کو
وہ مجھ سے نظریں نہ ملا رہا تھا 
پھر زور زور سے رونے لگا
سب لوگ اس کی طرف دیکھنے لگے میں اس کو چپ کروایا
ارے پاگل سب دیکھ رہے ہیں میرے سینے سے لگ گیا 
روتے ہوئے بولا 
فارس بہنیں ایسی کیوں ہوتی ہیں 

میں سوچ میں گم ۔۔۔کیا  ہو گیا تم کو ایسا کیوں بول۔رہے ہو 
کہنے لگا 
فارس پتا ہے 
بہن کی شادی کو 6 سال ہو گئے ہیں 
میں کبھی اس کے گھر نہیں گیا عید شب رات کبھی بھی میں ابو یا امی جاتے ہیں 
میری بیوی ایک دن مجھے کہنے لگی 
آپ کی بہن جب بھی آتی ہے 
اس کے بچے گھر کا حال بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں 
خرچ ڈبل ہو جاتا ہے 
اور تمہاری ماں 
ہم۔سے چھپ چھپا کر کبھی اس کو صابن کی پیٹی دیتی ہے کبھی کپڑے کبھی صرف کے ڈبے 
اور کبھی کبھی تو چاول کا تھیلا بھر دیتی ہے 
اپنی ماں کو بولو یہ ہمارا گھر ہے کوئی خیرات سینٹر نہیں 

فارس مجھے بہت غصہ آیا میں مشکل سے خرچ پورا کر رہا ہوں اور ماں سب کچھ بہن کو دے دیتی ہے 
بہن ایک دن گھر آئی ہوئی تھی اس کے بیٹے نے ٹی وی کا ریموٹ توڑ دیا 
میں ماں سے غصے میں کہہ رہا تھا 
ماں بہن کو بولو یہاں عید پہ آیا کرے بس 
اور یہ جو آپ صابن صرف اور چاول کا تھیلا بھر کر دیتی ہیں نا اس کو بند کریں سب 
ماں چپ رہی 
لیکن بہن نے ساری باتیں سن لی تھیں میری 
بہن کچھ نہ بولی 

4 بج رہے تھے اپنے بچوں کو تیار کیا اور کہنے لگی بھائی مجھے بس سٹاپ تک چھوڑ او 
میں نے جھوٹے منہ کہا رہ لیتی کچھ دن 
لیکن وہ مسکرائی نہیں بھائی بچوں کی چھٹیاں ختم ہونے والی ہیں 

پھر جب ہم دونوں بھائیوں میں زمین کا بٹوارا  ہو رہا تھا تو 
میں نے صاف انکار کیا بھائی میں اپنی زمیں  سے بہن کو حصہ نہیں دوں گا 
بہن سامنے بیٹھی تھی 
وہ خاموش تھی کچھ نہ بولی ماں نے کہا بیٹی کا بھی حق بنتا ہے لیکن میں نے گالی دے کر کہا کچھ بھی ہو جائے میں  بہن کو حصہ نہیں دوں گا 
میری بیوی بھی بہن کو برا بھلا کہنے لگی 
وہ بیچاری خاموش تھی 

 فارس کافی عرصے سے  کام کاج ہے نہیں 
میرے بڑے بیٹے کو ٹی بی ہو گئی 
میرے پاس اس کا علاج کروانے کے پیسے نہیں 
بہت پریشان تھا میں 
قرض بھی لے لیا تھا لاکھ دو 
بھوک سر پہ تھی 
میں بہت پریشان تھا کمرے میں اکیلا بیٹھا تھا شاید رو رہا تھا حالات پہ 
کے اتنے میں بہن گھر آگئی 
میں غصے سے بولا اب یہ آ گئی ہے منحوس

بیوی میرے پاس آئی 
کوئی ضرورت نہیں گوشت یا بریانی پکانے کی اس کے لیئے 

پھر ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس آئی 
بھائی پریشان ہو میں مسکرایا نہیں تو 
بہن نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا بڑی بہن ہوں تمہاری 
گود میں کھیلتے رہے ہو 
اب دیکھو مجھ سے بھی بڑے لگتے ہو 
پھر میرے قریب ہوئی 
اپنے پرس سے سونے کے کنگن نکالے میرے ہاتھ میں رکھے 
آہستہ سے بولی 
پاگل توں اویں پریشان ہوتا ہے 
تیرا بھائی شہر گیا ہوا تھا 
بچے سکول تھے میں سوچا دوڑتے دوڑتے بھائی سے مل آؤں۔ 
یہ کنگن بیچ کر اپنا خرچہ کر 
بیٹے کا علاج کروا 
اور جا اٹھ نائی کی دکان پہ جا داڑھی بڑھا رکھی ہے 
شکل تو دیکھ ذرا کیا حالت بنا رکھی تم۔نے 
میں خاموش تھا بہن کی طرف دیکھے جا رہا تھا 
وہ آہستہ سے بولی کسی کو نہ بتانا کنگن کے بارے میں تم۔کو میری قسم  ہے 
میرے ماتھے پہ بوسہ کیا اور ایک ہزار روپیہ مجھے دیا جو سو پچاس کے نوٹ تھے 

شاید اس کی جمع پونجی تھی 
میری جیب میں ڈال۔کر بولی بچوں کو گوشت لا دینا
پریشان نہ ہوا کر 
تیرے بھائی کو تنخواہ ملے گی تو آوں گئ پھر 

جلدی سے اپنا ہاتھ میرے سر پہ رکھا دیکھ اس نے بال سفید ہو گئے 
اب بازار جاو اور داڑھی منڈوا کر آو 
وہ جلدی سے جانے لگی 
 اس کے پیروں کی طرف میں دیکھا ٹوٹی ہوئی جوتی پہنی تھی 
پرانا سا دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا جب بھی آتی تھی وہی دوپٹہ اوڑھ کر آتی 

فارس بہن کی اس محبت میں مر گیا تھا 
ہم بھائی کتنے مطلب پرست ہوتے ہیں بہنوں کو پل بھر میں بیگانہ کر دیتے ہیں اور بہنیں 
بھائیوں کا ذرا سا دکھ برداشت نہیں  کر سکتیں 
وہ ہاتھ میں کنگن پکڑے زور زور سے رو رہا تھا

اس کے ساتھ میری آنکھیں بھی نم تھیں
 اپنے گھر میں خدا جانے کتنے دکھ سہہ رہی ہوتی ہیں 
کچھ لمحے بہنوں کے پاس بیٹھ کر حال پوچھ لیا کریں
شاید کے  ان کے چہرے پہ کچھ لمحوں کے لیئے ایک سکون آ جائے، ،،،
بہنیں ماں کا روپ ہوتی ہیں.


┄┅════❁ اردو تحـــــاریـــــر ❁════┅┄






میاں بیوی کے درمیان رات کا حصہ بہت زیادہ اہم ہوتا ہے۔

کہ دونوں میاں بیوی اپنے کام وغیرہ سے مکمل فارغ ہوۓ ایک دوسرے کے ساتھ بند کمرے میں وقت گزارتے ہیں اور یقین جانیں یہی وہ خوبصورت وقت یے کہ اپنی ازدواجی زندگی کو خوب سے خوب تر بنایا جاسکتا ہے، اس وقت بیوی کی باتیں سنی جایئں، کچھ اپنی باتیں سنائی جائیں، بیوی سے دن بھر کام کا احوال لیا جاۓ، دن بھر کے کاموں میں بیوی کی تعریف کی جاۓ۔

۔✿❀࿐≼منتخب اردو تحریریں❍••══┅┄

بیوی کی خوبصورتی کی تعریف کی جاۓ، بیوی سے دل لگی کی باتیں کی جائیں، اس سے محبت کا اظہار کیا جاۓ، یہ اعمال بہت زیادہ ضروری ہیں کیوں کہ دونوں میاں بیوی ہی دن بھر کام سے تھکے ہارے آرام کے لیۓ بستر پر آتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کے پیار بھرے، محبت بھرے الفاظوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ دونوں کے منہ سے نکلے الفاظ سیدھے ایک دوسرے کے دل میں اترتے چلے جاتے ہیں بشرط دونوں کے درمیان موبائل اور ٹیلیوژن جیسی فضول چیزیں نا ہوں۔ یہ میاں اور بیوی دونوں کا ایک دوسرے پر حق ہے کہ موبائل اور ٹیلیوژن کو چھوڑ کر ایک دوسرے کو پیار اور محبت کے ساتھ وقت دیا جاۓ۔

دن بھر میاں بیوی اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں اور ایک رات کا وقت ملتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت دیں اور اگر ایسے میں شوہر اپنے موبائل میں مصروف رہے، بیوی اپنے موبائل میں تو جناب معاف کیجیۓ گا یہ ایک خوشگوار ازدواجی زندگی نہیں بلکہ ایک رسمی ازدواجی زندگی ہے جہاں بس رسمیں پوری ہورہی ہیں کہ صبح اٹھے کام پر چلے گۓ بیوی گھر کے کاموں میں مصروف ہوگئ، رات کو آۓ کھانا کھایا باہر راؤنڈ لگایا آکر موبائل استعمال کرتے کرتے سوگۓ، یقین جانیں یہ رسمی ازدواجی زندگی ہے۔

خوشگوار ازدواجی زندگی میں ایک دوسرے کو وقت دینا بہت ضروری ہے، ایک دوسرے سے دل لگانا بہت ضروری یے، ایک دوسرے کا احساس، ایک دوسرے کی قدر بہت ضروری یے، ایک دوسرے سے پیار کی باتیں، محبت کا اظہار بہت ضروری ہے۔
اب لوگوں کے ذہنوں میں آتا ہے کہ میر شاہ نواز  صاحب آپ فلمی باتیں کر رہے ہیں، ارے نہیں جناب یہ سب تو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سیکھنے کو ملتا یے کہ وہ اپنی بیویوں کو اچھی طرح وقت دیا کرتے تھے، گھر کے کاموں میں انکا ہاتھ بٹایا کرتے تھے،  چلتے پھرتے بیویوں سے محبت کا اظہار کیا کرتے تھے، بیوی کی دل جوئی کیا کرتے تھے، لہذا ہمیں بھی رسول اللہ ﷺ کی زندگی پر عمل کرتے ہوۓ اپنی زندگی کو خوشگوار بنانے کی ضرورت ہے۔

لکھنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ اس موبائل فون نے رشتوں میں بہت دوریاں پیدا کردی ہیں، موبائل فون کا استعمال غلط نہیں لیکن بے وقت موبائل کا استعمال نا صرف صحت کے لیۓ نقصاندہ ہے بلکہ رشتوں میں بھی بہت زیادہ دوریاں پیدا کردیتا ہے۔

♾♾🍃🌸 منتخب اردو تحریریں 🌸🍃♾♾

میں تو یہ کہوں گا کہ جب ماں باپ، بیوی، بچوں کے ساتھ ہوں تو موبائل کو آف کردیں، یا کم از کم خاموش کرکے رکھ دیں، ماں باپ کے ساتھ ہوں موبائل رکھ دیں، بچے ساتھ ہوں موبائل رکھ دیں، بیوی ساتھ ہو موبائل رکھ دیں، ہمارا فرض ہے انہیں وقت دینا اور اس فرض کی ادایئگی میں ذرا سی سستی رشتوں میں ایسی دوریاں پیدا کردیں گی جو بعد میں سنبھالے نہیں جائے گی 

اللہ کریم آپ سب کو آپنے حصار میں رکھے اور صحت تندرستی کے ساتھ لازوال خوشیاں نصیب فرمائے
آمین ثمہ آمین جزاک اللہ خیر کثیرا............






*ﻣﺆﺫﻥ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﮩﺎ ۔ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯﭘﮑﻮﮌﻭﮞ
ﮐﯽ ﮐﮍﺍﮨﯽ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺷﻮﺭﻣﭽﺎﺗﮯ ﭼﻮﻟﮩﮯ ﮐﻮ ﺑﻨﺪ
ﮐﯿﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ*
*ﺩﻭﺳﺘﻮ ! ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﻮ ، ﺑﻼﻭﺍ
ﺁﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﻟﮕﻮﺍ ﮐﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﻮﮞ*
*ﻣﯿﮟ ﺫﺍﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺳﺎﺩﮬﯽ
ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺍ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﭺ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ
ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ ۔
ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ۔
ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﮨﮏ ﺷﺎﯾﺪ ﺟﻠﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ، ﺑﮍﺑﮍﺍﺗﮯ
ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ* ۔
"* ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﮔﺎﮨﮏ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ"*
*ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ ؟؟
ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻨﯽ ﺍﻥ ﺳﻨﯽ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔*
"* ﺭﺯﻕ ﺣﻼﻝ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺑﮭﯽ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮨﮯ ،
ﺁﭖ ﮔﺎﮨﮏ ﻓﺎﺭﻍ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﺳﮑﺘﮯ
ﺗﮭﮯ"*
*ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ ۔ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ ﻧﮯ
ﮐﺘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﻼﯾﺎ ۔ ﻣﯿﮟ
ﺭﺯﻕ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺭﮎ ﮐﺮ ﻓﻼﺡ ﮐﺎ
ﻣﻮﻗﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﻨﻮﺍﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺭﺯﻕ ﺗﻮ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﺎ
ﮨﮯ ﻣﻠﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ - ﺑﯿﭩﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺳﮑﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﭘﺮ
ﻟﭙﮏ ﮐﺮ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﻮ* ، *ﺳﺎﺭﯼ ﻟﺬﺗﯿﮟ ﺍﯾﮏ
ﻃﺮﻑ ، ﯾﮧ ﻟﺬﺕ ﺍﯾﮏ ﻃﺮﻑ" *
*ﺭﺯﻕ ﺗﻮ ﮨﺮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ
ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﮕﺮ ﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﺴﯽ
ﮐﺴﯽ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﮐﺌﯽ ﮐﺎﻥ ﺍﺳﮯ
ﻗﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻦ ﭘﺎﺗﮯ ۔ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﻠﮧ
ﻭﮦ ﺩﻝ ﺩﮮ ﺩﮮ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﮮ ۔
ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ۔*"
*ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻝ ﭨﭩﻮﻝ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺁﻭﺍﺯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﺑﮭﯽ ﺳﻨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭﻭﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﻣﮕﺮ ﺩﻝ
ﭘﮧ ﺩﺳﺘﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ۔ ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﮎ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﻝ
ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﺩﮮﺟﻮ
ﻓﻼﺡ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﭘﺮ ﻓﻮﺭًﺍ ﻟﺒﯿﮏ ﮐﮩﮯ*!!!!
*ﺁﻣﯿﻦ ﯾﺎ ﺭﺑﺎﻟﻌﺎﻟﻤﯿﻦ۔






آج کی نسل جب والدین بنیں گے تو کیسے پرورش کریں گے اپنی اولاد کی جب خود ہی ہر قسم کی برائی میں ملوث ہوں گے تو اپنی اولاد کی تربیت کیسے کریں گے👇

💕آج کی ماں سالن روٹی میں نہیں بلکہ ٹک ٹوک، رانجھا رانجھا کر دی، کہیں دیپ جلے اور میرے پاس تم ہو ٹی وی سیریل میں کھو چکی ہے وہ یوٹیوب کی دیوانی ہو چکی ہے
آج کی ماں بھی اس دور کی طرح جدید ہے

💕بچی نے شسرٹس پہنی ہیں تو کوئی بات نہیں، tights پہنی ہیں تو کوئی بات نہیں، شرٹ چھوٹی ہے تو کوئی بات نہیں، ٹک ٹوک پر بیٹھی ہے تو کوئی بات نہیں، گھنٹوں موبائل پر لگی ہے تو کوئی بات نہیں، الگ کمرے میں بیٹھی ہے تو کوئی بات نہیں، فیس بک پر تصویر اپلوڈ کر رہی ہے تو کوئی بات نہیں، ٹک ٹوک پر ویڈیو بنا کر ڈال رہی ہے کوئی بات نہیں
بیٹا رات کو دیر سے گھر آتا ہے تو کوئی بات نہیں، بیٹا کزن کے ساتھ اٹیچ ہے تو کوئی بات نہیں، بیٹا گھنٹوں فون پر کسی سے باتیں کرتا ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ جدید دور ہے۔

💕 یہ سب تو آج کل کا فیشن ہے تو اتنا تو چلتا ہی رہتا ہے
آج کی ماں اور آج کا باپ خود اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں تو کوئی بات نہیں
فیشن، سٹیٹس کو اور یہ ماڈرنیزم ہماری تربیت اور اخلاقیات کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں
پھر یہ سب تو ہونا ہی ہے اور ہوتا ہی رہے گا
ہم اخلاقی پستی اور تربیت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں، ہم حرام اور حلال کا فرق ختم کر چکے ہیں، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا، کچھ نہیں ہوتا کہتے کہتے "بہت کچھ" اور پھر "سب کچھ" ہو جاتا ہے.

💕پھر سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں، ناک رگڑتے ہیں اور اپنی قسمت کو کوستے رہتے ہیں، ماتم کرتے ہیں اور اسی طرح غلطی پر غلطی کرتے کرتے زندگی تمام ہو جاتی ہے.
میں سوچتا ہوں کہ آج کی نسل جب والدین بنیں گے تو کیسے پرورش کریں گے اپنی اولاد کی جب خود ہی ہر قسم کی برائی میں ملوث ہوں گے تو اپنی اولاد کی تربیت کیسے کریں گے🤔؟..



جائز کاموں میں مصروف رہنا بڑی نعمت ہے
آج سے پانچ سال قبل لکھا گیا استاد محترم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی صاحب مداللہ تعالیٰ ظلہ الکریم بالصحۃ و العافیۃ کا ایک مختصر لیکن پر اثر مضمون۔
"مسلسل مصروفیت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے آدمی نفسیاتی مریض نہیں بنتا......آدمی کو کبھی بیکار نہیں بیٹھنا چاہیے،اس پر لازم ہے کہ آخرت کے لیے کوئی کام کرے یا دنیا کا کوئی جائز کا کرے ہاں جب تھک جائے تو آرام کرے اور سوجائے".☝️



زندگی ایک کتاب ہے
      پہلاصفحہ پیدائش
آخری صفحہ موت " درمیانی صفحات خالی، اس میں جو پسند ہو لکهیں ،،بس ایسا کچهہ لکهیں کہ "اللہ"کو دکهاتے ہوئے شرمندگی نہ ہو
                               🌹🌹🌹
اے اللہ ہم پر رحم فرما





ایک نکاح ایسا بھی
 
  محمد قاسم شمالی
 ہندستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے _ ایک دوپہر گھر میں آئے اور صحن میں بچھے ہوئے پلنگ پر بیٹھ گئے _ دوپہر کا کھانا نکالتے ہوئے بیوی نے کہا :
"اجی، بچی کی شادی بیاہ کی بھی کچھ فکر کیجئے _"
      بچی تھوڑی دور باورچی خانے کے چبوترے پر بیٹھی دال دھو رہی تھی _ محمد قاسم نے ایک نظر بچی پر ڈالی _ بیوی نے ابھی پلنگ پر دسترخوان بچھایا ہی تھا کہ محمد قاسم اترے ، پیر میں جوتے ڈالے اور باہر چلے گئے _ بیوی کہتی رہ گئی کہ کھانا تو کھالیتے _
     بیٹھک میں آکر محمد قاسم نے کسی سے کہا : "ذرا مولوی عبداللہ کو بلا لاؤ " عبداللہ ان کے بھانجے تھے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہے تھے _ قریب ہی کرائے کے ایک کمرہ میں رہتے تھے _ ماموں کا پیغام ملا تو بھاگے ہوئے آئے _ وہ کپڑے تو صاف ستھرے پہنے ہوئے تھے ، مگر پاجامے کے ایک پائنچے میں کھونچا لگا ہوا تھا اور کچھ لکھنے کے دوران دوات الٹ جانے کی بنا پر قمیص کے دامن پرروشنائی کا ایک چھوٹا سا نشان پڑ گیا تھا
محمد قاسم نے بھانجے سے کہا :"میاں، تم نے اپنی شادی کے بارے میں کچھ سوچا؟"
     ماموں کے سوال پر مولوی عبداللہ کچھ سٹپٹا سے گئے _
"بزرگوں کی موجودگی میں بھلا میں کیا سوچوں؟ "عبد اللہ نے جواب دیا _
" تو اِکرامَن کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تمہاری مرضی ہو تو تم دونوں کا نکاح پڑھا دیا جائے_" محمد قاسم نے کہا _
عبداللہ نے لمحہ بھر سوچا_
"ماموں جی! آپ اور اباجی جو بھی فیصلہ کریں گے اس سے مجھے انکار کی مجال نہیں_"


  محمد قاسم کے بہنوئی انصار علی اپنی ملازمت کے سلسلے میں وطن سے بہت دور گوالیارمیں رہتے تھے_ انہوں نے قاسم سے کہہ رکھا تھا کہ کوئی مناسب رشتہ سامنے آئے تو عبداللہ کی شادی کر دیجیے گا _ اپنے بھانجے کا جواب سن کر محمد قاسم نے اسے وہیں ٹھہرنے کو کہا اور اندر گھر میں چلے گئے _ وہاں بیوی کو مخاطب کیا:
"اکرامن کے لئے مولوی عبداللہ کے بارے میں تمھارا کیا خیال ہے؟ گھر کا بچہ ہے، کچھ دیکھنا بھالنا تو ہے نہیں ، تمہاری مرضی ہو تو نکاح پڑھ دیا جائے_"
     محمد قاسم کی بیوی کو بھی تجویز مناسب لگی _ دونوں میں اتفاق رائے ہو گیا تو محمد قاسم بیٹی کے پاس آئے _ وہ ابھی تک دال دھونے میں مشغول تھی _ وہ وہیں بیٹی کے پاس اکڑوں بیٹھ گئے _
"بیٹی! ہم نے سوچا ہے کہ مولوی عبداللہ سے تمہارا نکاح پڑھا دیں، مگر پہلے تم بتاؤ ، تمہاری مرضی کیا ہے؟ "
اِکرامن شرم کے مارے دہری ہوگئی _ گھٹنوں میں منہ چھپا لیا _ 
محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "اجی، توبہ ہے، بچیوں سے بھلا یوں شادی بیاہ کی بات کیا کرتے ہیں کیا؟" 
"کیوں اس میں کیا عیب ہے؟شرع کاملہ ہے، بچی کی رائے پوچھنی لازم ہے _ شرع کے معاملے میں کیا شرم؟ اگر اکرامن کی رائے نہ ہو تو کوئی اور صورت دیکھیں گے ، مگر جس طرح مولوی عبداللہ کی مرضی معلوم کی ہے اسی طرح ضروری ہے کہ اکرامن کی رائے بھی معلوم ہو جائے _"
    محمد قاسم کی بیوی نے کہا: "باحیا بچیاں منہ پھاڑ کے 'ہاں' نہیں کیا کرتیں _ انکار ہوتا تو وہ میری طرف دیکھتی ، یا اٹھ کر کمرہ میں چلی جاتی ، اس طرح میں اس کا عندیہ سمجھ لیتی _ ان معاملات میں بچیوں کی خاموشی ہی ان کی رضامندی ہوتی ہے _ اسے بھی مولوی عبداللہ کی طرح بھلا کیا اعتراض ہوگا؟" 
    بیوی کی بات سن کر محمد قاسم اٹھے اور باہر چلے گئے _ بیٹھک میں عبد اللہ ماموں کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے _ وہاں دوچار لوگ اور بھی موجود تھے _ محمد قاسم نے ان کو بلایا اور کہا: "میں مولوی عبداللہ کا نکاح اپنی بیٹی امت الاکرام سے کر رہا ہوں _" 
انھوں نے ان میں سے ایک آدمی کو دو پیسے دے کر کہا:"نکڑ کی دکان سے تھوڑے سے چھوہارے لے آؤ_"
   انہی حاضرین میں سے دو گواہ بن گئے _ ذرا دیر میں نکاح پڑھا دیا گیا _ پھر محمد قاسم نے دولہا میاں ہی سے کہا: "باہر جاکر ایک ڈولی لے آؤ اور اپنی بیوی کو لے کر اپنے گھر سدھارو_" 
   ڈولی آگئی تو محمد قاسم پھر گھر میں آئے اور بیٹی کے پاس گئے ، جو ظہر کی نمازپڑھنے کے بعد ابھی جانماز ہی پر بیٹھی تھی_
"بیٹی! اللہ کا شکر ہے، میں تمہارے فرض سے سبک دوش ہوگیا _ مولوی عبداللہ ڈولی لئے باہر تمھارے منتظر ہیں_ اب تم ان کے ساتھ اپنے گھر جاؤ_"
    محمد قاسم کی بیوی نے کہا:
"ارے ،ایسا چٹ پٹ شادی بیاہ کردیا _ مجھے کچھ تو مہلت دی ہوتی کہ بچی کے دوچار جوڑے کپڑے بنا دیتی _ کم از کم نکاح کے وقت تو اچھے کپڑے بدلوادیتی_"
"کیوں ، ان کپڑوں میں کیا عیب ہے؟ کیا ان میں وہ نماز نہیں پڑھ سکتی؟"
"بھلا وہ نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی؟ ابھی تو اس نے ظہر کی نماز پڑھی ہے انہی کپڑوں میں _"
"تو بس ، نماز کے کپڑوں سے اچھا جوڑا اور کون سا ہوگا؟ رہی بات بچی کو کچھ دینے دلانے کی تو کوئی ضروری ہے کہ آج ہی دو _ تمہاری بیٹی ہے اور مولوی عبداللہ بھی تمہارا ہی بیٹا ہے _ ان کے لئے کیا تکلف کرنا؟ ہاں، گھر کی ضرورت کا سامان ،جب چاہو ، بھجوا دینا _ "
    اس اثنا میں ماں نے اکرامن کو برقعہ اڑھایا ، دعا دی ، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور لے جا کر ڈولی میں بٹھا آئے _ لے جاتے ہوئے بیٹی کو زندگی ، شوہر کے حقوق اور گھریلو ذمہ داریوں کے بارے میں نصیحتیں کرتے رہے _ ادھر ڈولی روانہ ہوئی ، ادھر ماں نے نائن کے ہاتھ بیٹی کے روز کے کپڑوں کی پوٹلی اور کھانا پکانے اور کھانے کے چند برتن بھیج دئے بس یہی کل جہیز تھا
     اگلے دن محمد قاسم نے بیٹی داماد کو گھر پر بلایا_ گھر میں جو سالن روٹی پکا تھا ، باہر مردانے میں لے کر آئے اور جو لوگ بیٹھک میں موجود تھے ان سے کہا :
"بھائی ، یہ مولوی عبداللہ کا ولیمہ ہے _ ان کے ابا تو گوالیار میں ہیں _ وہ تو گرمی کے موسم ہی میں آئیں گے _ مدرسہ کی چھٹی ہوگی تو مولوی عبداللہ بیوی کو لے کر اپنی ماں سے مل آئیں گے _ مولوی عبداللہ کی والدہ محمد قاسم کی خالہ زاد بہن تھیں اور قریب کے دوسرے قصبہ میں رہتی تھیں_
یہ واقعہ ہے دیوبند کا _
محمد قاسم بعد میں مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے نام سے مشہور ہوئے _ دارالعلوم دیوبند کے بانی _ان کے بھانجے مولوی عبداللہ اسی دارالعلوم دیوبند میں پڑھتے تھے _ یہاں سے فارغ ہو کر وہ علی گڑھ کے ناظم دینیات بنے _
روایت:
مولانا عبداللہ انصاریؒ کے پڑپوتے محمد طارق غازی
❂▬▬▬๑۩۞۩๑▬▬❂انسان انسانیت سے ہے۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔
ورنہ اطاعت کےلئے کم نہ تھے کروبیاں۔ _________
📜☜ گروپ محفل قلم  میں ایڈ ہونے کے لئے Name لکھ کر اس نمبر پر WhatsApp کریں
*📱03105500110





🕯🔥ہماری شادیاں بربادیاں کیوں بن رہی ہیں؟؟؟🔥🕯

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

1⃣ 🔥👈 عورتوں کا خوشبو لگا کرشادی ہالز میں آنا

🌸رسول ﷺ نے تو ایسی عورت کو زانیہ کہا ھے جو خوشبو لگا کر مسجد تک بھی جائے اور اس کی خوشبو دوسرے پا لیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایسی عورتیں شاید انگلیوں پہ گنی جاسکیں جو شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشبو لگا کر نا جاتیں ہوں ۔ایسے میں برکت کیونکر نازل ہو گی؟

2⃣🔥👈 مرد و زن کا اختلاط

🌸ایک دفعہ مسجد سے نکلتے ہوئے صحابہ و صحابیات کا اختلاط ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو تنبیہ کی کہ وہ رستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ سائڈ پر ہو کر چلیں۔صحابیات یہ تنبیہ سن کر اس طرح کنارے کنارے چلا کرتی تھیں کہ انکے کپڑے رستے کی جھاڑیوں سے اٹک جاتے تھے۔آج حال یہ کہ نکاح وولیمہ کی کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اختلاط نہ ہوتا ہو؟ کیا ایسے میں ہم نکاح کی برکات سمیٹ سکتے ہیں؟

3⃣🔥👈 لباس پہن کر بھی ننگی ھونا

🌸رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعض عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔ آج دیکھا جائے تو ٹائٹس، شارٹ شرٹس، جالی دار کپڑے  کی صورت میں ایسے لباس عام ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ھے کہ یہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر تو کاسیات، عاریات کے ساتھ ساتھ اور  زیادہ بن سنور کر ممیلات  یعنی دوسروں کوما‏ئل کرنے والیاں بن کر ہوبہو رسول اللہ ﷺ کی وعید کی مستحق بن جاتیں ہیں۔ ایسی عورتوں کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گی۔ کیا ایسا نکاح اجر کا سبب بنے گا یا گناہ کا؟

4⃣ 🔥👈 موسیقی

🌸اب خوشی کا موقع ہے، دوست احباب جمع ہیں، ایسے میں گانا بجانا تو لازمی ہے۔ جب کہ سلف کے اقوال میں یہ ملتا ھے کہ گانا زنا کی سیڑھی ہے۔ بینڈ باجے کے بغیر شادی کو اب "سوگ" سے تشبیہ دی جاتی۔

5⃣🔥👈 دلہا میاں کا عورتوں کی سائیڈ پہ جانا

🌸ایک انتہائی فضول اور گھٹیا رسم یہ ھے کہ دلہا میاں نے بیوی تو ایک بنائی ھے لیکن ہمارے جاہلی رسم و رواج نے اب سب راستے کلیئر کردیئے ھیں۔ دلہا میاں دودھ پلائی و سلامی کے لیے خواتین والی سائیڈ پہ جاتے ھیں۔ بنی سنوری عورتیں ہیں، آج محرم نامحرم کی ساری تقسیم مٹ گئی ہے۔ھنسی مذاق ہے۔ ایسے ایسے تبصرے ہیں جنہیں ہمارے آبا و اجداد سنتے تو شاید موقعے پر بے ہوش ہو جاتے لیکن ہم تو اسے خوشیاں منانا کہتے ھیں (شاید صحابہ و صحابیات کو تو خوشیاں منانا ہی نہیں آتی تھیں ؟َ!) نعوذبااللہ من ذالک

6⃣🔥👈 مکلاوا

🌸شادی سے اگلے دن دلہا میاں سسرال پہنچتے ہیں جہاں سالیاں ہیں، سالوں کی بیگمات ہیں، کسی کے قد پر کسی کے رنگ پر چٹکلے ہیں۔ دلہا میاں بلا روک ٹوک گھر میں گھوم رھے ہیں۔ شریعت کی حدوں سے آج چھٹی کا دن ہے۔ اس "چھٹی" کے ختم ہوتے ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں...


🤲اللہ ہم مسلمانوں پر رحم فرمائے آمین


✦┈┈❁❀



Urdu Islamic Article: Sadqa, Milawat, Mian Biwi, Husband Wife, Insan ki soch, Ilaj Treatment, Janat, Tissue Paper, Anokhi Imdad, Chicken Murgi

 

Home Page  Urdu Islamic Article  HR Email Ids  Zikar Azkaar

Namaz Quran & Tableegh   School HR ID  Ulema Ikram Bayanat

Listen Quran Majeed   Read Quran Majeed  Social Media  Ramzan

Khulasa Quran Majeed


 

 

 ایک نوجوان کی ماں سخت بیمار اور ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے
شعبہ میں داخل تھی۔ ڈاکٹروں نے یہاں تک کہہ دیا تھاکہ برخوردار زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اب مایوس ہو چکے ہیں‘ تم کسی بھی لمحہ کوئی بری خبر سننے کیلئے ذہنی طور پر تیار رہنا‘ رات گھر گزارنے کے صبح ماں سے ملاقات کیلئے ہسپتال جاتے ہوئے نوجوان راستے میں ایک پیٹرول پمپ پر رکا‘پٹرول بھروانے کیلئے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے اس کی نظر سروس شاپ کی دیوار کے پاس پڑی جہاں ایک بلی نے خالی ڈبے کےنیچے بچے دےرکھے تھے۔ یہ نوزائیدہ بچے بہت ہی چھوٹے تھے جو ابھی چلنے پھرنے کے قابل بھی نہیں تھے۔ نوجوان کے ذہن میں جو پہلی بات آئی وہ یہ تھی کہ اتنے نازک اور چھوٹے سے بچے کھانا کہاں سے اور کیسےاور کیسے کھائیں گے۔ یہ خیال آتے ہی اس نے اپنی کار ایک طرف ہٹا کر بند کی‘ پاس ہی کھڑی ایک ریڑھی سے چھوٹی چھوٹی مچھلیاں خریدیں اوراسے بلی کے بچوں کے پاس رکھا۔ بچوں نے کھانا شروع کیا تو وہ خوش ہو کر اپنی کار کی طرف گیا اور پٹرول بھروا کر ہسپتال جا پہنچا۔

جیسے ہی اس نے اپنی ماں کے کمرے میں جھانکا تو بسترخالی پا کراس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ ڈوبتے دل کے ساتھ ایک نرس سے پوچھا‘ میری امی کہاں ہے؟ نرس نے کہا‘ آج آپ کی امی کی طبیعت معجزاتی طور پر سنبھلی تھی۔ اسے جیسے ہی ہوش آیا تو ڈاکٹر نے کہا تھا اسے تازہ ہوا لینے کیلئے باہر لے جاو¿ تو ہم نے اسے کوریڈور سے باہر لان میں بٹھا دیا ہے‘ آپ اسے جا کر مل سکتے ہیں۔ نوجوان بھاگتا ہوا اپنی ماں کے پاس پہنچا‘ اسے سلام کیا‘ حال احوال پوچھا تو اس کی ماں نے کہا‘ بیٹے آج صبح میں نے خواب دیکھا کہ ایک بلی اور اس کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے میرے لئے دعا کر رہے ہیں۔بس یہ خواب دیکھتے ہی میری آنکھ کھل گئی اور باقی کی صورتحال تم خود دیکھ رہے ہواور نوجوان حیرت بھری خوشی کے ساتھ اپنی ماں کی باتیں سنتا رہا اور اپنے دل کو ٹھنڈا کرتا رہا۔ جی ہاں‘ اس رب کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ سب کچھ اپنے اندر سمو لیتی ہے‘ ایسے تو ہمیں نہیں سکھایا گیا کہ اپنے مریضوں کاصدقہ سے علاج کرو یا صدقہ ہی تو ہے جو تمہارے رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ایک آخری بات عرض کرتا چلوں کے اگر کبھی کوئی ویڈیو، قول، واقعہ،سچی کہانی یا تحریر وغیرہ اچھی لگا کرئے تو مطالعہ کے بعد مزید تھوڑی سے زحمت فرما کر اپنے دوستوں سے بھی شئیر کر لیا کیجئے، یقین کیجئے کہ اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے کہ، اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردا تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو۔





💕مسلمان بے چارہ زیادہ سے زیادہ کیا ملاوٹ کرلے گا۔۔ مرچ میں برادہ پیس لے گا۔۔ دودھ میں پانی ڈال لے گا۔۔ چائے کی پتی میں باتھو پیس لے گا👇


💕برصغیر کے لوگ ملاوٹ کے مفہوم سے ناآشنا تھے۔ گھروں میں دیسی گھی، گڑ، شکر، لسی، دودھ، مکھن، دیسی مرغیاں، دیسی انڈے، بکرے، دنبے وغیرہ کا گوشت استعمال کیا جاتا تھا۔۔ نہانے کے لیے کالا صابن ہوتا تھا۔۔ برتن دھونے کے لیے مٹی، ریت اور کالا صابن استعمال ہوتا تھا۔۔ 

یہ برصغیر کا حقیقی چہرہ تھا۔۔ یہی یہاں کا معیار تھا اور یہی رواج بھی۔۔


💕پھر بھوکے ننگے، لالچی، چور ذہن انگریز میدان میں آئے۔ تب "مصنوعات" کا رواج نکلا. "مصنوعات" کیا تھیں۔"مصنوعی" چیزیں. انسانی تخلیق۔ مقصد صرف پیسہ کمانا تھا۔۔


💕جو آج پوری دنیا کو اخلاقیات کا درس دیتے ہیں ان عالمی جعل سازوں نے "ولایتی" کونسیپٹ متعارف کرایا۔۔

بالکل ایسے جیسے آج ہر دو نمبر اور گھٹیا پروڈکٹ کو "چائنہ" کہہ لیا جاتا ہے۔۔

دیسی گھی کے مقابلے میں ولائتی گھی آگیا۔۔ کولیسٹرول، بلڈ پریشر اور ہارٹ اٹیک کا تحفہ انہی انگریزوں کی کرم نوازی ہے۔۔ 

💕دیسی مشروبات (ستو، لسی، دودھ) وغیرہ کے مقابلے میں ولائتی کیمیکل ملے مشروبات (کوکا کولا، سیون اپ) وغیرہ انہی انگریزوں کا تحفہ ہےجو ملاوٹ نہیں کرتے۔


💕گڑ ،شکر کے مقابلے میں گنے کے رس میں مضر صحت کیمیکل کی ملاوٹ سے چینی بنا کرعوام کواس طرف لگا دیا گیا۔پوری قوم کو ذیابیطس مبارک ہو انگریز ملاوٹ نہیں کرتا


💕دودھ خالص ہوتا تھا اور دودھ سے بنی تمام اشیاء بھی۔۔ نیسلے کمپنی (ان کی ہے جو ملاوٹ نہیں کرتے) نے جعلی دودھ متعارف کرایا۔۔ الحمد للہ کیمیکل ملا دودھ ساری دنیا کو بیچنے کا سہرا اسی کمپنی کے سر ہے جو ملاوٹ نہیں کرتی۔ سچ کہوں تو بہت ساری پروڈکٹ جن کو دودھ کہا جاتا ہے ان میں دودھ نام کی سرے سے کوئی چیز نہیں ہوتی۔ شکر ہے عدالت نے پابندی لگائی اور اب ٹی وائٹنر وغیرہ لکھنے لگے ہیں


💕علاج معالجہ طبیب ہی کرتے تھے جس سے انسان واقعی تندرست بھی ہوجاتا تھا۔۔ انہی عالمی جعل سازوں نے انگریزی کیمیکل ملی ادویات متعارف کرائیں جن سے انسان روز بروز نت نئی بیماریوں کا شکار ہو رہا ہے۔۔ جب سے انگریزی ادویات کا دور دورہ ہوا ہے شاید ہی کوئی انسان روئے کائنات پر صحت مند بچا ہو۔۔مقصد کیا تھا۔۔ صرف اور صرف پیسہ کمانا۔۔ آج بیماریوں کا یہ عالم ہے کہ ہر گھر میں ہزاروں کی ادویات جا رہی ہیں اور صحت مند پھر بھی کوئی نہیں ہورہا۔۔۔  لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ انگریز ملاوٹ نہیں کرتا۔۔ ملاوٹ والی ساری اشیاء مسلمانوں کی ہیں۔۔


💕حضرات ذی وقار۔۔ انگریز مضر صحت کیمیکلز سے کیا کیا بنا کر بیچ رہا ہے زرا ایک نظر ادھر کیجیے۔  دودھ، مکھن، گھی، آئس کریم، خشک دودھ، کیچپ، چینی، رنگ برنگی فوڈ آئٹمز، مشروبات، ڈبے والے جوس، کاسمیٹکس، میڈیسن، پھلوں کو پکانے کیلیے رنگ برنگے کمیکل۔۔۔ اور جانے کتنی لمبی لسٹ ہے جس کا احاطہ کرنا شاید بس سے باہر ہے۔۔لیکن ان پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا۔۔ یعنی حد ہے ذہنی غلامی کی۔۔


💕مسلمان بے چارہ زیادہ سے زیادہ کیا ملاوٹ کرلے گا۔۔ مرچ میں برادہ پیس لے گا۔۔ دودھ میں پانی ڈال لے گا۔۔ چائے کی پتی میں باتھو پیس لے گا۔۔ 


💕اصل چور تو یہ ہیں جو سرمائے کی آڑ میں شیمپو، صرف، صابن سے لے کر روزمرہ استعمال کی ہر چیز میں مضر صحت کیمیکلز کا دھڑا دھڑ استعمال کر رہے ہیں اور الزام جب بھی لگتا ہے بے چارے سازش کا شکار مسلمانوں پر لگتا ہے جن کی بے ایمانی بھی بڑی محدود سی ہے۔۔


براہ کرم ذہنی غلامی سے نکلیں اور خود کو درست کریں۔۔ ملاوٹ، جھوٹ، دھوکہ جیسی چیزیں ہمارا ورثہ نہیں ہیں۔۔ یہ معصوم صورت عیاروں کی چالیں ہیں جو دنیا بھر کو رنگی برنگی مصنوعات کے نام پر  مضر صحت کیمیکل بیچنے میں مصروف ہیں ...





🌸🌸🌸🌸"شوہر پر واجب ہے کہ بیوی کو نماز کی تلقین کرے"🌸🌸🌸🌸

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی صاحب مدظلہ۔


مردوں کو دیکھا گیا ہے کہ ایک نمک کھانے میں کم زیادہ ہوجانے پر عورت کو تنبیہ کرتے ہیں اور مارتے ہیں اور اگر اس پر بھی نا مانے تو نکال باہر کرتے ہیں اور یہ ہم نے کسی کو نہیں دیکھا کہ نمازیں ضایع کرنے پر کوئ عورت کو نصحیت بھی کرتا ہو۔ الّا ماشاءاللہ۔ اور اگر کسی نے کیا تو بہت سے بہت یہ کہ ایک یا دو دفعہ سمجھا دیا پھر اسکو اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تو جانے تیرا کام جانے، برا کرے گی آپ بھگتے گی، کیوں صاحب نمک کھانے میں ٹھیک نا تھا تو ایک دو دفعہ کہ کر کھانے کو کیوں نا کھایا۔


نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں، مفہوم: بادشاہ اپنی رعیت کا ذمہ دار ہے، حاکم اپنے محکوم کا ذمہ دار ہے، غرض ہر بڑا اپنے چھوٹے کا ذمہ دار ہے، یہاں تک کہ گھر والا اپنے گھر بھر کے افعال کا ذمہ دار ہے تو سب اپنے چھوٹوں کے ذمہ دار ہوۓ اور سب سے انکے افعال کی باز پرس ہوگی، عورتوں کی دنیا درست کرتے ہیں، ایسا ہی عورتوں کی آخرت بھی درست کرنی چاہیے، ہم نے کسی کو نہیں دیکھا اّلا ماشاءاللہ کہ اس نے اپنی بی بی کا وضو درست کرایا ہو، اپنے سامنے قرآن پڑھایا ہو، نماز کا ایک ایک رکن سکھایا ہو۔

اے مردوں! اپنے اعمال بھی درست کرو اور

اے عورتوں! تم انکے کہنے پر چلو اور اپنے اعمال کو درست کرلو پھر اپنے بچوں کے اعمال کو، اپنے خادموں کے اعمال کو بھی درست کرو۔


رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔






🧠 - [ تعجب ہے ایسے انسان کی سوچ پر! ]


🌸 علامه ابن عثيمين رحمه اللّٰه فرماتے ہیں : 


 ❐ "تعجب ہے کہ انسان اس دنیا کے پیچھے بھاگا جا رہا ہے. اس دنیا کے لیے اپنے جسم عقل سوچ، راحت حتی کہ گھر اور رشتہ داروں سے تعلق اور محبت کو بھی اس دنیا کو پانے کے لئے قربان کر رہا ہے. جب کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس انسان سے ایک لمحہ میں چھینی جا سکتی ہے۔ 


 ❐ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلتا ہے اور پھر واپس نہیں آتا ہے. اور ایک شخص بستر پر سوتا ہے اور پھر سویا ہی رہ جاتا ہے.... 


 ❐ لہذا دنیا کے دھوکے سے بچو... دنیا کو اپنا آخری اور سب سے بڑا مقصد نہ بناؤ کیوں کہ ایسا کرنے سے انسان دنیا اور آخرت دونوں جگہ گھاٹا ہی اٹھائے گا۔"


📝  - [ شرح رياض الصالحين : ٦٨٨/٦ ]







جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے

وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے


اگر خوں کم بنے، بلغم زیادہ

تو کھا گاجر، چنے ، شلغم زیادہ


جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا

اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا


جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس

مربّہ آملہ کھا یا انناس


اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی

تو پی لی سونف یا ادرک کا پانی


تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے

تو فوراََ دودھ گرما گرم پی لے


جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے

تو کر نمکین پانی کے غرارے


اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل

تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل


جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس

تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس


شفا چاہیے اگر کھانسی سے جلدی

تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی


اگر کانوں میں تکلیف ہووے

تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے


اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے

تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھا لے


تپ دق سے اگر چاہیے رہائی

بدل پانی کے گّنا چوس بھائی


دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی

کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی


اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی

تو استعمال کر انڈے کی زردی


جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ

تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ


لائف کو سپورٹ کریں

 یہ پیغام اپنے پیاروں تک پہنچائیں







ﺳﻮ ﺍﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ  ﯾﮩﻮﺩﯼ , ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟

 ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺪﻋﻮ ﮔﯿﺎ ﮔﯿﺎ 

ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺳﮯﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ

ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼﺍﻭﺭﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺭﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ 

ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟

ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟

ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺪﻟﻞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺭﺑﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ 

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ،ﺟﺎﻣﻊ ﻣﻌﻘﻮﻟﯿﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ ﺗﮭﺎ  ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ .

 ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 

ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ  ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﻣﻌﺒﻮﺙ ﮐﯿﺎ ۔

ﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ  ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﺭﮨﺒﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﺪﺍﺋﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺒﯽ ﻣﻌﺒﻮﺙ ﮐﯿﺎ 

ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ 

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ

ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﮯٰﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ 

ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ




ﺳﻮ ﺍﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺲ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﻟﻮﮒ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﯿﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ  ﯾﮩﻮﺩﯼ , ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟

 ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻣﺬﺍﮨﺐ ﮐﮯ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﻮ ﻣﺪﻋﻮ ﮔﯿﺎ ﮔﯿﺎ 

ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺳﮯﺑﮍﮮ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ

ﻋﯿﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﭘﺎﺩﺭﯼﺍﻭﺭﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﮮ ﺭﺑﯽ ﮐﻮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮩﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ 

ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ؟

ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ؟

ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺒﺪﮦ ﻧﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺪﻟﻞ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻔﻞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻧﺎﻗﺪﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﭘﺎﺩﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺭﺑﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﯿﮑﺮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺌﮯ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ 

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﺨﺘﺼﺮ ،ﺟﺎﻣﻊ ﻣﻌﻘﻮﻟﯿﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮﺭ ﺍﺩﺏ ﻭ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭﺍﺩﺍﺭﯼ ﮐﯽ ﻋﻤﺪﮦ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﻤﺖ ﻭ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﻗﻊ ﺗﮭﺎ  ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯﮨﻮﻧﭩﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﺑﮑﮭﯿﺮ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺑﺎﺏ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻨﺪ ﮨﻮﮔﯿﺎ .

 ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ 

ﺍﮔﺮ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ  ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﺒﺎﺭﮎ ﻭﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ ﻧﺒﯽ ﻣﻌﺒﻮﺙ ﮐﯿﺎ ۔

ﮔﺮ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ  ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﯽ ﺭﮨﺒﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﮨﺪﺍﺋﯿﺖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﺒﯽ ﻣﻌﺒﻮﺙ ﮐﯿﺎ 

ﻟﯿﮑﻦ ﺍﮔﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺻﺮﻑ ﺍﻟﻠّﻪﷻﮐﯽ ﺭﺣﻤﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ 

ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﺋﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺋﯿﮕﺎ

ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﺍﮐﺮﻡ

ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺼﻄﻔﮯٰﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍُﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ 

ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ





ٹشوپیپر کا ایک دلچسپ تجربہ


ایک جگہ تھوڑا سا پانی گرائیں اس پانی کے ایک طرف ٹشوپیپر کا ایک کونا رکھ دیں، اس کونے کے علاوہ باقی سارا ٹشوپیپر پانی سے باہر ہوگا، تھوڑی دیر بعد دیکھیے گا کہ ٹشوپیپر کا ایک بڑا حصہ گیلا ہوچکا ہے، خاموشی کے ساتھ پانی ٹشوپیپر میں سرایت کرتا جائے گا اور یہ عمل بہت دلچسپ معلوم ہوتا ہے، سرایت کرنے کا عمل نہایت خاموشی اور سرعت کے ساتھ نظر آئے گا۔

اس عمل کو سائنسی اصطلاح میں Capillary Action کہا جاتا ہے، یہی حال نیک صحبت یا بری صحبت کا ہے، آپ تھوڑا وقت گزاریں یا زیادہ وقت، صحبت کے اثرات اسی طرز پر آپ کے قلب پر مرتب ہونگے اور شروع میں آپ کو معلوم بھی نہ ہوپائے گا 

جتنی زیادہ صحبت، اُتنے زیادہ اثرات، صحبت کے اثرات ازخود سرایت کرتے جائیں گے اس لیے صحبتِ نیک رکھیے اور بری صحبت سے احتراز کیجیے تاکہ دنیا اور آخرت میں سرخ رو رہیں۔





انوکھی امداد ایسی بھی!


"محلے میں بچوں کو عربی و ناظرہ قرآن پڑھانے والی باجی کے گھر آٹا اور سبزی نہیں ہے، مگر وہ باپردہ خاتون باہر آکر مفت راشن والی لائن میں لگنے سے گھبرا رہی ہیں."


فری راشن تقسیم کرنے والے نوجوانوں کو جیسے ہی یہ بات پتا چلی، انہوں نے متاثرین میں فری سبزی و آٹا کی تقسیم فوراً روک دیا. پڑھے لکھے نوجوان تھے. آپس میں رائے مشورہ کرنے لگے. بات چیت میں طے ہوا کہ نہ جانے کتنے سفید پوش اپنی آنکھوں میں ضرورت کے پیالے  لیے فری راشن کی لائنوں کو تکتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کا بھرم رکھنے کی خاطر قریب نہیں پھٹکتے.


مشورے کے بعد نوجوانوں نے فری راشن کی تقسیم کا بورڈ بدل دیا اور دوسرا بورڈ آویزاں کردیا. 


ہر طرح کی سبزی 15 روپے کلو، مسالہ فری، آٹا، چاول، دال 15 روپے کلو. خصوصی آفر. 


اعلان سنتے ہی مفت خور بھکاریوں نے اپنی راہ لی، سفید پوش اور لاچار طبقہ ہاتھوں میں دس بیس روپئے کے ساتھ خریداری کے لئے آگیا. قطار میں کھڑا ہونے سے اسے گھبراہٹ نہ ہوئی، نہ ہلڑ بازی ہوئی. 

لائن میں ایک طرف بچوں کو قرآن پڑھانے والی باپردہ باجی بھی مٹھی میں معمولی سی رقم لیے اعتماد کے ساتھ نمناک آنکھوں کے ساتھ کھڑی تھیں. ان کی باری آئی پیسے دیئے، سامان لیا اور اطمینان سے گھر آگئیں. سامان کھولا، دیکھا ان کے ذریعہ ادا کی گئی پوری قیمت سنتِ یوسف کی طرح ان کے سامان میں موجود ہے، لیکن انہیں خبر تک نہ ہو سکی تھی کہ کس نے وہ پیسے کب ان کے سامان میں رکھا تھا.

نوجوان ہر خریدار کے ساتھ یہی کررہے تھے. یقیناً علم کو جہالت پر مرتبہ حاصل ہے. 


مدد کیجیے، پر عزتِ نفس مجروح نہ کیجیے!! ضرورت مند سفید پوشوں کا خیال رکھئے، عزت دار مساکین کو عزت دیجیے.

یقین رکھئے اللہ تعالیٰ آپ پر زیادہ بااختیار ہے.

صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ اوروں کو بھی شریک کریں, یہ صدقہ جاریہ ہوگا, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو .. جزاک اللہ خیرا کثیرا.






کبھی کسی دکان سے چکن خریدنے جانے ہوا تو غور کیجیے گا کہ جب مالک دکان پنجرے سے کسی مرغی کو گردن دے پکڑ کر باہر نکالتا ہے تو وہ چیختی چلاتی ہے۔۔چہرے پر سپاٹ سے تاثرات لیے وہ شخص بہت سکون سے اس مرغی کی گردن پر چھری چلا دیتا ہے اور اسے ٹھنڈا ہونے کے لیے ڈرم میں پھینک دیتا ہے۔۔پنجرے میں موجود باقی مرغیوں کے سامنے یہ سارا سلسلہ ہوتا ہے لیکن ان کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔وہ اسی طرح بیٹھی رہتی ہیں۔۔اگر کوئی دانہ چگ رہی ہے تو وہ دانہ چگتی رہتی ہے۔۔کوئی بیٹھی ہے تو وہ بیٹھی ہے کوئی لیٹی ہے تو وہ لیٹی ہے۔۔انھیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کے پنجرے میں اب سے چند لمحے پہلے ایک زندہ وجود تھا جو اب موت کا ذائقہ چکھ چکا ہے۔۔اور ان کا اپنا انجام بھی نوشہ دیوار ہے کہ ہو سکتا ہے شام یا کل تک، جلد ہی انھوں نے بھی اسی طرح موت کا گلے لگانا ہے لیکن ان کی روٹین میں کوئی فرق نہیں آتا۔۔
چلیں وہ تو جانور ہے۔۔۔عقل و شعور نہیں رکھتے۔۔ہم تو انسان ہیں۔۔پھر ہم میں اور ان پنجرے میں بیٹھی مرغیوں میں کیوں کوئی فرق نہیں؟ کیا ہم روزانہ اپنے اردگرد اٹھتے جنازے نہیں دیکھتے؟ کیا ہم اپنے ہی پیاروں کو مٹی کی چادر اوڑھتے نہیں دیکھتے۔۔کیا ہمیں نہیں علم کہ ہمارا انجام نوشہ دیوار ہے؟ کیا ہم نہیں جانتے جلد یا بدیر ہم سب کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے؟ پھر کیوں ہم سب کی زندگیوں میں تبدیلیاں نہیں آتیں؟ پھر کیوں ہم جھوٹ بولنا، حرام کھانا، دل توڑنا۔ مکر و فریب والی انداز زندگی چھوڑ دیتے؟
بے شک موت سب سے بڑی حقیقت ہے۔۔خود کو یاددہانی کرواتے رہا کریں۔۔ہفتے میں ایک دن لازمی قبرستان جایا کریں۔۔تا کہ اپنے انجام سے باخبر رہیں۔۔

🇵🇰 اردو تحریریں